×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

بچوں کی نیند کے متعلق چند غلط فہمیاں

مهر 26, 1392 639

پوری  نیند  والدین سے زیادہ ایک نوزاد بچے  کے لیۓ زیادہ ضروری ہے ۔ بچے کی نیند کے متعلق ہمارے معاشرے میں چند غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں

اور بہت سے والدین کو اس بارے میں  بہت ہی کم معلومات ہوتی ہیں  کہ بـچے کو دن رات میں کتنے گھنٹے  نیند کی ضرورت ہوتی ہے یا یہ کہ بچے کے سونے کے لیۓ مناسب وقت کون سا ہے ؟

یہاں پر ہم چند صحیح اور غلط عقائد پر بات کرتے ہیں ۔

 ٭ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ بچے کو دن رات میں 12 گھنٹے  سلا دینا چاہیۓ ۔

 یہ غلط ہے ۔ نوزاد کو دن رات میں 16 سے 17 گھنٹے اور 3 سال کی عمر کے بچے کو 12 گھنٹے نیند کی ضرورت ہوتی ہے ۔ جس طرح بچے کی عمر میں اضافہ ہوتا جاتا ہے اسی لحاظ سے اس کی نیند کی ضرورت میں کمی ہوتی جاتی ہے ۔ مثال کے طور پر  6 سال کے بچے کو 10 گھنٹے جبکہ  12 سال کی عمر کے بچے کو 9 گھنٹے  نیند کی ضرورت ہوتی ہے ۔ اس کے باوجود یہ  اعداد و شمار متعلقہ بچے کی مجموعی حالت پر بھی منحصر ہیں ۔

 ٭ بچے میں کم نیند یا بے سکونی کی نیند کی علامتیں آنکھوں کے گرد حلقوں یا نیلے پن کی صورت میں ظاہر ہوتی ہیں ۔

 یہ بھی غلط ہے کیونکہ  نیند کی کمی کی علامتیں بچے میں اس طریقے سے ظاہر ہوتی ہیں کہ بچہ جب صبح نیند سے اٹھتا ہے تو وہ ہشاش بشاش نہیں ہوتا اور مجبوری کے تحت اٹھتا ہے اور   اسے سارا دن تھکاوٹ کی حالت میں گزارنا پڑتا ہے ۔

 ٭ یہ بھی غلط ہے کہ بچے کو ایک مقررہ وقت پر سلانے کا کوئی فائدہ نہیں ۔

 مقررہ وقت پر اگر بچے کو سلانے کی عادت ڈالی جاۓ تو اس سے اس کی نیند پر بہت ہی اچھا اثر پڑتا ہے ۔ وہ نہایت ہی سکون کی نیند  سو جاتا ہے اور مقررہ وقت پر اسے نیند بھی جلدی آ جاتی ہے ۔

 

Last modified on چهارشنبه, 14 خرداد 1393 14:10
Login to post comments