×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

قیامت: قرآن کے آئینہ میں

دی 27, 1392 867

قیامت کے حالات و واقعات سے متعلق آگاھی

اور آشنائی کے لئے فقط ایک ھی راستہ اور ذریعہ ھے اور وہ ھے قرآن کریم اور اقوال معصومین علیھم السلام ۔ اگر قرآن مجید سے رجوع کیا جائے تو واضح ھوجاتا ھے کہ قیامت کا رونما ھونا اس کائنات کے نظام میں ایک بھت بڑا انقلاب لے کر آئے گا۔ ایسا انقلاب کہ یہ عالم ایک دوسرے عالم میں تبدیل ھو جائے گا۔ پھر تمام انسان، از اول تا آخر، دوبارہ زندہ کئے جائیں گے اور اپنے اعمال کے نتائج کا مشاھدھ کریں گے۔ قرآن کریم نے قیامت سے متعلق حالات و واقعات کو بے شمار مقامات پر مختلف انداز سے واضح کیا ھے۔

زمین ، پھاڑ اور سمندروں کا تھس نھس ھونا

روئے زمین پر ایک بھت عظیم زلزلہ آئے گا (۱) اور جو کچھ زمین کے اندر پوشیدہ ھے، اس سے باھر آجائے گا۔ (۲) اجزائے زمین منتشر (۳) اور سمندر، شگافتہ(۴) اور پھاڑ متحرک (۵) ھوکر ریز ہ ریزہ ھو جائیں گے۔ (۶) نیز ریت کے ڈھیر کی طرح ڈھے جائیں گے۔ (۷) سپس دھنکے ھوئے اون کی طرح (۸) فضا میں منتشر ھو جائیں گے۔ (۹) آخر کار آسمان کی بلندیوں کو چھوتے یہ پھاڑ چند لمحوں میں سراب ھو کر رہ جائیں گے۔ (۱۰)

حوالہ جات:

(۱) زلزال :۱( اذا زلزلت الارض زلزالھا) واقعہ: ۴ ( اذا رجت الارض رجا)حج: ۱/ ، مزمل:۱۴

(۲) زلزال: ۲ (واخرجت الارض اثقالھا) انشقاق: ۴ (والقت ما فیھا وتخلت)

(۳) الحاقة: ۱۵ (وحملت الارض والجبال فدکتا دکة واحدة) فجر:۲۱/( کلا اذا دکت الارض دکا دکاً)

(۴) تکویر:۶ (واذا البحار سجرت) ،انفطار:۳( واذا البحار فجرت)

(۵) کھف: ۴۷ (ویوم نسیر الجبال وتریٰ الارض بارزة وحشرنا ھم فلم نغادر منھم احداً) ، نحل: ۸۸ (و تریٰ الجبال تحسبھا جامدة وھی تمر مر السحاب) طور: ۱۰، تکویر: ۲

(۶) واقعہ: ۱۵ (وبست الجبال بساً)، الحاقة: ۱۴/

(۷) مزمل: ۱۴( یوم ترجف الارض والجبال وکانت الجبال کثیباً مھیلاً)

(۸) معارج: ۹(وتکون الجبال کالعھن ) ، قارعة: ۵ (وتکون الجبال کالعھن المنفوش)

(۹) طٰہ: ۱۰۷،تا ۱۰۵( ویسئلونک عن الجبال فقل ینسفھا ربی نسفافیذر ھا قاعاً صفصفاً لاتریٰ فیھا عوجاً ولا امتاً) مرسلات: ۱۰

(۱۰) نباٴ: ۲۰/ (وسیرت الجبال فکانت سراباً) کھف: ۸

Last modified on جمعه, 27 دی 1392 11:27
Login to post comments