×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

جمعۃ الوداع، یوم القدس

July 21, 2014 746

دین اسلام سلامتی، بھائی چارے، امن و محبت، اخوت اور مساوات کا دین ہے۔ جو ظلم کی شدید نفی کرتا ہے اور ظالم کی سرکوبی کا حکم دیتا ہے۔

 یہاں تک کہ ایمان کے درجات کا تعین بھی ظلم و ظالم کے خلاف عملی تحریک سے کرتا ہے۔ ظلم کو طاقت کے بل بوتے پر روکنا ایمان کا پہلا درجہ، ظلم کے خلاف آواز بلند کرنا، ایمان کا دوسرا درجہ اور ظلم کے خلاف کوئی عملی کردار ادا کئے بناء فقط اسے برا سمجھنا ایمان کا کمزور ترین درجہ قرار دیا گیا ہے۔ گرچہ اس حوالے سے بیشتر اسلامی ریاستوں کے سربراہان ایمان کی نعمت سے محروم نظر آتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ملت اسلامیہ میں ایسے غیور فرزندان توحید کی کمی نہیں جو ایمان کے پہلے درجے پر فائز ہیں۔ یہی وہ فرزندان توحید ہیں، جو وقت کی ظالم و جابر طاغوتی و سامراجی طاقتوں کے سامنے ہر حوالے سے سینہ سپر ہیں۔ ان میں جوان بھی ہیں بوڑھے بھی، بچے بھی ہیں خواتین بھی۔ ملت کا درد اپنے دلوں میں سمیٹے یہ لوگ نظریہ اسلامی کی ترویج و ترغیب کے لیے ہمہ وقت کوشاں ہیں۔
رمضان المبارک ہر مسلمان کے لیے نہ صرف باعث رحمت و برکت بلکہ جسم و روح اور ایمان کو تروتازہ کرنے و رکھنے کا اہم ذریعہ ہے۔ اسی ماہ مقدس کے آخری جمعۃ المبارک (جمعۃ الوداع) کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سید الایام قرار دیا ہے۔ یہ دن فضائل و مراتب میں بے مثال ہے۔ نظریہ اسلامی کی رو سے نماز جمعہ کی جامع مسجد میں ادائیگی کا فلسفہ اسلام کو درپیش مسائل کے حل کے لیے غور و فکر کرنا ہے اور خطبہ کا مقصد بھی مسلمانوں کو عصری مسائل اور ذمہ داریوں سے آگاہی فراہم کرنا ہے، چونکہ جمعۃ الوداع باقی تمام دنوں سے افضل و محترم ہے، لہذا ضروری ہے کہ اس دن پورے عالم اسلام کے اجتماعی مسائل کے حل، اسلامی دنیا کے حقوق کے تحفظ اور میسر وسائل سے استفادہ کرنے کی جانب بحیثیت قوم پیشقدمی کی جائے۔
ہونا تو یہ چاہیے کہ جمعۃ الوداع کے موقع پر پوری اسلامی دنیا ملکر پورے ایک سال کے لیے اپنی خارجی و داخلہ پالیسی ترتیب دیتی اور آئندہ سال اپنے اہداف کی کامیابی و ناکامی سے متعلق عوام کو اعتماد میں لیتی، مگر بدنصیبی سے بیسویں صدی کے وسط تک اسلامی ایام کو عصری تقاضوں سے ہم آہنگ کرکے منانے کا اہتمام نہ ہوسکا۔ جس کی وجہ سے اسلامی دنیا ان خاص الخاص ایام کے اجتماعات سے وہ مقاصد حاصل نہ کرسکی، جس کی صلاحیت رکھتی تھی۔ نتیجے میں عالمی سیاست اور مسائل پر رفتہ رفتہ اس کی گرفت ڈھیلی ہوگئی۔ یہاں تک کہ دیگر قوموں نے ملت اسلامیہ کا معاشی، سیاسی، افرادی اور اخلاقی استحصال کرنا شروع کر دیا، مگر انقلاب اسلامی ایران کے وقوع پذیر ہونے کے بعد امام خمینی نے اسلامی دنیا کو ایک نئی فکر و فلسفہ سے روشناس کرایا۔ عوامی رہن سہن سے لیکر بین الاقوامی امور تک اسلامی نقطہ نظر کو پیش کرنے کا سلیقہ اپنایا۔
انھوں نے نہ صرف مسلمانوں کے اجتماعی مسائل کے حل کے لیے آواز بلند کی بلکہ دنیا بھر کے مستضفین کے لیے ایک مسیحا کا کردار ادا کیا۔ امام خمینی نے اسلامی خاص ایام کو دور حاضر کے اہم معاملات سے ہم آہنگ کیا۔ اس وقت عرب و دیگر اسلامی ریاستیں اسرائیل کے ہاتھوں کئی زخم کھانے کے بعد آزادی فلسطین کے عزم سے دستبردار نظر آتی تھیں۔ لہذا اسرائیل کے خلاف پوری اسلامی دنیا کو بیدار کرنا کوئی آسان نہ تھا۔ امام خمینی نے جمعۃ الوداع (رمضان المبارک کا آخری جمعہ) کو یوم القدس قرار دیا اور اپنے خطبہ میں آزادی فلسطین کی جدوجہد پر زور دیتے ہوئے فرمایا۔
’’مسلمانوں! جمعۃ الوداع یوم اسلام ہے، اس کو یوم القدس کے طور پر مناؤ۔ غاصب (اسرائیل) اور اس کے حامیوں کے تسلط کو ختم کرنے کے لیے تمام اسلامی حکومتیں آپس میں مل جائیں۔ میں دنیا کے تمام مسلمانوں کو دعوت دیتا ہوں کہ ماہ رمضان المبارک کے آخری جمعہ کو جو فلسطینی عوام کی تقدیر متعین کرسکتا ہے، یوم القدس کے طور پر انتخاب کریں اور قانونی حقوق کی حمایت میں یک جہتی کا اعلان کریں۔‘‘
آپ نے ایک اور خطبہ میں فرمایا
’’یوم القدس اسلام کی حیات کا دن ہے۔ مسلمانوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہیں۔ مسلمانوں کو اپنے پاس موجود وسائل کا علم ہونا چاہیے۔ مسلمان جن کی آبادی ایک ارب سے زیادہ ہے، خدائی حمایت ان کے ساتھ شامل ہے۔ اسلام ان کا پشت پناہ ہے، ایمان ان کا پشت پناہ ہے۔ مسلمانوں کو اس بات کی اجازت نہیں دینی چاہیے کہ کوئی اور ملک ان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کرے۔ یوم القدس ایسان دن ہے کہ جس دن ہم پہچان لیں کہ کون سے لوگ اور کون سی حکومتیں بین الاقوامی سازش گروہ (امریکہ، اسرائیل و حواری) کے ساتھ ہیں اور اسلام کے مخالف ہیں۔ جو یوم القدس میں شریک نہیں، وہ اسرائیل کے ساتھ ہیں اور جو شریک ہیں وہ حق شناس اسلام کے موافق اور اسلام دشمنوں کے مخالف ہیں۔ یوم القدس حق و باطل کی پہچان ہے۔‘‘
آزادی فلسطین، آزادی بیت المقدس و مسجد اقصٰی کے لیے خاص الخاص یوم (جمعۃ الوداع ۔ یوم القدس) کا انتخاب انتہائی دواندیشی پر مبنی ثابت ہوا۔ جس کی وجہ سے پوری اسلامی دنیا کو بلاتفریق رنگ و نسل، زبان و مکان، فکر و فرقہ ایک پلیٹ فارم پر ایک جان ہونا نصیب ہوا۔ آج ہم دیکھتے ہیں کہ آزادی فلسطین کی خاطر کوئی بھی تحریک اٹھتی ہے تو اسے پورے عالم اسلام کی مکمل حمایت اور سرپرستی حاصل ہوتی ہے۔ حزب اللہ، حماس اور دیگر تنظیمیں جو قدس کی آزادی کے لیے عملی جہاد میں شریک ہیں، دنیائے اسلام کی آنکھ کا تارا ہیں۔ یہاں یہ امر قابل ذکر ہے کہ صہونیت کے پرستار ملت اسلامیہ کے ان تمام اجتماعی امور کو متنازعہ بنانے کے لیے سرگرم رہے، جو کسی بھی حوالے سے ان کے مذموم عزائم میں رکاوٹ بنے۔ ان امور کو متنازعہ بنانے کے لیے فرقہ واریت، دوہری شہریت، طویل المدت ویزہ جات، این جی اوز کی آڑ میں انٹیلی جنٹس اداروں کے نیٹ ورک، بولڈ اینڈ سولڈ مغربی میڈیا، ڈالرز کی چمک، متازعہ لٹریچر، جیسے ہتھیاروں کا بے دریغ استعمال کیا، لیکن اس کے باوجود صہیونی عزائم کو شکست فاش ہوئی۔ ان کی ہر تدبیر انہی پر الٹ گئی۔
آج ہم دیکھتے ہیں کہ یوم القدس کے موقع پر ایمان کے اول درجے پر فائز فرزندان توحید جب حالت روزہ میں سرد و گرم موسم کی پروا کئے بناء ریلیوں کی شکل میں فلک شگاف نعرے بلند کرتے ہیں تو ان میں مکتب و فرقہ کا فرق نہیں ہوتا۔ وہی میڈیا جسے صہیونی دماغ اپنے مقاصد کے لیے استعمال کرنا چاہتے تھے، اسرئیل کے خلاف ہونیوالے اجتماعات کی براہ راست کوریج کرتا ہے۔ دنیا کے سامنے اس غیر قانونی ریاست کے جرائم کا پردہ چاک کرتا ہے اور عظیم یہودی سلطنت کے خواب دیکھنے والوں کو اپنے جھنڈے اور خواب دونوں جلتے دیکھائی دیتے ہیں۔
آج کچھ سادہ لوح نااندیش فقط چند سو ڈالر کی لالچ میں یوم القدس کے اجتماعات سے متعلق غیر ضروری سوال اٹھانے کی کوشش کر رہے ہیں، کہ اسلامی ریاستوں میں یوم القدس کے اجتماعات کا کیا فائدہ ہوتا ہے۔؟ کیا اس سے اسرائیل ختم ہوسکتا ہے؟ کیا یوم القدس منانے سے فلسطین آزاد ہوجائے گا؟ یا یوم القدس کی ریلیوں میں امریکی و اسرائیلی پرچم جلانے سے کیا حاصل ہوتا ہے؟ تو ان کے لیے ضروری ہے کہ وہ جان لیں کہ جب کسی بھی ریاست یا ملک میں امن و امان کی حالت خراب ہو جائے تو سکیورٹی ادارے شو آف پاور کرتے ہیں۔ جس کا مقصد دشمن کو اپنی قوت کا احساس دلانا ہوتا ہے۔ امریکہ و اسرائیل کے خلاف یوم القدس کے مظاہرے دنیائے اسلام کا شو آف پاور ہوتا ہے، جس میں یہ ثابت کرنا مقصود ہوتا ہے کہ فلسطین کے عوام تنہا نہیں، پورا عالم اسلام ان کی حمایت میں پیش پیش ہے اور انہی اجتماعات کی بدولت ہی آزادی فلسطین کی شمع کو تقویت و جلا ملتی ہے اور انہی تحریکوں اور عملی و مسلسل کوششوں سے نہ صرف اسرائیل کا خاتمہ ممکن ہے، بلکہ ہر اس اسلامی ریاست کا قیام بھی ممکن ہے، جو کبھی ملت اسلامیہ کا حصہ تھی اور اب بھی وہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے۔
یقیناً یہی اجتماعات نئی نسل کی فکری نشوونما کرتے ہیں اور ان کو اپنے ملی فرائض سے آگاہ کرتے ہیں کہ حالات چاہیے جیسے بھی ہوں، ظالم کے سامنے سر تسلیم خم نہیں کرنا اور ملت کے مفاد سے کم کوئی سمجھوتہ نہیں کرنا۔ یوم القدس کے مظاہروں میں امریکی و اسرائیلی پرچم نذر آتش کرنے کا مقصد دو گز کا کپڑا ضائع کرنا نہیں ہوتا بلکہ دنیائے عالم کو یہ بتانا مقصود ہوتا ہے کہ ان ناجائز اور غیر قانونی طاقتوں کی چیرہ دستیوں کو امت مسلمہ مسترد کرتی ہے۔ ان کی پالیسیوں و اقدامات اور اسلام دشمن رویے و کردار سے نفرت کرتی ہے۔ ان اجتماعات کے دورس نظریاتی مقاصد و اثرات کا تقاضا ہے کہ ہر مسلمان بلا شرکت غیرے جمعۃ الوداع، یوم القدس کے مظاہروں و اجتماعات میں شرکت کرے۔ ذاتی، لسانی، علاقائی، فروعی اختلافات کو پس پشت رکھ کر عالم اسلام کے مشترکہ مفادات کے تحفظ کی خاطر آگے بڑھے۔ دین اسلام کے خلاف مغربی سازشوں اور اسلامی دنیا کے حقوق کی پامالی کے خلاف آواز بلند کرے۔ ہر شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے ہر مسلمان کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنی اہلیت و صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے جمعۃ الوداع، یوم القدس کو احیاء اسلام کے طور پر منانے میں اپنا عملی کردار ادا کرے۔ یقیناً یہ عمل دین اسلام کے دشمنوں کی شکست کا موجب بنے گا۔ انشاءاللہ

Last modified on Tuesday, 22 July 2014 16:10
Login to post comments