×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

زندگی کو طولانی کرنے کا نسخہ تیار؟

ارديبهشت 31, 1393 572

طبی ماہرین نے حال ہی میں تجربے کے مرحلے سے کامیابی کے ساتھ گزرنے والی ’’سپر پلز‘‘ (دوا) کو برطانوی باشندوں کے لیے

نوید قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کروڑوں افراد کی زندگیوں کو بڑھایا جاسکے گا اور ان کی جانیں بچائی جاسکیں گی۔ سائنسدانوں نے عالمی حکومتوں اور صحت کے محکموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ چار ادویات کی مرتب اس دوا کے لائسنس جاری کرنے کی اجازت دیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ انتہائی جدید ٹرائل کے بعد اس دوا کو دل کی بیماریوں کے لیے ایک نئی امید قرار دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ سستی دوا دل کے مریضوں کو دی جانے والی مختلف ادویات کا نعم البدل ثابت ہوگی اور دل کے مریضوں کو اس دوا کے بعد دوسری دوائیں لینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوگی۔ اس سلسلے میں رپورٹ تیار کرنے والے طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ دوا دل کی بیماریوں کا سارا کھیل تبدیل کردے گی اور اس کے عالمی صحت پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس دوا کو 3 ہزار مریضوں پر استعمال کیا گیا ہے جن میں اکثریت برطانوی باشندوں کی ہے۔ اس کے انتہائی شاندار نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ اس ’’پولی پل‘‘ میں بلڈ پریشر کی ادویات، سٹیٹن اور ایسپرین شامل کی گئی ہیں۔ اس سے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول میں کمی واقع ہوئی ہے۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ دل کی بیماریوں سے اب بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ صرف برطانیہ میں ہر سال ایک لاکھ 80 ہزار افراد ان بیماریوں سے انتقال کرجاتے ہیں۔ یہ مسئلہ اس لیے اور بھی پیچیدہ ہوجاتا ہے کہ لوگ اکثر ادویات لینا بھول جاتے ہیں۔ ورلڈ ہارٹ فیڈریشن کی جانب سے کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ لوگوں کو چار گولیوں کی بجائے ایک گولی کھانا یاد رہے گا۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ نئی دوا کھانے سے مریضوں میں ہائی بلڈ پریشر اور کولیسٹرل میں نمایاں حد تک کمی ہوئی ہے۔ تحقیق کی سربراہی کرنے والے جارج انسٹی ٹیوٹ فار گلوبل ہیلتھ کی رتھ ویبسٹر نے کہا ہے کہ زیادہ تر مریض وہ ادویات نہیں کھاتے جن کی ان کو ضرورت ہوتی ہے جس کی وجہ سے ان کے اندر دل کی بیماریاں بڑھ جاتی ہیں اور ان کی موت بھی واقع ہوجاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں دس کروڑ کے قریب افراد دل کی بیماریوں کی ادویات لیتے ہیں۔ اس دوا سے ان کی زندگیوں پر مثبت اثرات مرتب ہوں گے اور ان کی زندگی بڑھے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ دوا سستی ہوگی اور ہر کوئی اسے خرید سکے گا۔ یہ دوا دو سال کے اندر اندر تیار ہونی شروع ہوجائے گی اور اس کی قیمت ایک پونڈ فی گولی ہوگی۔ اس وقت برطانیہ میں 23 لاکھ افراد دل کی بیماریوں اور سٹروک کو روکنے کے لیے مختلف ادویات استعمال کرتے ہیں۔ تاہم ان ادویات کے باوجود دل کی بیماریوں کو روکنا مشکل ہوجاتا ہے۔ اس وقت دنیا میں ایسے نصف افراد ہیں جو ہارٹ اٹیک اور سٹروک کے باوجود ادویات نہیں لیتے۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ جب ساری ادویات کی مرتکب ایک دوا سامنے آئے گی تو لوگ اس کو کھانا پسند کریں گے۔ یہ دوا سستی ہونے کے باوجود برطانیہ میں لائسنس حاصل نہیں کرسکے گی، کیونکہ اس میں ایسپرین ہے جو گیسٹرو بلیڈنگ کا سبب بن سکتی ہے۔ برطانیہ میں کم ڈوز والی ایسپرین طویل عرصہ سے مریضوں کو دی جارہی ہے جس کے نتیجے میں ہارٹ اٹیک اور سٹروک میں کمی آرہی ہے۔ دریں اثناء نیشنل انسٹی ٹیوٹ فار ہیلتھ اینڈ کیئر ایکسیلنس نے سٹیٹن کے بارے میں گائیڈنس تبدیل کی ہے اور اب یہ دوا لاکھوں لوگوں کو فائدہ پہنچا رہی ہے۔ اس کے تجربات سے ثابت ہوا ہے کہ اس کو کھانے کے نتیجے میں کولیسٹرل میں نمایاں حد تک کمی ہوئی ہے۔ یورپ، آسٹریلیا اور انڈیا میں 3 ہزار 140 افراد نے نئی دوا استعمال کی ہے اور انہوں نے اس دوا پر اپنے اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ دل کی بیماریوں سے دنیا بھر میں 17.3 ملین افراد ہر سال انتقال کر جاتے ہیں۔

Login to post comments