Print this page

سريہ عمرو بن اميہ

بهمن 21, 1392 774
Rate this item
(0 votes)

حادثہ رجیع کے بعد

رسول خدا نے اس درد انگیز حادثہ میں شہید ہونے والے شہیدوں کے خون کا انتقام لینے اور جرائم کا ارتکاب کرنے والے ان اصلی مجرموں کو کیفر کردار تک پہنچانے کے لیے عمرو بن امیہ ضمری کو ایک آدمی کے ساتھ مامور کیا کہ وہ مکہ جا کر ابوسفیان کو قتل کر دیں۔ وہ لوگ مکہ پہنچے اور رات کے وقت شہر میں داخل ہوئے لیکن مکہ والوں میں سے ایک شخص نے انہیں پہچان لیا، مجبوراً ان لوگوں نے شہر سے باہر نکل کر ایک غار میں پناہ لی اور واپسی میں انہوں نے دو قریش کے نمک خوار اور ایک جاسوس کو گرفتار کیا اور انہیں مدینہ لے آئے۔

(تاریخ طبری ج۲ ص ۵۴۲)

Last modified on شنبه, 20 ارديبهشت 1393 11:06
Login to post comments