×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

شب قدر شب امامت و ولایت ہے

دی 18, 1392 891

لیلۃ القدر خیر من الف شھر>>

کہہ کے اشارہ کیا ہوا ہے کہ قدر کی رات ھزار مھینوں سے افضل ہے۔

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ

إِنَّا أَنزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ﴿۱﴾ وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ﴿۲﴾ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ﴿۳﴾ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ ﴿۴﴾ سَلَامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الْفَجْرِ ﴿۵﴾
ھزار مہینہ تریاسی سال بنتے ہیں یعنی ایک رات کی عبادت تریاسی سالوں کی عبادت سے افضل ہے۔ کیونکہ قرآن اس رات میں نازل ہوا ہے۔ قرآن کے نازل ہونے میں خود قرآن بشارت دیتا ہے کہ قرآن ماہ مبارک رمضان میں  ہوا ہے۔

اور یہ نزول دو طرح کا رہا ہے ایک نزول دفعی یعنی ایک بار نازل ہوا۔ شب قدر میں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قلب مبارک پر ایک ساتھ نازل ہوا ہے اور دوسرا نزول ، نزول تدریجی ہے جو کہ پیغمبر اکرم ( صلی اللہ علیہ وآلہ و سلم) کے چالیس کی عمر میں بعثت کے دن نازل ہونا شروع ہوا اور آنحضرت کی عمر مبارک کے 63 ویں سال تک نازل ہوتا رہا ہے، جو کہ 23 سال نازل ہوتا رہا ہے۔ یعنی قرآن ایک ساتھ ایک بار شب قدر میں نازل ہوا ہے اور دوسری مرتبہ 23 سال آھستہ آھستہ نازل ہوتا رہا ہے۔
شب قدر کو شب امامت اور ولایت بھی کہا جاتا ہے کیونکہ خود قرآن کہتا ہے کہ اس رات میں فرشتے، ملائکہ اور ملائکہ سے اعظم ملک روح بھی نازل ہوتے ہیں۔ اس نقطے کو سمجھنا ضروری ہے کہ نازل ہوتے ہیں ، نازل ہوئے نہیں۔

کیونکہ ارشاد باری تعالی ہے : << تنزّل الملائکۃ والروح فیھا>> تنزل فعل مضارع ہے یعنی نازل ہوتے ہیں نازل ہوئے نہیں کہا گیا ہے۔ تو یہ جاننا ضروری ہے کہ کس پر نازل ہوتے ہیں۔ آپ اور مجھ پر تو فرشتے نازل نہیں ہوتے ہیں۔ پیغمبر ( اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے زمانے میں تو آنحضرت پر نازل ہوتے تھے آنحضرت کے بعد کس پر نازل ہوتے ہیں؟
شب قدر

ظاھر سی بات ہے اس پر نازل ہوں گے جو پیغمبر کے بعد پیغمبر کا جانشین ہوگا، جو معصوم ہوگا، جو صاحب ولایت ہو۔ جی ہاں پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے بعد حضرت علی ابن ابیطالب علیہ السلام پر نازل ہوتے تھے اور حضرت علی علیہ السلام کے بعد حضرت حسن مجتبی اور آپ کے بعد حضرت حسین اور آپ کے بعد حضرت علی زین العابدین اور آپ کے بعد حضرت محمد باقر اور آپ کے بعد حضرت جعفر صادق اور آپ کے بعد حضرت موسی کاظم اور آپ کے بعد حضرت علی الرضا اور آپ بعد حضرت محمد جواد اور آپ کے بعد علی النقی اور آپ کے بعد حسن عسکری علیہم السلام اور آپ کے بعد قطب عالم امکان مھدی آخر الزمان (ارواحنا فداہ) کی خدمت میں حاضر ہوتے ہیں <<تنزّل الملائکۃ >> اور انسانوں کے سال بھر کے مقدرات بیان کرتے ہیں۔
شب قدر

اس لئے ہمیں چاہئے کہ اس رات کو پا لیں ایک رات میں عمر بھر کی عبادت کا ثمرہ پا سکیں گے۔ کیونکہ اللہ نے شب قدر کو ھزار مہینوں سے افضل قرار دیا ہے << لیلۃ القدر خیرمن الف شھر>>(قدر:4) شب قدر کی رات ھزار مہینوں سے افضل ہے۔ ھزار مہینہ یعنی 83 سال ۔  یعنی ایک اچھی عمر۔ اس لئے چاہئے کہ اپنے لئے سعادت کی زندگی اللہ سے طلب کریں۔

جس زندگی میں دنیا بھی آباد ہو آخرت بھی آباد ہو۔ اللہ نے انسان کو اپنی تقدیر بنانے یا بگاڑنے کا اختیار خود انسان کے ہاتھ دیا ہے وہ سعادت کی زندگی حاصل کرنا چاہے گا اسے مل جائے گی وہ شقاوت کی زندگی چاہے گا اسے حاصل ہو جائے گی۔
<<یا ایھا النّاس انّما بغیکم علی انفسکم>> (یونس:23) لوگو! اس میں کوئی دو رائے نہیں ہے کہ تمہاری سرکشی صرف تمہیں نقصان پہچائے گی۔ جو کوئی سعادت کا طلبگار ہے وہ شب قدر میں صدق دل کے ساتھ اللہ کی بار گاہ میں توبہ کرے، برائیوں اور برے اعمال سے بیزاری کا عہد کرے گا۔

اللہ سے اپنے خطاؤں کے بارے میں دعا اور راز و نیاز کے ذریعہ معافی مانگے گا یقینا اس کی تقدیر بدل جائے گی اور امام زماں (ارواحنا فداہ) اس تقدیر کی تائید کریں گے۔ اور جو کوئي شقاوت کی زندگی چاہے وہ شب قدر میں توبہ کرنے کے بجائے گناہ کرے، یا توبہ کرنے سے پرھیز کرے، تلاوت قرآن، دعا اور نماز کو اھمیت نہیں دے گا، اس طرح اس کے نامہ اعمال سیاہ ہوں گے اور یقینا امام زماں (ارواحنا فداہ) اس کی تقدیر کی تائید کریں گے۔
شب قدر

جو کوئی عمر بھر شب قدر میں سال بھر کے لئے سعادت اور خوشبختی کی تقدیر طلب کرنے میں کامیاب ہوا ہوگا وہ اس کی حفاظت اور اس میں اپنے لئے بلند درجات حاصل کرنے میں قدم بڑھائے گا اور جس نے شقاوت اور بد بختی کی تقدیر کو اختیار کیا ہوا وہ توبہ نہ کرکے بدبختی کی زندگی میں اضافہ کرے گا۔

شب قدر کے بارے میں اللہ نے تریاسی سالوں سے افضل ہونے کے ساتھ ساتھ اس رات کو سلامتی اور خیر برکت کی رات قرار دیا ہے۔
<< سلام ھی حتی مطلع الفجر>> اس رات میں صبح ہونے تک سلامتی ہی سلامتی ہے اس لئے اس رات میں انسان اپنے لئے دنیا اور آخرت کے لئے خیر و برکت طلب کرسکتا ہے۔

اگر دل کو شب قدر کی عظمت اور بزرگی کی طرف متوجہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں۔ جس شب کے بارے میں اللہ ملائکہ سے کہہ رہا ہے کہ جاو اور فریاد کرو کہ کیا کوئی حاجب مند، مشکلات میں مبتلا، گناہوں میں گرفتار بندہ ہے جسے اس شب کے طفیل بخش دیا جائے ؟ اگر اس نقطے کی طرف توجہ کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں کہ یہ رات ایک عمر بھر کی مخلصانہ عمل سے افضل ہے۔

اس بات کو نہیں بھولتے ہیں کہ یہ رات تقدیر لکھنے کی رات ہے۔ یہی وہ رات ہے جس میں بندہ اللہ کی نظر رحمت کو اپنی طرف جلب کرکے سعادت دنیا اور آخرت حاصل کرسکتا ہے تو یقینا ہمیں شب قدر کے ثواب حاصل ہوں گے۔ اس لئے ہمیں چاہیئے فراخ دلی کے ساتھ اللہ کی بارگاہ میں تمام عالم کے لئے دعا کریں کہ اے اللہ تم اسے بھی عطا کرتے ہو جو تمہیں مانتا ہے اور اسے بھی عطا کرتا ہے جو تمہیں انکار کرتا ہے اس شب کے طفیل ہم سب کو صراط المستقیم کی طرف ھدایت فرما۔

دنیا کے جس کونے میں جو کوئي بھی ظالم کے چنگل میں پھنسا ہے اسے آزادی نصیب فرما۔ عالم اسلام کے مشکلات کو برطرف فرما۔ فلسطین اور کشمیر کے مسئلے کو عوام کی امنگوں کے مطابق حل ہونے کے لئے راہ ھموار فرما۔ اسی طرح جامع الفاظ میں اللہ کی بارگاہ میں درخواست کریں کہ ہم سب کا دنیا اور آخرت آباد فرمائے۔ یہی تو  رات ہے جس میں ہم سب اپنے اور دوسروں کے لئے سعادت اور خوشبختی طلب کر سکتے ہیں۔

شب قدر میں شب بیداری کی بہت سفارش کی گئ ہے۔ مگر اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ شب بیداری میں کوئی گناہ سرزد نہ ہو اگر گناہ کی گنجایش ہے تو پھر سونا ہی بہتر ہے۔ اخلاق کے استاد حضرت آيت اللہ مظاھری (مدظلہ العالی) نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ: نقل کیا گیا ہے کہ ایک ظالم اصفھان کے ایک عالم بزرگوار کے پاس آ گیا اور سوال کیا کہ شب قدر میں میرے لئے کون سی عمل بہتر ہے؟۔ انہوں نے کہا کہ تمہارے لئے سونا بہتر ہے۔ یہ شخص چلا گیا اور رات بھر سو گیا صبح جب بیدار ہوا تو سوچنے لگا کہ اس عالم دین نے کتنی اچھی بات کہی اگر میں رات بھر جاگے رہتا پتہ نہیں مجھ سے کیا کیا گناہ سرزد ہو جاتا۔ اس لئے شب قدر کی رات اللہ کے ساتھ لو لگانے کی رات ہونی چاہئے۔ غیبت، تہمت اور گناہ سے خالی اور پاک ہونی چاہئے۔
شب قدر

شب قدر میں نماز اور قرائت قرآن کا خاص اھتمام ہونا چاہئے۔ شب قدر میں حسب توان نماز اور تلاوت قرآن کا اھتمام کیا جانا چاہئے۔ اس رات میں سو رکعت پڑھنے کی خاص سفارش کی گئ ہے۔ قرآن کے ساتھ انس و محبت اور تلاوت بھی بہت ضروری ہے۔ پیغمبر اکرم <صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم> اور ائمہ معصومین <علیہم السلام> قرآن کی تلاوت کرنے کی بہت زیادہ تاکید کیا کرتے رہے ہیں کہ قرآن کی تلاوت کیا کریں اور اس کے سایے میں اپنے آپ کو محفوظ کریں۔

خدا کے ساتھ رابطہ قائم کرنے کے لئے مخصوصا قرآن کے ذریعہ انسان عظیم مقامات حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے۔ اس رات میں اس رابطے کو بہت زیادہ مظبوط بنایا جا سکتا ہے۔
استاد محسن قرائتی (مدظلہ العالی) شب قدر کے بارے میں خاص تاکید کرتے ہیں کہ ہمیں شب قدر کو اپنے حساب کا دن رکھنا چاہئے۔

رقومات شرعی نکالنی ہے وہ شب قدر میں ہی متعین کرنی چاہئے۔ سال بھر کتنا صدقہ دوں اسی رات میں ایک رقم مختص کرنی چاہئے۔ کتنا قرض دوں۔ کتنے لوگوں کی مدد کروں غرض ھر نیک کام کا اھتمام کرنے کا ارادہ اور منصوبہ شب قدر میں بنانا چاہئے کیونکہ اس رات اللہ ھر کام کو ھزار کے ساتھ ضرب دیتا ہے۔

یعنی اگر ھم شب قدر میں ایک خرمہ افطاری دیتے ہیں یعنی ھزار  خرمہ افطاری میں دیا۔ ایک روزہ دار کو افطار کراتے ہیں یعنی ھزار روزہ داروں کا افطار کرایا ہے۔ ایک فقر کو مدد کرنے کا ارادہ کیا ہے یعنی ایک ہزرا فقیروں کو مدد کرنے کا ارادہ کیا ہوا ہے۔ میں یہاں پر اضافہ کروں کہ اگر شب قدر میں ایک ظالم کے خلاف نفرت کا اظہار کیا یعنی ھزرا ظالموں کے خلاف نفرت کا اظہار کیا ہے۔ ایک مظلوم کی یاری کا ارادہ کیا ہے تو ھزار مظلوموں کی یاری کا ارادہ کیا ہے۔

تمام قارئین سے درخواست ہے کہ اگر انیس کی رات کو پانے میں کوتاھی ہوئي ہو یا اکیس کی رات میں کوتاھی ہوی ہو تیس کی رات کو پانے کی ھر ممکن کوشش کریں کیونکہ تییس 23 کی رات انیس اور اکیس سے افضل ہے۔ ان تین شب قدروں میں اسی رات کو زیادہ احتمال دیا جاتا ہے۔ اس رات میں ھر انسان کی ھدایت اور امام کے ظہور کے لئے دعا کریں۔

اللھُمَّ عَجِّل لِوَلِیِّکَ الفَرَجَ

شب قدر, شب امامت و ولایت ہے کہ جس رات میں قرآن کی تلاوت، نماز اور دعا میں گزارنے والا ھزار مہینوں کی کی عبادت کی فضلیت کو پانے کا مستحق قرار پاتا ہے۔ جن کے بارے میں اللہ نے << لیلۃ القدر خیر من الف شھر>> کہہ کے اشارہ کیا ہوا ہے کہ قدر کی رات ھزار مھینوں سے افضل ہے۔

Last modified on چهارشنبه, 18 دی 1392 10:20
Login to post comments