×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

کتنے محفوظ ہیں بھارت کے ڈیم؟

August 09, 2014 1692

بھارت میں ڈیم بنانے کی روایت صدیوں پرانی ہے اور گزشتہ 50 سالوں میں ملک کے مختلف ریاستوں میں 3,000 سے زیادہ بڑے ڈیموں کی

تعمیر ہوئی ہے.ایک ایسے ملک میں، جہاں آدھی سے زیادہ آبادی زراعت پر انحصار ہے وہاں 95 فیصد سے زیادہ ڈیموں کا استعمال آبپاشی کے لئے کیا جاتا ہے.
 حال ہی میں بھارتی پارلیمنٹ میں حکومت نے مانا تھا کہ ملک کے کل 5,000 ڈیموں میں سے 670 ایسے علاقہ میں جو زلزلہ ممکنہ زون کی اعلی زمرہ میں آتے ہیں.
سوال یہ اٹھتا ہے کہ زلزلہ ممکنہ علاقوں میں موجود یہ باندھ آخر کتنے محفوظ ہیں.بھارت میں باندھو ںکی تعمیر اور ان کی مرمت کی نگرانی مرکزی آبی کمیشن کرتا ہے.
کمیشن کے ساتھ حکومتیں بھی دہراتی رہیں ہیں کہ تمام باندھوں کی سلامتی جانچ ہوتی رہی ہے اور زلزلہ ممکنہ زون میں آنے والے باندھ بھی کسی آفت کو جھیل سکنے کے قابل ہیں.
2011 میں جاپان میں آئے زلزلہ اور سونامی سے فوکو شیما جوہری پلانٹ کے آس پاس مچی تباہی کے بعد سے سلامتی والے سوال اور تیز ہوتے گئے ہیں.
ان کا کہنا ہے کہ پرانے ڈیموں کو گر اکر اسی علاقہ میں نئے اور زیادہ مضبوط ڈیموں کی تعمیر ضروری ہے.'ساؤتھ ایشیا نیٹ ورک آف ڈیمس' کے سربراہ ہمانشو ٹھکر کہتے ہے کہ تمام حکومتوں کی توجہ اس طرف نہیں گئی ہے.
ٹھکر نے بی بی سی کو بتایا، "موجودہ وقت میں استعمال کیے جانے والے 100 سے زیادہ ڈیم 100 سال سے بھی پرانے ہیں. موربی ڈیم کے گر جانے کے بعد بھی ہم ہوشیار نہیں ہوئے ہیں. ڈیم پر ڈیم بنے جا رہے ہیں بغیر یہ سوچے کی اگر اوپر کا ایک باندھ ٹوٹ گیا تو نیچے کس طرح کی قیامت آ جائے گی. "
بھارت کے کے پڑوسی ممالک میں بھی ڈیموں سے منسلک حادثہ غیر معمولی نہیں رہیں ہیں. سال 2005 میں پاکستان کے بلوچستان صوبہ میں زبردست بارش کی وجہ سے شکیڈور ڈیم ٹوٹ گیا تھا.
بھارت میں بھی سال 1979 میں گجرات کا موربی ڈیم بھاری بارش اور سیلاب سے متاثر ہو کر ٹوٹ گیا تھا جس سے، سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، کم سے کم 5,000 افراد ہلاک ہوئے تھے.اس کے علاوہ چھ سال پہلے بھارت نیپال سرحد پر کوسی ندی پر بنا باندھ ٹوٹ گیا تھا. اس کی وجہ سے ہزاروں لوگوں کو بے گھر ہونا پڑا.
بھارت میں ملا پیریار باندھ گزشتہ کچھ برسوں سے تنازعات کی وجہ سے سرخیوں میں رہا ہے. یہ باندھ 117 سال پرانا ہے اور اس کی وجہ سے کیرالہ اور تامل ناڈو میں کشیدگی رہی ہے.کیرالہ کا کہنا ہے کہ یہ ڈیم محفوظ نہیں ہے اور اسے بند کر دینا چاہئے.لیکن پڑوسی ریاست تمل ناڈو کا کہنا ہے کہ ڈیم ایک دم محفوظ ہے.
تنازع کا تصفیہ ہوا اور فیصلہ تمل ناڈو کے حق میں گیا. لیکن کیرل کا خدشہ صحیح ہوا تب کیا ہوگا؟معاملہ سے جڑے حکام کا کہنا ہے کہ بھارت میں کسی ڈیم کا استعمال بند کر دینا اتنا بھی آسان نہیں ہے اور اسے بند کرنے سے پہلے اختیارات کی تلاش کرنے کی ضرورت ہوتی ہے.بھارت کے 'سنٹرل واٹر کمیشن' کے سربراہ اشون پنڈیا کو لگتا ہے کہ بھارت ایک ترقی پذیر معیشت ہے جہاں آبادی کا دباؤ تیزی سے بڑھ رہا ہے، ساتھ ہی آبپاشی اور توانائی والی ضرورتیں بڑھتی جا رہی ہیں.
بھارت میں کانگریس کی پیشرو حکومت نے ایک تجویز رکھی تھی جس میں ملک کے تمام ڈیموں کے معائنہ اور مرمت کی بات کہی گئی تھی. یہ مجوزہ قانون ابھی تک پارلیمنٹ سے منظور نہیں ہوا ہے.اگرچہ بھارت میں نئی بنی مودی حکومت میں ماحولیاتی وزیر پرکاش جاوڑیکر نے بی بی سی سے کہا ہے '' ہم ہر باندھ کی مکمل حفاظت کو یقینی کریں گے اور اسی حساب سے ان کا جائزہ لیا جائے گا. ''
 نتن شریواستو

Login to post comments