×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

کریلے کی شفایابی

دی 22, 1393 502

ہمارے پڑوس میں ایک صاحب عبداللہ شاہ آیا کر تے تھے ۔ عمر میں سو سال سے اوپر تھے، مگر چست اور توانا ۔ روزانہ تین چار میل پیدل

چلتے۔ ان کی نظر بھی کمزور نہیں تھی ، باریک لفظوں والا قرآن پاک پڑھتے،کمر جھکی نہیں تھی ۔ دانت بالکل سلامت تھے، وہ جب کبھی آتے ان کے ملنے والوں میں افراتفری مچ جا تی ۔ دوپہر کے کھا نے میں شاہ صاحب صر ف کر یلے کھا تے ۔ طرح طر ح کے پکو ان کریلوں سے بنائے جا تے ۔ با زا ر میں دستیا ب نہ ہوتے تو ان کے لیے تلاش کر کے لا ئے جا تے ۔ کچھ معتقد تو ایسے تھے کہ ہر مو سم میں کریلے اگا تے تاکہ شاہ صاحب کو کھانے میں کو ئی شکا یت نہ ہو ۔ شاہ صاحب کہا کرتے :” صحت کا راز کریلو ں میں ہے۔ آج تک میرے بدن پر گرمی کے مو سم میں پھوڑا پھنسی نہیں نکلی ، خارش نہیں ہوئی ۔میرا رنگ اس عمر میں بھی سرخ و سفید ہے۔ میں ٹانک یا کشتے استعمال نہیں کر تا صر ف دن میں ایک بار کر یلے ضرور کھا تا ہوں۔ مجھے شو گر یا گنٹھیا کا عارضہ بھی نہیں، اللہ کا شکر ہے من بھر سامان اٹھا کر چا رمیل تک گرمی میں چل سکتا ہو ں ۔ “ موسم گرما میں کریلے بازار میںآسانی سے مل جاتے ہیں ۔ انسانی جسم کے اندر فاسد مادے جمع ہوتے رہتے ہیں جو بعد میں نقصان کے جسم سے خا رج کر دیتا ہے اور انتڑیا ں صاف کرتا ہے۔ اس میں یہ بھی خوبی ہے کہ پیٹ میں درد اور مروڑ نہیں ہونے دیتا ۔ کریلو ں کی کڑواہٹ دور کر نے کے لیے عموماً ان کی چھیل اور نمک لگا کر رکھ دیا جا تا ہے۔ بیج پھینک دیے جا تے ہیں ۔ بڑی بوڑھیا ں آج بھی کر یلو ںکو چھری سے کھر چ کر ان کے چھلکوں میں نمک لگا کر دھو لیتی ہیں۔ اور پھر تیل یا گھی میں تل کر چنے کی دال میں ملا دیتی ہیں۔ بھنی ہو ئی چنے کی دال اور کریلے کے چھلکے بڑے مزے کے بنتے ہیں ۔ ان میں ہلکی سی تلخی ہوتی ہے مگر وہ جسم انسانی کے لیے بہت مفید ہے ۔ اب تو ڈاکٹر بھی کر یلے کا پانی تجو یز کر نے لگے ہیں۔ پہلے طبیعت ایک یا دو تازہ کر یلے دھو کر آسما ن کے نیچے رات بھر کے لیے رکھوا دیتے تھے اور صبح انہیں ثابت کوٹ کر ان کا پانی نہا ر منہ پلا تے تھے ۔ معدہ خراب رہتا ہو ، بھوک کھل کر نہ لگتی ہو ، گیس بہت زیادہ ہو ، ہر وقت جسم میں ناتوانی کا احساس رہے یا ذرا سا کام کرنے سے تھکن ہو جا ئے اور ہا تھ پائوں گرمی سے جلتے رہیں ۔صبح انھیں تو پنڈلیا ں پتھر کی طر ح بھا ری او ربوجھل لگیں ، شوگر کی ابتدا ہو تو کریلے کا پانی پینے سے شفا مل جا تی ہے۔ جن کا مزاج بلغمی ہو، ان کے لیے کریلے بہت مفید ہیں ۔ یرقان کے مریضوں کو بھی کھلا ئے جا تے ہیں ۔ پتھری کے لیے بھی بے حد مفید ہیں۔ پیٹ میں کیڑے ہو ں تو کریلے کھانے سے دور ہو جا تے ہیں ۔گنٹھیا کا مریض بھی انہیں کھا کر فا ئدہ اٹھا سکتے ہیں ۔ دمے کے عارضے والے بھی اس انتہائی عمدہ سبزی کے استعمال سے صحت یا ب ہو جا تے ہیں ۔ کر یلا بلغم خارج کرکے مریض کو سکون دیتا اور اعصابی کمزوری دور کر تا ہے۔ لقوہ اور فالج کے مریض بھی اسے کھا سکتے ہیں ۔ آج کل گرمیوں ، خصوصاً بر سات کے مو سم میںجلد پر دانے اور پھنسیا ں نکل آتی ہیں ۔ مختلف قسم کے پر کلی ہیٹ پائوڈر وقتی طورپر سکو ن دیتے ہیں۔ اسی طر ح لو شن لگانے سے ٹھنڈک تو پڑ جا تی ہے مگر آرام نہیں آتا ۔ خواتین ہفتے میں دو تین بار کریلے پکا کر اس کا علاج گھریلو طو ر پر کر سکتی ہیں ۔ ان کے استعمال سے چہرے کی جلد بھی صاف ہو جاتی ہے۔ کریلے کھا نے سے دائمی قبض دور ہوتا ہے۔ پیٹ میں پانی بھر جا ئے، جگر بڑھ جا ئے تو دوا کے ساتھ ساتھ کر یلے کھانے اور ان کا پانی اور کلوکا پانی پینے سے جلد ی فرق پڑتا ہے ۔ جن لو گو ں کا مزاج بہت گرم ہو ان کے لیے مناسب یہ ہو گا کہ وہ کریلو ں میں دہی ڈال کر اور ہرا دھنیا ملا کر پکا ئیں ۔ کریلے میں وٹامن بی اور سی کے علاوہ فو لا د کیلشیم، فاسفورس اور پروٹین پائے جا تے ہیں ۔ یہ ساری چیزیں انسانی صحت اور زندگی کے لیے بڑی اہم ہیں ۔ خواتین یہ بات پڑھ کر بہت حیران ہو ں گی کہ کریلا موٹاپے کو دور کرتا ہے۔ آپ اس کی سبزی بنا کر ہفتے میں تین بار کھا ئیں ۔ بھا ر ت کے کچھ علا قو ں میں کریلے سکھا کر ان کا سفو ف طبیب کی ہدایت کے مطابق روزانہ کھلا یا جا تا ہے۔ اس کے استعمال سے وزن کم ہو تا ہے اور جلد چمکدار اور شفاف ہونے لگتی ہے۔ مختلف قسم کے جلد ی امراض خود بخود دور ہو جا تے ہیں۔ جن لو گو ں کو ذیابےطس ہو ، ان کے لیے کریلا موسمی اعتبار سے بہترین غذا ہے۔ اس میں انسولین قدرتی طو ر پر مو جود ہو تی ہے ۔ کریلے کھانے سے خون میں شکر کی بڑھتی ہو ئی سطح نا رمل ہو جا تی ہے۔ اس کے رس میں تھوڑا سا شہد ملا کر پینے سے جگر کے امراض میں فا ئدہ ہو تا ہے ۔ کر یلے کا رس زیادہ کڑوا لگے تو تھوڑے بھنے ہو ئے چنے کھانے سے منہ کا ذائقہ ٹھیک ہو جا تاہے۔ شوگر کے مریض بکرے کا قیمہ بھون کر علیحدہ رکھیں اور دو کریلے لے کر ان کا ہلکا سا کھرچ اور دھو کر توے پر برگر کی طر ح ہلکی آنچ پر سینک لیں۔ دونوں طر ف سے سینک کر قیمے کے ساتھ کھائیں۔ اس سے فائدہ ہو گا۔ بعض جگہ خالص کریلے پکا نے کا رواج بھی ہے۔ کڑوے بہت ہو تے ہیں مگر صحت کے لیے نہایت مفید خیال کیے جا تے ہیں ۔ کریلے پکا نے میں یہ احتیاط کرنی چاہیے کہ گھی میں تلنے کے بعد اس میں پانی نہ ڈالیں۔ ذراسا پانی پڑ گیا تو ساری ہنڈیا کڑوی ہو جا ئے گی۔ سوکھے کریلے کا سفوف دو گرام سے زیادہ استعمال نہ کیا جا ئے ۔ ویسے بھی اپنے ڈاکٹر یا طبیب سے مشورہ کر نے کے بعد کھائیے۔
تحریر: پروفیسر عنایت اللہ ۔

Login to post comments