×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

اسلام زندہ ہوتا ہے ہر کربلا کے بعد

July 17, 2014 748

سرزمینِ فلسطین پر پھر ایک بار کربلا برپا ہے۔ مجاہدین اسلام اور فلسطین کی جیالے عوام اپنے لہو سے گلشنِ اسلام کی آبیاری کررہے ہیں۔

دین اسلام کا  شجربرگ وبار لارہا ہے۔اس بیچ اچانک مصر کے منافق حکمرانوں کی جانب سے ایک امن کی تجویز پیش کی گئی اور اسے اسرائیل کی پارلیمان نے منظور کرلیا لیکن حماس اور اسلامی مزاحمت کاروں نے مسترد کردیا۔ دنیا کے بھر کے مسلمان جو غزہ کے اندر جاری خون خرابے سے پریشان تھے اور جلد از جلد اس کا خاتمہ چاہتے تھے اس پیش رفت سے حیرت زدہ رہ گئے  لیکن وہ لوگ جو قریب سے حالات کا مشاہدہ کررہے تھے انہیں کوئی تعجب نہیں ہوا۔ اس لئے کہ جس طرح کا ڈرامہ اس بار اسرائیل کے ساتھ مل کر کھیلا گیا اس کے ساتھ یہی قرار واقعی سلوک  تھا۔ اس مرتبہ فلسطین میں  اسرائیلی درندگی کا آغاز غزہ کے بجائے مغربی کنارے سے ہوا  لیکن مصری خاموش تماشائی بنے رہے۔ اس کے بعد غزہ پر بمباری شروع ہوئی  معصوم شہری اس کا شکار ہونے لگے تب بھی ان کی زبان  سے مذمت کا ایک لفظ نہیں پھوٹا۔  ان ڈاکٹروں کیلئے جواپنی جان سے کھیل کر دنیا بھر سے غزہ کے زخمیوں کا علاج کرنے کیلئے آئے تھے انہیں تک مصری انتظامیہ نے غزہ جانے سے روک دیا۔
اللہ تعالیٰ کی جانب سے مسلمانوں پر آنے والی آزمائش کی ایک وجہ سچے اور کچے اہل ایمان یعنی منافقین کو الگ چھانٹ دینا بھی ہوتا ہے۔ گزشتہ مرتبہ جب اسرائیل نے حملہ کیا تھا تو صدرمحمد مورسی نے اپنے وزیر اعظم قندیل کو سیکڑوں رضا کاروں سمیت غزہ روانہ کیا تھا لیکن اس بارمصری حکمرانوں نے اپنا ہر کارہ غزہ کے بجائے تل ابیب روانہ کیاتاکہ اسرائیلی حکومت کے ساتھ تال میل کیا جاسکے۔ اسرائیل کو بے دریغ بمباری سے روکنے کے بجائے سینائی میں کارروائی  کرکے اسرائیل  کی جانب پھینکے جانے والے راکٹ برادروں پر حملہ کرکیصہیونیوں کو اپنی وفاداری کا یقین دلایا اور اس کے بعدایک سازش کے تحت امریکہ کے اشارے پر فلسطینیوں کو اعتماد میں لئے بغیر ایک جنگ بندی کی پیشکش اسرائیل کی خدمت میں پیش کردی اور جسے اسرائیل کی پارلیمان نے شرف قبولیت سے نواز دیا۔ یہ تو ایسا ہی تھا جیسے کسی کو ایک ہفتہ تک جیل میں زدوکوب کیا جائے۔ اس کو بھوکا پیاسا رکھنے کے بعد اس کی جانب ایک سوکھی روٹی کا ٹکڑا پھینک دیا جائے۔ ایسے میں اگر وہ خوددار قیدی اس روٹی کے ٹکڑے کو ظالم کے منھ پر دے مارے تو کہا جائے کہ اس پر ہونے والے مظالم کو اسی کے سر ڈال کر انہیں حق بجانب قرار دے دیا جائے
حماس کے جنگ بندی کو قبول نہ کرنے سے اسرائیل کو اب اپنی جارحیت جاری رکھنے کا نیا بہانہ مل گیا ہے۔ جب یہ انکار سامنے نہیں آیا تھا اس وقت یہ جواز تھا چونکہ حماس کی جانب سے راکٹ پھینکے جارہے ہیں اس لئے وہ مجبور ہے۔ جب راکٹ نہیں پھینکے جارہے تھے یہ بنیاد تھی کہ حماس کے لوگوں نے تین یہودیوں کا قتل کردیا ہے اس لئے تمام فلسطینیوں کو اجتماعی سزا دینے کا حق اسے حاصل ہو گیا ہے۔ جب یہودی قتل نہیں ہوئے تھے اس وقت فلسطینی نوجوانوں کو شہید کرنے کیلئے نقبہ کے دن پرامن احتجاج میں شریک ہونا وجہ جواز تھا۔ جب وہ احتجاج نہیں ہوا تھا اس وقت محمود عباس کے ساتھ امن معاہدے پر گفتگو ترک کرنے کیلئے یہ دلیل  پیش کی گئی کہ  عباس نے حماس کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت بنا لی ہے جبکہ اس اتحاد سے سے پیشتر محمود عباس کو عار دلائی جاتی تھی وہ سارے فلسطینیوں کی نمائندگی نہیں کرتے حماس ان کی رہنمائی تسلیم نہیں کرتی اس لئے ان سے بات چیت بے سود ہے۔ گویا بہانے، دلائل اور جواز بدلتے رہے لیکن بربریت کا بازار بہر صورت گرم رہا۔ گویا جبرو استبدادکو جاری رکھنا بنیادی مقصد ہے اس کیلئے بوقتِ ضرورت مختلف قسم کے حیلے بہانے تراش لئے جاتے ہیں۔      
حماس اور اسلامی جہاد کے رہنما بھی مصرکی مفاہمت کا خواہشمند تھے لیکن مصری اہلکاروں کو چاہئے تھا کہ وہ یکطرفہ طور اسرائیل کے مشورے سے تیار کئے جانے والی تجویز کو پیش کرنے کے بجائیحماس یا عباس گفتگو کرکے ان کی شرائط کو بھی اس میں شامل کرتے  لیکن کسی غلام سے اس بات کی توقع کیوں کر ممکن ہے کہ وہ دوسروں کی آزادی اور عزت و وقار کا پاس و لحاظ کرے گا۔  حماس کے اس جر?تمندانہ فیصلے کے بعد ممکن ہے مصر کو اپنی غلطی کا احساس ہوا ہو اور آئندہ وہ مفاہمت کرنے سے قبل کسی ایک فریق کا حلیف  بننیکے بجائے غیر جانبدار ثالث کا کردار ادا کرے گا اور دونوں فریقوں کو اعتماد میں لینے کی کوشش کرے گا نیز ظالم و مظلوم کے درمیان امتیاز کرکے مظلوم کی ہمنوائی بھی کرے گا۔ مصر کے حالیہ موقف سے وہ مڑدہ بھی کھل گیا کہ گزشتہ سال ڈاکٹر مورسی کی برطرفی کے بعد اسرائیل کی خوشی کی وجہ کیا تھی؟ اسرائیل اپنے آپ کو اورسارامغرب اس کو بڑے فخر سیمشرق وسطیٰ کی واحد جمہوریت قرار دیتا ہے  اس لئے ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ اپنے پڑوس میں ایک عوامی حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی آمر کے برسرِ اقتدار آجانے پر وہ رنج و غم کا اظہار کرتا لیکن اس کے برعکس اس نے آگے بڑھکر جنرل السیسی کا استقبال کیا تھا  اس لئے کہ اسے پتہ تھا کہ جس طرح ڈاکٹر مورسی نے بروقت مداخلت کرکے اس کی جارحیت کو روکا ہے اس کا مظاہرہ یہ فوجی کھال کے اندر چھپا ہوابزدل نہیں کر سکے گا۔ سچ تو یہ ہے کہ اسرائیل کا حوصلہ بلند کرنے والوں میں نہ صرف السیسی بلکہ اس کی حمایت کرنے والے مسلم ممالک کے سارے رہنما برابر کے شریک ہیں جن کی زبانوں اور دلوں  پر قفل پر پڑا ہوا ہے۔  
 مغربی ذرائع ابلاغ  یہ تاثر دینے کی کوشش کررہا  ہے کہ حماس اور اسلامی جہاد تحریک کے لوگ جنگ وجدال کے خوگرہیں جبکہ اسرائیل اور مصر امن کا خواہاں ہے حالانکہ حقیقی صورتحال اس کے برعکس ہے۔ اسلامی جہاد نے بہت پہلے مصری مداخلت کا خیر مقدم کرتے ہوئے اعتراف کیا تھا کہ مصرکے ثالث کا کردار نبھائے بغیردشمن کو جنگ بندی کیلئیآمادہ نہیں کیا جاسکتا۔اسی کے ساتھ رمضان شالا نے یہ بھی اعلان کیا تھا یہ جنگ اس وقت تک بند نہیں ہوگی جب تک کہ غزہ کا محاصرہ ختم نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ سکون برائے سکون قابلِ قبول نہیں ہوگا۔ حماس کے ترجمان سامی ابو زہری نے کہا تھاکہ ہم اپنے عوام کی مدافعت جاری رکھیں گیاور امن کی بھیک نہیں مانگیں گے۔جب ہمارے سامنے ایک مناسب ،معقول ، مربوط و سنجیدہ  تجویز پیش کی جائیگی تو اس پر غور کریں گے لیکن مصرو اسرئیل نے ان تمام لوازمات کو بالائے طاق رکھ کر ایک مصنوعی جنگ بندی تھوپنے کی کوشش کی جو ناکام رہی۔
 جنگ بندی کی تجویز کو مسترد کرکے حماس نے یہ پیغام دیا ہیکہ  اب یہ نہ ہوگا پہلے اسرائیل کو خوب خاک و خون کی ہولی کھیلنے کا بھر پورموقع دیا جائے اور پھرجنگ بندی  کی چاکلیٹ تھما کر مجاہدین اسلام کو ان کے حقِ مدافعت سے محروم کردیا  جائے۔ اس جنگ بندی معاہدے میں  جسے مغرب کے جنگی مجرم ٹونی بلیر نے لکھا  ان شہداء  کیلئے کوئی خراجِ عقیدت نہیں ہے جنہوں نے اپنی جان کا نذرانہ پیش کیا۔ بے دریغ بمباری کے نتیجے میں لگنے والیزخموں پر نمک پاشی کی گئی ہے۔گھروں کو مسمار کرنے والوں کے سارے قصور معاف کردئیے گئے ہیں۔  اس جنگ بندی کو اس وقت تک نافذ کرنا بے معنی ہے جب تک کہ مجرم کی نشاندہی نہ ہو۔ اس کی سرزنش نہ کی جائے۔مصر کے ساتھ سرحد کو کھولا نہ جائے اورجن بے قصور  لوگوں کو حال میں یا اس سے قبل گرفتار کیا گیا ہے انہیں رہا نہ کیا جائے۔
اسرائیل کے وزیر اعظم نتن یاہو نے اس  جنگ بندی کیحوالے سے اپنے ارادوں کاا ظہار کرتے ہوئے جرمنی کے وزیر خارجہ سے دل کی بات  یوں  کہی کہ  اس کی بدولت غزہ کو غیر مسلح کرنے کا نادر موقع ہمارے ہاتھ آجائیگا۔ کسی ایسی جنگ بندی کو بھلا فریق ثانی کیوں کر قبول کرسکتا ہے جو اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے والی ہو۔ اسی لئے اس کی تجویز کی  حمایت کرنے والے اسرائیل پارلیمان میں موجود حزب مخالف کے رہنما نے کہا کہ یہ دوبارہ جارحیت کے درمیان ایک وقفہ ثابت ہوگی کیوں کہ اس کے نتیجے میں کوئی بامعنی معاہدہ نہیں ہو سکتا۔اسرائیلی حکومت کے انتہا پسند وزیردفاع افگڈور لیبرمن اور وزیر تجارت نفتال بینیٹ نے اس جنگ بندی کے خلاف ووٹ دیا۔اس ناکامی کے بعد جہاں نتن یاہو نے دوبارہ حملے تیز کرنے کا اعلان کیا وہیں جنگ میں ہلاک ہونے والے  پہلے یہودی کے موت کی خبر بھی منظر عام پر آئی۔ مسلمانوں کیلئے تقریباً دو سو شہداء  کے مقابلے صرف ایک یہودی کے موت کی خبر کوئی خاص اہمیت نہیں رکھتی لیکن اسرائیل جہاں ہیبران کا چیف ربیّ ڈوف لیور علی الاعلان یہ فتویٰ دیتا ہے کہ ایک ہزار غیر یہودیوں کی زندگی ایک یہودی کے ناخن کے برابر بھی نہیں ہے وہاں ایک یہودی کی موت بھی بہت بڑی خبر ہے اس لئے کہ یہودیوں کے اندر پائے جانے موت کے خوف کا گواہ کلامِ ربانی ہے۔
 اس معاملے میں عالمی برادری کی جانبداری  بھی قابلِ دید ہیاگر اسرائیل کے اندر فلسطینی مجاہدینِ آزادی ردعمل کے طور پر ایک دھماکہ کردیں اور اس سے دوچار لوگ ہلاک ہوجائیں تو اسے دہشت گردانہ حملہ قرار دے کر اسلام پر سوالیہ نشان لگا دیا جاتا ہے اور روشن خیال مسلمان فوراً صفائی دینے جٹ جاتے ہیں  کہ اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں ہے یہ دہشت گرد سرے سے مسلمان ہی نہیں ہیں لیکن کوئی  یہودیوں سے سوال نہیں کرتا کہ کیا ڈوف لیور کا فتویٰ یہودی صحائف کا ترجمان ہے اور یہودیت کی یہی تعلیم ہے۔ یوروپ اور امریکہ کے اکثرو بیشترنصرانی ظالم  اسرائیل کے بجائے مظلوم فلسطینیوں کو اس جنگ کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں کوئی ان سے نہیں پوچھتا کہ کیا عیسائیت کی رحمدلی اور غیر جانبداری اسی رویہ کا تقاضہ کرتی ہے؟ ان کی نمائندہ  نام نہادسیکولر جمہوری  حکومتیں حماس کی راکٹ بازی کی پرزور مذمت کرتی ہیں جن میں کوئی ہلاک نہیں ہوتا لیکن اسرائیلی بمباری کو حق بجانب قرار دیتی ہیں  کیا اسی کا نام انصاف اور رواداری  ہے؟ سچ تو یہ ہے کہ یہ ساری طاغوت کی فریب کاریاں  جن کی خوشنما نقاب ان حالات میں تار تار ہو جاتی ہے اور ان کا اصلی چہرہ سامنے آجاتا ہے۔
اسرائیل کی جانب سے کی جانے والی جارحیت کی کئی داخلی و خارجی وجوہات ہیں۔ نتن یاہو کے خلاف اس کی اپنی جماعت لکڈ کے اندر شدید بیاطمینانی پائی جاتی ہے۔ یاہو مخالف سب سے زیادہ طاقتور رہنما وزیر انصاف زپی لیونی نے 11 جون کو حکومت سے الگ ہونے کی دھمکی دی  اور 12 جون کو تین یہودی نوجوانوں کے اغواء￿  کی خبر آئی۔ ان میں سے ایک فوجی تھا اور دوسرا فلسطینی قیدیوں کے ساتھ بدسلوکی کیلئے معروف تھا۔ ان کو دو فلسطینیوں نے قتل کردیا جس کا پتہ حکومت کو فوراً چل گیا لیکن یا ہو نے جان بوجھ کر اس خبر کو صیغہ راز میں رکھا اور مغربی کنارے کے فلسطینوں کے خلاف محاذ کھول دیا۔ سیکڑوں معصوموں کو گرفتار کیا گیا جن میں ارکان پارلیمان بھی شامل تھے اور ذرائع ابلاغ کی مدد سے ایک ایسا زبردست ہنگامہ کھڑا کیا گیا کہ لیونی کی مخالفت پسِ پردہ چلی گئی۔ سارے دنیامیں نفرت و عناد کی آگ بھڑکا کر محمود عباس پر حماس سے قطع تعلق کیلئے دباؤ ڈالا گیا جبکہ حماس نے اس معاملے میں ملوث ہونے سے صاف  انکار کردیا تھا۔
اس حادثے کی تفتیش کے دوران پولس اہلکاروں نے کئی بے قصور فلسطینیوں کو شہید کیا اور پھر دو یہودی نوجوانوں کی جانب سے عبدالقدیر کو زندہ جلانے کا واقعہ بھی منظر عام پر آیا۔ اس پر حکومت نے کارروائی کا آغاز کیا اور 6 لوگوں کو گرفتار کرلیا تاکہ مقدمہ کو کمزور کیا جاسکے جبکہ ویڈیو میں دونوجوانوں کو صاف صاف دیکھا جاسکتا ہے یہودی قاتلوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی میں ان کے متعلقین کومعتوب نہیں کیا گیا۔ ان سے متعلق کسی جماعت کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایاگیا اس کے برخلاف مسلم قاتلوں کے گھروں کو منہدم کیا جاچکا ہے جس جواز دنیا کے کسی قانون میں نہیں ہے اس لئے ان کے اہل خانہ کا اس جرم میں کوئی حصہ نہیں ہے لیکن جہاں انصاف کے پیمانے جدا جدا ہوں اور اس طرح کی وارداتوں سے سیاسی فائدہ حاصل کرنا مقصود ہو یہی سب ہوتا ہے۔  
ایک اور حقیقت یہ ہے کہ نتن یاہو اپنی پارلیمان میں  اکثریت سے محروم ایک مخلوط حکومت چلا رہا ہے۔اس کا اقتدار انتہا پسند دائیں بازو کی جماعتوں کی بدولت قائم ہے اور ان کے مطالبات کو پورا کرنے اور ان کی توقعات پر پورا نہ اتر پانے کے سبب وہ یکے بعد دیگرے یاہو سیدور ہوتی جارہی ہیں۔ان جماعتوں لیبر من کی اسرائیل بنتانو نے 7 جولائی کواپنا معاہدہ  ختم کردیا۔ اس نئی مصیبت پر قابو پانے اور انتہا پسند یہودی رائے دہندگان  کی دلجوئی کیلئے نتن یاہو نے غزہ پر حملہ کردیا اور ایک اسی صورتحال پیدا کردی جس میں لیبر من کو  وقتی طور پر تو حکومت  گرانے کے ارادوں کو ملتوی کرنا پڑا۔  اسرائیلی حکمرانوں کا انتخاب میں کامیابی حاصل کرنے کی خاطر یا اپنی سیاسی ناکامی کی جانب سے توجہ ہٹانے کی غرض سیفلسطینیوں کو نشانہ بنانا اب جگ ظاہر ہو چکا ہے۔
اس بار اسرائیل کی اور بھی کئی ضرورتیں تھیں جنہیں جنگ کے ذریعہ حاصل کرنے کی سعی کی گئی۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ فلسطینیوں کو بے گھر کرکے وہاں نئی بستیاں بنانے کی مخالفت نے اسرائیل کو عالمی پیمانے پر یکہ  و تنہا کردیا تھا۔ اوبامہ انتظامیہ  بھی اس معاملیمیں اسرائیل   کی مذمت کا ڈھونگ کرتا رہا تھا۔ اقوام متحدہ کے اندر فلسطینیوں کو ملنے والی حمایت سے یہ لوگ پریشان تھے  ایسے میں حماس اور فتح کی مخلوط حکومت نے اسرائیل کی نیند اڑا دی۔ حماس کے اقتدار سے دستبردار ہو جانے کے بعد غزہ کے حصار کا وہ لنگڑا لولا  جواز بھی اپنی موت مر گیا جس کے سہارے اسرائیل غزہ کی پٹی کو کھلی جیل میں تبدیل کردیا ہے۔اس  فیصلے سے حواس باختہ ہو کرماہِ  اپریل میں اسرائیل نے امریکہ کی سربراہی میں ہونے والی امن گفتگو سے اپنے آپ کو الگ کرکے اسے مزید ناراض کردیا تھالیکن اس جنگ کے ذریعہ پھر ایک بار اسرائیل نے ساری عالمی برادی کے سامنے اپنے آپ کو حماس کے راکٹوں کا شکار بنا کر پیش کیا اور یوروپ و امریکہ نے جانتے بوجھتے ہوئے بڑی بے شرمی کے ساتھ اس کی حمایت کی۔ اس طرح گویا اسرائیل کی بین الاقوامی تنہائی دور ہوگئی بلکہ اقوام ِ متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون نے بھی جو اسرائیل کے مخالف رہے ہیں  نہایت مایوس کن بیان دے کر اسرائیل کے بجائے حماس کی مذمت کرڈالی۔  
اس میں شک نہیں کہ اسرائیل کی فوجی طاقت کے مقابلے حماس کے وسائل نہایت محدود ہیں لیکن یہ بھی ایک حقیقت کہ حماس کے قوت  ایمانی ، شجاعت وضرورتمندی اور صبر استقامت  صہیونیوں کو خوفزدہ کر دیتا ہے۔ اس لئے  وقفہ وقفہ سے اس طاقت کو کچلنے کی مذموم کوشش اسرائیل  کرتا رہا ہے۔ حالیہ برسوں میں  2006 کے بعد 2007 اور پھر اواخر  2008میں اس کی سعی کی گئی۔ اس  جنگ سے قبل  2012 میں بھی یہ حربہ آزمایا گیا۔ 2008 میں نہ صرف ہوائی حملہ کیا گیا بلکہ زمینی جنگ بھی ہوئی  جس میں اسرائیلی ذرائع کے مطابق 1166 افراد شہید ہوئے اور جن میں سے 709 مجاہدین تھے۔ ان اعداوشمار پر یقین تو نہیں کیا جاسکتا لیکن رحجان کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے۔ اس جنگ میں 13 اسرائیلی مارے گئے تھے جن میں 10 فوجی تھے لیکن  2012 کے دوران چونکہ مصر میں حماس کی حامی حکومت برسرِ اقتدار تھی۔ ایک انسانی حقوق کی تنظیم کے مطابق 167 فلسطینی شہید ہوئے تھیجن میں نصف سے کچھ کم مجاہدین تھے جبکہ 6 یہودی مارے گئے جن میں سے دو فوجی تھے۔
 اس بار ابھی تک  197 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں اور اقوام متحدہ کے مطابق ان میں 80 فیصد شہری ہیں جبکہ ایک یہودی کے مارے جانے کی خبر آچکی ہے۔   لیکن یہ ایک حقیقت ہے کہ اس مرتبہ پہلی بار نہ صرف تل ابیب بلکہ یروشلم تک پر راکٹ برسائے گئے ہیں  اور مجاہدین نے راکٹ کے علاوہ ڈرون کا بھی استعمال کیا۔ سیاسی اعتبار سے حماس نے اپنی حکومت کو قربان کرکے جو کچھ گنوایا تھا اسے پھر سے حاصل کرلیا ہے۔ آج ساری دنیا جانتی ہے کہ فلسطینیوں کا حقیقی نمائندہ اور محافظ کون ہے ؟  نہ صرف غزہ بلکہ مغربی کنارے پر بھی ہر کوئی حماس کے ساتھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ  جب مغربی کنارے سے وزیر صحت نے غزہ کا دورہ کیا تو عوام نے اس کو جوتے دکھا کر نعرے لگائے۔محمود عباس جاسوس ہے اور وزیر اعظم رامی حمداللہ غدار ہے۔
محمود عباس نے کم از کم اس مرتبہ غزہ والوں کو اس جنگ کیلئے موردِ الزام نہیں ٹھہرایا لیکن یہ ضرور کہا کہ  یہ راکٹ کیوں پھینکے جاتے ہیں ہم حکمت و سیاست کے ذریعہ کامیابی حاصل کرنا چاہتے ہیں لیکن بیچارے محمود عباس کو کیا پتہ کہ اسرائیل کی جانب جانے والا ہر میزائل یہ پیغام لے کر جاتا ہے کہ  اے اسرئیلیو! ہمارا واپسی کا حق اس راکٹ کی مانند  بنیادی  نوعیت کاہے اور اس پر کوئی مصالحت ممکن نہیں ہے۔ تم نے ہماری زمین پر غاصبانہ قبضہ کیا ہے۔ تمہارا تعلق اس سرزمین سے نہیں ہے۔ کسی ناجائز قبضیکی  طوالت اسے جائز نہیں بنا سکتی۔   اس لئے تم پہلی فرصت میں متبادل مسکن تلاش کرکے نکل جاؤ۔ یہی اس جنگ کی سب سے بڑی کامیابی ہے۔ مجاہدین نے اس بار کون سی حربی اور نفسیاتی  حکمتِ عملی اختیار کی یہ ایک تفصیل طلب موضوع ہے لیکن مختصراًرونما ہونے والے حقائق اس بات کا جیتا جا گتا ثبوت ہیں کہ اسرائیلی جارحیت اور عالمی مخالفت کے باوجود اسلامی مزاحمت کمزور ہونے کے بجائے مضبوط تر ہوتی جارہی ہے اور وہ  دن دور نہیں جب  شہیدوں کا لہو رنگ لائیگا۔ شہداء   کی سعیدروحیں جنت کے فانوس پر بیٹھ کر نظارہ کریں  گی کہ جس شجر خبیثہ نے ان کی سرزمین پاک کو آلودہ کردیا تھا اسے جڑ سے اکھاڑ کر پھینکاجاچکا ہے اور  گلشن اسلام اسرائیل نامی ناسور سے پاک ہو چکا ہے۔ اللہ کا کلمہ غالب ہو کر رہے گا کہ وہ غالب ہونے ہی کیلئے ہے۔
ڈاکٹر سلیم خان

Login to post comments