×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

37۔ادائے شکر میں کوتاہی کا اعتراف کرتے تو یہ دعا پڑھتے

October 24, 2013 450

بارالہا!کوئی شخص تیرے شکر کی کسی منزل تک نہیں پہنچتا ۔ مگر یہ کہ تیرے اتنے احسانات مجتمع ہوجاتے ہیں کہ وہ اس پر مزید شکریہ

لازم وواجب کر دیتے ہیں اور کوئی شخص تیری اطاعت کے کسی درجہ پر چاہے وہ کتنی ہی سرگرمی دکھائے نہیں پہنچ سکتا ۔ اور تیرے اس استحقاق کے مقابلہ میں جو بر بنائے فضل و احسان ہے، قاصر ہی رہتا ہے جب یہ صورت ہے تو تیرے سب سے زیادہ شکر گزار بندے بھی ادائے شکر سے عاجز اورسب سے زیادہ عبادت گزار بھی درماندہ ثابت ہوں گے ۔کوئی استحقاق ہی نہیں رکھتا کہ تو اس کے استحقاق کی بنا پر بخشش دے یا اس کے حق کی وجہ سے اس سے خوش ہو جسے تو نے بخش دیا تو یہ تیرا انعام ہے اورجس سے تو ناراض ہو گیا تو یہ تیرا تفضل ہے ۔ جس عمل قلیل کو تو قبول فرماتا ہے اس کی جزا فراواں دیتا ہے اورمختصر عبادت پر بھی ثواب مرحمت فرماتا ہے یہاں تک کہ گویا بندوں کا وہ شکر بجا لانا جس کے مقابلہ میں تو نے اجرو ثواب کو ضروری قرار دیا اور جس کے عوض ان کو اجر عظیم عطا کیا، ا یک ایسی بات تھی کہ اس شکر سے دست بردار ہونا ان کے اختیار میں تھا تو اس لحاظ سے تو نے اجر دیا ( کہ انہوں نے باختیار خود شکر ادا کیا)یا یہ کہ ادائے شکر کے اسباب تیرے قبضہ قدرت میں نہ تھے (اور انہوں نے خود اسباب شکر مہیا کئے )جس پر تو نے انہیں جزا مرحمت فرمائی ۔( ایسا تو نہیں ہے )بلکہ اے میرے معبود ! تو ان کے جملہ امور کا مالک تھا۔ قبل اس کے کہ وہ تیری عبادت پر قادر وتوانا ہوں اور تو نے ان کے لیے اجر وثواب کو مہیا کر دیا تھا ۔ قبل اس کے کہ وہ تیری عبادت پر قادر ہوں اور تو نے ان کے لیے اجر وثواب کو مہیا کر دیا تھا قبل اس کے کہ وہ تیری اطاعت میں داخل ہوں اور یہ اس لیے کہ تیراطریقہ انعام واکرام تیری عادت تفضل واحسان اور تیری روش عفوودرگذر ہے ۔ چنانچہ تمام کائنات اس کی معترف ہے کہ تو جس پر عذاب کرے اس پر کوئی ظلم نہیں کر تا اور گواہ ہے اس بات کی کہ جس کو تو معاف کر دے ، اس پرتفضل واحسان کرتا ہے اورہر شخص اقرار کرے گا اپنے نفس کی کوتاہی کا اس (اطاعت )کے بجا لانے میں جس کا تو مستحق ہے ۔ اگر شیطان انہیں تیری عبادت سے نہ بہکاتا تو پھر کوئی شخص تیری نافرمانی نہ کرتا ۔اوراگر باطل کو حق کے لباس میں ان کے سامنے پیش نہ کرتا تو تیرے راستہ سے کوئی گمراہ نہ ہوتا ۔ پاک ہے تیری ذات ، تیرا لطف وکرم ۔ فرمانبردار ہو یا گنہگار ہر ایک کے معاملہ میں کس قدر آشکارا ہے یوں کہ اطاعت گزار کو اس عمل خیر پر جس کے اسباب تو نے خود فراہم کئے ہیں جزا دیتا ہے اور گنہگار کو فوری سزا دینے کا اختیار رکھتے ہوئے پھر مہلت دیتا ہے ۔ تو نے فرمانبردار ونافرمان دونوں کو وہ چیزیں دی ہیں جن کا انہیں استحقاق نہ تھا۔اور ان میں سے ہر ایک پر تو نے وہ فضل واحسان کیا ہے جس کے مقابلہ میں ان کا عمل بہت کم تھا اوراگر تو اطاعت گزار کو صرف ان اعمال پر جن کا سروسامان تو نے مہیا کیا ہے جزا دیتا ہے تو قریب تھا کہ وہ ثواب کو اپنے ہاتھ سے کھو دیتا اور تیری نعمتیں اس سے زائل ہو جاتیں ۔ لیکن تو نے اپنے جودوکرم سے فانی وکوتاہ مدت کے اعمال کے عوض طولانی وجاودانی مدت کا اجر وثواب بخشا اور قلیل وزوال پذیر اعمال کے مقابلہ میں دائمی وسرمدی جزا مرحمت فرمائی ۔ پھر یہ کہ تیرے خوان نعمت سے جو رزق کھا کر اس نے تیری اطاعت پر قوت حاصل کی اس کا کوئی عوض تو نے نہیں چاہا اور جن اعضاء وجوارح سے کام لے کر تیری مغفرت تک راہ پیدا کی اس کا سختی سے کوئی محاسبہ نہیں کیا۔ اور اگر تو ایسا کرتا تو اس کی تمام محنتوں کا حاصل اور سب کوششوں کا نتیجہ تیری نعمتوں اور احسانوں میں سے ایک ادنی ومعمولی قسم کی نعمت کے مقابلہ میں ختم ہو جاتا اور بقیہ نعمتوں کے لیے تیری بارگاہ میں گروی ہو کر رہ جاتا ۔(یعنی اس کے پاس کچھ نہ ہوتا کہ اپنے کو چھڑاتا)توایسی صورت میں وہ کہاں تیرے کسی ثواب کا مستحق ہو سکتا تھا؟نہیں ! وہ کب مستحق ہو سکتا تھا۔ اے میرے معبود !یہ تو تیری اطاعت کرنے والے کا حال اور تیری عبادت کرنے والے کی سرگزشت ہے اوروہ جس نے تیرے احکام کی خلاف ورزی کی اور تیرے منہیات کا مرتکب ہوا اسے بھی سزا دینے میں تو نے جلدی نہیں کی تا کہ وہ معصیت ونافرمانی کی حالت میں چھوڑ کر تیری اطاعت کی طرف رجوع ہو سکے ۔ سچ تو یہ ہے کہ جب پہلے پہل ا س نے تیری نافرمانی کا قصد کیا تھا جب ہی وہ ہر اس سزا کا جسے تو نے تمام خلق کے لیے مہیا کیا ہے مستحْْق ہو چکا تھا۔ تو ہر وہ عذاب جسے تو نے اس سے روک لیا اور سزا وعقوبت کا ہر وہ جملہ جو اس سے تا خیر میں ڈال دیا : یہ تیرا اپنے حق سے چشم پوشی کرنا اور استحقا ق سے کم پر راضی ہونا ہے ۔ اے میرے معبود! ایسی حالت میں تجھ سے بڑھ کر کون کریم ہو سکتا ہے اور اس سے بڑھ کے جو تیری مرضی کے خلاف تباہ وبرباد ہو کون بدبخت ہو سکتا ہے ؟ نہیں ! کون ہے جو اس سے زیادہ بدبخت ہو ۔ تو مبارک ہے کہ تیری توصیف لطف واحسان ہی کے ساتھ ہو سکتی ہے اور تو بلند تر ہے اس سے کہ تجھ سے عدل وانصاف کے خلاف کا اندیشہ ہو ۔ جو شخص تیری نافرمانی کرے تجھ سے یہ اندیشہ ہو ہی نہیں سکتا کہ تو اس پر ظلم وجور کرے گا اور نہ اس شخص کے بارے میں جو تیری رضا وخوشنودی کو ملحوظ رکھے تجھ سے حق تلفی کا خوف ہو سکتا ہے ۔ تو محمد اور ان کی آل پر رحمت نازل فرما اور میری آرزؤوں کو بر لا اور میرے لیے ہدایت اوررہنمائی میں اتنا اضافہ فرما کہ میں اپنے کاموں میں توفیق سے ہمکنار ہوں۔ ا س لیے کہ تو نعمتوں کا بخشنے والا اور لطف وکرم کرنے وا لا ہے ۔

اللهم إن احدا لا يبلغ من شكرك غاية إلا حصل عليه من إحسانك ما يلزمه شكرا .و لا يبلغ مبلغا من طاعتك و إن اجتهد إلا كان مقصرا دون استحقاقك بفضلك .فاشكر عبادك عاجز عن شكرك ، و اعبدهم مقصر عن طاعتك .لا يجب لاحد أن تغفر له باستحقاقه ، و لا أن ترضي عنه باستيجابه .فمن غفرت له فبطولك ، و من رضيت عنه فبفضلك .تشكر يسير ما شكرته ، و تثيب علي قليل ما تطاع فيه حتي كأن شكر عبادك الذي اوجبت عليه ثوابهم و اعظمت عنه جزاءهم امر ملكوا استطاعة الامتناع منه دونك فكافيتهم ، أو لم يكن سببه بيدك فجازيتهم !بل ملكت - يا الهي - امرهم قبل أن يملكوا عبادتك ، و اعددت ثوابهم قبل أن يفيضوا في طاعتك ، و ذلك أن سنتك الافضال ، و عادتك الاحسان ، و سبيلك العفو .فكل البرية معترفة بأنك غير ظالم لمن عاقبت ، و شاهدة بأنك متفضل علي من عافيت ، و كل مقر علي نفسه بالتقصير عما استوجبت .فلو لا أن الشيطان يختدعهم عن طاعتك ما عصاك عاص ، و لولا أنه صور لهم الباطل في مثال الحق ما ضل عن طريقك ضال .فسبحانك ! ما ابين كرمك في معاملة من اطاعك أو عصاك : تشكر للمطيع ما أنت توليته له ، و تملي للعاصي فيما تملك معاجلته فيه .اعطيت كلا منهما ما لم يجب له ، و تفضلت علي كل منهما بما يقصر عمله عنه .و لو كافأت المطيع علي ما أنت توليته لاوشك أن يفقد ثوابك ، و أن تزول عنه نعمتك ، و لكنك بكرمك جازيته علي المدة القصيرة الفانية بالمدة الطويلة الخالدة ، و علي الغاية القريبة الزائلة بالغاية المديدة الباقية .ثم لم تسمه القصاص فيما اكل من رزقك الذي يقوي به علي طاعتك ، و لم تحمله علي المناقشات في الالات التي تسبب باستعمالها الي مغفرتك ، و لو فعلت ذلك به لذهب بجميع ما كدح له و جملة ما سعي فيه جزاء للصغري من اياديك و مننك ، و لبقي رهينا بين يديك بسائر نعمك ، فمتي كان يستحق شيئا من ثوبك ؟ لا ! متي ؟!هذا - يا الهي - حال من اطاعك ، و سبيل من تعبد لك ، فاما العاصي امرك و المواقع نهيك فلم تعاجله بنقمتك لكي يستبدل بحاله في معصيتك حال الانابة الي طاعتك ، و لقد كان يستحق في اول ما هم بعصيانك كل ما اعددت لجميع خلقك من عقوبتك .فجميع ما اخرت عنه من العذاب و ابطات به عليه من سطوات النقمة و العقاب ترك من حقك ، و رضي بدون واجبك .فمن اكرم - يا الهي - منك ، و من اشفي ممن هلك عليك ؟ لا ! من ؟ فتبارك أن توصف إلا بالاحسان ، و كرمت أن يخاف منك إلا العدل ، لا يخشي جورك علي من عصاك ، و لا يخاف اغفالك ثواب من ارضاك ، فصل علي محمد و آله ، وهب لي املي ، و زدني من هداك ما اصل به الي التوفيق في عملي ، إنك منان كريم .
Last modified on Wednesday, 13 August 2014 14:34
Login to post comments