×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

اک دانش نورانی ۔ علامہ اقبال

ارديبهشت 14, 1393 1404

میرے ذہن میں اگر کسی زندہ شاعر کا خیال آسکتا ہے، تو وہ ایک ہی ہے اور وہ بھی لازمی طور پر نہ ہمارا ہم قوم، نہ ہماراہم مذہب،میری مراد

اقبال سے ہے۔ (داکٹر ہربرٹ ایڈ، امریکہ)

 اک دانش نورانی ، اک دانش برہانی
ہے دانش برہانی ، حیرت کی فراوانی

اس پیکر خاکی میں اک شے ہے ، سو وہ تیری
میرے لیے مشکل ہے اس شے کی نگہبانی

اب کیا جو فغاں میری پہنچی ہے ستاروں تک
تو نے ہی سکھائی تھی مجھ کو یہ غزل خوانی

ہو نقش اگر باطل ، تکرار سے کیا حاصل
کیا تجھ کو خوش آتی ہے آدم کی یہ ارزانی؟

مجھ کو تو سکھا دی ہے افرنگ نے زندیقی
اس دور کے ملا ہیں کیوں ننگ مسلمانی!

تقدیر شکن قوت باقی ہے ابھی اس میں
ناداں جسے کہتے ہیں تقدیر کا زندانی

تیرے بھی صنم خانے ، میرے بھی صنم خانے
دونوں کے صنم خاکی ، دونوں کے صنم فانی

Last modified on پنج شنبه, 08 خرداد 1393 12:48
Login to post comments