×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

سید ابن طاؤوس اور حالت بیداری میں رؤیا

دی 26, 1392 422

عبدالمحسن سے ملاقات کے ساتھ

دن بعد دو شنبہ ۳۰/جمادی الثانی ۶۴۱ھ سید ابن طاؤوس، محمد بن محمد آوی کے ساتھ سید الشہداء امام حسین علیہ السلام کی زیارت کے لئے کربلا کی جانب روانہ ہوئے اس سفر میں اپنے ایک دوست کی ملاقات و گفتگو سے بہت مسرور ہوئے ۔ بہتر ہے کہ اول رجب المرجب ۶۴۱ھ کی داستان صبح مرد عظیم ، صاحب ایمان ابو القاسم علی بن موسیٰ کی زبانی سنیں:

”منگل کی صبح اول رجب المرجب ۶۴۱ھ تھی محمد بن سوید سے ملاقات کی انہوں نے ہی بغیر کسی تمہید کے گفتگوشروع کی:سینچر کی شب ۲۱/ جمادی الثانی کوخواب دیکھا کہ بہت سے لوگوں کے ساتھ گھر میں بیٹھے ہیں تمہارے (سید ابن طاؤوس کے) پاس ایک ایلچی آیا اور کہنے لگا:”میں صاحب الزمان علیہ السلام کی طرف سے آیا ہوں۔“لوگوں نے خیال کیا کہ صاحب خانہ کی طرف سے بھیجا ہوا ایلچی ہے لیکن میں نے سمجھ لیا کہ وہ صاحب الزمان علیہ السلام کی طرف سے تمہارے پاس آیا ہے پس میں نے وضو کیا ایلچی کے پاس گیانامہ وصول کیا جو امام زمانہ  کی جانب سے تمہارے لئے لکھا گیا تھا۔ میں نے اپنے ہاتھوں سے نامہ لیا اور تمہارے حوالہ کر دیا نامہ پر تین (۳) مہریں ثبت تھیں۔(رضی الدین محمد بن محمد بن محمد بن زید بن الداعی الحسینی زاہد، عابد ، متقی پرہیز گار آدمی تھے سیدابن طاؤوس نے آپ کو نیک کلام برادر کے نام سے یاد کیا ہے یہ بھی سید ابن طاؤوس ہی کی طرح عرفان و کرامات میں بلند مقام کے حامل تھے آپ نے ۶۵۴ھ میں انتقال فرمایا واضح رہے کہ اوی قم کے اطراف میں ایک جگہ ہے جسے آوہ کہتے ہیں اسے آبہ بھی کہا جاتا ہے۔)

اب محمد بن سوید نے سوال کیا : کیا مطلب ہے ، کیا حادثہ پیش آیا ، خواب کی کیا تعبیر ہے ؟ سید ابن طاؤوس نے جواب دیا : محمد بن آوی تم سے بیان کردیں گے پھر وہ گہری سوچ میں پڑ گئے وہ سوچ رہے تھے کہ اسی شب (۲۱) اکیس جمادی الثانی کو امام زمانہ  کا ایلچی حلہ میں ان کے پاس تھا محمد بن سوید اس عظیم راز سے کیسے واقف ہوگئے۔“

Last modified on پنج شنبه, 26 دی 1392 12:17
Login to post comments