×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

قومی زبان کی توہین

June 27, 2014 585

ہندوستان میں مظلوں کی فہرست میں قومی زبان ہندی بھی شامل ہے ۔ ہندوستان کی سرکاری زبان ہونے کا درجہ رکھنے کے باوجود اسکے

ساتھ لگاتار ظلم ہو رہا ہے ۔ تامل ناڈو میں تمل زبان کا بول بالا ہے ۔ آندھر پردیش اور بنگال میں تیلگو اور بنگالی کے علاوہ دوسری کسی زبان سے لوگوں کو دل چسپی نہیں ہے ۔اُڑیسہ جو اب اُڈیشہ بن گیا ہے وہاں تو ہندی کے وجود سے ہی نفرت ہے ۔ اڈیشہ ودھان سبھا کے صدر نے ہندی پر پابندی لگا دی ہے ۔ جن لوگوں کواُوڑیا زبان نہیں آتی انھیں انگریزی بولنے کی چھوٹ ہے لیکن قومی زبان ہندی کا استعمال کرنے کی اجازت نہیں ہے ۔ کانگریس کے ایم ایل اے سوریہ رائو کو ہندی بولنے پر ٹوک دیا گیا ۔اترپردیش ، بہار ، مدھیہ پردیش اورراجستھان جیسے صوبوں کی وجہ سے آج ہندی زندہ جو اسے سرکا تاج بنائے ہیںورنہ قومی زبان ہندی کا کوئی نام لینے والا نہیں تھا ۔ملک کی قومی زبان کی اس بدحالی کی طرف کسی کی نظر نہیں جا رہی ہے ۔ اپنے کو دیش بھکت کہنے والے اور بھارت کوہندو راشٹربنانے کی تمنا رکھنے والے بھی خاموش ہیں ۔
              آزادی سے پہلے ہندوستان میں اردو کا بول بالا تھا ۔ انگریزوں نے بھی اردو جاننے اورسمجھنے کے لیے کلکتہ میں فورٹ ولیم کالج جیسا اردوکا ادارہ کھولا تھا جہاں  دوسری زبانوں کی کتابوں کا اردو میں ترجمہ بھی کیا جاتا تھا ۔ہندوستان آزاد ہو گیا اپنی حکومت بن گئی اب ملک کی سرکاری زبان کیا ہوگی اس پر بحث شروع ہوگئی ۔اردو ایک ایسی زبان تھی جو پارلیمنٹ میں بیٹھے سبھی لوگ جانتے تھے ۔لیکن پاکستان بننے کے بعد وہاں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیدیا گیا تھا ۔بھارت کی قومی زبان کے لیے ووٹنگ کرائی گئی تو ہندی اور اردو کو برابر ووٹ ملے۔ ملک کے پہلے صدر جمہوریہ ڈاکٹر راجندر پرساد نے ہندی کو یہ کہہ کر ووٹ دیا کہ پڑوسی ملک میں اردو کو سرکاری زبان کا درجہ دیا جاچکا ہے اسلیے ہندوستان میں ہندی سرکاری زبان بنائی جائے گی ۔ اس طرح ہندی ہماری قومی زبان بن گئی لیکن ہندی کو دل سے کسی نے قبول نہیں کیا ۔ انگریزوں کی غلامی کے عادی ہوچکے ہمارے بہت سارے لیڈران آج بھی ہندی بولنے میں سبکی محسوس کرتے ہیں ۔ جج صاحبان انگریزی میں فیصلہ لکھنے میں فخرمحسوس کرتے ہیں ۔ نامی گرامی وکیل وہی کہلاتا ہے جو فراٹے سے انگریزی میںبحث کر سکتا ہو ۔گھروں میں انگریزی اخبار منگانا اٹیٹس سمبل بن چکا ہے ۔ نو دلتیوں کو ہندی کے اخبار میڈل کلاس منٹلٹی کی نشانی لگتے ہیں ۔انگوٹھا ٹیک لوگوں کے بچے بھی انگریزی میڈیم میں پڑھائے جا رہے ہیں ۔پریس کی دنیا میں بھی قومی زبان ہندی کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جاتا ہے ۔ حکومت کی طرف سے جاری ہونے والے اشتہارات کا سب سے زیادہ فی صد انگریزی اخباروں کو دیا جاتا ہے ۔
    ہمارا قومی پرندہ مور ہے ۔ٹائگر قومی جانور کا درجہ رکھتا ہے ۔اسکو مارنے والے کو سخت سزا کا انتظام ہے ۔ قومی جھنڈے کی اہمیت ہے ۔ اسکے ساتھ کھلواڑ کرنے والے کومعاف نہیں کیا جاتا۔ قومی ترانے کی بے عزتی ہم سے برداشت نہیں ہوتی لیکن بھارت کی قومی زبان ہندی کے ساتھ روز کھلواڑ ہوتا ہے ۔ برابر اسکی بے عزتی کی جاتی ہے ۔ بہت سے صوبوں میں قومی زبان کو مار کر دفن کردیا گیا ہے ۔ہندی کے ساتھ ہو رہے اس ظلم پر بھارت کی جنتا بھی خاموش ہے ۔ نیتا بھی مون برت رکھے ہیں اورسرکار بھی آنکھیں بند کیے ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی نے قومی زبان ہندی کو اسکا حق دلانے کی طرف کچھ قدم اٹھائے ہیں جسکی سراہنا کی جانی چاہیے ۔ غیر ملکوں میں جاکر ہندی میں گفتگو کرنے کا اعلان کرکے وزیر اعظم مودی نے ساری دنیا کو یہ پیغام دیاہے کہ اگر جرمن کے سربراہ جرمن زبان پر فخر کرتے ہیں ، عرب کے سربراہ عربی میں گفتگو کرنا پسند کرتے ہیں اورفرانس اورچین کے رہنماء اپنی زبان کے علاوہ دوسری زبان کا استعمال کرنا اپنی شان کے خلاف سمجھتے ہیں تو ہندوستان کا رہنماء بھی ہندی میں بات کرکے فخر محسوس کرتا ہے ۔
                                    منظرمہدی فیض آبادی
                                    صدر  اردو پریس ایسو سی ایشن

Login to post comments