×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

مدينہ لشکر کفار کے محاصرے ميں

بهمن 21, 1392 736

کفر کا حملہ آور لشکر

ابوسفيان کي سرکردگي ميں خندق کھد جانے کے چھ دن بعد سيلاب کي طرح مدينہ پہنچ گيا۔ انہوں نے شہر کے چاروں طرف اور اپنے آگے ايک بڑي خندق ديکھي تو مسلمانوں کي اس دفاعي ٹيکنيک پر ان کو تعجب ہوا۔ جنگي ديدہ وروں نے کہا يہ فوجي ٹيکنيک محمد نے ايرانيوں سے سيکھي ہے اس ليے کہ عرب اس ڈھنگ سے واقف نہيں ہيں۔ ان لوگوں نے مجبوراً اپنے خيمے خندق کے سامنے لگاليے۔ دشمن کے لشکر کے خيموں سے سارا بيابان سياہ ہوگيا۔ لشکر اسلام نے بھي خندق کے اس طرف خيمے لگا ليے اور دشمن سے مقابلے اور ان کے حملے سے بچنے کے ليے تيار ہوگئے۔

بني قريظہ کي عہد شکني

لشکر احزاب اور اس کے کماندار ابو سفيان جن کے سروں ميں مسلمانوں پر برق رفتاري سے کاميابي حاصل کرنے کا سودا سمايا ہوا تھا، خندق جيسي بڑي رکاوٹ کے سامنے آجانے سے اب راستہ کي تلاش ميں لگ گئے تاکہ لشکر کو خندق کے پار پہنچا سکيں۔

حي بن اخطب يہودي جو قبيلہ بني نضير کا شہر بدر کيا ہوا سردار اور جنگ کي آگ بھڑکانے کا اصلي ذمہ دار تھا۔ خندق کي موجودگي سے سپاہ احزاب کے حملہ کا ناکام ہوت ہوئے ديکھ کر سب سے زيادہ خوف زدہ تھا، وہ کوشش کر رہا تھا ہ جلد سے جلد احزاب کي کاميابي کا کوئي راستہ مل جائے۔ اس نے مدينہ کے اندر سے محاذ کھولنے کا ارادہ کيا۔ اس پروگرام کو عملي جامہ پہنانے کے ليے بني قريظہ کے وہ يہودي جو مدينہ ميں مقيم تے، بہترين وسيلہ تھے۔ اس نے رئيس قبيلہ سے گفتگو کرنے کا ارادہ کيا، قلعہ بني قريظہ کي طرف گيا اور قلعہ کے بند دروازوں کے پيچھے سے گفتگو کي، ليکن قبيلہ بني قريظہ کے سردار کعب بن اسد نے جواب ديا کہ ہم نے محمد سے عہد و پيمان کيا ہے اور ہم يہ معاہدہ توڑ سکتے اس ليے کہ سوائے سچائي اور وفاداري کے ان سے ہم نے اور کچھ نہيں ديکھا ہے۔

حي، کعب کے احساسات کو بھڑکانے ميں کامياب ہو گيا اور اس نے اپنے ليے قلعہ کا دروازہ کھلواليا۔ قلعہ ميں داخل ہوا اور بني قريظہ کے بزرگ افراد کو اس بات پر آمادہ کرليا کہ وہ رسول خدا سے کئے ہوئے اپنے عہد و پيمان کو توڑ ديں اور اپني فوجيں نيز دوسرے سامان حملہ آوروں کو دے ديں۔

Last modified on شنبه, 20 ارديبهشت 1393 10:42
Login to post comments