یمن نے مکہ مکرمہ پر ڈرون روکنے کے سعودی دعوے کی تردید کردی
news

یمن نے مکہ مکرمہ پر ڈرون روکنے کے سعودی دعوے کی تردید کردی

Editorial Team•Oct 30, 2026 · 6:45 PM•4 min read
اے آئی سے تیار کردہ علامتی تصویر: یمن تنازع میں شدت اور مبینہ فضائی حملوں کے دوران صنعاء کی ایک تباہ شدہ گلی۔
Editorial Team
Editorial Team
یمنی فوجی ترجمان نے الزام کو جھوٹا قرار دیتے ہوئے صنعا سمیت متعدد صوبوں میں سعودی فضائی حملوں میں شدت کی اطلاع دی

یمن کی مسلح افواج نے جمعرات کو سعودی عرب کی سرزمین کے خلاف کسی بھی کارروائی سے انکار کرتے ہوئے مکہ مکرمہ پر ڈرون روکنے کے سعودی دعوے کو سنگین بہتان اور سراسر جھوٹ قرار دے دیا۔ یمن کی مسلح افواج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل یحییٰ سریع نے ایک بیان میں یہ تردید کی جبکہ دونوں فریقوں کے درمیان کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

یہ تنازع سعودی فوجی سرگرمیوں میں شدت کے پس منظر میں سامنے آیا، جس کے دوران سریع نے دارالحکومت صنعا اور آٹھ دیگر صوبوں پر محض چوبیس گھنٹوں کے اندر ایک سو ایک فضائی اور میزائل حملوں کی اطلاع دی۔

یہ تبادلہ یمنی تنازع کی گہری ہوتی غیر یقینی صورتحال کو نمایاں کرتا ہے، جہاں متضاد فوجی بیانیے اور بڑھتی ہوئی شہری ہلاکتوں نے ایک دہائی سے زائد عرصے سے جاری انسانی بحران کی جانب نئی توجہ مبذول کرائی ہے۔ مکہ مکرمہ سے متعلق سعودی الزام خاص حساسیت کا حامل ہے کیونکہ اسلام کے مقدس ترین مقام کے قریب کسی حملے کا کوئی بھی اشارہ علاقائی اور مذہبی کشیدگی کو بھڑکا سکتا ہے۔

یہ پیش رفت جاری کشیدگی کی انسانی قیمت کو بھی اجاگر کرتی ہے، جہاں یمنی حکام نے حالیہ حملوں میں نمایاں شہری ہلاکتوں اور زخمیوں کی اطلاع دی ہے۔

تردید اور کشیدگی کی اطلاعات

سریع نے کہا کہ یمنی کارروائیاں صرف سعودی عرب کے تیل کے مراکز اور فوجی اڈوں کو نشانہ بناتی ہیں اور انہوں نے سعودی حکام کی جانب سے پھیلائے جانے والے الزامات کو ایسی من گھڑت باتیں قرار دیا جن پر دنیا میں کوئی یقین نہیں کرتا۔ انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یمن کی مسلح افواج کے خلاف بار بار لگائے جانے والے الزامات کا مقصد دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات کو مشتعل کرنا ہے۔

سریع کے مطابق سعودی افواج نے چوبیس گھنٹوں کے اندر صنعا اور آٹھ دیگر صوبوں پر ایک سو ایک فضائی اور میزائل حملے کیے۔ اس طرح موجودہ کشیدگی کے آغاز سے اب تک حملوں کی مجموعی تعداد تین ہزار چار سو اسی تک پہنچ گئی ہے۔

یمنی حکومت کے ترجمان عمر البخیتی نے علیحدہ طور پر ان حملوں کی مذمت کرتے ہوئے خاص طور پر صوبہ الجوف میں الحزم مارکیٹ پر مہلک حملے کی جانب توجہ مبذول کرائی، جس میں اطلاعات کے مطابق تین خواتین سمیت چودہ شہری ہلاک اور پندرہ زخمی ہوئے۔ انہوں نے احتساب کا مطالبہ کیا اور عالمی برادری کی خاموشی پر تنقید کی۔

تنازع کا پس منظر

یمن کا تنازع مارچ دو ہزار پندرہ سے برسوں کی لڑائی اور اقتصادی پابندیوں کا شکار ہے، جب سعودی قیادت میں اتحادی افواج نے ملک میں فوجی کارروائیوں کا آغاز کیا تھا۔ اس جنگ نے دنیا کے سنگین ترین انسانی بحرانوں میں سے ایک جنم دیا ہے، جس میں بڑے پیمانے پر شہری ہلاکتیں اور بنیادی ڈھانچے کو وسیع نقصان پہنچا ہے۔

تازہ ترین کشیدگی کسی الگ تھلگ واقعے کے بجائے دیرینہ دشمنیوں کا تسلسل ہے۔ دونوں فریق باقاعدگی سے حملوں کے حوالے سے ایک دوسرے پر الزامات کا تبادلہ کرتے رہے ہیں جبکہ شہری علاقے بار بار تشدد کی زد میں آئے ہیں۔ الحزم مارکیٹ پر اطلاع شدہ حملہ، جو ایک شہری مقام ہے، اس طرزِ عمل کی عکاسی کرتا ہے جس کے خلاف انسانی ہمدردی کی تنظیمیں اور مبصرین طویل عرصے سے خبردار کرتے آئے ہیں۔

سرکاری بیانات اور ہلاکتوں کے اعداد و شمار

اپنے بیان میں سریع نے سعودی ڈرون روکنے کے دعوے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ یمنی افواج نے جمعرات کو سعودی سرزمین کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ یمن کی مسلح افواج نے اپنا موقف برقرار رکھا کہ ان کی کارروائیاں صرف تیل کے مراکز اور فوجی اڈوں تک محدود ہیں، جس کا مقصد ان کی سرگرمیوں کو اندھا دھند قرار دینے والی تصویر کو مسترد کرنا ہے۔

الحزم مارکیٹ حملے کے اطلاع شدہ اعداد و شمار میں چودہ شہری ہلاک اور پندرہ زخمی شامل ہیں، جن میں تین خواتین زخمیوں میں شامل ہیں۔ یہ اعداد و شمار یمنی حکومت کے ترجمان عمر البخیتی نے پیش کیے، جنہوں نے اس واقعے کو احتساب کے مطالبے اور شہریوں کی تکالیف پر عالمی برادری کے ردعمل پر تنقید کا ذریعہ بنایا۔

موجودہ صورتحال اور آئندہ کا منظر

تنازع کی فوری حیثیت تاحال غیر حل شدہ ہے، جہاں یمنی حکام مکہ مکرمہ پر ڈرون کے الزام کی تردید کر رہے ہیں جبکہ سعودی حکام اپنے موقف پر قائم ہیں کہ ایک ڈرون کو روکا گیا تھا۔ دونوں میں سے کسی بھی دعوے کی آزادانہ تصدیق دستیاب نہیں ہو سکی ہے۔

انسانی صورتحال بگڑنے کے ساتھ شہری ہلاکتوں اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے نقصان پر تشویش میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ دونوں فریقوں کی جانب سے مزید سرکاری بیانات اور اطلاع شدہ شہری ہلاکتوں پر کسی بھی بین الاقوامی ردعمل کا انتظار ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!