×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

بعض پھلوں کے خواص

دی 02, 1393 530

از نظر امام جعفر صادق علیہ السلام ارشاد امام عالی مقام ہے کہ ہر میوہ پر زہریلا مادہ ہوتاہے۔ لہذا اُسکو کھانے سے پہلے خوب پانی

سے دھو لینا چاہئے
سیب:
۱۔ سیب کھاوٴ یہ حرارت کو دور، شکم کو سرد اور بخار کوبرطرف کرتا ہے۔ ۲۔ اگر لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ سیب میں کیا خصوصیات اور خوبیاں ہیں تو بیمار سوائے سیب کے کسی دوا کو نہ کھائیں ۳۔ صرف سیب ہی وہ چیز ہے جو سب سے زیادہ اپنا اثر دل پر کرتا ہے اور اسکو تقویت پہونچاتا اور خوش رکھتا ہے۔ ۴۔جو بخار میں مبتلا ہو اُسکو سیب کھلاوٴ کہ سیب سے بہتر اور کوئی چیز نہیں ہے۔
گُلابی امرود:۔ امرود گلابی بہت مفید ہے۔ چہرہ کو حسین اور دلکو سکون بخشتا ہے۔
۱۔ جو شخص امرود سے ناشتہ کرے،آبِ کمر (منی) کو صاف اور اولاد خوبصورت پیدا ہو۔ ۲۔ امرود مقوی قلب اور صافئیِ دل ہے۔ ۳۔ امرود، جسم کو خوبصورت ، مفرح دل و دماغ اور تمام اندرونی اعضاء کو فائدہ پہنچاتا ہے۔
انار:۔ ارشاد امام ہے کہ اپنے اطفال کو انار کھلاوٴ تاکہ جلد جوان ہو جائیں۔
۱۔ انار کو معہ اسکے چربی (ہلکی جھلی جو دانوں کے اوپر ہوتی ہے) کے کھاوٴ کہ معدہ کو صاف اور زہن کو بڑھاتاہے۔
۲۔ انار خون کو بھی صاف کرتاہے۔ بدن کی رگوں کو تقویت دیتا ہے، تناسل و توالد میں مدد گار ہے۔ مُلَین اور ہاضم ہے۔ پیشاب آور بھی ہے، جگر کیلئے بہت مفید ہے۔ ۳۔ انار ، مرضِ یرقان، طحال، خفقانِ قلب اور کھانسی کے لئے بھی فائدہ مند ہے۔ آواز کو صاف، چہرے کو شگفتہ۔ جسم کو صاف کرتا، اور پیٹ کے کیڑوں کو مارتاہے۔
انجیر:۔ انجیر بوئے دہن کو برطرف کرتا ہے۔ معدہ اور جگر کے بُخارات کو زائل کرتا ہے۔ ہڈیوں کو مضبوط بناتا ہے۔ بالوں کو اُگاتا ہے۔ درد کو دور کرتا ہے۔ انجیر ہاضمہ کو درست کرتا ہے۔نشوونما میں مدد کرتا ہے۔ جسم کو طاقتور، اور چہرہ کو شگفتہ بناتا ہے اگر شام کے وقت کھایا جائے تو تحریک ِ معدہ کو منظم کرتا اور جسم کو تازگی بخشتا ہے ۔ انجیر ذائقہ کے لحاظ سے لذیذ اور اچھی غذاہے۔بدن کے لئے صحت اور جسم کے واسطے باعثِ اِستنباط ہے۔ جگر اور تصفیئہ خون کو مفید ہے۔ سِل اور سرطان میں نفع بخش ہے۔ انجیر دردِ سینہ اور کھانسی مین سودمند ہے۔ لیکن چشم اور معدہ کیلئے زیادہ اِستعمال نقصان دہ ہے۔
خُرما:۔ کسی نے حضرت امام جعفر صادق کے سامنے خرمونکا ایک طبق رکھا اور کہا، یہ بڑے عمدہ خُرمے ہیں، آپ نے فرمایا، بے شک بہت سے امراض کی دوا ہیں۔ خرما، سمیات کو ختم کرتا ہے۔ اور بہت سی بیماریوں کو دور کرتا ہے۔ اگر کوئی سوتے وقت سات دانے خُرمے کے کھا لیا کرے تو معدہ کے کیڑوں سے نجات پا جائے۔ خُرما بدن کو گرم اور فعال بناتا ہے۔ خون غلیظ پیدا کرتا ہے۔ اگر اس کو دودھ میں پکا لیں تو قوتِ باہ کیلئے بہت مفید ہے۔ آنتوں، خشک کھانسی اور اَدرَا بول کوبھی فائدہ بخش ہے۔ خُرما ءِ تُرش و خام۔ برائے جریان، خون، اسہال اور مسوڑھوں کو بھی نفع پہنچاتا ہے۔
سرطان کو آرام دیتا ہے۔ انگور:۔ انگور پٹھوں کو مضبوط کرتا ہے، درد کو دور کرتار اور روح کو فرحت بخشتا ہے۔ نوح علیہ السلام نے خدا سے غم و اندوہ کی شکایت کی۔ حُکم ہوا انگور کھاوٴ۔ انگور مُلیّن، مصفی خون۔ مقوی غذا ہے۔ آبِ انگور قُوٰی کو تازگی۔ دورانِ خون کو تحریک اور معدہ کی تکالیف دور کرتا ہے۔ جگر مختلف بُخار۔ بدہضمی۔ امراضِ قلب۔ صفراء۔ بواسیرسیل، اور سرطان کیلئے مفید ہے۔ انگور بہترین چیز ہے جس سے مختلف بیماریوں کا مختلف طریقہ سے علاج کیا جاسکتا ہے۔ ہم انھیں چند چیزوں پر اکتفا کرتے ہوئے ختم کر رہے ہیں۔ کیونکہ یہ چند چیزیں ہی امام کے طبِ جسمانی کی معلومات پر ایک کامل نمونہ اور ثبوت ہیں۔ اگر تفصیل سے بیان کیا جائے تو ایک ضخیم کتاب بن جائے۔ مقصد یہ ہے کہ مُنصف مزاج طبیب جب اِرشادات ِ امام عالیمقام کا مطالعہ کرے تو وہ اس نتیجہ پر پہونچ جائے۔ کہ علم ِ ادیان کا عالم۔ عالمِ علمِ ابدان بھی ہوتا ہے۔

Login to post comments