×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

جائیں تو جائے کہاں...

November 07, 2014 434

اپنی ڈائری پر درج یہ شعر اسے روح تلک جھنجھوڑ گیا۔برسوں بعد آج وہ اس گھر میں واپس لوٹی تھی ایسا لگ رہا تھا جیسے لمبے عرصے

تک کوما میں رہنے کے بعد کوئی مریض کوما کی کیفیت سےباہر آتاہے۔کرسی پر وہ دھپ سے گر گئی جیسے کوئی بوجھ سا اس کے دل پراب بھی باقی ہو۔دن مہینے اور مہینے برسوں میں بد ل گئے اور کسی فلم کی طرح پہاڑ جیسی زندگی پلک جھپکتے ہی اس کی آنکھوں  کے سامنے گزرنے لگی۔
اسے آج بھی یا د ہے وہ دن جب اس کے بیٹے پر مرگی کے دورے پڑے تھے وہ محض سات سال کا تھا وہ بد حواسی کے عالم میں اسے لے کر اسپتال بھاگی۔تبھی اسے ایک ایسے شخص کا خیال آیا جو اس لمحے اس کی مد د کرسکتا تھا۔۔اس نے فوراً موبائل پر نمبر ڈائل کیا۔۔ ’’ہیلو!تابش،میرے بیٹا بے ہوش ہوگیاہے اسے لے کر اسپتال جارہی ہوں۔‘‘
دوسری طرف سے آواز آئی’’کیسے ہوا ؟کون سے اسپتال جارہی ہیں آپ ؟میں آتاہوں ابھی اسی وقت۔۔۔‘‘
وہ جب تک سمیر کو لے کر اسپتال پہنچتی ،تابش بھی وہاں پہنچ چکے تھے۔ڈاکٹر نے سمیر کے برین کے کچھ ٹیسٹ کرنے کیلئے کہا۔
تابش کا آفس اس کے آفس کے قریب ہی تھا چند دن پہلے ہی کسی کام کے سلسلے میں ان دونوں کی ملاقات ہوئی تھی۔مطلب اور دھوکے سے بھر ی اس دنیا میں اسے تابش ایک بھلے انسان معلوم ہوئے۔
پورے دن ٹیسٹ ،طبی جانچ کے بعد ڈاکٹر نے سمیر کو گھر لے جانے کی اجازت دے دی۔’’اللہ کا بہت شکر ہے میرا بچہ صحیح سلامت ہے۔صدف کی آنکھوں میں آنسو تھے۔میں آپ کا بھی شکریہ ادا کرتی ہوں تابش صاحب اس برے وقت میں آپ نے میرا ساتھ دیا۔‘‘
’’شکر تو بس اللہ کا ادا کریا لیکن برا نہ مانیں تو ایک بات پوچھوں آپ سے۔‘‘
’’جی پوچھئے۔‘‘صدف نے جوا ب دیا۔
’’آپ کے شوہر...؟میرا مطلب ہے اس برے وقت میں بھی وہ آپ کے ساتھ نہیں۔‘‘
’’وہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں۔‘‘صدف کے چہرے پر گہری مایوسی چھاگئی۔
ؔؔ’’معا ف کیجئے اس موقع پر مجھے یہ سوال نہیں پوچھنا چاہئے۔‘‘تابش کو دل ہی دل میں ملال ہوا۔
’’نہیں،مجھے کوئی برا نہیں لگا ان سوالو ں کی اب میں عادی ہوچکی ہوں۔اپنے بچوںکیلئے میں ہی ماں ہوں اور باپ بھی۔‘‘صدف کے چہرے سے اعتماد جھلک رہا تھا۔
’’آپ تعلیم یافتہ بھی ہیں ،شریف گھرانے سے لگتی ہیں لیکن زمانہ بہت خراب ہے۔پھر بھی جب کبھی آپ کو میری ضرورت پڑے تو یاد کیجئے گا۔‘‘یہ کہہ تابش اپنے گھر کی طرف روانہ ہوگئے۔
گھر اور آفس کی تما م ذمہ داریاں وہ اکیلے سنبھال رہی تھی سمیر چھ سال کا تھاجب اس کاشریک حیات ایک حادثہ کا شکار ہوگیا اور وہ اس دنیا میں تنہا رہ گئی۔
والدین کا گھر شادی کے بعد بیٹی کیلئے پرایا ہوجاتاہے ۔
’’اسی گھر میں رہو صدف یہ بھی تو تمہارا ہی گھر ہے۔‘‘
نہیں امی ،میں تم پر یا بھائی بھابیوں پر بوجھ نہیں بننا چاہتی ۔کسی نہ کسی طر ح میں یہ زندگی جی لوں گی۔
کرایے کے ایک گھر میں و ہ اپنے بیٹےکے ساتھ رہنے لگی۔بچے کے اسکول کاخرچ،گھر کے خرچ کے ساتھ اسے کرایہ بھی ادا کرنا تھا ۔آس پاس والے اکثر ٹوکا کرتے ’’صدف بیٹی کب تک اکیلی رہوگی ،جلدی سے شادی کرلو۔‘‘پڑو س کی خالہ آج پھر اسے ملنے چلی آئی اور محلے بھر کے قصے سنا کر اپنی بات پرآگئی۔’’ارے پڑھی لکھی ہو،کماتی ہو،کوئی نہ کوئی تو مل ہی جائے گا۔‘‘
خالہ کی باتیں اس کے دل پر خنجر سے زیادہ وار کرنے لگیں۔’’مجھے تو شوہر مل جائے گا خالہ لیکن میرے بیٹے کو باپ نہیںملے گا۔اللہ نے چاہا تو ہوگا ورنہ نہیں۔‘‘
صدف کا جواب سن کر خالہ منہ بنانے لگی۔
’’بھی میں تو تمہارے بھلے کا کہہ رہی تھی ایک دو رشتے بھی ہے میرے پاس کہو تو بتائو‘‘۔خالہ کی آنکھیں چمکنے لگیں۔
’’نہیں خالہ،اجڑے ہوئے چمن دوبارہ نہیں بسا کرتے۔‘‘خالہ اس کی باتیںسن کر چلی گئی۔
سمیر کو اسکول چھوڑنے کے بعد وہ آفس کیلئے گھر سے نکلی تبھی تابش سے اس کی ملاقات ہوگئی۔
’’سمیر کی طبیعت کیسی ہے اب۔‘‘تابش نے پوچھا
’’اللہ کے کرم سے بہترہے۔‘‘صدف نے جواب دیا اور آگے بڑھ گئی۔
آج اسے لگ رہا تھا کہ تابش کی نظروں کا سامنانہیں کر پائے گی۔یہ کیسا احساس دل میں جاگ رہاہے۔میں نے آج تک دنیا کی ہر خرافات سے خود کو بچائے رکھنے کی کوشش کی پھر یہ کون سا ارمان ہے جو دبے پائوں دل میں قدم رکھ رہاہے۔
وہ آگے بڑھ گئی۔وقت گزرتا رہا۔تابش اور اس کے درمیان بس رسمی باتیں ہوتی۔
’’صدف مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔ کافی شاپ میں۔‘‘تابش کے چہرے کے تاثرات آج کچھ الگ تھے۔
صدف چونک گئی’’کوئی ضروری بات ہے۔‘‘
’’ہاں ،ضروری ہے۔‘‘تابش نے کہا
تابش کے چہرے پر اعتماد کی کرنوں کو وہ دیکھتی رہ گئی۔
اس دن دونوں کافی شاپ میںملے۔
’’صدف،مجھے تم سے محبت ہے اور میں تمہیں کسی دھوکے میں نہیں رکھنا چاہتا۔اسلئے اپنا حال ِدل کہہ رہاہوں۔میں دوستی کی آڑ میں محبت نہیں کرناچاہتا۔‘‘
صدف ان کی باتوں کو سنتی رہ گئی۔
’’محبت کے خمار کو اترنے میں وقت نہیں لگتاہے تابش صاحب۔میں ان جذبوںپر بھروسہ نہیں کرتی۔‘‘صدف نے اپنی بات کہہ دی۔
’’تم بھلے بھروسہ کر و نہ کرو ،لیکن جو بات میرے دل میں تھی تمہیں کہہ دی۔‘‘دونو ں کافی شاپ سے باہر آگئے۔
تابش کے جذبوں کی گونج وہ اپنے دل میں سن چکی تھی لیکن وہ اچھی طرح جانتی تھی کہ تابش ایک شادی شدہ انسان ہیں اور ان دونوں کا ملنا تقریباً ناممکن ہے۔
’’مجھے کوئی ہمدردی یا رحم نہیں چاہئے تابش ،میں اپنی زندگی تنہا جی لوں گی۔‘‘صدف نے دو ٹوک جواب دیا۔
’’میںاپنی بیوی سے بات کروں گا صدف ۔۔ہمارے نکاح کیلئے۔۔‘‘تابش نے کہا
’’ایک عورت دوسری عورت کو کبھی برداشت نہیں کرتی تابش۔‘‘صدف نے آج فیصلہ کرنے کی ٹھان لی تھی۔
’’لیکن اس میں غلط کیا ہے صدف میں دونوں ذمہ داریہ نبھائوں گا،تم کب تک تنہا زندگی کی لڑائی لڑو گی۔میں نے ہمیشہ جو اپنے ہمسفر کا تصور سوچا تھا وہ تم ہو ،میں نے صرف اپنے والدین کی خوشی کیلئے شادی کی تھی اور اسے ہمیشہ نبھائوں گا۔ زندگی کا ہر سکھ میرے پاس تھا پھر بھی زندگی نامکمل تھی جو تمہارے آنے سے مکمل ہوئی۔‘‘تابش کی آنکھوں میں نمی اتر آئی۔
’’تابش ،میں نے اپنے والدین کی خوشی کیلئے شادی کی تھی اور آپ نے اپنے والدین کی خوشی کیلئے....میری زندگی اگراسی طر ح  خدا کو منطور ہے تو یہی سہی... میں اپنی دنیاآباد نہیں کروں گی۔‘‘آنسوئوں کے چند قطرے صدف کی گالوں پر اتر آئے۔
’’اب آپ مجھے سے نہیں ملئے گا۔‘‘صدف نے اپنا فیصلہ سنا دیا۔
’’یہ کیسے ممکن ہے صدف کس بات کی سزا مل رہی ہے مجھے،میرا جذبہ نیک ہے،نیت صاف ہے ۔ میں دونوں کی ہر ذمہ داری اٹھانے کیلئے تیار ہوں ،پھر کیوں..‘‘
تابش نے بھرائی ہوئی آوازمیںکہا۔
وہ جانتی تھی اس نکاح کو تابش کی بیوی کبھی قبول نہیں کرے گی اور اسے بچوں سے دور کردے گی۔
’’اللہ تمہیں زندگی کی ہر خوشی دے۔‘‘اس نے دعا مانگی۔
’’خالہ اس گھر پر تالہ کیوں لگا ہے۔‘‘تابش صدف کے گھر کے پاس کھڑ اتھا۔
’’ارے بیٹا ایک لڑکی رہتی تھی اپنے بیٹے کے ساتھ لیکن ابھی کچھ دن پہلے وہ گھر چھوڑ کر کہیں اور چلی گئی۔‘‘یہ کہہ کر خالہ آگے بڑھ گئی۔’’کیا،صدف گھر چھوڑ کر چلی گئی ،اس کا فون بھی بند ہے آفس بھی نہیں آرہی ،یہ کیا،کیاتم نے صدف اورکیوں کیا؟میں نے روح کی گہرائیوں سے تمہیں چاہا ہے اور چاہتارہوں گا۔مجھے بھروسہ ہے اپنے خدا پر ایک دن وہ مجھے تم سے ضرور ملائے گا،میں آخری دم تک تمہارا انتظار کروں گا۔‘‘تابش کی آنکھوں سے آنسوئوں کی جھڑی سی لگ گئی۔
’’تم نے میری خاطر یہ قربانی دی اور میرے اپنے مجھے ہی سمجھ نہیں پائے۔‘‘بھاری قدموں سے وہ گھر کی طرف روانہ ہو گیا،اس دن اسے لگا جیسے اس کی دنیا ہی اجڑ گئی۔ہرخوشی سے اس نے منہ موڑ لیا۔
ٓٓصدف نے شہر سے بہت دور گھر لیا لیکن تابش کی محبت کو وہ دل سے نکال نہیں پائی۔زندگی اب اس کیلئے پہلے سے زیادہ بوجھل اور مشکل ہوگئی تھی لیکن جینا ہرحال میں تھا اپنے بیٹے سمیر کیلئے۔آج برسوں بعد وہ اپنی امی کے گھر آئی تھی۔
’’کیا ہوا بیٹا کب تک کرسی پر بیٹھے یونہی سوچتی ر ہوں گی۔چلو کھانا کھالو۔‘‘
امی کی آواز سن کر وہ اپنے ماضی سے باہر نکل آئی۔ آج وہ اپنے اس گھر کو دیکھنے گئی جہاں برسوں پہلے وہ اپنے بیٹے کے ساتھ رہتی تھی۔
’’وہ جوخالہ یہاں رہتی تھی وہ کہاں ہیں۔‘‘اس نے گھر کے مکینوں سے پوچھا،ان کا تو انتقال ہوگیا۔لیکن آپ کو ن ہیں؟گھر میں رہنے والی ایک عورت نے پوچھا
‘‘میں بہت عرصہ پہلے اس گھر میں رہتی تھی میرا نام صدف ہے۔‘‘
نام سن کر وہ عور ت چونک گئی’’کیا آپ کا نام صدف ہے جو بہت پہلے اس گھر میں رہتی تھی۔‘‘
’’ہاں میں ہی ہوں‘‘۔صدف نے جواب دیا۔
’’روز ایک شخص یہاں آتاتھا اور آپ کے بارے میں پوچھ کر چلا جا تا تھا۔‘‘عورت نے کہا
’’کون تھا وہ ۔‘‘دل کہنے لگا وہ ضرور تابش ہوں گے۔
’’کوئی تابش صاحب تھے لیکن پچھلے کچھ دنوں سے نہیں آرہے ہیں۔۔‘‘
’’اس کے دل پر بجلی سے گر گئی وہ فوراً تابش کے آفس پہنچی تو معلوم ہوا پچھلے چند دنوں سے و ہ سخت بیمار ہیں اور اسپتال میں ہیں۔وہ تقریباً بھاگتی ہوئی اسپتال پہنچی۔اسپتال کے بیڈ پر تابش کو دیکھ کر وہ زار و قطار ر ونے لگی۔
آواز سن کر تابش نے آنکھیںکھولی۔
’’تم آگئی صدف، میں نے کہا تھا میری محبت تمہیں کھینچ لائے گی۔‘‘
’’یہ کیا حال بنادیا تم نے اپنا تابش۔‘‘صدف نے روتے ہوئے کہا۔
’’وہ زندگی موت سے کم نہیں تھی صدف جو میں تمہارے بغیر گزار رہا تھا۔خدا دیر سویر بندے کی سن ہی لیتا ہے ۔‘‘
’’تم صحیح کہہ رہے ہو تابش ،اب میں تمہیں چھوڑ کر کہیں نہیں جائوں گی ۔‘‘صد ف نے فیصلہ کرلیا تھا۔n

Login to post comments