اسرائیل کی مذہبی صیہونی پارٹی کنیسٹ انتخابات میں الحاق اور جنگ کا ایجنڈا
news

اسرائیل کی مذہبی صیہونی پارٹی کنیسٹ انتخابات میں الحاق اور جنگ کا ایجنڈا

Editorial Team•Oct 22, 2026 · 7:19 PM•4 min read
یہ ایک AI سے تیار کردہ علامتی تصویر ہے: یروشلم میں کنیسٹ کی عمارت، جہاں 27 اکتوبر کے انتخابات سے قبل اسرائیلی جماعتیں انتخابی مہم چلا رہی ہیں۔
Editorial Team
Editorial Team
بیزلیل سموٹریچ کی قیادت میں مذہبی صیہونی پارٹی کے الحاق، غزہ اور لبنان سے متعلق مؤقف پر تفصیلی تجزیہ

مذہبی صیہونی پارٹی، جو اسرائیلی وزیر خزانہ بیزلیل سموٹریچ کی قیادت میں سات نشستوں والا دھڑا ہے، علاقائی الحاق اور وسیع تر فوجی کارروائیوں کے منشور پر انتخابی مہم چلا رہی ہے۔ 27 اکتوبر کو ہونے والے کنیسٹ انتخابات کے بعد یہ موقف اسرائیل کی اگلی حکومت کی تشکیل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔

کنیسٹ کی 120 نشستوں کے لیے 37 جماعتیں میدان میں ہیں۔ اسرائیل کا متناسب نمائندگی کا نظام چھوٹے دھڑوں کو مخلوط حکومت کے مذاکرات میں نمایاں قوت فراہم کرتا ہے، جس کے باعث معمولی پارلیمانی موجودگی کے باوجود مذہبی صیہونی پارٹی ایک فیصلہ کن اتحادی کے طور پر ابھر سکتی ہے۔

یہ انتخابات ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب غزہ اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجی کارروائیاں جاری ہیں اور مغربی کنارے میں آباد کاروں کا تشدد بڑھتا جا رہا ہے۔ مذہبی صیہونی پارٹی کا ایجنڈا فلسطینیوں، علاقائی استحکام اور مقبوضہ علاقوں کے مستقبل پر براہ راست اثرات رکھتا ہے۔

چونکہ مخلوط حکومت کی تشکیل اکثر چھوٹی جماعتوں کی حمایت حاصل کرنے پر منحصر ہوتی ہے، اس لیے مذہبی صیہونی پارٹی کے سخت گیر موقف اس کی نشستوں کی تعداد سے کہیں زیادہ حکومتی پالیسی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔

انتخابی مہم کے اہم موقف

سموٹریچ نے غزہ میں ییلو لائن اور لبنان میں دریائے لیطانی تک علاقے کے الحاق کا مطالبہ کیا ہے۔ ان کے عزائم مقبوضہ مغربی کنارے تک بھی پھیلے ہوئے ہیں، جسے وہ یہودا اور سامریہ کہتے ہیں۔

وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی لیکود پارٹی کو اویگڈور لائبرمین کی یسرائیل بیتینو، گادی آئزن کوٹ کی اعتدال پسند یاشر اور یائر گولان کی بائیں بازو کی جماعت ڈیموکریٹس جیسے حریفوں کا سامنا ہے۔ مذہبی صیہونی پارٹی کے پاس موجودہ کنیسٹ میں سات نشستیں ہیں۔

مذہبی صیہونی پارٹی کے دیگر امیدوار زوی سوکوت اور اوریت سٹروک نے بھی ایسے ہی موقف اپنائے ہیں، جن میں بڑھتی ہوئی دشمنی، اسرائیلی آبادیوں کی توسیع اور فلسطینی اتھارٹی کے زیر انتظام علاقوں پر قبضے کی وکالت شامل ہے۔

پس منظر اور جاری تنازع

انتخابی مہم ایسے ماحول میں جاری ہے جہاں غزہ اور جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملے جاری ہیں۔ مغربی کنارے میں آباد کاروں کا تشدد بڑھ گیا ہے، جس میں حالیہ زیتون کی فصل کے دوران فلسطینی کسانوں، یورپی سفارت کاروں اور امریکی فوٹو جرنلسٹ ہیڈی لیوائن پر حملے شامل ہیں۔

سموٹریچ کے موقف اسرائیل کی مذہبی قوم پرست تحریک کے اندر ایک وسیع تر نظریاتی دھارے کی عکاسی کرتے ہیں، جو مغربی کنارے کو اسرائیل کا اٹوٹ حصہ سمجھتی ہے اور فلسطینی اتھارٹی کے وجود کی مخالف ہے۔ ستمبر میں ان کے پوڈ کاسٹ میں مغربی کنارے میں جنگ اور فلسطینی اتھارٹی کو ختم کرنے کے مطالبے، جسے انہوں نے دہشت گرد اتھارٹی قرار دیا، گزشتہ مہمات کے مقابلے میں بیان بازی میں نمایاں شدت کی نشاندہی کرتے ہیں۔

سرکاری بیانات اور پالیسی تجاویز

سموٹریچ نے ستمبر میں ایک پوڈ کاسٹ میں کہا تھا کہ میرے خیال میں ہمیں یہودا اور سامریہ میں جنگ کرنی چاہیے، وہاں وہی کچھ کرنا چاہیے جو ہم نے غزہ میں کیا، فلسطینی اتھارٹی کو ختم کرنا چاہیے جو ایک دہشت گرد اتھارٹی ہے۔

وزیر خزانہ نے پورے غزہ پر قبضے کی بھی وکالت کی ہے، جسے انہوں نے صیہونی اور سلامتی کے مقاصد قرار دیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ یرغمالیوں کی واپسی تک غزہ کی آبادی سے خوراک اور پانی روکنا منصفانہ اور اخلاقی قرار دیا جا سکتا ہے۔

آگے کیا ہے

کنیسٹ کے انتخابات 27 اکتوبر کو طے ہیں، جس کے بعد مخلوط حکومت کے مذاکرات طے کریں گے کہ آیا مذہبی صیہونی پارٹی اگلی حکومت میں جگہ حاصل کرتی ہے اور اس کے الحاق اور فوجی ایجنڈے کا اثر و رسوخ کس حد تک ہوگا۔ ووٹنگ قریب آنے کے ساتھ انتخابی مہم کی پیش رفت کے بارے میں مزید رپورٹنگ اور سرکاری تصدیق متوقع ہے۔

اس طرح کی مزید خبریں

تبصرے (0)

ایک تبصرہ چھوڑیں

تبصرہ شائع کرنے کے لیے تصدیق شدہ Gmail اکاؤنٹ ضروری ہے۔

ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں۔ اپنے خیالات شیئر کرنے والے پہلے فرد بنیں!