اسرائیل پر مغربی کنارے میں انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام، اقوام متحدہ کی رپورٹ
news

اسرائیل پر مغربی کنارے میں انسانیت کے خلاف جرائم کا الزام، اقوام متحدہ کی رپورٹ

Editorial Team•Oct 26, 2026 · 7:01 PM•4 min read
یہ ایک مصنوعی ذہانت سے تیار کردہ علامتی تصویر ہے۔ جنیوا میں اقوام متحدہ کی عمارت کے باہر اقوام متحدہ کا پرچم لہرا رہا ہے، جہاں ایک کمیشن نے مقبوضہ مغربی کنارے کی صورتحال پر رپورٹ پ
Editorial Team
Editorial Team
اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں نے قتل عام، تشدد اور جنسی تشدد کی تصدیق کی اور الخلیل میں نسلی تطہیر کے خدشات ظاہر کیے

اقوام متحدہ کے مقرر کردہ تفتیش کاروں نے رپورٹ دی ہے کہ اسرائیل نے مقبوضہ مغربی کنارے میں انسانیت کے خلاف جرائم کا ارتکاب کیا ہے جن میں قتل عام بھی شامل ہے۔ مقبوضہ فلسطینی علاقے پر اقوام متحدہ کے آزاد بین الاقوامی کمیشن برائے تحقیقات نے پیر کے روز کہا کہ اسرائیلی حکومت اور اس کی افواج اس علاقے میں جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کی ذمہ دار ہیں جن میں تشدد، عصمت دری اور جنسی تشدد کی دیگر اقسام شامل ہیں۔

یہ نتائج اسرائیل کے عام انتخابات سے ایک روز قبل جاری کیے گئے ہیں اور یہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کے طرز عمل کی بین الاقوامی قانونی جانچ پڑتال میں تازہ ترین اضافہ ہیں۔ یہ رپورٹ ایسے وقت سامنے آئی ہے جب اسرائیلی افواج گزشتہ ہفتے فائرنگ کے ایک واقعے کے بعد الخلیل میں وسیع پیمانے پر کریک ڈاؤن کر رہی ہیں جس میں بے دخلیاں اور مسماریاں شامل ہیں، جس سے فلسطینی شہریوں کے لیے انسانی صورت حال کے حوالے سے خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔

تحقیقات کے اہم نتائج

کمیشن نے پایا کہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں، جنہیں مسلسل آباد کاروں کے تشدد نے مزید تقویت دی، شہریوں کے خلاف ایک وسیع اور منظم حملے کی حیثیت رکھتی ہیں۔ اسرائیل 1967 سے اس علاقے پر قابض ہے۔ رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ اسرائیلی حکام نے غزہ سے سات اکتوبر 2023 کو حماس کے حملے کے بعد مغربی کنارے کے شہریوں کو اجتماعی سزا دینے کا ارادہ کیا۔

  • کمیشن نے قتل عام، تشدد، عصمت دری اور جنسی تشدد کی دیگر اقسام کو انسانیت کے خلاف جرائم قرار دیا۔
  • اس نے باہم جڑے امتیازی بنیادوں پر ظلم و ستم کی بھی نشاندہی کی جن کے مرکز میں قومیت، نسل اور نسلیت ہے۔
  • جنیوا میں اسرائیلی مشن نے رپورٹ کو مسترد کرتے ہوئے اسے ریاست اسرائیل کو بدنام کرنے کی غلط معلومات کی مہم کا حصہ قرار دیا اور کمیشن کو فوری طور پر تحلیل کرنے کا مطالبہ کیا۔

کمیشن کا پس منظر

تین رکنی تفتیشی ٹیم 2021 میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے قائم کی تھی۔ جنوبی افریقہ کی سابق ہائی کورٹ جج ناوی پلے، جنہوں نے نومبر 2025 تک اس تحقیقات کی سربراہی کی، اس ماہ کے آغاز میں امن کا نوبل انعام جیت چکی ہیں۔ کمیشن خود اقوام متحدہ کی نمائندگی نہیں کرتا۔

ستمبر 2025 کی ایک رپورٹ میں کمیشن نے پہلی بار یہ تعین کیا تھا کہ اسرائیل نے سات اکتوبر 2023 کو حماس کے مہلک حملے کے بعد غزہ پر اپنی جنگ میں نسل کشی کا ارتکاب کیا، ایک ایسا نتیجہ جسے اسرائیل صاف طور پر مسترد کرتا ہے۔ نئی رپورٹ اکتوبر 2023 کے بعد سے اسرائیلی اور فلسطینی دونوں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں اور جسمانی و ذہنی نقصان پر مرکوز ہے اور اس میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا ہے کہ حماس کے حملے کے بعد مغربی کنارے کی صورت حال سنگین طور پر بگڑ گئی ہے۔

ہلاکتوں کے اعداد و شمار اور سرکاری بیانات

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اسرائیل کی غزہ پر فوجی کارروائی نے تقریباً پوری آبادی کو بے گھر کر دیا ہے اور 74,500 سے زائد افراد کو ہلاک کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے دفتر برائے رابطہ امور انسانی نے رپورٹ کیا کہ سات اکتوبر 2023 سے نو اکتوبر 2026 کے درمیان مقبوضہ مغربی کنارے بشمول مشرقی یروشلم میں 1,143 فلسطینی ہلاک ہوئے جن میں کم از کم 250 بچے شامل تھے۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کمشنر وولکر ترک نے الخلیل میں جاری آپریشن کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ محلوں کو خالی کرنے اور مٹانے کی دھمکیاں نسلی تطہیر کے سنگین خدشات پیدا کرتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن پہلے ہی 2,000 سے زائد فلسطینیوں کو زبردستی بے گھر کر چکا ہے، گھر مسمار کر چکا ہے اور رہائشیوں کی آزادانہ نقل و حرکت روک دی ہے۔ ترک نے اصرار کیا کہ بے گھر ہونے والوں کو گھر واپس آنے کی اجازت دی جانی چاہیے اور اسرائیل کو غیر قانونی بے دخلیوں اور مسماریوں کے لیے معاوضہ اور تلافی یقینی بنانی چاہیے۔

موجودہ صورت حال اور اگلے اقدامات

اسرائیلی افواج نے شہر کے قریب فائرنگ کے واقعے کے بعد جمعے کے روز الخلیل بھر میں لاک ڈاؤن نافذ کر دیا اور وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو نے پورے مغربی کنارے میں لاک ڈاؤن کے منصوبوں کا اعلان کیا۔ ترک نے کہا کہ یہ وسیع اقدامات طاقت کے غیر ضروری اور غیر متناسب استعمال کے سنگین خدشات پیدا کرتے ہیں اور اجتماعی سزا بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ اسرائیلی حکام نے اپنے طرز عمل میں کسی تبدیلی کا اشارہ نہیں دیا اور مزید پیش رفت کی تصدیق ہونا باقی ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!