×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

45۔ وداع ماہ رمضان کی دعا

October 24, 2013 635

اے اللہ ! اے وہ جو ( اپنے احسانات کا ) بدلہ نہیں چاہتا ۔ اے وہ جو عطا وبخشش پر پشیمان نہیں ہوتا۔ اے وہ جو اپنے بندوں کو ( ان کے

عمل کے مقابلہ میں ) نپا تلا اجر نہیں دیتا۔ تیری نعمتیں بغیر کسی سابقہ استحقاق کے ہیں اور تیرا عفو ودرگزر تفضل واحسان ہے تیرا سزا دینا عین عدل اور تیرا فیصلہ خیر وبہبودی کا حامل ہے تو اگر دیتا ہے تو اپنی عطا کو منت گزاری سے آلودہ نہیں کرتا اور اگر منع کر دیتا ہے تو یہ ظلم وزیادتی کی بنا پر نہیں ہوتا۔ جو تیرا شکر ادا کرتا ہے تو اس کے شکر کی جزا دیتا ہے ۔ حالانکہ تو ہی نے اس کے دل میں شکرگزاری کا القاء کیا ہے اور جو تیری حمد کرتا ہے اسے بدلہ دیتا ہے حالانکہ تو ہی نے اسے حمد کی تعلیم دی ہے اورایسے شخص کی پردہ پوشی کرتا ہے کہ اگرچاہتا تو اسے رسوا کر دیتا ہے ۔ اورایسے شخص کو دیتا ہے کہ اگر چاہتا تو اسے نہ دیتا ۔ حالانکہ وہ دونوں تیری بارگاہ عدالت میں رسوا ومحروم کیے جانے ہی کے قابل تھے مگر تو نے اپنے افعال کی بنیاد تفضل واحسان پر رکھی ہے اور اپنے اقتدار کو عفو ودرگزر کی راہ پر لگایا ہے اور جس کسی نے تیری نافرمانی کی تو نے اس سے بردباری کا رویہ اختیار کیا ۔ا ورجس کسی نے اپنے نفس پر ظلم کا ارادہ کیا تو نے اسے مہلت دی تو ان کے رجوع ہونے تک اپنے حلم کی بنا پر مہلت دیتا ہے اور توبہ کرنے تک انہیں سزا دینے میں جلدی نہیں کرتا تا کہ تیری منشاء کے خلاف تباہ ہونے والا تباہ نہ ہو اور تیری نعمت کی وجہ سے بدبخت ہونے والا بد بخت نہ ہو مگر اس وقت کہ جب اس پر پوری عذر داری اور اتمام حجت ہوجائے ۔ اے کریم ! یہ ( اتمام حجت) تیرے عفو ودرگزر کا کرم اور اے بردبار تیری شفقت ومہربانی کا فیض ہے تو ہی ہے وہ جس نے اپنے بندوں کے لیے عفووبخشش کا دروازہ کھولا ہے اور اس کا نام توبہ رکھا ہے اور تو نے اس دروازہ کی نشان دہی کے لیے اپنی وحی کو رہبر قراردیا ہے تاکہ وہ اس دروازہ سے بھٹک نہ جائیں چنانچہ اے مبارک نام والے تو نے فرمایا ہے کہ خدا کی بارگاہ میں سچے دل سے توبہ کرو۔امید ہے کہ تمہارا پروردگار تمہارے گناہوں کو محو کر دے اور تمہیں اس بہشت میں داخل کرے جس کے (محلات وباغات) کے نیچے نہریں بہتی ہیں۔ اس دن جب خدا اپنے رسول اور ان لوگوں کو جو اس پر ایمان لائے ہیں رسوا نہیں کرے گا بلکہ ان کا نور ان کے آگے آگے اور ان کی دائیں جانب چلتا ہو گا اور وہ لوگ یہ کہتے ہوں گے کہ اے ہمارے پروردگار!ہمارے لیے ہمارے نور کو کامل فرما اور ہمیں بخش دے ۔ اس لیے کہ تو ہر چیز پر قادر ہے تو اب جو اس گھر میں داخل ہونے سے غفلت کرے جب کہ دروازہ کھولا اور رہبر مقرر کیا جا چکا ہے تواس کا عذروبہانہ کیا ہو سکتا ہے ؟ تو وہ ہے جس نے اپنے بندوں کے لیے لین دین میں اونچے نرخوں کا ذمہ لے لیا ہے اور یہ چاہا ہے کہ وہ جو سودا تجھ سے کریں اس میں انہیں نفع ہو اور تیری طرف بڑھنے اور زیادہ حاصل کرنے میں کامیاب ہوں چنانچہ تو نے کہ جو مبار ک نام والا اوربلند مقام والا ہے فرمایا ہے جو میرے پاس نیکی لے کر آئے گا اسے اس کا دس گنا اجر ملے گا اور جو برائی کا مرتکب ہو گا تو اس کو برائی کا بدلہ بس اتنا ہی ملے گا جتنی برائی ہے ۔۔۔۔ اور تیرا ارشاد ہے کہ ۔۔ جو لوگ اللہ تعالی کی راہ میں اپنا مال خرچ کرتے ہیں ان کی مثال اس بیج کی سی ہے جس سے سات بالیاں نکلیں اور ہر بالی میں سو سو دانے ہوں اور خدا جس کے لیے چاہتا ہے دگنا کردیتا ہے ۔۔۔ اورتیرا ارشاد ہے کہ ۔۔۔۔کو ن ہے جو اللہ کو قرض حسنہ دے تاکہ خدا اس کے مال کو کئی گناہ زیادہ کرکے ادا کرے اور ایسی ہی افزائش حسنات کے وعدہ پر مشتمل دوسری آیتیں کہ جو تو نے قرآن مجید میں نازل کی ہیں اور تو ہی وہ ہے جس نے وحی وغیب کے کلام اور ایسی ترغیب کے ذریعہ کہ جو ان کے فائدہ پر مشتمل ہے ایسے امور کی طرف ان کی رہنمائی کی کہ اگر ان سے پوشیدہ رکھتا تو نہ ان کی آنکھیں دیکھ سکتیں ، نہ ان کے کان سن سکتے اور نہ ان کے تصورات وہاں تک پہنچ سکتے چنانچہ تیرا ارشاد ہے کہ تم مجھے یاد رکھو میں تمہاری طرف سے غافل نہیں ہوں گا ۔ اورمیرا شکر ادا کرتے رہو اور ناشکری نہ کرو۔۔۔ اورتیرا ارشاد ہے کہ اگر میرا شکر کرو گے تو میں یقینا تمہیں زیادہ دوں گا اور اگر نا شکری کی تو یاد رکھو کہ میرا عذاب سخت عذاب ہے ۔۔۔ اور تیرا ارشاد ہے کہ مجھ سے دعا مانگو تو میں قبول کروں گا ۔ وہ لوگ جو غرور کی بنا پر میری عبادت سے منہ موڑ لیتے ہیں وہ عنقریب ذلیل ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے۔ چنانچہ تو نے دعا کا نام عبادت رکھا اور اس کے ترک کو غرور سے تعبیر کیا اور اس کے ترک پر جہنم میں ذلیل ہو کر داخل ہونے سے ڈرایا !اس لئے انہوں نے تیری نعمتوں کی وجہ سے تجھے یاد کیا۔ تیرے فضل وکرم کی بنا پر تیرا شکریہ اد اکیا اورتیرے حکم سے تجھے پکارا اور(نعمتوں میں ) طلب افزائش کے لیے تیری راہ میں صدقہ دیا اور تیری یہ رہنمائی ہی ان کے لیے تیرے غضب سے بچاؤ اور تیری خوشنودی تک رسائی کی صورت تھی اورجن باتوں کی تو نے اپنی جانب سے اپنے بندوں کی رہنمائی کی ہے اگر کوئی مخلوق اپنی طرف سے دوسرے مخلوق کی ایسی ہی چیزوں کی طرف راہنمائی کرتا تو وہ قابل تحسین ہوتا توپھر تیرے ہی لئے حمد ستائش ہے جب تک تیری حمد کے لیے راہ پیدا ہوتی رہے اور جب تک حمد کے وہ الفا ظ جن سے تیری تحمید کی جا سکے اور حمد کے وہ معنی جو تیری حمد کی طرف پلٹ سکیں باقی رہیں۔ اے وہ معنی جو تیری حمد کی طرف پلٹ سکیں باقی رہیں۔ اے وہ جو اپنے فضل واحسان سے بندوں کی حمد کا سزا وار ہوا ہے اور انہیں اپنی نعمت وبخشش دے ڈھانپ لیا ہے۔ ہم پر تیری نعمتیں کتنی آشکار ہیں اور تیرا انعام کتنا فراواں ہے اور کس قدر ہم تیرے انعام واحسان سے مخصوص ہیں تو نے اس دین کی جسے منتخب فرمایا اور اس طریقہ کی جسے پسند فرمایا اور اس راستہ کی جسے آسان کر دیا ہمیں ہدایت کی اور اپنے ہاں قرب حاصل کرنے اور عزت وبزرگی تک پہنچنے کے لئے بصیرت دی ۔ بارالہا!تو ان منتخب فرائض اور مخصوص واجبات میں سے ماہ رمضان کو قرار دیا ہے جسے تو نے تمام مہینوں میں امتیاز بخشا اور تمام وقتوں اور زمانوں میں سے اسے منتخب فرمایا ہے اور اس میں قرآن اور نور کو نازل فرما کر اور ایمان کو فروغ وترقی بخش کر اسے سال کے تمام اوقات پر فضیلت دی اور اس میں روزے واجب کئے اور نمازوں کی ترغیب دی اور اس میں شب قدر کو بزرگی بخشی جو خود ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ پھر اس مہینہ کی وجہ سے تو نے ہمیں تمام امتوں پر ترجیح دی اور دوسر ی امتوں کے بجائے ہمیں اس کی فضلیت کے باعث منتخب کیا ۔ چنانچہ ہم نے تیرے حکم سے اس کے دنوں میں روزے رکھے اور تیری مدد سے اس کی راتیں عبادت میں بسر کیں ۔ اس حالت میں کہ ہم اس روزہ نماز کے ذریعہ تیری اس رحمت کے خواستگار تھے جس کا دامن تو نے ہمارے لئے پھیلایا ہے اور اسے تیرے اجر وثواب کا وسیلہ قراردیا ۔ اور تو ہر اس چیز کے عطا کرنے پر قادر ہے جس کی تجھ سے خواہش کی جائے اور ہر اس چیز کا بخشنے والا ہے جس کا تیرے فضل سے سوال کیا جائے تو ہر اس شخص سے قریب ہے جو تجھ سے قرب حاصل کرنا چاہے ۔ اس مہینہ نے ہمارے درمیان قابل ستائش دن گزارے اور اچھی طرح حق رفاقت ادا کیا اور دنیا جہان کے بہترین فائدوں سے ہمیں مالا مال کیا ۔ پھر جب اس کا زمانہ ختم ہو گیا، مدت بیت گئی اور گنتی تمام ہو گئی تو وہ ہم سے جدا ہوگیا۔ اب ہم اسے رخصت کرتے ہیں اس شخص کے رخصت کرنے کی طرح جس کی جدائی ہم پر شاق ہو اور جس کا جانا ہمارے لئے غم افزا اور وحشت انگیز ہو اور جس کے عہد وپیمان کی نگہداشت عزت وحرمت کا پاس اور اس کے واجب الادا حق سے سبکدوشی از بس ضروری ہو اس لیے ہم کہتے ہیں اے اللہ کے بزرگ ترین مہینے تجھ پر سلام ، اے دوستان خدا کی عید تجھ پر سلام اے اوقات میں بہترین رفیق اور دنوں اور ساعتوں میں بہترین مہینے تجھ پر سلام ہو ، اے وہ مہینے جس میں امیدیں بر آتی ہیں اور اعمال کی فراوانی ہوتی ہے تجھ پر سلام ۔ اے وہ ہم نشین کہ جو موجود ہو تو اس کی بڑی قدرومنزلت ہوتی ہے اور نہ ہونے پر بڑا دکھ ہوتا ہے اور اے وہ سر چشمہ امید ورجا جس کی جدائی الم انگیز ہے تجھ پر سلام۔ اے وہ ہمدم جو انس ودل بستگی کا سامان لیے ہوئے آیا تو شادمانی کا سبب ہوا اور واپس گیا تو وحشت بڑھا کر غمگین بنا گیا تجھ پر سلام۔ اے وہ ہمسائے جس کی ہمسائیگی میں دل نرم اور گناہ کم ہو گئے تجھ پر سلام ، اے وہ مدد گار جس نے شیطان کے مقابلہ میں مدد واعانت کی، اے وہ ساتھی جس نے حسن عمل کی راہیں ہموار کیں تجھ پر سلام ، ( اے ماہ رمضان ) تجھ میں اللہ کے آزاد کیے ہوئے بندے کس قدر زیادہ ہیں اور جنہوں نے تیری حرمت وعزت کا پاس ولحاظ رکھا وہ کتنے خوش نسیب ہیں تجھ پر سلام، تو کس قدر گناہوں کو محو کرنے والا اور قسم قسم کے عیبوں کو چھپانے والا ہے تجھ پر سلام ۔ تو گنہگاروں کے لیے کتنا طویل اور مومنوں کے دلوں میں کتنا پر ہبیت ہے تجھ پر سلام ، اے وہ مہینے جس سے دوسرے ایام ہمسری کا دعوی نہیں کر سکتے تجھ پر سلام، اے وہ مہینے جو ہر امر سے سلامتی کا باعث ہے تجھ پر سلام ، اے وہ جس کی ہم نشینی بار خاطر اور معاشرت ناگوار نہیں ۔ تجھ پر سلام جب کہ تو برکتوں کے ساتھ ہمارے پاس آیا اور گناہوں کی آلودگیوں کو دھویا تجھ پر سلام ، اے وہ جسے دل تنگی کی وجہ سے رخصت نہیں کیا گیا۔اور نہ خستگی کی وجہ سے اس کے روزے چھوڑے گئے تجھ پر سلام ۔ اے وہ کہ جس کے آنے کی پہلے سے خواہش تھی اور جس کے ختم ہونے سے قبل ہی دل رنجیدہ ہیں تجھ پر سلام، تیری وجہ سے کتنی برائیاں ہم سے دور ہو گئیں اور کتنی بھلائیوں کے سر چشمے ہمارے لیے جاری ہو گئے تجھ پر سلام ۔ اے ماہ رمضان تجھ پر اور اس شب قدر پر جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے سلام ہو۔ ابھی کل ہم کتنے تجھ پر وا رفتہ تھے اور آنے والے کل میں ہمارے شوق کی کتنی فراوانی ہو گئی تجھ پر سلام ۔ اے ماہ مبارک تجھ پر اور تیری ان فضیلتوں پر جن سے ہم محروم ہو گئے اور تیری گزشتہ برکتوں پر جو ہمارے ہاتھ سے جاتی رہیں سلام ہو ۔اے اللہ ہم اس مہینے سے مخصوص ہیں جس کی وجہ سے تو نے ہمیں شرف بخشا اور اپنے لطف واحسان سے اس کی حق شناسی کی توفیق دی جبکہ بد نصیب لوگ اس کے وقت ( کی قدر وقیمت)سے بے خبر تھے اوراپنی بد بختی کی وجہ سے اس کے فضل سے محروم رہ گئے اور تو ہی ولی وصاحب اختیار ہے کہ ہمیں اس کی حق شناسی کے لیے منتخب کیا اوراس کے احکام کی ہدایت فرمائی ۔ بے شک تیری توفیق سے ہم نے احکام کی ہدایت فرمائی۔ بے شک تیری توفیق سے ہم نے اس مہینے میں روزے رکھے، عبادت کے لیے قیام کیا ۔ مگر کمی وکوتاہی کے ساتھ اور مشتے ازخروار سے زیادہ نہ بجا لاسکے۔ اے اللہ ! ہم اپنی بد اعمالی کا اقرار اورسہل انگاری کا اعتراف کرتے ہوئے تیری حمد کرتے ہیں اوراب تیرے لیے کچھ ہے تو وہ ہمارے دلوں کی واقعی شرمساری اور ہماری زبانوں کی سچی معذرت ہے لہذا اس کمی و کوتاہی کے باوجود جو ہم سے ہوئی ہے ہمیں ایسا اجر عطا کر کہ ہم اس کے ذریعہ دلخواہ فضیلت وسعادت کو پا سکیں اور طرح طرح کے اجر وثواب کے ذخیرے جن کے ہم آرزو مند تھے اس کے عوض حاصل کر سکیں اور ہم نے تیرے حق میں جو کمی کوتاہی کی ہے اس میں ہمارے عذر کو قبول فرما اور ہماری عمر آئندہ کا رشتہ آنے والے ماہ رمضان سے جوڑ دے اور جب اس تک پہنچا دے تو جو عبادت تیرے شایان شان ہو اس کے بجا لانے پر ہماری اعانت فرمانا اوراس اطاعت پر جس کا وہ مہینہ سزاوار ہے عمل پیرا ہونے کی توفیق دینا اور ہمارے لئے ایسے نیک اعمال کا سلسلہ جاری رکھنا کہ جو زمانہ زیست کے مہینوں میں ایک کے بعد دوسرے ماہ ماہ رمضان میں تیری حق ادائیگی کا باعث ہوں ۔ ا ے اللہ ! ہم نے اس مہینہ میں جو صغیرہ یا کبیرہ معصیت کی ہو ، یا کسی گناہ سے آلودہ اورکسی خطا کے مرتکب ہوئے ہوں جان بوجھ کر یا بھولے چوکے، خود اپنے نفس پر ظلم کیا ہو یا دوسرے کا دامن حرمت چاک کیا ہو ۔ تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور ہمیں اپنے پردہ میں ڈھانپ لے اور اپنے عفو ودرگزر سے کام لیتے ہوئے معاف کر دے ، اور ایسا نہ ہو کہ اس گناہ کی وجہ سے طنز کرنے والوں کی آنکھیں ہمیں گھوریں اور طعنہ زنی کرنے والوں کی زبانیں ہم پر کھلیں اور اپنی شفقت بے پایاں سے اور مرحمت روز افزوں سے ہمیں ان اعمال پر کار بند کر کہ جو ان چیزوں کو بر طرف کریں اور ان کی تلافی کریں جنہیں تو اس ماہ میں ہمارے لئے نا پسند کرتا ہے۔ اے اللہ ! محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اوراس مہینہ کے رخصت ہونے سے جو قلق ہمیں ہوا ہے اس کا چارہ کر اور عید اور روزہ چھوڑنے کے دن کو ہمارے لیے مبارک قرار دے اور اسے ہمارے گزرے ہوئے دنوں میں بہترین دن قرار دے جو عفو ودرگزر کو سمیٹنے والا اور گناہوں کو محو کرنے والا ہو اور تو ہمارے ظاہر وپوشیدہ گناہوں کو بخش دے۔ بارالہا اس مہینہ سے الگ ہونے کے ساتھ تو ہمیں گناہوں سے الگ کر دے اور اس کے نکلنے کے ساتھ تو ہمیں برائیوں سے نکال لے اوراس مہینہ کی بدولت اس کو آباد کرنے والوں میں ہمیں سب سے بڑھ کر خوش بخت با نصیب اور بہرہ مند قرار دے ۔ اے اللہ ! جس کسی نے جیسا چاہیے اس مہینے کا پاس ولحاظ کیا ہو اور کماحقہ اس کا احترام ملحوظ رکھا ہو اوراس کے احکام پر پوری طرح عمل پیرا رہا ہو ۔ گناہوں سے جس طرح بچنا چاہیے اس طرح بچا ہو بہ نیت تقرب ایسا عمل خیر بجا لایا ہو جس نے تیری خوشنودی اس کے لیے ضروری قرار دی ہو اور تیری رحمت کو اس کی طرف متوجہ کردیا ہو ۔ تو جو اسے بخشے ویسا ہی ہمیں بھی اپنی دولت بے پایاں میں سے بخش اور اپنے فضل وکرم سے اس سے بھی کئی گنا زائد عطا کر ۔ اس لیے کہ تیرے خزانے کم ہونے میں نہیں آتے بلکہ بڑھتے ہی جاتے ہیں اور نہ تیرے احسانات کی کانیں فنا ہوتی ہیں اور تیری بخشش وعطا تو ہر لحاظ سے خوشگوار بخشش وعطا ہے۔ اے اللہ !محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور جو لوگ روز قیامت تک اس ماہ کے روزے رکھیں یا تیری عبادت کریں ان کے اجر وثواب کے مانند ہمارے لیے اجر وثواب ثبت فرما۔ اے اللہ ! ہم اس روز فطر میں جسے تو نے اہل ایمان کے لیے عید ومسرت کا روز اور اہل اسلام کے لیے اجتماع وتعاون کا دن قرار دیا ہے ہر اس گناہ سے جس کے ہم مرتکب ہوئے ہوں اوراس برائی سے جسے پہلے کر چکے ہوں اورہر بری نیت سے جسے دل میں لیے ہوئے ہوں اس شخص کی طرح توبہ کرتے ہیں جو گناہوں کی طرف دوبارہ پلٹنے کا ارادہ نہ رکھتا ہواور نہ توبہ کے بعد خطا کا مرتکب ہوتا ہو ایسی سچی توبہ تو ہر شک وشبہ سے پاک ہو تو اب ہماری توبہ کو قبول فرما ہم سے راضی وخوشنود ہو جا اورہمیں اس پر ثابت قدم رکھ۔ اے اللہ ! گناہوں کی سزا کا خوف اور جس ثواب کا تو نے وعدہ کیا ہے اس کا شوق ہمیں نصیب فرما تا کہ جس ثواب کے تجھ سے خواہش مند ہیں اس کی لذت اورجس عذاب سے پناہ مانگ رہے ہیں اس کی تکلیف واذیت پوری طرح جان سکیں ۔ اورہمیں اپنے نزدیک ان توبہ گزاروں میں قرار دے جن کے لیے تو نے اپنی محبت کو لازم کر دیا ہے اورجن سے فرمانبرداری واطاعت کی طرف رجوع ہونے کو تو نے قبول فرمایا ہے۔ اے عدل کرنے والوں میں سب سے زیادہ عدل کرنے والے ۔ اے اللہ ! ہمارے ماں باپ اورہمارے تمام اہل مذہب وملت خواہ وہ گزر چکے ہوں یا قیامت کے دن تک آیندہ آنے والے ہوں سب سے درگزر فرما ۔اے اللہ ! ہمارے نبی محمد اور ان کی آل پر ایسی رحمت نازل فرما جیسی رحمت تو نے اپنے مقرب فرشتوں پر کی ہے اور ان پر اور ان کی آل پر ایسی رحمت نازل فرما جیسی تو نے اپنے فرستادہ نبیوں پر نازل فرمائی ہے اور ان پر او ر ان کی آل پر ایسی رحمت نازل فرما جیسی تو نے اپنے نیکو کار بندوں پر نازل کی ہے ( بلکہ ) اس سے بہتر وبرتر ، اے تمام جہان کے پروردگار ایسی رحمت جس کی برکت ہم تک پہنچے جس کی منفعت ہمیں حاصل ہو اور جس کی وجہ سے ہماری دعائیں قبول ہوں اس لیے کہ تو ان لوگوں سے جن کی طرف رجوع ہوا جاتا ہے زیادہ کریم اور ان لوگوں سے جن پر بھروسا کیا جاتا ہے زیادہ بے نیاز کرنے والا ہے اور ان لوگوں سے جن کے فضل کی بنا پر سوال کیا جاتا ہے زیادہ عطا کرنے والا ہے اور تو ہر چیز پر قادر وتوانا ہے۔

اللهم صل علي محمد و آله ، في كل وقت و كل اوان و علي كل حال عدد ما صليت علي من صليت عليه ، و اضعاف ذلك كله بالاضعاف التي لا يحصيها غيرك ، إنك فعال لما تريد .اللهم يا من لا يرغب في الجزاء .و يا من لا يندم علي العطاء .و يا من لا يكافئ عبده علي السواء .منتك ابتداء ، و عفوك تفضل ، و عقوبتك عدل ، و قضاؤك خيرة .إن أعطيت لم تشب عطاءك بمن ، و إن منعت لم يكن منعك تعديا .تشكر من شكرك و أنت الهمته شكرك .و تكافئ من حمدك و أنت علمته حمدك .تستر علي من لو شئت فضحته ، و تجود علي من لو شئت منعته ، و كلاهما اهل منك للفضيحة والمنع غير أنك بنيت افعالك علي التفضل ، و اجريت قدرتك علي التجاوز .و تلقيت من عصاك بالحلم ، و امهلت من قصد لنفسه بالظلم ، تستنظرهم بأناتك إلي الانابة ، و تترك معاجلتهم الي التوبة لكيلا يهلك عليك هالكهم ، و لا يشقي بنعمتك شقيهم إلا عن طول الاعذار إليه ، و بعد ترادف الحجة عليه ، كرما من عفوك يا كريم ، و عائدة من عطفك يا حليم .أنت الذي فتحت لعبادك بابا الي عفوك ، و سميته التوبة ، و جعلت علي ذلك الباب دليلا من وحيك لئلا يضلوا عنه ، فقلت - تبارك اسمك - : توبوا إلي الله توبة نصوحا عسي ربكم أن يكفر عنكم سيئاتكم و يدخلكم جنات تجري من تحتها الأنهار .يوم لا يخزي الله النبي و الذين امنوا معه ، نورهم يسعي بين أيديهم و بايمانهم ، يقولون : ربنا اتمم لنا نورنا ، و اغفر لنا ، إنك علي كل شي ء قدير . فما عذر من اغفل دخول ذلك المنزل بعد فتح الباب و اقامة الدليل ؟! .و أنت الذي زدت في السوم علي نفسك لعبادك ، تريد ربحهم في متاجرتهم لك ، و فوزهم بالوفادة عليك ، و الزيادة منك ، فقلت - تبارك اسمك و تعاليت - : من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها ، و من جاء بالسيئة فلا يجزي إلا مثلها .و قلت : مثل الذين ينفقون اموالهم في سبيل الله كمثل حبة أنبتت سبع سنابل في كل سنبلة مائة حبة ، و الله يضاعف لمن يشاء ، و قلت : من ذا الذي يقرض الله قرضا حسنا فيضاعفه له اضعافا كثيرة . و ما أنزلت من نظائرهن في القرآن من تضاعيف الحسنات .و أنت الذي دللتهم بقولك من غيبك و ترغيبك الذي فيه حظهم علي ما لو سترته عنهم لم تدركه ابصارهم ، و لم تعه اسماعهم ، و لم تلحقه اوهامهم ، فقلت : اذكروني اذكركم ، و اشكروا لي و لا تكفرون ، و قلت : لئن شكرتم لازيدنكم ، و لئن كفرتم إن عذابي لشديد .و قلت : ادعوني استجب لكم ، إن الذين يستكبرون عن عبادتي سيدخلون جهنم داخرين ، فسميت دعاءك عبادة ، و تركه استكبارا ، و توعدت علي تركه دخول جهنم داخرين .فذكروك بمنك ، و شكروك بفضلك ، و دعوك بامرك ، و تصدقوا لك طلبا لمزيدك ، و فيها كانت نجاتهم من غضبك ، و فوزهم برضاك .و لو دل مخلوق مخلوقا من نفسه علي مثل الذي دللت عليه عبادك منك كان موصوفا بالاحسان ، و منعوتا بالامتنان ، و محمودا بكل لسان ، فلك الحمد ما وجد في حمدك مذهب ، و ما بقي للحمد لفظ تحمد به ، و معني ينصرف اليه .يا من تحمد الي عباده بالاحسان و الفضل ، و غمرهم بالمن و الطول ، ما افشي فينا نعمتك ، و اسبغ علينا منتك ، و اخصنا ببرك !هديتنا لدينك الذي اصطفيت ، و ملتك التي ارتضيت ، و سبيلك الذي سهلت ، و بصرتنا الزلفة لديك ، و الوصول الي كرامتك .اللهم و أنت جعلت من صفايا تلك الوظائف ، و خصائص تلك الفروض شهر رمضان الذي اختصصته من سائر الشهور ، و تخيرته من جميع الازمنة و الدهور ، و اثرته علي كل اوقات السنة بما أنزلت فيه من القرآن و النور ، و ضاعفت فيه من الايمان ، و فرضت فيه من الصيام ، و رغبت فيه من القيام ، و اجللت فيه من ليلة القدر التي هي خير من الف شهر .ثم اثرتنا به علي سائر الامم ، و اصطفيتنا بفضله دون اهل الملل ، فصمنا بامرك نهاره ، و قمنا بعونك ليله ، متعرضين بصيامه و قيامه لما عرضتنا له من رحمتك ، و تسببنا اليه من مثوبتك ، و أنت الملئ بما رغب فيه اليك ، الجواد بما سئلت من فضلك ، القريب الي من حاول قربك .و قد اقام فينا هذا الشهر مقام حمد ، و صحبنا صحبة مبرور ، و اربحنا افضل ارباح العالمين ، ثم قد فارقنا عند تمام وقته ، و انقطاع مدته ، و وفاء عدده .فنحن مودعوه وداع من عز فراقه علينا ، و غمنا و اوحشنا انصرافه عنا ، و لزمنا له الذمام المحفوظ ، و الحرمة المرعية ، و الحق المقضي ، فنحن قائلون : السلام عليك يا شهر الله الاكبر ، و يا عيد أوليائه .السلام عليك يا اكرم مصحوب من الاوقات ، و يا خير شهر في الايام و الساعات .السلام عليك من شهر قربت فيه الامال ، و نشرت فيه الاعمال .السلام عليك من قرين جل قدره موجودا ، و افجع فقده مفقودا ، و مرجو الم فراقه .السلام عليك من اليف انس مقبلا فسر ، و اوحش منقضيا فمض .السلام عليك من مجاور رقت فيه القلوب ، و قلت فيه الذنوب .السلام عليك من ناصر اعان علي الشيطان ، و صاحب سهل سبل الاحسان .السلام عليك ما اكثر عتقاء الله فيك ، و ما اسعد من رعي حرمتك بك .السلام عليك ما كان امحاك للذنوب ، و استرك لانواع العيوب !السلام عليك ما كان اطولك علي المجرمين ، و اهيبك في صدور المؤمنين !السلام عليك من شهر لا تنافسه الايام .السلام عليك من شهر هو من كل امر سلام .السلام عليك غير كريه المصاحبة ، و لا ذميم الملابسة .السلام عليك كما وفدت علينا بالبركات ، و غسلت عنا دنس الخطيئات .السلام عليك غير مودع برما ، و لا متروك صيامه ساما .السلام عليك من مطلوب قبل وقته ، و محزون عليه قبل فوته .السلام عليك كم من سوء صرف بك عنا ، و كم من خير افيض بك علينا .السلام عليك و علي ليلة القدر التي هي خير من الف شهر .السلام عليك ما كان احرصنا بالامس عليك ، و اشد شوقنا غدا اليك .السلام عليك و علي فضلك الذي حرمناه ، و علي ماض من بركاتك سلبناه .اللهم إنا اهل هذا الشهر الذي شرفتنا به ، و وفقتنا بمنك له حين جهل الاشقياء وقته ، و حرموا لشقائهم فضله .أنت ولي ما اثرتنا به من معرفته ، و هديتنا له من سنته ، و قد تولينا بتوفيقك صيامه و قيامه علي تقصير ، و ادينا فيه قليلا من كثير .اللهم فلك الحمد اقرارا بالاساءة ، و اعترافا بالاضاعة ، و لك من قلوبنا عقد الندم ، و من السنتنا صدق الاعتذار ، فاجرنا علي ما اصابنا فيه من التفريط اجرا نستدرك به الفضل المرغوب فيه ، و نعتاض به من انواع الذخر المحروص عليه .و اوجب لنا عذرك علي ما قصرنا فيه من حقك ، و ابلغ باعمارنا ما بين ايدينا من شهر رمضان المقبل ، فإذا بلغتناه فاعنا علي تناول ما أنت اهله من العبادة ، و ادنا الي القيام بما يستحقه من الطاعة ، و اجر لنا من صالح العمل ما يكون دركا لحقك في الشهرين من شهور الدهر .اللهم و ما الممنا به في شهرنا هذا من لمم أو إثم ، أو واقعنا فيه من ذنب ، و اكتسبنا فيه من خطيئة علي تعمد منا ، أو علي نسيان ظلمنا فيه انفسنا ، أو انتهكنا به حرمة من غيرنا ، فصل علي محمد و آله ، و استرنا بسترك ، واعف عنا بعفوك ، و لا تنصبنا فيه لاعين الشامتين ، و لا تبسط علينا فيه السن الطاعنين ، و استعملنا بما يكون حطة و كفارة لما انكرت منا فيه برأفتك التي لا تنفد ، و فضلك الذي لا ينقص .اللهم صل علي محمد و آله ، و اجبر مصيبتنا بشهرنا ، و بارك لنا في يوم عيدنا و فطرنا ، و اجعله من خير يوم مر علينا اجلبه لعفو ، و امحاه لذنب ، و اغفرلنا ما خفي من ذنوبنا و ما علن .اللهم اسلخنا بانسلاخ هذا الشهر من خطايانا ، و اخرجنا بخروجه من سيئاتنا ، و اجعلنا من اسعد اهله به ، و اجزلهم قسما فيه ، و اوفرهم حظا منه .اللهم و من رعي هذا الشهر حق رعايته ، و حفظ حرمته حق حفظها ، و قام بحدوده حق قيامها ، و اتقي ذنوبه حق تقاتها ، أو تقرب اليك بقربة اوجبت رضاك له ، و عطفت رحمتك عليه ، فهب لنا مثله من وجدك ، و اعطنا اضعافه من فضلك ، فإن فضلك لا يغيض ، و إن خزائنك لا تنقص بل تفيض ، و إن معادن احسانك لا تفني ، و إن عطاءك للعطاء المهنا .اللهم صل علي محمد و آله ، و اكتب لنا مثل اجور من صامه ، أو تعبد لك فيه الي يوم القيمة .اللهم إنا نتوب اليك في يوم فطرنا الذي جعلته للمؤمنين عيدا و سرورا ، و لاهل ملتك مجمعا و محتشدا من كل ذنب اذنبناه ، أو سوء اسلفناه ، أو خاطر شر اضمرناه ، توبة من لا ينطوي علي رجوع الي ذنب ، و لا يعود بعدها في خطيئة ، توبة نصوحا خلصت من الشك و الارتياب ، فتقبلها منا ، و ارض عنا ، و ثبتنا عليها .اللهم ارزقنا خوف عقاب الوعيد ، و شوق ثواب الموعود حتي نجد لذة ما ندعوك به ، و كابة ما نستجيرك منه .و اجعلنا عندك من التوابين الذين اوجبت لهم محبتك ، و قبلت منهم مراجعة طاعتك ، يا اعدل العادلين .اللهم تجاوز عن ابائنا و امهاتنا و اهل ديننا جميعا من سلف منهم و من غبر الي يوم القيمة .اللهم صل علي محمد نبينا و آله كما صليت علي ملائكتك المقربين ، و صل عليه و آله كما صليت علي انبيائك المرسلين ، و صل عليه و آله كما صليت علي عبادك الصالحين ، و افضل من ذلك يا رب العالمين ، صلوة تبلغنا بركتها ، و ينالنا نفعها ، و يستجاب لها دعاؤنا ، إنك اكرم من رغب اليه ، و اكفي من توكل عليه ، و اعطي من سئل من فضله ، و أنت علي كل شئ قدير .
Last modified on Wednesday, 13 August 2014 15:29
Login to post comments