×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

تفخیم و ترقیق

January 17, 2014 568

تفخیم کے معنی ھیں

حرف کو موٹا بنا کر ادا کرنا ۔

ترقیق کے معنی ھیں حرف کو ھلکا بنا کر ادا کرنا ۔

ایسا صرف دو حرف میں ھوتا ھے ۔ل۔ ر

" ر"  میں تفخیم کی چند صورتیں

ر۔ پر زبر ھو جیسے " رحمن "

ر۔ پر پیش ھو جیسے"  نصر اللہ "

ر ۔ ساکن ھو لیکن اس کے ماقبل حرف پر زبر ھو جیسے"  وانحر "

ر ۔ ساکن ھو لیکن اس کے ماقبل حرف پر پیش ھو جیسے " کُرھا "

ر ۔ ساکن اور اس کے ماقبل زیر ھو لیکن اس کے بعد حروف استعلاء (ص۔ض۔ ط۔ ظ۔ غ۔ ق۔ خ) میں سے کوئی ایک حرف ھو جیسے " مرصادا "

ر۔ ساکن ھو اور اس کے پھلے کسرہٴ عارض ھو جیسے"  ارجعی "

" ر " میں ترقیق کی چند صورتیں

ر۔ ساکن ھو اور اس کے ماقبل پر زیر ھو جیسے"  اصبر "

ر۔ ساکن ھو اور اس سے پھلے کوئی حرف لین ھو جیسے خیر ۔"  طور"

" ل" ۔ میں تفخیم کی چند صورتیں

ل۔ سے پھلے حرف استعلاء میں سے کوئی حرف واقع ھو جیسے " مطلع الفجر "

ل۔ لفظ "  اللہ "  میں ھو اور اس سے پھلے زبر ھو جیسے"  قالَ اللّہ "

ل۔ لفظ "  اللہ " میں ھو اور اس سے پھلے پیش ھو جسیے " عبدُ اللّہ "

" ل" ۔ میں ترقیق کی صورتیں

ل۔ سے پھلے حروف استعلاء میں سے کوئی حرف نہ ھو جیسے " کلم "

ل۔ سے پھلے زیر ھو جیسے"  بسمِ اللہ "

Last modified on Friday, 17 January 2014 10:56
Login to post comments