×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

قرآن مجيد اور اخلاقي تربيت ( حصّہ ششم )

بهمن 23, 1392 510

ادبي شجاعت

ميدان جہاد ميں زور بازو کا مظاہرہ کرنا يقينا ايک عظيم انساني کارنامہ ہے ليکن بعض روايات کي روشني ميں اس سے بالاتر جہاد سلطان جابر کے سامنے کلمہ حق کا زبان پر جاري کرنا ہے اور شايد اس کا راز يہ ہے کہ ميدان جنگ کے کارنامے ميں بسا اوقات نفس انسان کي ہمراہي کرنے کے ليے تيار ہوجاتا ہے اور انسان جذباتي طور بھي دشمن پر وار کرنے لگتا ہے جس کا کھلا ہوا ثبوت يہ ہے کہ مولائے کائنات حضرت علي عليہ السلام نے عمرو بن عبدود کي بے ادبي کے بعد اس کا سر قلم نہيں کيا اور سينے سے اتر آئے جہاد راہ خدا ميں جذبات کي شموليت کا احساس نہ پيدا ہوجائے ليکن سلطان جائر کے سامنے کلمہ حق کے بلند کرنے ميں نفس کي ہمراہي کے بجائے شديد ترين مخالفت کا سامنا کرنا پڑتا ہے جہاں نفس انساني کبھي ضائع ہوتے ہوئے مفادات کي طرف متوجہ کرتا ہے اور کبھي آنے والے خطرات سے آگاہ کرتا ہے اور اس طرح يہ جہاد ”‌جہاد ميدان” سے زيادہ سخت تر اور مشکل تر ہوجاتا ہے جسے روايات ہي کي زبان ميں جہاد اکبر سے تعبير کيا گيا ہے- جہاد باللسان بظاہر جہاد نفس نہيں ہے ليکن غور کيا جائے تو يہ جہاد نفس کا بہترين مرقع ہے خصوصيت کے ساتھ اگر ماحول ناسازگار ہواور تختہ دار سے اعلان حق کرنا پڑے-

قرآن مجيد نے مرد مسلم ميں اس ادبي شجاعت کو پيدا کرنا چاہا ہے اور اس کا منشأ يہ ہے کہ مسلمان اخلاقيات ميں اس قدر مکمل ہو کہ اس کے نفس ميں قوت تحمل و برداشت ہو- اسکے دل ميں جذبہ ايمان و يقين ہو اور اس کي زبان، اس کي ادبي شجاعت کا مکمل مظاہرہ کرے جس کي تربيت کے ليے اس نے ان واقعات کي طرف اشارہ کيا ہے- ”‌قال رجل مومن من آل فرعون يکتم ايمانہ أ تقتلون رجلاً ان يقول ربي اللہ و قد جائکم بالبينات و ان يک کاذباً فعليہ کذبہ و ان يک صادقاً يصبکم بعض الذي يعدکم ان اللہ لا يہدي من ہو مسرف مرتاب-” (غافر 26)

بشکريہ رضويہ اسلامک ريسرچ سنٹر

Last modified on چهارشنبه, 17 ارديبهشت 1393 13:55
Login to post comments