×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

قرآن، حقيقي نور

بهمن 24, 1392 551

خداوند متعال کي

تجلي کا ايک مظہر نور ہے- خداوند تعالي اپنے کو نور سے تشبيہ ديتا ہے اور فرماتا ہے: (اءَللّٰہُ نُورُ السَّمٰوٰتِ وَ الاءَرْضِ)1 خدا آسمانوں اور زمين کا نور ہے- يہ خداوند متعال کے نور وجود کي تجلي اور چھوٹ ہے کہ جس سے زمين و آسمان اور مخلوقات کي خلقت ہوئي ہے- عنايت خدا کي برکت ہے کہ عالم وجود قائم و ثابت ہے اور فيض وجود، ہميشہ اور مسلسل منبع جود کي جانب سے موجودات پر جاري و ساري ہے نتيجہ ميں موجودات و مخلوقات اپني زندگي کو جاري رکھے ہوئے ہيں-

کبھي کبھي کلام خدا کو بھي نور سے تعبير کيا جاتا ہے، اس لئے کہ نور ہي کے پرتو ميں انسان راستے کو پيدا کرتا ہے، سرگرداني اور بھول بھليوں ميں بھٹکنے سے نجات حاصل کرتا ہے- چونکہ سب سے زيادہ بري اور نقصان دہ گمراہي، راہ زندگي کي ضلالت و گمراہي اور انسان کي سعادت کا خطرے ميں پڑنا ہے، اس لئے حقيقي اور واقعي نور وہ ہے جو کہ انسانوں کو اور انساني معاشروں کو ضلالت و گمراہي سے نجات دے اور انساني کمال کے صحيح راستے کو ان کے لئے روشن کرے تاکہ سعادت و تکامل کے راستے کو سقوط و ضلالت کے راستوں سے تميز دے سکيں- اسي بنياد پر خداوند متعال نے قرآن کو نور سے تعبير کيا ہے اور فرمايا ہے: (قَدجَائَکُمْ مِنَ اللّٰہِ نُور وَّ کِتَاب مُبِين)1 يقينا تمھارے پاس خدا کي طرف سے نور اور روشن کتاب آئي ہے تاکہ تم اس سے استفادہ کر کے راہ سعادت کو شقاوت سے جدا کرسکو- اب چونکہ بحث کا موضوع ''قرآن، نہج البلاغہ کے آئينہ ميں'' ہے، اس لئے ہم اس سلسلہ ميں وارد شدہ آيات کي تفسير و توضيح سے چشم پوشي کرتے ہيں اور اس بارے ميں حضرت علي  کے بيان کي توضيح کرتے ہيں-

.........................................................

(1)سورہء مائدہ، آيت 15- اس آيہء کريمہ ميں نور سے مراد در حقيقت حضرات محمد و آل محمد ہيں اس لئے کہ قرآن کا ذکر يہاں ''کتاب مبين'' کے ذريعہ کيا گيا ہے، اگرچہ قرآن کريم کا بھي نور ہونا اس ''کتاب مبين'' (روشن کتاب) کي تعبير سے نيز دوسري آيات و روايات سے ثابت ہے (مترجم)-

امير المومنين حضرت علي  ـ خطبہ 198 ميں اسلام اور پيغمبر اسلام  غ– کي توصيف کے بعد قرآن کريم کا وصف بيان فرماتے ہيں: ''ثُمَّ اَءنزَلَ عَلَيہِ الْکِتَابَ نُوراً لاتُطْفَاُء مَصَابِيْحُہَ وَ سِرَاجاً لايَخْبُو تَوَقُّدُہُ وَ بَحْراً لايُدْرَکُ قَعْرُہُ'' پھر خداوند متعال نے اپنے پيغمبر غ– پر قرآن کو ايک نور کي صورت ميں نازل فرمايا کہ جس کي قنديليں کبھي بجھ نہيں سکتيں، اور ايسے چراغ کے مانند کہ جس کي لو کبھي مدھم نہيں پڑسکتي اور ايسے سمندر کے مانند جس کي تھاہ مل نہيں سکتي-

حضرت علي  ـ اس خطبہ ميں وصف قرآن کے متعلق پہلے تين نہايت خوبصورت تشبيہوں کے ذريعے چاہتے ہيں کہ مسلمانوں کے دلوں کو قرآن کي عظمت سے آشنا کريں اور ان کي توجہ اس عظيم الٰہي سرمايہ کي طرف جو کہ ان کے ہاتھوں ميں موجود ہے، زيادہ سے زيادہ مبذول فرمائيں-

پہلے حضرت علي  ـ قرآن کي توصيف نور کے ذريعہ فرماتے ہيں: ''اءَنْزَلَ عَلَيہِ الْکِتَابَ نُوراً لاتُطْفَاُء مَصَابِيحُہُ'' خداوند تعالي نے قرآن کو اس حال ميں کہ نور ہے، پيغمبر  غ– پر نازل فرمايا، ليکن يہ نور تمام نوروں سے مختلف ہے-

يہ حقيقت (قرآن کريم) ايک ايسا نور ہے کہ جس کي قنديليں ہرگز خاموش نہيں ہوسکتيں اور ان کي لو کبھي مدھم نہيں پڑسکتي-

معقول کي محسوس سے تشبيہ کے عنوان سے قرآن کريم اس برقي انرجي کے عظيم منبع کے مانند ہے جو کہ اندھيري راتوں ميں بجلي کے مرکز کے ذريعے قوي اور بڑي بڑي مرکريوں کے وسيلے سے ان راستوں کو روشن کرتا ہے جو کہ منزل مقصود تک منتہي ہوتے ہيں اور ان لوگوں کے لئے جو سلامتي کے ساتھ مقصد تک پہنچنا چاہتے ہيں، دو راہوں، چوراہوں يا چند راہوں پر راہنما چراغوں کو نصب کر کے اس شاہراہ کو روشن کرتا ہے جو کہ منزل مقصود تک پہنچتا ہے اور ان دوسرے راستوں سے تميز ديتا ہے جو کہ سرگرداني اور ہولناک گھاٹيوں ميں گرنے کا باعث ہوتے ہيں-

قرآن بھي ديني اور اسلامي معاشرہ ميں اور سعادت و کاميابي تلاش کرنے والوں کي زندگي ميں ايسا ہي اثر رکھتا ہے، اس فرق کے ساتھ کہ جو چراغ اس نور کے منبع سے روشني کسب کرتے ہيں اور راہ سعادت کو روشن کرتے ہيں وہ کبھي بجھ نہيں سکتے نتيجہ ميں راہ حق، ہميشہ مستقيم اور روشن ہے، قرآن کريم اور اس کے روشن چراغ ہميشہ قرآن کے پيرؤوں کو نصيحت کرتے رہتے ہيں کہ ہوشيار رہو کہيں راہ حق سے منحرف نہ ہو جاؤ-

اسي خطبہ ميں آگے بڑھ کر حضرت علي  ـ ارشاد فرماتے ہيں: ''نُوْ راً لَيسَ مَعَہُ ظُلْمَة'' قرآن وہ نور ہے جس کے ہوتے ہوئے ظلمت و تاريکي کا امکان نہيں ہے، اس لئے کہ يہ آسماني کتاب ايسے چراغ اور قنديليں رکھتي ہے جو اس سے نور حاصل کرتي ہيں اور ہميشہ ہدايت و سعادت کي راہوں کو روشن رکھتي ہيں-

اس کے علاوہ، حضرات ائمہء معصومين کہ وہي وحي الٰہي کے مفسر ہيں ان چراغوں اور قنديلوں کے مانند ہيں جو کہ قرآن کے معارف کو لوگوں سے بيان کرتے ہيں اور اپنے خداداد علم کے ذريعے مسلمانوں کو قرآن کي حقيقت سے آشنا کرتے ہيں-

Last modified on دوشنبه, 15 ارديبهشت 1393 11:40
Login to post comments