×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

تعلیم پربھگوا یلغار جاری ہے

September 28, 2013 1011

 ہندوستان کے لیے یہ خوش آئند پہلو ہے کہ یہاں سمجھ دار اور سچے محب وطن کی کمی نہیں ہے۔ کرناٹک کی سابق  بی جے پی حکومت کے تعلیم جیسے

اہم شعبہ پر شر انگیز ی پر ۲۴ دانشوران و ماہرینِ تعلیم نے اس کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔اپنے ایک مشترکہ بیان میں ان ۲۴ دانشوروں نے اس با ت کا اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ،’اس طرح کی درسی کتب بھائی چارہ ، سیکولر، تکثیری اور جمہوری اقدار سے ہمیںمنحرف کرتی ہیں اور کم سن ذہنوں پر تعصب کے نقوش چھوڑجاتی ہیں

جدوجہدِ آزادی میں مسلمانوں نے سب سے زیادہ اپنی جانوں کے نذرانے پیش کیے انہی کی بدولت ملک عزیز کو آزادی ملی ہے۔لیکن یہ ہندوستانی تاریخ کا ایک بہت بڑا المیہ ہے کہ آزادی کے ان عظیم سورماوں کی قربانیوں کو تعصب اور منظم و منصوبہ بند سا ز شوں کے تحت تاریخ کے اوراق میں جگہ نہیں دی گئی۔نام نہاد اور متعصب تاریخ دانوں نے ان کی جگہ ایسے لوگوں کو مجاہدین آزادی کا مقام دیاجن کا تحریکِ آزادی کی جدوجہد سے دور کا بھی واسطہ نہیں رہا۔ البتہ یہ وہ لوگ تھے جو ملک کو آزاد کرانے کے بجائے اس ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنے کے منصوبے بنارہے تھے۔آزادی کے بعد جو نصابی کتب تیار کی گئیں وہ اسی تصویر کو پیش کرتی ہیں۔ آج تاریخ کی جو نصابی کتابیں دستیاب ہیں ان میں آ زادی کے ہیرو ہندوراشٹر کے علمبرداروں کو ہی بتایاگیاہے۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ جنگِ آزادی میں مسلمانوں نے خاص طور پر علما نے اپنے آپ کو مکمل طور پر جھونک دیا تھا۔صرف ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی میں ڈھائی لاکھ سے ز ائد مسلمانوں نے جام شہادت پیش کیا جن میں ۵۱ ہزار علما تھے۔لیکن افسوس کہ تاریخ کی کتابوں میں سوائے مولاناابولکلام آزاد کا قدرے تفصیل اور اشفاق اللہ خان، مولانا محمد علی جوہر کے ضمنی ذکر کے علاوہ شاید ہی کسی مسلمان مجاہدِ آ زادی کا ذکر ملتا ہے۔دراصل اس کی بنیادی وجہ یہ بھی ہے کہ آزادی کے بعدملک کو سوچی سمجھی سا زش کے تحت تقسیم کیا گیااور اس کے بعد مسلمانوں کے خلاف تعصب کی ایسی فضا پیدا کی گئی کہ گویا ملک کا بٹوارہ انہی کا شاخسانہ ہے۔ جنگ آزادی میں ان کے سنہرے کارناموں کو اس طرح پس پشت ڈالا گیا اور تاریخ اس اندا ز  میں لکھی گئی کہ ملک کی تقسیم کے ذمہ دار مسلمان ٹہراے گئے۔
فسطائی تحریکوں کی ان کوششوں نے ملک میں تعصب ، فتنہ و فساد اور لوگوں میں تفرقہ ڈالنا کا کام کیا ہے ۔ یہ سلسلہ ہنو زجاری ہے۔ آر ایس ایس جو اس ملک کو ہندو راشٹر میں تبدیل کرنا چاہتی ہے ملک کی آزادی میں اس نے مشکوک کردار ادا کیا بلکہ ملک کی آز ادی سے زیادہ اس نے اپنے مفادات کی خاطر آزادی کی تحریک کو داو پر لگانے سے بھی گریز نہیں کیا۔ اس سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ اسے ملک سے زیادہ  ہندو راشٹر کااپنا مفاد عزیز تر ہے۔ آزادی کے بعد سے ملک میں فرقہ پرستی،تعصب اور دہشت گردی کو جو فروغ اور بڑھاوا ملا ہے وہ اسی کا مرہونِ منت ہے۔ فرقہ پرستی کے بیج کو بونے کے لیے اس فرقہ پرست تنظیم نے تعلیم جیسے اہم ترین شعبہ کو منتخب کرتے ہوئے نصابی کتابوں پر بھگوا رنگ چڑھانے کا کام آ زادی کے بعد سے ہی شروع کیا اور وقتاً فوقتاً اس میں تبدیلیاں لاتی رہی۔ اس کی بڑی کامیابی تو یہ ہے کہ اس نے حقیقی مجاہدینِ آزادی جو مسلمان تھے انہیں تاریخ کے اوراق سے گم کردیا اور ان کی جگہ اپنی فرقہ پرست جماعت کے لوگوں کو مجاہدینِ آزادی کے طور پر پیش کیا۔اپنے فرقہ پرست ایجنڈے کے تحت اس کی سیاسی بازو بی جے پی جب اقتدارمیں آئی تو اسے تعلیم کو بھگوا رنگ میں رنگ دینے کا بھر پور موقع ہاتھ آگیا ۔مرلی منوہر جوشی جو اس وقت وزیر برائے فروغِ انسانی وسائل تھے ان کی سرپرستی میں ملک گیر سطح پر نصاب کو ہندویانے کی منصوبہ بند کوشش کی گئی۔لیکن ۲۰۰۹ میں این ڈی اے کی شکست سے آر ایس ایس کا یہ خواب پورا نہ ہوسکا۔
ملک بھر میں جن ریاستوں میں بی جے پی سرکار ہے وہاں سب سے پہلے تعلیمی محا ذ کو نشانہ بنایا جارہاہے۔ گذشتہ ماہ مدھیہ پردیش کی بی جے پی حکومت نے اردو اسکولوں میں پہلی اور دوسری جماعت کے لیے بھگوت گیتا کی تعلیم کو لازمی قراردیا اور جاری تعلیم سال سے اسے نافذ کرنے کی ہدایات بھی جاری کردی ہیں ۔ اب کرناٹک کی سابق بی جے پی حکومت نے جو نصاب تیار کیا ہے اس میں بالخصوص سماجی علوم کی چھٹی جماعت کی کتاب کے پہلے باب میں اسلام اور عیساعیت کا تعارف کروایا گیا ہے ۔ اس باب کا عنوان ’بھارت متھوہوراپرپنچل‘( ہندوستان اور بیرونی دنیا)  بذاتِ خود تعصب پرمبنی نظر آتا ہے۔ ہندوستان میں اسلام کے فروغ کے بارے میں چھٹی جماعت کی تاریخ کی کتاب میں صفحہ ۵ پر اس طرح کی معلومات درج ہیں ’عربوں نے سندھ کو فتح کیا اور یہاں پر اسلام کی تبلیغ کی۔۔۔ سلطان کے طویل دورِ حکمرانی کی وجہ سے ہندوستان میں اسلام کافی تیز ی سے پھیلا۔‘ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اسلام سندھ کو فتح کرنے سے بہت پہلے ہندوستان میں عربوں کی تجارت کے ذریعہ داخل ہوچکا تھا۔اور ہندوستان میں برہمنوں کا بدنام زمانہ ذات پات کے ظالمانہ نظام کی وجہ سے یہاں کی عوام اسلام کے مساوات اور بھائی چارگی کے اصولوں سے متاثر ہوکر حلقہ بگوش اسلام ہونے لگی۔ اسی طرح سماجی علوم  کی درسی کتاب کے دوسرے سیمسٹر میں ’بھکتی تحریک‘ پر مشتمل باب میںصوفیوں کو مثلاً بابا بڈھن کود تاتریہ کے عقیدت مند کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔  اور صوفی ازم کو ہندو روایات کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔علاوہ ازیں صوفیوں کو یوگا،وید سے متاثر بتایا گیا ہے ۔ صوفیوں کو کرشن کی تعریف میں گیت لکھنے والے بھی بتایا گیا ہے۔۔۔ اور پھر یہ بھی باور کرانے کی کوشش کی گئی ہے کہ صوفیوں کے اس طرح کے طرزِ عمل کو قدامت پسند مسلمانوں نے بند کردیا۔ اس طرح صوفی روایات کو مسخ کرنے کی کوشش ان درسی کتب کے ذریعہ کی گئی ہے۔ اسی طرح سے نہم جماعت کی سائنس کی درسی کتاب میں مہابھارت کی درونا کو پہلی ٹیسٹ ٹیوب بے بی  بتا کر سائنسی ایجادات کے ساتھ بھی کھلواڑکیا گیا ہے۔اسی کلاس کی شہریت کی درسی کتاب میں اس طرح کے سوالات درج کیے گئے ہیں: یکساں سول کوڈ کی کیا ضرورت ہے؟(ص ۔۶۴)۔کثرت میں وحدت اس سکشن کے تحت چھٹی جماعت کی شہریت کی کتاب میں غیر ویدک روایات و عقائد، اسلام و عیسائیت اور دیگر م مذاہب کا کوئی ذکر نہیںہے بلکہ ان درسی کتب کو صرف مہابھارت اور رامائن کے تذکروں سے بھر دیا گیا ہے۔
ڈاکٹر امبیڈکر نے بہت پہلے ۱۹۴۰ میں ہی ہندتوا نظریے میں قوم دشمنی کے سنگین پہلو کو دیکھ لیا تھا اور ہندتوا کی فرقہ وارانہ سیاسی نظریہ کے بارے میں انہوں نے اپنی ایک تصنیف Pakistan or the Partition of India   میں اس کا تذکرہ ان الفاظ میں کیا ہے:
’ہندو راج اگر فی الواقع قائم ہوجائے تو کوئی شبہ نہیں کہ وہ اس ملک کے لیے بہت بڑی آفت ، مصیبت،بربادی، تباہی اور نحوست بن جائے گا۔ہندو راج
 آ زادی، مساوات اور انسانی اخوت اور بھائی چارگی کے لیے ایک خطرہ ہے ۔اس بناء پر وہ مخالف جمہوریت ہے۔ ہندو راج کے قیام کو بہر قیمت روکا جانا چاہیے۔‘
 ہندوستان کے لیے یہ خوش آئند پہلو ہے کہ یہاں سمجھ دار اور سچے محب وطن کی کمی نہیں ہے۔ کرناٹک کی سابق  بی جے پی حکومت کے تعلیم جیسے اہم شعبہ پر شر انگیز ی پر ۲۴ دانشوران و ماہرینِ تعلیم نے اس کے خلاف آواز اٹھائی ہے اور اس پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔اپنے ایک مشترکہ بیان میں ان ۲۴ دانشوروں نے اس با ت کا اندیشہ بھی ظاہر کیا ہے کہ،’اس طرح کی درسی کتب بھائی چارہ ، سیکولر، تکثیری اور جمہوری اقدار سے ہمیںمنحرف کرتی ہیں اور کم سن ذہنوں پر تعصب کے نقوش چھوڑجاتی ہیں۔‘ دانشوروں کے اس وفد نے اس طرح کے کھلواڑ کو روکنے کے لیے قومی کمیشن کے قیام کی تجویز پیش کی ہے، تاکہ مذکورہ کتب کو قومی نصابی ڈھانچہ  (National Curriculum Framework) کے مطابق تیار کیا جائے۔ وفد کے ایک ممبر کرشنا شاستری نے اس بات کی طرف بھی توجہ دلائی کہ بیشتر نصابی کتب کے مسودے National Curriculum Framework  کے معیار میں پورے نہیں اترتے ہیں۔ اس کے علاوہ نصابی کتب کی کمیٹی میں شامل ممبران میں بیشتر ایسے ہیں جنہیں یا تو تدریسی تجربہ نہیں ہے یا پھر اس کی قابلیت نہیں ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ یہ تدریسی کتب رامائن اور مہابھارت کی مثالوں سے بھر دی گئی ہیں۔ یہ کتب معروف سائنس داں،مصنفین اور نظریات وغیرہ کے تذکروں سے خالی ہیں۔
جن دانشوروں نے کرناٹک میں تعلیم کے بھگواکرن کے خلاف آواز اٹھائی ہے ملک کے ہر باشعور شہری کا فرض ہے کہ تعلیم کے ساتھ کھلواڑ کرنے والوں کے خلاف اس مہم میں شامل ہوجائیں۔ اور تعلیم جیسے حساس شعبہ کے سنگھی کرن پرنہ صرف بریک لگائیں بلکہ ملک گیر سطح پرا س تہذیبی یلغار کا دستوری طریقے سے مقابلہ کریں۔     

 

Last modified on Wednesday, 04 June 2014 21:27
Login to post comments