“ندائےعدالت انسانی”سے کچھ اقتباسات

July 22, 2014 743

امیر الموٴمنین حضرت علی ابن ابی طالب علیہ السلام کی شخصیت ایک ایسی شخصیت ہے جس سے اپنے اور غیرسبھی مفکرین اور دانشمند متاثر ہوئے بغیر 

نہیں رہ سکے۔ جس کسی نے اس عظیم انسان کے کردار،گفتار اور اذکار میں غور کیا، وہ دریائے حیرت میں ڈوب گیا۔ غیر مسلم محققین اور دانشوروں نے جب امام المتقین علیہ السلام کے اوصاف کو دیکھا تو دنگ رہ گئے کیونکہ انہوں نے افکارِ علی کو دنیا میں بے نظیر اور لاثانی پایا۔لبنان کے مشہور عیسائی محققق، دانشور اور لکھاری جارج جرداق  نے حضرت علی علیہ السلام کی سیرت پر “ندائے عدالت انسانی” نامی مشہور کتاب لکھی ہے، جارج جرداق کے مطابق جب اس نے اس کتاب کو مکمل کیا تو کوئی بھی پبلشر اس کتاب کو شائع کرنے پر راضی نہیں تھا، وہ کہتا ہے کہ اسلئے میں بےچین ہو کر لبنان کے ایک چرچ میں چلا گیا جہاں ایک عیسائی بشپ نے میری بےچینی کی وجہ پوچھ کر مجھے ایک تھیلی میں رقم دے کر کتاب چھاپنے کا کہا، جب یہ کتاب چھپ گئی اور لبنان سمیت دنیا بھر میں اس سے منافع حاصل ہوا تو میں نے بشپ کو رقم تھیلی میں بند کرکے شکریہ کے ساتھ واپس کرنا چاہی لیکن بشپ نے جواب میں کہا کہ اس میں شکریہ اور احسان کی کوئی بات نہیں میں نے تم پر کوئی احسان نہیں کیا بلکہ امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کے ان احسانوں کا ایک معمولی سا شکریہ ادا کیا ہے کہ جب حضرت علی امیرالمومنین و خلیفتہ المسلمین بن گئے تو آپ نے تمام اقلیتوں بشمول عیسائیوں کے نمائندوں کو طلب کیا اور فرمایا کہ مجھ علی کے دور میں تم اقلیتوں کو تمام تر اقلیتی حقوق اور تحفظ حاصل رہے گا، اسلئے حضرت محمد رسول اللہ (ص) کے بعد اس کے وصی امیر المومینن حضرت علی  علیہ السلام کا دور خلافت اقلیتوں بالخصوص عیسائیوں کے ساتھ مثالی ترین دور تھا ،جس میں اقلیتوں بالخصوص عیسائیوں کے خلاف کہیں بھی ظلم و جبر نہ ہوا اسلئے میں (بشپ) نے علی  علیہ السلام کے احسان کا معمولی شکریہ ادا کیا ہے جارج جرداق جا کر یہ رقم غریبوں میں بانٹ دو۔
 جارج جرداق کی امام علی علیہ السلام کے بارے میں لکھی ہوئی کتاب ندائےعدالت انسانی سے کچھ اقتباسات  قارئین کے پیش خدمت ہے۔
جارج جرداق اپنی کتاب میں لکھتا ھے کہ انسانی معاشرہ میں واحد لیڈر علی بن ابی طالب  علیہ السلام ہیں جنھوں نے انسانیت اور عدالت کی بنیاد پر بیت المال کی تقسیم کی ہے۔ جب آپ علیہ السلام نے اہل کوفہ سے سوال کیا کہ کیا تم میں کوئی ایسا ہے جو بھوکا ہو تو سب نے کہا یا علی ! آپ حاکم ہیں، اب یہاں کوئی بھوکا نہیں ہے ۔ سوال کیا کوئی ہے جس کے پاس لباس نہ ہو ؟ سب نے کہا یا علی ! اب سب کے پاس لباس ہے ۔ سوال کیا کوئی ہے جس کے پاس مکان نہ ہو ؟ سب نے کہا یا علی ! سب کے پاس مکان ہے ۔ امام علی علیہ السلام نے عدالت کا جو نمونہ پیش کیا اسے دیکھ کر دنیا آج تک حیرت زدہ ہے ۔
جارج جرداق اس واقعہ کا بھی ذکر کرتا ہے جب امام علی علیہ السلام نے ایک بوڑھے یہودی کو کوفہ میں بھیک مانگتے ہوئے دیکھا ۔ امامؑ نے سوال کیا کہ یہ میری حکومت میں بھیک کیوں مانگ رہا ہے ۔ اس نے کہا یا علی ! کل تک مجھ میں قوت تھی ، میں کام کرتا تھا لیکن اب مجھ میں قوت نہیں رہی ۔ امامؑ نے فرمایا اس کی تمام ضرورتوں کو بیت المال کے ذریعہ پورا کیا جائے اور اسے ماہانہ وظیفہ دیا جائے ۔ کسی نے کہا یا علی !یہ یہودی ہے ۔ آپؑ نے فرمایا یہ ایک انسان ہے جب تک اس کے جسم میں قوت تھی اس نے معاشرے کی خدمت کی ہے ۔ اب حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اس کی ضرورتوں کو پورا کرے ۔ یہ علی بن ابی طالب علیہ السلام ہیں جنھوں نے انسانی بنیادوں پر تقسیم اموال کی ہے ۔ یہ عدالت انسانی کی آواز ہے اور عدالت کے حدود عالمی حدود ہیں ۔ اس پر غور و فکر ہونا چاہئے ،اس پر گفتگو اور کام ہونا چاہئے ۔
 ایک اور جگہ ندائے عدالت انسانی میں لکھا ہے’’علی ؑ کی تمام تر توجہ مساوات وعدل کے قوانین کو موثر طریقے سے بروئے کار لانے پر مرکوز تھی۔ ان کے افکار اور انداز فکر حکومت اور ان تمام تر حکمت اسی مقصد کے حصول کے لئے وقف تھی ۔ جب کسی ظالم نے عوام کے حقوق کی پاعمال کی یا کسی کمزور سے تحقیر آمیز رویہ اختیار کیا علی ؑ اس سے سختی سے نمٹے ‘‘۔ 
حضرت علی ؑ نے معاشرتی زندگی میں عدل کو کتنا لازمی قرار دیا ہے اس کا اندازہ اس واقعہ سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے۔
ایک دن کچھ لوگ جنہوں نے آپ کی بیعت بھی کررکھی تھی آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہا کہ ہم آپ کے خیر خواہ ہیں آپ کو یہ مشورہ دینے آئے ہیں کہ اگر آپ اشراف عرب کو دوسروں پر ترجیح دیں تو ان کی پیش رفت کے لئے مناسب ہوگا۔ آپ اس تجویز سے ناراض ہوئے اور فرمایا کیا تم مجھے یہ حکم دیتے ہوکہ میں رعایا پر ظلم کروں یا دوستوں کا ایک گروہ اپنے گرد جمع کرلوں ؟ خدا کی قسم جب تک دنیا موجود ہے اور ستاروں کی گردش باقی ہے میں یہ کام نہیں کرسکتا ۔ اگر یہ مال میرا اپنا بھی ہوتا تو بھی اسے برابر تقسیم کرتا جبکہ یہ مال تو ہے ہی خدا کا‘‘۔
ایک جگہ جارج جرداق اپنی کتاب میں لکھتا ہے ۔ 
تاریخ اور حقیقت ِانسانی کیلئے یکساں ہے کہ کوئی علی علیہ السلام کو پہچانے یا نہ پہچانے.تاریخ اور حقیقت ِ انسانی خود گواہی دے رہی ہے کہ علی علیہ السلام کا ضمیر زندہ و بیدار تھا۔ وہ شہید ِراہِ خدا تھے اور شہداء کے جد تھے، عدالت ِ انسانی کی فریاد تھے۔ مشرق کی ہمیشہ زندہ رہنے والی شخصیت تھے۔
ایک کُلِ جہان! کیا تیرے لئے ممکن ہے کہ باوجوداپنی تمام قوتوں کے ، اپنی ترقیِ علم و ہنر کے علی جیسا ایک اور انسان جو علی جیسی عقل رکھتا ہو، اُسی جیسا دل ، ویسی ہی زبان اور ویسی ہی تلوار رکھتا ہو، اس دنیا کو دے دیتی؟
اکیس رمضان حضرت علی کی شہادت کا دن ہے.آپ کی شہادت سے متعلق جارج جرداق یوں لکھتا ہے۔
علی علیہ السلام مسجد میں آئے رب العزت کے حضور سر جھکایا- ابن ملجم زہر آلود تلوار ہاتھ میں لئے آیا اور حضرت کے سرپر وار کیا کہ جس کے متعلق اس کاکہنا تها کہ اگر یہ وار سارے شہر کے باشندوں پر پڑے تو ایک شخص بھی زنده نہ بچے۔
خدا کی لعنت ہو ابن ملجم پر اور تمام لعنت کرنے والوں کی لعنت ہو اس پر، اس پر دنیا میں ہر آنے والے اور دنیا سے ہر جانے والے کی لعنت ہو. ہر اس شخص کی لعنت ہو جو خدا کے حکم سے پیدا ہوا۔ خداوند عالم ابن ملجم پر ایسی لعنت کرے کہ وہ لعنت دریاؤں پر پڑے تو وہ خشک ہوجائیں، کھیتوں پر پڑے تو وه نیست و نابود ہوجائیں اور سرسبز پودوں کو زمین کے اندر ہی جلا کر راکھ کردے. جہانوں کا خالق و مالک جہنم کے بھڑکتے شعلے اس پر مسلط فرمائے اور اسے منہ کے بل جہنم میں دال دے۔ اس جگہ جہاں آگ کے شعلے لپک رہے ہوں اور قہر الہی کا جوش و خروش ظاہر کررہے ہوں۔
محبان علی علیہ السلام کو عظیم ترین صدمہ پهنچا، زمانے نے علی علیہ السلام پر گریہ کیا، اور آنے والے صدیان بهی علی علیہ السلام پر گریہ کریں گی۔ دنیا کی ہر چیز شکستہ و اندوہگین ہوئی سوائے علی ابن ابی طالب علیہ السلام کے جن کا چہرہ ہشاش بشاش تھا۔ آپؑنے نہ انتقام کی خواہش ظاہر کی نہ غیظ و غضب کا اظہار کیا بلکہ ” فزت برب الکعبة” کہہ کر اپنی کامیابی کا اعلان فرمادیا۔ لیکن آپؑکے چہرے کی بشاشت تمام مصائب و آفات سے بڑھ کر اندوہناک تھی اس وقت آپ کا چہره سقراط کے چہرے سے مشابہ تھا جس وقت جاہل اورنادان عوام نے اسے زہر پلایا تھا، عیسی ابن مریم (علی نبینا و آلہ و علیہ السلام)کے چہرے جیسا تھا جب کہ قوم یہود آپؑکو کوڑوں سے اذیت پهنچا رہے تهے، محمد مصطفی ﷺ کے چہرے جیسا تھا جب آپ ﷺ پر طائف کے نادان پتھر برسا رہے تھے اور یہ نہ سمجھ رہے تھے کہ ہم کس بزرگ ترین ہستی کو یہ پتھر مار رہے ہیں۔
کوفہ کا سب سے بڑا طبیب حاذق اثیر بن عمرو ہانی آیا اور زخم کے معائنے کے بعد اس نے مایوسی کا اظہار کیا، آپ نے حسن اور حسین (علیہما السلام) کو اپنے پاس بلاکر وصیتیں فرمائیں جن میں سے چند جملے یہ ہیں:
” میرے قتل کی وجہ سے ہنگامہ یا خونریزی نہ کرنا، اپنے پڑوسیوں کا لحاظ کرنا، فقراء اور مساکین کا خیال رکھنا اور انہیں بھی اپنی روزی اور معاش میں شریک رکھنا، اچھی بات کہنا، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کو ترک نہ کرنا، آپس میں لطف اور مہربانی سے پیش آنا، سادگی برتنا، ایک دوسرے سے نہ کٹنا، متفرق نہ ہونا … بروز جمعہ صبح کے وقت آپؑکے فرق مبارک پر ضربت لگی تھی اس کے بعد دو روز تک انتہائی کرب و اذیت کے عالم میں زنده رہے مگر آپؑ نے اُف تک نہ کی، لوگوں کو احسان و نیکی اور رحم و کرم وصیت فرماتےرہے۔ ماه رمضان کی اکیسویں شب کو آپؑ نے اس دنیا سے رحلت فرمائی۔
آپؑ دنیا سے رخصت ہوگئے اور اپنے بعد ایسا خاندان چھوڑ گئے جس کا ایک ایک فرد راه حق میں شہید ہوا، اپنے بعد دکھیاری بیٹی زینب (سلام الله علیہا) کو دنیا بھر کے مصائب و آلام جھیلنے کے لئے چھوڑ گئے اور دنیا نے ان کے ساتھ وه بے رحمی و شقاوت کا سلوک کیا جیسا کسی کے ساتھ نہ کیا ہوگا. حسن اور حسین (علیہما السلام) کو ابوسفیان کی اولاد اور دیگر خون کے پیاسے دشمنوں میں چھوڑ گئے
علی علیہ السلام اور فرزندان علیؑ کے خلاف سازش کا پہلا دور تمام ہوا، اس کے بعد بے شمار دور آئے اور ہر دور اپنی آغوش میں ہولناک تر اور سخت تر اور شدید تر مصائب لئے ہوئے تھا۔
امامؑاپنے دشمنوں کو دنیا میں زندہ چھوڑ گئے لیکن ان کی یہ زندگی عین ہلاکت تھی۔علی محراب کوفہ میں اپنی شدت عدل کی بنا پر مارے گئے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حوالہ : کتاب”امام علی ندائے عدالت ِ انسانی“، تالیف: جارج جرداق،ترجمہ: سیدہادی 

Last modified on Wednesday, 06 May 2020 16:22
Login to post comments