×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

ماہ رمضان۔ خوش آمدید..

July 01, 2014 745

’’رمضان‘‘ وہ بابرکت مہینہ ہے جس میں رب ذوالجلال کی رحمت کھل کر برستی ہے اور جسم و روح آلائش گناہ سے نجات پا کر شفاف ہوجاتے

ہیں۔ روح کو بالیدگی اور تازگی نصیب ہوتی ہے۔ باطن کے نورانی چشمے پھوٹ پڑتے ہیں اور قلب کا آئینہ جگمگا اٹھتا ہے۔ کیف و سرور سے معمور لمحات زندگی اور زندہ دلی کا سامان بہم پہنچاتے ہیں۔ اہل ایمان گیارہ ماہ اس کا انتظار کرتے ہیں اور جب اسکی شروعات ہوتی ہیں وہ مکمل صبر و رضا کے ساتھ گردن تسلم خم کرتے ہوئے صدائے ربانی پہ لبیک کہتے ہیں۔ اور جان و دل کے ساتھ ساتھ پورے وجود کو ’’محو تمنائے یار‘‘ کردیتے ہیں۔ اگر ان کی کیفیات کا عمیق جائزہ لیا جائے تو زبان حال سے یہ آواز آتی ہے۔
کبھی اے حقیقت منتظر، نظر آ لباس مجاز میں
کہ ہزاروں تڑپ رہے ہیں مری جبین نیاز میں
بندہ مومن کی شان۔ رمضان میں دوچند ہوجاتی ہے آنکھوں سے انتظار وصل کی شراب جھلکتی ہے اور جبین، قیام رات کی نورانیت سے چمکتی ہے۔ چہرے سے جلال ربانی کا اظہار ہے اور زباں سے وحدہ‘ لاشریک معبود کی صمد کا اقرار ہے۔ انسان (تخلقوا با خلاق اللہ)کے سانچے میں ڈھل جاتا ہے۔ سال بھر کی کثافت دور ہوجاتی ہے۔ بد اعمالیوں کے سیاہ بادل چھٹ جاتے ہیں اور نیکیوں کا بدر منیر ضوفشاں ہو کر زمین باطن کو روشن کردیا ہے۔ بندہ مومن کی طرف، شان رحمت ایسا التفات فرماتی ہے کہ صدیوں کے فاصلے لمحوں میں کٹ جاتے ہیں دل میں جب محبت الٰہی کے دیپ جلتے ہیں تو وجود انسانی دمک اٹھتا ہے۔ اسرار کھلتے ہیں۔ حجابات اٹھتے ہیں۔ رضائیں تقسیم ہوتی ہیں اور عطائیں رم جھم رم جھم برستی ہیں۔ عبد و معبود کا رابطہ ایسا مستحکم ہوتا ہے کہ بقول حضرت اقبال?:
’’خدا بندے سے خود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے‘‘
کا مصداق بن کر بندہ مومن قرب و وصل کی لذتوں میں مستغرق ہوجاتا ہے۔ رمضان عربی زبان کا لفظ۔ اپنے معنی و مصداق میں پر لطف اشارات سموئے ہوئے ہے۔ اس لفظ کی اصل (Root) رمض‘ ہے جس کا ایک مطلب ’’فصل خریف کی تیز بارش‘‘ بھی ہے۔ گویا ماہ رمضان کا آنا، گناہوں کے جھلستے موسم میں، ابر باراں کا برسنا ہے۔ جس طرح بارش سے حدت مٹتی اور تازگی بڑھتی ہے۔ شدت تمازت سے گھبرائے ذی روح مسرور اور شادکام ہوجاتے ہیں۔ بالکل اسی طرح ’’ماہ رمضان‘‘ لوگوں کیلئے نورو سرور اور رحمت و کرم کا ابر بہاراں ہے جس کی ٹھنڈک روح و باطن کی راحت عطا کرتی ہے اور ’’صحرائے عصیاں‘‘ میں سرگرداں ، مایوس لوگوں کیلئے جانفزا جھونکا ہے۔ جس طرح بارش امیر و غریب اور ادنیٰ و اعلیٰ ہر ایک کی زمین کو سیراب کرتی چلی جاتی ہے اسی طرح ماہ رمضان کی نوازشات سبھی پہ عام ہوتی ہیں اور جیسے بارش سینہ زمین میں سوسن و گلاب کھلاتی ہے اسی طرح یہ بابرکت مہینہ، دل مومن میں اور حیات اہل ایمان میں حسن اعمال کے گلاب اگاتا ہے۔ رحمت ربانی جھوم جھوم کر آتی اور کھل کر برستی ہے، دل کی کیاری میں حسن پلتا ہے اور خوشبوئے عمل سے بدن مہکتا ہے۔ نیکیوں کا پودا خوب پھیلتا ہے اور انسان کا ظاہر و باطن سنور جاتا ہے۔ مختصراً یوں سمجھ لیجئے کہ جس طرح موسم بہار میں کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ شجر‘ برگ و بر سے آراستہ ہوتے ہیں۔ کلیاں چٹکتی ہیں اور پھول مہکتے ہیں۔ باد صبا لہکتی ہے اور شاخیں رتصال ہوتی ہیں۔ زمین سرسبز و شادابی کا پیرہن پہنتی ہے اور فضائیں، مصروف عطر بیزی ہوجاتی ہیں۔ طبعیت آدم نکھرتی ہے، سنورتی ہے سجتی ہے اور نہال ہوجاتی ہے۔ دلوں کے گلاب، امنگوں اور امیدوں کی صورت، سر نکالتے ہیں اور جھومتے ہیں مستیاں چھلکتی اور ہستیاں مچلتی ہیں۔ بس جان لیجئے…!! کہ بالکل اسی طرح فصل بہار، وجود ظاہری کی بہار ہے اور فصل رمضان، ظاہر و باطن دونوں کی بہار ہے۔ روح کے خوابیدہ نغمے بیدار ہوئے ہیں۔ تذکیہ کے پھول کھل اٹھتے ہیں۔ تصفیہ کی خوبصورتی جگمگا اٹھتی ہے اور طہارت و تقدس کا لبادہ روح کی دنیا سنوار دیتا ہے۔ مسرت کنکھناتی ہے۔ الوہی ساز اور عشق کے سوز سے ، جنت سے نکلا ہوا انسان ’’رشک ملائکہ‘‘ بن جاتا ہے اور عافیت و سلامتی بخشنے والی ماہ رمضان کی پرنور ساعتیں ایک بار پھر مجھے حضرت اقبال کے اس شعر باکمال گنگنانے اور اس سے حظّ اٹھانے کی اشارت کرتی محسوس ہوتی ہیں۔
نہ کہیں جہاں میں اماں ملی، جو اماں ملی تو کہاں ملی
مرے جرم خانہ خراب کو، ترے عفو بندہ نواز میں
مرے جمیل مولیٰ کے حسین مہمان۔۔ اہل ایمان تجھے دل کی گہرائیوں سے خوش آمدید کہتے ہیں۔
تحریر: علامہ سجاد رضوی … ہیلی فیکس

Last modified on Tuesday, 01 July 2014 09:46
Login to post comments