×

هشدار

JUser: :_بارگذاری :نمی توان کاربر را با این شناسه بارگذاری کرد: 830

تاریخ وہابیت کا مختصر جائزہ

مرداد 03, 1393 779

محمد بن عبدالوہاب نے ابن تیمیہ اور ابن قیم جوزی کے نظریات سے استفادہ کرکے وہابی تفکر کی بنیاد رکھی۔ ایک منحرف اور سطحی مکتب جو

اسلام کی اعلی تعلیمات کی روح سے خالی ہے اور اس نے اپنی ولادت سے لے کر اب تک تفرقہ اندازی اور اختلاف افکنی، قتل و غارت، تخریب کاری، فرقہ واریت، فساد انگیزی اور فتنہ افگنیکے سوا امت مسلمہ کو کچھ بھی نہیں دیا۔
اس تفکر کی اعتقادی بنیادیں بالکل سست اور ابتدائی ہیں اور قرآن مجید کی آیات اور احادیث رسول اللہ (ص) سے اس، کے لئے ہوئے مفاہیم اور تاثرات و تصورات نہایت سطحی اور مضحکہ خیز ہیں۔ یہاں تک کہ انھوں نے خدائے متعال کو مجسم کردیا ہے اور مکتب کے راہنما خدا کے لئے ہاتھ پاؤں اور بلند سنہری زلفوں کے قائل ہوئے ہیں۔
استعمار اور استکبار اپنی سیاہ اور شیطانی حاکمیت کی خاطر مختلف ہتھکنڈے بروئے کار لاتا رہا ہے۔ "اختلاف ڈالو اور حکومت کرو" اس کا پرانا نعرہ ہے اور اس نعرے کو عملی جامہ پہنانے کے لئے وہ ہمیشہ معاشروں کے ماحول کو غیر صحتمند بنانے اور تکفیر و تفسیق کا سہارا لیتا رہا ہے۔
استعماری طاقتوں نے ـ جو اسلامی تعلیمات سے معرض وجود میں آنے والے دین اسلام کے شکست ناپذیر حصار کو ہمیشہ اپنے سامنے ڈٹا ہوا دیکھتی آئی ہیں ـ اس سدّ کو توڑنے کے لئے مختلف قسم کی سازشوں کا سہارا لیا ہے؛ جیسا کہ:
براہ راست عسکری مقابلہ جس کی عملی شکل صلیبی جنگوں، مسلم ممالک کو نوآبادیات میں تبدیل کرنے اور لیبیا، عراق، افغانستان، ایران، الجزائر اور عراق جیسے ممالک پر قبضہ کرنے کی صورت میں نظر آئی۔
اسلامی تعلیمات میں تحریف اور اسلامی احکامات کو الٹ پلٹ کرکے پیش کرنا اور اسلامی مقدسات پر بہتان تراشی کرکے براہ راست ثقافتی یلغار کرنا؛
مسلمانوں کو دین کی نسبت لاپرواہ اور بےاعتناء بنانے کی نیت سے کے ان کے درمیان فساد، فحشاء اور برائیوں کی ترویج کرکے، بالواسطہ طور پر ثقافتی جنگ لڑنا۔
قوم پرستانہ جذبات کو ابھار کر مسلمانوں کو نسلی اور قومی گروہوں اور جماعتوں میں تقسیم کرنا اور اسلامی سرزمیں کو عدم استحکام سے دوچار کرنا۔
اور مذہب و مکتب بنانا اور فرقے تشکیل دینا؛ جو ہماری اس بحث کا موضوع ہے۔
وہابیت کو اہل سنت کے قلب میں اختراع کیا گیا جو اہل سنت کے بہت سے اصولوں کو رد کرتی ہے اور اپنے پیروکاروں کے سوا کسی بھی مسلمان نہیں سمجھتی تاہم بوڑھے برطانوی استعمار نے اس مکتب کو ایجاد کیا اور اس کو "انتہا پسند سنی فرقے" کا نام دیا گیا۔
مسٹر ہمفر ایک برطانوی جاسوس تھا جس نے اپنی کتاب "ہمفر کی یادیں" میں محمد بن عبدالوہاب کا سراغ لگانے، اس کو منحرف کرنے اور اس کو اپنی راہ پر لگانے کی کیفیت بیان کی ہے۔ وہ اس شخص کی جاہ پرستی، اخلاقی کمزوریوں اور انتہاپسندانہ تفکرات کو بھانپ کر مسلمانوں کے درمیان نیا فرقہ بنانے کے لئے مناسب قرار دیتا اور اسی رو سے اس کو قدم بقدم اپنے مقصد کی طرف لے جاتا اور اس کا ساتھ دیتا ہے حتی کہ حالات اور ماحول کو مناسب پاکر نئے مذہب کا اعلان کرنے پر آمادہ کرتا ہے اور پھر وہ برطانیہ کے حکم پر بوڑھے سامراج کے ایک ایجنٹ سعود بن عبدالعزیز کے ساتھ اتحاد کرلیتا ہے اور فراہم کردہ وسائل کو بروئے کار لاکر مرید بھرتی کرنے کے لئے اقدام کرتا ہے۔
جب محمد بن عبدالوہاب (شیخ محمد) نے "درعیہ" کو اپنا موطن قرار دیا، اس شہر کے لوگ نادانی اور جہالت میں گھرے ہوئے تھے اور نماز اور زکوٰۃ کی ادائیگی میں سستی کررہے تھے اور دینی تعلیمات سے ناواقف تھے اور شیخ محمد نے انہیں اسی دین کی تعلیم دی جو وہ خود برطانویوں کی مشاورت سے اختراع کر چکا تھا اور انہیں اپنے لشکر میں شام کیا ہے۔
شیخ محمد نے اس کے بعد نجد کے عما‏ئدین اور قاضیوں کو خط لکھا اور ان سے اپنی اطاعت کا تقاضا کیا؛ بعض نے اطاعت کی اور بعض نے انکار کیا اور شیخ کی دعوت کا مذاق اڑایا اور اس کو جہالت اور دین سے عدم واقفیت اور عدم معرفت کا ملزم ٹہرایا؛ بعض نے اس کو جادوگر کہا اور بعض دوسروں نے بعض غیرشائستہ الزامات کا نشانہ بنایا۔ شیخ نے درعیہ کے عوام کو قتال اور جنگ کا حکم دیا۔
درعیہ کے وہابیوں نے نجد کے خلاف مسلسل جنگیں لڑیں حتی کہ نجد کے عوام بھی شیخ کے مطیع ہوئے اور یوں شیخ محمد کی برکت سے آل سعود نے نجد اور اس میں سکونت پذیر قبائل پر غلبہ پایا۔
اس گروہ کی روش ابتداء ہی سے تشدد، مسلمانوں کو زخمی اور قتل کرنے اور تمام مسلمانوں کی تکفیر پر مشتمل تھی۔
وہابی وسیع و عرض جنگ اور خونریزیوں کے بعد سعودی عرب کہلانے والی سرزمین میں وسیع جنگوں اور خون کی ندیاں بہانے کے بعد اس سرزمین پر قابض ہوئے اور انھوں نے شیخ احمد احسائی کی کتاب "شرح الزیارہ" سے استناد کرکے شیعیان اہل بیت (ع) کا قتل جائز قرار دیا۔ احسائی نے مذکورہ کتاب میں ائمہ (علیہم السلام) کا رتبہ بڑھا کر پیش کیا ہے اور خلفاء ثلاث کو لعن و شتم کا نشانہ بنایا تھا چنانچہ وہابیوں نے اہل سنت کے بعض علماء سے بھی اہل تشیع کے قتل کا فتوی لیا اور جزیرہ نمائے عرب سے عراق کے مقدس شہروں نجف اور کربلا پر حملہ آور ہوئے اور حرم ہائے شریفہ کو لوٹنے کے ضمن میں خوفناک درندگی کا ثبوت دیتے ہوئے وہاں کے عوام اور زائرین کا قتل عام کیا اور بعض خواتین کو زیادتی کا نشانہ بنایا جس سے ان کی درندگی کے علاوہ ان کی اخلاقی گراوٹ کا ثبوت بھی ملتا ہے اور انہیں ایسا کرنے کی دستاویز فراہم کرنے والوں کا کردار بھی بجائے خود مشکوک اور متنازعہ ہے۔ وہابیوں نے ان لوگوں کے موقف کو بہت سے زائرین اور علمائے کرام کے قتل کی دستاویز بنایا۔
ابتداء میں ان کی تبلیغی روش قبائل کے زعماء کے نام خطوط و مراسلات بھجوانے سے عبارت تھی اور جب وہ ان کی دعوت قبول کرنے سے انکار کرتے تو وہابی لشکرکشی اور جنگ اور کشت و خون کے ذریعے انہیں اپنی بات ماننے پر مجبور کرتے تھے۔
برطانوی سامراج نے آل الشیخ اور آل سعود خاندانوں کے درمیان اتحاد قائم کیا اور جب انھوں نے پوری سرزمین عرب پر قبضہ کیا اور سعودی مملکت کی تاسیس ہوئی تو دینی امور محمد بن عبدالوہاب کے پسماندگان کے سپرد کئے گئے جنہیں آل الشیخ کہا جاتا ہے اور سیاسی اور اور ملکی انتظام سعود بن عبدالعزیز کی اولاد کو سونپ دیا گیا جنہیں آل سعود کہا جاتا ہے۔ گذشتہ صدی عیسوی میں جزیرہ نمائے عرب میں تیل کے عظیم ذخائر دریافت اور اور آل سعود کو عظیم دولت ملنے کے بعد، وہابیوں نے عالم اسلام کی سطح پر اپنے افکار و عقائد کی ترویج کا فیصلہ کیا۔
گذشتہ صدی عیسوی میں جزیرہ نمائے عرب میں تیل کے عظیم ذخائر دریافت اور اور آل سعود کو عظیم دولت ملنے کے بعد، وہابیوں نے عالم اسلام کی سطح پر اپنے افکار و عقائد کی ترویج کا کام شروع کیا۔
نئی مملکت میں وہابیت کو استحکام ملا اور علاقے میں نئی ریاستیں معرض وجود میں آئیں تو وہابیوں نے تیل کی عظیم دولت کے بدولت اپنی پالیسی تبدیل کردی اور وقتی طور پر قتل و غارت کا سلسلہ بند کیا اور دولت کی طاقت سے ان ملکوں اور ریاستوں میں ثقافتی اور مذہبی اثر و رسوخ بڑھایا اور البتہ دوسرے ملکوں کے حجاج کرام کے ساتھ ان کی بدسلوکی میں کوئی فرق نہیں آیا اور نہ ہی اسلام کے آثار قدیمہ کے انہدام کے سلسلے میں وہابی تفکر اور رویے میں کوئی فرق آیا ہے۔ ہر سال پورے جزیرہ نمائے عرب میں رسول اللہ (ص) کے زمانے کے آثار کم سے کم تر ہوتے جارہے ہیں اور وہابی مولوی سعودی گماشتوں کی مدد سے زائرین کو زیارت نہیں کرنے دیتے، ان پر شرک اور کفر کا الزام لگاتے ہیں اور یہ مسائل مدینہ منورہ میں زیادہ ہی نظر آتے ہیں کیونکہ وہاں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ و آلہ) کا حرم شریف ہے جس کی زیارت دنیا بھر کے مسلمانوں کی دلی آرزو ہوتی ہے اور جب وہاں پہنچتے ہیں تو انہیں وہابی نظر آتے ہیں جو ان پر رسول اللہ (ص) کی زیارت اور آپ (ص) سے توسل کی بنا پر کفر و شرک کے الزامات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کا رویہ تمام غیر وہابی اہل اسلام ـ بالخصوص شیعیان محمد و آل محمد (ص) ـ کے ساتھ نہایت غیر انسانی اور غیر اسلامی ہوتا ہے۔ گویا ان کی منطق ہی تشدد اور تکفیر ہے چنانچہ انہیں کفر و شرک کے فتووں اور مسلح سعودی فوجیوں اور پولیس والوں ـ بالخصوص بدنام زمانہ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی یونٹوں کے افراد ۔ کے تشدد کو برداشت کرنا پڑتا ہے اور مزاحمت کی صورت میں تفتیش، تھانے اور قاضی عدالت کا چکر لگانا پڑتا ہے۔
وہابیوں نے اپنے دین کی ترویج کے لئے غریب ملکوں کو اپنا ہدف بنایا اور مختلف افریقی ممالک کے علاوہ برصغیر کے ممالک پاکستان، افغانستان، بنگلہ دیش اور بھارتی مسلم معاشرے کے درمیان رقم خرچ کرنا شروع کیا جہاں کے لوگوں کی آمدنی بہت کم ہے اور ان ممالک کے مسلمانوں کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے۔ انھوں نے بہت سے علماء کو خرید لیا اور کثیر تعداد میں مدارس، مساجد اور نام نہاد اسلامی مراکز تعمیر کئے اور نہایت منظم انداز میں بہت طاقتور تنظیمی روش پر ہمآہنگ نیٹ ورکس تشکیل دیئے اور وہابیت کی ترویج کا اہتمام کیا اور برصغیر کے حنفی مسلمانوں کی دیوبندی شاخ کو ـ جو وہابی عقائد قبول کرنے کا استعداد زیادہ استعداد رکھتے ہیں ـ دینی وہابیت کی دعوت دے رہے ہیں؛ گوکہ مسلمانوں کی اکثریت حتی کہ دیوبندیوں کے درمیان ایسے حلقے بھی ہیں جو ان عقائد کو مسترد کرتے ہیں اور وہابیوں کو غیراہل مذہب کے عنوان سے جانتے ہیں۔
برصغیر میں سعودی وہابی مفتیوں اور مبلغین کا مسلسل آنا جانا رہتا ہے اور بہت سے سعودی خیراتی ادارے بھی ـ جو خیراتی کاموں کی آڑ میں وہابیت کی ترویج میں مصروف ہیں ـ ان ممالک میں موجود ہیں نیز بعض مقامی خیراتی اداروں کو بھی سعودی فنڈز فراہم کئے جاتے ہیں جبکہ سعودی عرب میں برصغیر کے ہزاروں مختلف حوالوں سے کام کاج میں مصروف ہیں جن میں ڈاکٹر، انجنیئر، ٹیکنیشن اور مزدور شام ہیں جن میں سے کئی اپنے ملکوں میں آکر وہابیت کی ترویج کرتے ہیں اور یہ ان طلبہ کے علاوہ ہیں جو ان ملکوں میں سعودی فنڈ سے چلنے والے اداروں اور مراکز و مدارس میں تعلیم حاصل کرتے ہیں یا سعودی عرب کی وہابی جامعات میں جاکر تعلیم حاصل کرکے اپنے ملکوں میں اس مکتب کی تبلیغ میں مصروف ہوجاتے ہیں۔
پاکستان کے محروم ترین قبائلی علاقوں اور صوبہ سرحد اور بلوچستان کے نہایت پسماندہ علاقوں میں وہابیوں نے سینکڑوں اور ایک قول کے مطابق ہزاروں مدارس اور مساجد اور دینی ـ تعلیمی مراکز قائم کئے ہیں جہاں وہ بےتحاشا دولت خرچ کرکے گویا وہابی فوج کے لئے جوان بھرتی کررہے ہیں اور ایران کے صوبہ بلوچستان اور بعض دوسرے علاقوں میں بھی سعودی تیل کے ریالوں کے اثرات دکھائی دے سکتے ہیں۔
وہابیت کے اس وسیع و عریض اور فعال نیٹ ورک نے پوری دنیا میں اثر و رسوخ پیدا کیا ہے اور برصغیر، افریقہ، مشرق بعید، وسطی ایشیا اور سابق سوویت روس کی شکست و ریخت کے بعد معرض وجود میں آنے والی ریاستوں نیز یورپ اور امریکہ میں وہابیت فعالانہ طور پر تبلیغ میں مصرف ہے اور چیچنیا جیسی ریاستوں کی حریت پسندانہ تحریکیں بھی وہابیوں کی دولت سے بہرہ مند ہورہی ہیں یا پھر ان تحریکوں کے بعض انتہا پسند اور شدت پسند دھڑوں کو وہابیوں کی مالی حمایت حاصل ہے۔
فلپائن میں ابوسیاف دہشت گرد دھڑا، پاکستان میں سپاہ صحابہ، لشکر جھنگوی، جیش محمد نیز پاکستانی تحریک طالبان کے بھیس میں حکومت اور عوام کے خلاف برسر پیکار دہشت گرد ٹولے، بن لادن کی مشکوک موت کے بعد ایمن الظواہری کی سرکردگی میں پاکستان اور افغانستان نیز شام سمیت کئی عرب ملکوں میں سرگرم دہشت گردی دہشت گرد تکفیری ٹولے سب کے سب ایک منظم وہابی نیٹ ورک میں منظم انداز سے امریکی سامراج اور فلسطین و قبلہ اول پر قابض ـ اسرائیل کہلوانے والی غاصب صہیونی ریاست کی فعالانہ خدمت کررہے ہیں اور ان کے مفادات کا تحفظ کررہے ہیں اور اس نیٹ ورک نے وہابیوں کی ذیلی تنظیموں میں گہرے اختلافات کے باوجود انہیں بعض مشترکہ نکات پر متحد کرکے رکھا ہوا ہے جن میں سے ایک آل سعود اور امریکہ و اسرائیل کے مفادات کا تحف1 مسلمانوں کے اتحاد کو پارہ پارہ کرنا اور اہل تشیع اور وحدت مسلمین کے داعیوں کو دشمن نمبر ایک سمجھ کر ان کے خلاف بزدلانہ کاروائیاں کرنا، ان کے مشترکہ مقاصد ہیں۔
بلادالحرمین میں وہابی دینی مدارس و جامعات مسلم ممالک کے نمایاں طلبہ کو چن چن کر انہیں اپنے وظیفے پر اپنے ہاں بلاتی ہیں اور انہیں تعلیم دے کر وہابیت کے مبلغین میں تبدیل کردیتی ہیں اور انہیں اچھی خاصی مالی امداد فراہم کرکے اپنے اپنے ملکوں میں روانہ کیا جاتا ہے تاکہ وہاں وہ وہابیت کی تبلیغ و ترویج کریں۔
وہابی دنیا کی مختلف زبانوں میں اپنے علماء کو تعلیم دیتے ہیں اور انہیں مختلف ممالک میں وہابی اسلامی کی تبلیغ کے لئے روانہ کرتے ہیں جہاں وہ اپنے افکار کو فروغ دیتے ہیں اور غریب و محتاج نیز اسلامی تعلیمات سے ناآشنا افراد کو اپنی جانب جذب کرلیتے ہیں۔
جیسا کہ حج کے موقع پر بھی دیکھا جاسکتا ہے، وہابی علماء مغرب اور عشاء کی نمازوں کے درمیان مسجد الحرام اور مسجد النبی (ص) میں لاکھوں حجاج و زائرین سے اردو سمیت دوسری زبانوں میں خطاب کرتے ہیں اور برصغیر اور دوسرے ملکوں کے حجاج کو اپنے جرگے میں شامل کرلیتے ہیں اور ان اقدامات کے علاوہ وہ اردو سمیت مختلف زبانوں میں وہابی لیٹریچر ـ خاص طور پر عرفات اور منیٰ میں ـ مفت تقسیم کرتے ہیں۔
حج اور عمرہ کے ایام اور زیارت کے مہینوں میں، سعودی دینی مدارس اور جامعات میں وہابی تعلیمات کے حصول میں مصروف طلبہ ـ جو اپنے ملکوں سے بھرتی ہوکر سعودی عرب کے وظیفے پر یہاں لائے جاتے ہیں ـ خاص طور پر، مکہ اور مدینہ کے حرمین شریفین میں موجود مسلمانوں کے ساتھ بات چیت کرتے ہیں اور وہابی افکار کو ان پر مسلط کرنے کی کوشش کرتے ہیں اور چونکہ یہ طلبہ مذکورہ حاجیوں کے ہم وطن ہوتے ہیں اور ان کی مادری زبان میں بات کرتے ہیں چنانچہ ان کی تبلیغ خانہ خدا کے زائرین پر اثر انداز ہوتی ہے۔
وہ بعض شیعہ متون کو چھاپ کر وسیع سطح پر حجاج کے درمیان تقسیم کرتے ہیں حالانکہ وہ متون شیعہ علماء اور دانشوروں کے نزدیک قابل قبول نہیں ہیں۔ وہ یہ کتابیں نیز وہابی افکار کی حامل کتابیں حجاج کے درمیان مفت تقسیم کرتے ہیں۔ وہ اپنی کتابوں میں خدا کی تجسیم و تشبیہ کی ترویج کرتے ہیں لیکن اہل تشیع پر تحریف قرآن کے اعتقاد کا الزام لگاتے ہیں اور جھوٹ و افتراء کی انتہا کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ شیعہ (معاذاللہ) جبرائیل امین (ع) کو خائن سمجھتے ہیں اور علی (ع) کو رسول اللہ (ص) سے بالاتر سمجھتے ہیں۔ نعوذ باللہ من ذالک۔
وہابی حجاج اور زائرین حرمین شریفین کے ساتھ رابطہ برقرار کرکے ان کو وہابیت کی تبلیغ کرنے کے ساتھ ساتھ، ان کا پتہ بھی لیتے ہیں اور انہیں رابطے میں رہنے کی دعوت دیتے ہیں اور انہیں مختلف رسائل اور جرائد نیز کتب ارسال کرتے ہیں جو نہایت قیمتی کاغذ اور عمدہ چھپائی کے بموجب قارئین کو اپنی جانب جذب کرلیتے ہیں۔ وہ انہیں ان کے ملکوں میں سرگرم وہابی نیٹ ورکس سے متعارف کراتے ہیں؛ تا کہ وہ ان افراد پر کام کریں اور انہیں وہابی نیٹ ورک میں فعال کردیں۔
وہابیوں نے دنیا کی تقریبا تمام زبانوں میں قرآن مجید کے تراجم کروا رکھے ہیں جنہیں ہر سال نئے سرے سے طبع کیا جاتا ہے اور یوں وہابی نیٹ ورک دنیا کے مسلمانوں کے ساتھغ رابطے کا دروازہ کھول دیتے ہیں اور انہیں دینی تعلیمات وہابی نیٹ ورک سے حاصل کرنے کی ترغیب دلاتے ہیں۔
موجودہ زمانے کے وہابی اپنے اسلاف سے مختلف ہیں۔ قدیم وہابی ہر قسم کی جدت کو بدعت سمجھتے تھے جبکہ موجودہ زمانے کے وہابی اسلاف ہی کے پرانے اور گھسے پھٹے افکار کو دنیا کے جدیدترین اوزاروں اور نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے فروغ دینے میں کوشاں ہیں۔ وہ انٹرنیٹ میں بہت وسیع سطح پر سرگرم ہیں اور کئی بڑے سماجی نیٹ ورکس اور یاہو سمیت مختلف نیٹ انجنز کے حصص بھی خرید چکے ہیں اور سینکڑوں ہزاروں معلوماتی ویب سائٹس بنا کر اپنے خشک و جامد وہابی افکار کے ابلاغ و تبلیغ میں مصروف ہیں۔
سعودی عرب کے کئی ریڈیو چینل، سیٹلائٹ ٹی وی چینل بیرونی ممالک کے لئے مختلف زبانوں میں مختلف پروگرام نشر کرتے ہیں جن میں وہابیت کی ترویج کی جاتی ہے اور ایم بی سی فارسی سے غیر اخلاقی فلمیں فارسی تحریر کے ساتھ نشر کی جاتی ہیں اور یوں وہ مغربی ثقافتی یلغار میں مغربی ایجنسیوں کا ہاتھ بٹاتے ہیں اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہابیت کا اصل مقصد اسلام کی خدمت نہیں بلکہ اسلامی تعلیمات کو انحراف سے دوچار کرنا ہے ورنہ اسلام کی ترویج کا دعوی کرنے والے غیر اخلاقی فلمیں کیونکر نشر کرسکتے ہیں!؟
وہابی کئی ملکوں کے اخبارات و جرائد میں بھی اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور بڑی بڑی رقوم خرچ کرکے مختلف ممالک میں مختلف اخبارات پر مسلط ہیں جو اپنی مقامی زبانوں میں وہابی افکار کی ترویج کرنے پر مامور و مجبور ہیں۔
تیل کی دولت کے بدولت سعودی حکام اکثر اسلامی ملکوں میں اثر و رسوخ رکھتے ہیں اور ان ملکوں میں بہت سی تبدیلیوں اور اندرونی مسائل کا سرچشمہ آل سعود کی حکومت ہے جس کو وہابی اسلام کی دینی پشت پناہی حاصل ہے۔
حتی مغربی ممالک میں بے شمار اخبارات و جرائد آل سعود کے توسط سے شائع ہوتے ہیں اور وہاں بھی وہابیت کی ترویج کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ یہ اخبارات بہت پرانے اور جانے پہچانے ہیں اور پوری دنیا میں ان کے قارئین پائے جاتے ہیں جن میں "الشرق الاوسط" اور "الحیاة" نامی رسالے خاص طور پر قابل ذکر ہیں اور یہ دونوں رسالے برطانوی دارالحکومت لندن سے شائع ہوتے ہیں۔
آخر میں ایک مغربی مورخ کا بیان:
رابرٹ لیسی اپنی کتاب "سرزمین سلاطین" میں لکھتا ہے:
وہ باپ بیٹا اپنے آپ کو عنیزہ نامی قبیلے کی اولاد سمجھتے تھے اور وہ درعیہ کے نواح میں زراعت کی نیت سے صحرا کو چھوڑ گئے تھے۔ دس نسلیں بعد ان ہی کے اخلاف میں سے ایک، جس کا نام سعود تھا اس کا بیٹا محمد تھا جس نے 1744 میں محمد بن عبدالوہاب کو پناہ دی۔ سعود کے بارے میں معلومات بہت کم ہیں لیکن اس کے بیٹا وہابیت سے متصل ہوا اور ابن سعود کے نام سے مشہور ہوا اور یہی اس خاندان کا خاندانی نام ہوا۔ کیونکہ ابن سعود کے زمانے میں اس خاندان کو ـ 1902 میں ریاض کی فتح کے بعد ـ وہابیت کے سائے میں نام و نمود ملا۔ (1) نجد میں ابن سعود کی تلوار نے وہابی نظریات کو نافذ کیا اور محمد بن عبدالوہاب کی قوت میں اضافہ ہوا۔ اور حالت یہ تھی کہ وہ جس شہر اور قریے پر حملہ کرتے وہاں کے اموال کو لوٹ لیتے تھے (2) محمد بن عبدالوہاب ابتداء میں عیینہ میں آیا جہاں کی رئیس کی بہن سے اس کا نکاح کرایا گیا اور اس نے اپنے عقائد ظاہر کئے لیکن عوام نے امیر کے داماد کو وہاں سے نکال باہر کیا اور وہ درعیہ پہنچا اور امیر محمد بن سعود سے ملاقات کی اور ـ کچھ لوگوں کی وساطت سے (!) ـ دونوں نے اتفاق کیا کہ وہ ایک دوسرے کی حمایت کریں گے اور دونوں نے ایک دوسرے کو نجد میں فتوحات کی خوشخبری سنائی۔ (3) کیونکہ پس پردہ عیار انگریزوں کی پشت پناہی سے دونوں مطمئن تھے۔
حوالے
1۔ رابرت لیسی، سرزمین سلاطین، ترجمه فیروزه خلعت بری ، ج1، ص86.
2۔ رابرت لیسی، سرزمین سلاطین، ترجمه فیروزه خلعت بری ، ج1، ص86.
3۔ قزوینی ، سیدمحمد حسن ، فرقه وهابی، ص30.

Login to post comments