×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

مغرب کی اندھی تقلید ا ن کی غلامی سے بد تر ہے

November 12, 2014 424

مغرب نے قوموں کي ترقي کے لئے جس سماجي فلسفہ کو آگے بڑھايا ہے ، اس کا ايک بنيادي نکتہ يہ ہے کہ ترقي کے عمل ميں عورتوں

کي شرکت کے بغير خاطر خواہ نتائج کا حصول ممکن نہيں ہے۔ يہ فقرہ تو تقريباً ضرب المثل کي حيثيت اختيار کرچکا ہے کہ مرد اور عورت گاڑي کے دو پہيوں کي حيثيت رکھتے ہيں اور يہ کہ زندگي کے ہر شعبے ميں عورتوں کو مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنے کے مواقع ملنے چاہئيں۔ درحقيقت اس طرح کے نعرے تحريک آزادي نسواں کے علمبرداروں کي طرف سے شروع ميں انيسويں صدي کے آغاز ميں لگائے گئے تھے جو رفتہ رفتہ بےحد مقبوليت اختيار کر گئے۔اس زمانے ميں عورتوں کا دائرہ کار گھر کي چار ديواري تک محدود تھا اور عورت کا اصلي مقام اس کا گھر ہي سمجھا جاتا تھا۔اس زمانے کي خانداني اقدار ميں کنبے کي معاشي کفالت کي اصل ذمہ داري مرد پر تھي اورعورت کا بنيادي فريضہ گھريلو امور کي انجام دہي، بچوں کي نگہداشت اور اپنے خاوندوں کے آرام و سکون کا خيال اور فارغ وقت ميں عمومي نوعيت کے کام کاج کرنے تک محدود تھا۔
تحريک آزادي نسواں کے علمبرداروں نے اس صورتحال کو مرد کي 'حاکميت اور عورت کي بدترين 'غلامي سے تعبير کيا اور عورتوں کے اس استحصال کے خاتمے کے لئے يہ حل پيش کيا کہ انہيں بھي گھر کے باہر کي زندگي کے عشرت انگيز دائروں ميں شريک ہونے کا موقع ملنا چاہئے۔ معاشرت، تعليم، سياست، صنعت و حرفت، ملازمت، غرض ہر شعبے ميں عورت کي شرکت کو مرد کي حاکميت اور غلامي سے چھٹکارا کے لئے ذريعہ سمجھا گيا۔۱۸۰۰ء کے لگ بھگ تحريک آزادي نسواں کا آغاز ہوا۔ آج صورتحال يہ ہے کہ مغرب ميں خانداني ادارہ اور سماجي اَقدار زوال کا شکار ہو گئي ہيں،مرد اور عورت کے فرائض اور دائرہ کار آپس ميں خلط ملط ہو گئے ہيں۔ بيسويں صدي کے آغاز تک تحريک آزادي نسواں کے زيادہ تر مطالبات مساوي تعليم کے مواقع اور عورتوں کو ووٹ کے حقوق دينے تک ہي محدود تھے۔ ليکن آج مغرب ميں مساوي حقوق کا نعرہ ايک بہت بڑے فتنہ کا روپ دھار چکا ہے جس نے انساني زندگي کے تمام دائروں کو اپني لپيٹ ميں لے ليا ہے۔
امريکہ اور يورپ نے گزشتہ دو صديوں کے درميان جو محيرالعقول سائنسي ترقي کي ہے، اس ميں عورتوں کے حصے کو اَصل تناسب سے کہيں بڑھا چڑھا کر پيش کيا جاتا رہا ہے۔ محدود دائروں ميں عورتوں کے کردار اور حصہ سے انکار ممکن نہيں ہے۔البتہ مغربي معاشرے کي اجتماعي ترقي کا معروضي جائزہ ليا جائے تو تحريک آزادي نسواں کے علمبرداروں کے دعوے مبالغہ انگيز نظر آتے ہيں۔ مغرب کي مادّي اور سائنسي ترقي کے پس پشت کار فرما ديگر عوامل مثلاً جارحانہ مسابقت، مادّي ذرائع پر قبضہ کي ہوس، طبيعاتي قوانين کو جاننے کا جنون، مغربي استعمار کو نو آباديات پر مسلط رکھنے کا عزم، ايشيا اور افريقہ کي منڈيوں پر قبضے کي جدوجہد، مغرب کي نشاة ثانيہ کے بعد مغربي معاشرے ميں علوم و فنون ميں آگے بڑھنے کا جذبہ، سرمايہ دارانہ نظام ميں کام کي بنياد پر ترقي کي ضمانت، مندي کي معيشت و غيرہ جيسے عوامل نے جو کردار ادا کيا ہے ، اس کا نئے سرے سے جائزہ لينے کي ضرورت ہے۔
قومي ترقي کے لئے کيا عورتوں کا ہر ميدان ميں مردوں کے شانہ بشانہ کام کرنا ناگزير ہے؟ اس اہم سوال کا جواب ہاں! ميں دينا بے حد مشکل ہے۔اگر عورت اپنے مخصوص خانداني فرائض کو نظر انداز کرکے زندگي کے ہر ميدان ميں شرکت کرے گي تو خانداني ادارہ عدم استحکام کا شکار ہوجائے گا اور خانداني ادارے کے عدم استحکام ميں آنے کے منفي اَثرات زندگي کے ديگر شعبہ جات پر بھي پڑيں گے۔ مغرب ميں يہ نتائج رونما ہوچکے ہيں!! اکيسويں صدي ميں انساني تہذيب کو جن فتنوں کا سامنا کرنا پڑے گا، ان ميں تحريک آزادي نسواں (Feminism) کا فتنہ اپنے وسيع اثرات اور تباہ کاريوں کي بنا پر سب سے بڑا فتنہ ہے۔ مغرب ميں عورتوں کو زندگي کے مختلف شعبہ جات ميں جس تناسب اور شرح سے شريک کر ليا گيا ہے، اگر يہ سلسلہ يونہي جاري رہا تو دنيا ترقي کي موجودہ رفتار کو ہرگز برقرار نہيں رکھ سکے گي بلکہ اگلے پچاس برسوں ميں انساني دنيا زوال اور انتشار ميں مبتلا ہو جائے گي۔ جو لوگ عورت اور ترقي کو باہم لازم وملزوم سمجھتے ہيں، انہيں يہ پيش گوئي مجذوب کي بڑ، رجعت پسندي اور غير حقيقت پسندانہ بات معلوم ہو گي، ليکن اکيسويں صدي کے آغاز پر انسانيت جس سمت ميں رواں دواں ہے، بالآخر اس کي منزل يہي ہو گي۔
ہندوستان اور ديگر ترقي پذير ممالک کو اس حقيقت کا ادراک کر لينا چاہئے کہ مغرب کي اندھي تقليد ميں خانداني اداروں کو تباہ کر لينے کے باوجود وہ ان کي طرح مادي ترقي کي منزليں طے نہيں کر سکتے۔ مزيد برآں مغربي ممالک کي سائنسي و صنعتي ترقي کليتاً عورتوں کي شرکت کي مرہون منت نہيں ہے۔ يہ ايک تاريخي حقيقت ہے کہ برطانيہ، فرانس،جرمني، ہالينڈ، پرتگال، سپين اور ديگر يورپي ممالک اس وقت بھي سائنسي ترقي کے قابل رشک مدارج طے کرچکے تھے جب ان ممالک ميں عورتوں کو ووٹ دينے کا حق نہيں ملا تھا۔۱۸۵۰ء تک صنعتي انقلاب نے پورے يورپي معاشرے ميں عظيم تبديلي برپا کر دي تھي۔۱۹۰۰ء تک مذکورہ بالا يورپي اقوام نے افريقہ، ايشيا اور لاطيني امريکہ کے بيشتر ممالک کو اپنا غلام بنا ليا تھا۔
جنگ عظيم دوم سے پہلے ان ممالک ميں عورتوں کا ملازمتوں ميں تناسب قابل ذکر نہيں تھا۔يہ بھي ايک ناقابل ترديد حقيقت ہے کہ جنگ عظيم دوم ميں مرنے والے کروڑوں مردوں کے خلا کو پر کرنے کے لئے يورپي معاشرے ميں عورتوں کے بادل نخواستہ باہر نکلنے کي حوصلہ افزائي کي گئي۔

Login to post comments