×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

اسلام نے عورت کو سماج میں مقام اور بلندی عطا کی

November 12, 2014 428

سماجی زندگی میں مرد عورت کا رشتہ سب سے اہم ہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ یہ رشتہ انسانی تعلق کی بنیاد ہے اور اس میں معمولی

سی غلطی بھی سماجی ڈھانچہ کو بدنما اور داغدار بنا سکتی ہے۔ ہماری تاریخ عورتوں پر ہونے والے مظالم اور پابندیوں کے داغدار مناظر سے بھری پڑی ہے۔ کہیں تو عورت کو، جو ماں کی حیثیت سے انسان کو جنم دیتی ہے اور کہیں بیوی کی حیثیت سے جو زندگی کے ہر سکھ دکھ میں مرد کی دوست رہتی ہے، نوکرانی کے درجہ میں رکھ دیا گیا ہے۔ کہیں اسے فروخت کیا جاتا تو کہیں خریدا جاتا ہے اور ساتھ ساتھ اسے گناہ اور ذلت کی مور ت بھی سمجھا جاتا ہے۔ اس کی شخصیت کو ابھرنے کا کوئی موقع نہیں ملتا۔ دوسری جانب ہمیں یہ غلط فہمی ہو جاتی ہے کہ عورت کو اعلیٰ مقام دیا جا رہا ہے، اسے اوپر اٹھایا جارہا ہے ، سماج میں اسے عزت دی جا رہی ہے اور وہ بھی اس انداز سے کہ اس کے ساتھ ساتھ اسے بد کردار ثابت کر کے بے عزت بھی کیا جا رہا ہے۔ وہ مردوں کی خواہشات کا کھلونا بنائی جا تی ہے۔ ہم جب اسے انسانی معاشرہ میں دیکھتے ہیں تو کبھی کبھی ایسا محسوس ہوتا ہے جیسے کہ جنم دینے والی ماں نہ ہو، شیطان کی کوئی ایجنٹ ہو۔
ٍ یونان، روم، مسیحی یوروپ اور جدید یوروپ میں انسان کی حالت اتنی خراب ہے کہ ایک طرف تو وہ قوم ہے، جو وحشت اور بربریت سے نکل کر تہذیب و ثقافت کی طرف ہے تو وہاں پر کم سے کم ان کی خواتین اور داسیاں اپنے مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ چلتی ہے۔حالانکہ ابتدا ءمیں عورتوں کو مردوں کے ساتھ ساتھ چلنے پر انہیں بہت کچھ کہا جاتا ہے، انہیں روکا جاتا ہے، پھر بھی ایک مقررہ مقام پر پہنچ کر سماج یہ محسوس کرتا ہے کہ اب عورت اپنی ترقی نہیں کر سکتی اور مرد کو اپنی ترقی کی رفتار رکتی نظر آتی ہے اور یہیں پر عورت جو ماں، بہن ، بیوی اور بیٹی ہو سکتی ہے، اس کی ضرورت کا احساس اسے مضبو ط کرتا ہے کہ اب وہ عورت کو اپنے ساتھ ملا کر چلے۔
مگر جب یہ ہی عورت مرد کے ساتھ ساتھ شانہ بشانہ چلنا شروع کر دیتی ہے تو وہ صرف ساتھ ساتھ چلنے پر ہی نہیں رہ جاتی، بلکہ وہ آگے بڑھتی چلی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ کبھی کبھی عورت کی آزادی اتنی بڑھ جاتی ہے کہ پھر وہ اپنی آزادی کے نشہ میں چور اپنے مرد کو کوئی اہمیت نہیں دینا چاہتی اور پھر وہ مردوں سے کھل کر ملتی ہے۔ اور یہیںخواتین اور مردوں کے میل جول سے سماج میں گندگی پیدا ہو جاتی ہے اور یہاں تک کہ خواتین کی آزادی سے خاندان کے خاندان تباہ ہو جاتے ہیں۔ ایسے حالات کبھی کبھی پوری قوم کو برباد کر دیتے ہیں اور اخلاقی خیالات کے ساتھ ساتھ نفسیاتی، جسمانی اور قدرتی بربادی بھی ہوتی ہے۔
یہ اسلام ہی ہے، جس نے سماج میں عورت کو وہ مقام اور وہ بلندی عطا کی ہے، جس کی مثال دنیا کے کسی سماج میں نہیں ملتی۔ مسلم عورت دین اور دنیا میں اپنی عقل و خرد اور روحانی طاقت سے عزت اور ترقی کی اس اونچائی پر پہنچ سکتی ہے، جہاں تک مرد پہنچا ہو ،اور اس کا عورت ہونا کسی بھی طرح سماج میں اس کے مرتبہ،اس کی حیثیت اور اس کے مقام کو کم نہیں کرتا۔ اسلام نے جو اختیارات دیئے ہیں، ان کے تحت سب سے پہلا اختیار اقتصادی ہے۔ اسلام عورت کو جائیداد میں بہت بڑا حق دیتا ہے۔ باپ سے، شوہر سے ، اولاد سے اور دوسرے قریبی رشتہ داروں سے اسے جائداد میں حصہ ملتا ہے اور شوہر سے اسے مہربھی ملتا ہے۔ ان سب کے علاوہ جو کچھ اسے ملتا ہے، وہ تمام اختیارات اسے ہر طرح سے دیئے گئے ہیں ۔ جس میں دخل دینے کا اختیار نہ تو اس کے باپ کو حاصل ہے اور نہ ہی اسکے شوہر کو۔ اسکے علاوہ وہ کسی کاروبار میں روپیہ لگا کر یا خود محنت کر کچھ کمائے تو اس کی مالک بھی صرف وہی ہے۔اس طرح اسلام نے عورت کی اقتصادی حیثیت اتنی مضبوط کر دی ہے کہ کہیں کہیں تو وہ مرد سے بہتر حالات میں ہوتی ہے۔ اسی طرح اسے یہ بھی اختیاردیا گیا ہے کہ وہ اپنی پسند کا شوہر اپنی مرضی ٰ سے منتخب کر سکتی ہے۔اس کی مرضی کے خلاف کوئی بھی شخص اس کا نکاح نہیں کرا سکتا ہے۔
عورتوں کو دینی اور دنیاوی تعلیم حاصل کرنے کی نہ صرف اجازت دی گئی ہے، بلکہ اسے اتنا ضروری قرار دیا گیا ہے، جتنا مردوں کی تعلیم اور تربیت۔یہی نہیں، بلکہ اسلام میں عورتوں کو بہتر سے بہتر معاشرتی اختیار حاصل ہیں۔
شرعی حدود کی پابندی کرتے ہوئے معاشرتی ذمہ داریوں میں وہ جس طرح چاہے، حصہ لے سکتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ رسولؐکے دور ِاقتدار میں چاہے تہذیبی، سماجی سرگرمیاں ہوں، عام لوگوں کے درمیان کچھ کرنا ہو یا عورتوں کی خاص تہذیبی مجلس ہو، سماجی کاموں میں عورتوں کی خدمات کی ضرورت ہو یا جنگ کے بعد زخمیوں کی دیکھ ریکھ کا معاملہ ہو، ہر جگہ ہمیںمسلم عورتیں اپنا کام بخوبی ادا کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔
اسلام چونکہ ایک دین فطری ہے اور عورت میں پیدائش سے ہی ماں بننے کی خواہش پنہا ہوتی ہے۔بچے کو جنم دینا،اسکی دیکھ بھال کرنا،ان کی اچھی طرح پرورش کرنا وغیرہ سب عورت کی فطرت میں ہے۔بچے کے مستقبل کو سنوارنا ، اس کے مسائل حل کرنا ۔ان تمام ذمہ داریوں کو عورت بڑی خوبی سے ادا کرتی ہے۔
لیکن اسلام مرد اور عورت دونوں سے چاہتا ہے کہ دونوں گاڑی کے دو پہیوں کی طرح اپنے کاموں کو بخوبی پورا کریں۔ تمام ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں اسلام نے کہیں کوئی رکاوٹ پیدا نہیں کی، بلکہ ایک عورت جب ماں کی شکل میں۴۰،۴۵؍سال کی عمر کو پہنچتی ہے تو اس کے پاس وقت بھی ہوتا ہے،صحت بھی اچھی ہوتی ہے اور اس کے پاس تجربہ بھی ہوتا ہے۔اس لئے اسکے اندر سماج کی تعمیر اور تشکیل کا داعیہ بھی ہوتا ہے۔اس داعیہ کو پورا کرنے کی پوری ذمہ داری سماج کی ہے۔یہ کسی بھی صورت میں مناسب نہیں ہوگا کہ اسلام کا نام لے کر اسے یہ کردار ادا کرنے سے محروم رکھا جائے۔

Login to post comments