×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

مسلمانوں کے ہاتھوں سے تسبیح چھین کر کس نے بم پکڑا دیا

July 04, 2014 813

مذہب اسلام کو امن اور شانتی کا مذہب کہا جاتا ہے ۔ اسلام میں تشدد کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ اسکے پیچھے یہ دلیل پیش کی جاتی ہے کہ

سردار امبیاء حضرت محمد کو اﷲ نے رحمت العالمین بناکر دنیا میں اتارا تھا ۔ جو رحمت بن کر دنیا میں آیا ہو اسکی ذات سے کسی کوتکلیف نہیں پہنچ سکتی ہے ۔ ایک لاکھ چوبیس ہزار پیغمبروں میں بہت سے رسول ایسے آئے جنھوں نے اپنی اُ  مّت کی نافرمانی پر اﷲسے عذاب کی فرمائش کی جسکو اﷲنے قبول کرکے نافرمان بندوں کو تباہ و برباد کردیا ۔حضرت موسی ٰنے فرعون کے لشکر کو دریا ئے نیل میں غرق کرادیا ۔ قوم لوط کی پوری بستی کو فرشتوں نے اجاڑ کر رکھ دیا ۔ حضرت نوح کے زمانے میں تو ایسا طوفان آیا کہ پوری دنیا تباہ ہوگئی ۔ صرف وہی لوگ بچ سکے جو حضرت نوح کی کشتی میں سوار تھے ۔ اسکے برعکس پیغمبر اسلام نے کبھی کسی کے لیے بددعا نہیں کی ۔ اپنے دشمنوں سے بھی انکا سلوک ہمیشہ دوستانہ رہا ۔ جو بڑھیا ان پر کوڑا پھینکا کرتی تھی اس  سے بدلہ لینے کے بجائے اسکی بیماری میں مزاج پرسی کے لیے گئے ۔
    فتح مکہ کے بعد جب مدینے سے مکہ تشریف لے گئے تو یہ اعلان کرادیا کہ مکہ میں ہر شخص محفوظ ہے اسکے مال اور ناموس کو مسلمانوں سے کوئی خطرہ نہیں ہے ۔ جو اسلام قبول کرنا چاہتا ہے اسکا خیر مقدم ہے ۔ جو اسلام کے دائرے میں نہیں آنا چاہتا اس پر کسی طرح کا ظلم نہیں کیا جائے گا ۔ایسے نبی کی امت اگرطالبان بن کر مسجدوں اور امام بارگاہوں میں بے گناہ لوگوں کو قتل کرے، بوکو حرم تنظیم بنا کر اسکول میں پڑھنے والی معصوم لڑکیوں کو اغوا کرکے غلام بنالے ، داعش کا خلیفہ بن کر مسلمانوں کا قتل عام کرے انکی عورتوں کو اپنی جنسی تسکین کا باعث بنائے اسکو مسلمان کہنا یا حضرت محمد کی امت کہنا کیا رسول خدا کے کردار کے ساتھ کھلواڑ نہیں ہے؟  اسلام کی کردار کشی نہیں ہے ؟
    مسلمانوں کی شناخت اسکے ہاتھوں میں تسبیح فاطمہ زہرہ ہوا کرتی تھی جس پر وہ پڑھا کرتا تھا اﷲ اکبر یعنی اﷲسب سے بڑا ہے ، الحمد ﷲیعنی تعریف صرف اﷲ کے لیے ہے ۔ سبحان اﷲ یعنی وہ پاک ہے ۔اب ہاتھوں میں تسبیح کی جگہ بم آگئے ہیں جو بستیوں کو تباہ کردیتے ہیں بچوں کو یتیم اور عورتوں کو بیوہ بنادیتے ہیں ۔ اﷲ اکبر کا نعرہ اب بھی لگایا جارہا ہے لیکن اذان کے لیے نہیں بم دھماکہ کرنے اور قتل عام کے بعد اﷲ اکبر کا نعرہ لگ رہا ہے۔ مسلمانوں کی یہ نئی شناخت کس نے دی ہے ۔ جدید ہتھیاروں سے لیس جسم پر بارود باندھ کر چلنے والے کیا واقعی مسلمان ہیں۔ یہ ایسے سوال ہیں جنکا جواب نہ کوئی مانگ رہا ہے نہ کوئی دینا چاہتا ہے ۔ سیکڑوں لوگوں کو قتل کرکے اقتدار کی کرسی تک پہنچنے والے اپنے کو جنتی کہہ رہے ہیں۔ مسجدمیں بیٹھ کر قران پاک کی تلاوت کرنے والے نماز پنجگانہ ادا کرکے رات میں غریبوں کو روٹیاں تقسیم کرنے والے بھی اپنے کو خلیفہ کہتے تھے اور دنیا کو دہشت زدہ کرنے والے بستیوں کو اجاڑنے والے بھی اپنے کو خلیفہ کہلا رہے ہیں اب کون اﷲکا فرمان مان رہا ہے اور کون شیطان کی پیروی کررہا ہے  یہ کسی دوسرے کو نہیں خود مسلمانوں کو طے کرنا ہوگا ۔داڑھی اور ٹوپی اب مسلمانوں کی شناخت نہیں رہی ۔مسجد سے عبادت کرکے باہر آنے والا بھی ٹوپی پہنے ہے اور لمبی داڑھی رکھے ہے اور رائفل سے قتل عام کرنے والا بھی اسی حلیے میں ہے ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کس کے ہاتھوں میں تسبیح ہے اور کون ہاتھوں میں بم لیے چل رہا ہے  ۔   
                                  منظر مہدی فیض آبادی   
                                صدر  اردو پریس ایسو سی ایشن

Login to post comments