×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

ملاوٹ کے خلاف سخت سے سخت سزا کی ضرورت

June 10, 2014 1547

٭    ملک میں ملاوٹی اور نقلی اشیاء میں جس تیزی کے ساتھ اضافہ ہورہا ہے وہ ایک سنگین خطرہ بن چکا ہے اور  انسانی جانیں تک دائو پر

لگ رہی ہیں ملک کے ۱۹۴۷ء میں آزاد ہونے کے بعد دیگر معاشرتی برائیوں کے ساتھ ملاٹ کی لعنت میں شدت سے اضافہ اضافہ ہوا اور آج کسی شئی کے بارے میںیقین سے نہیں کہاجاسکتا کہ یہ ملاوٹی یا نقلی نہیں ہے۔ مصالحے اور دیگر صارف اشیاء میں ملاوٹ کا کاروبار تو بہت پہلے شروع ہوچکا تھا لیکن اب کاروں کے پرزے اور بجلی کا  مختلف سامان بھی  دھڑلے سے بازار میں نقلی فروخت ہورہا ہے۔ اس ملاوٹی اور نقلی سامان کی بھرمار کی خاص وجہ یہ ہے کہ ابھی تک اتنا سخت قانون نہیں بنایاگیا جس کے تحت سماج کے منافع خور اور  ملاوٹ کرنے والے تاجروں کو عبرت ناک سزائیں دی جاسکیں۔
    گذشتہ دنوں ایسوسی ایٹیڈ چمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے زیر اہتمام منعقدایک ورکشاپ میں یہ مانگ کی گئی  تھی کہ دوسری کمپنیوں کے لیبل لگاکر نقلی سامان بنانے اوربازار میں فروخت کرنے والوں کے خلاف سخت قانونی کارروائی کی جائے۔ ہمارے ملک میں معمولی معمولی جرم کے لئے سخت قانون موجود ہیں لیکن یہ افسوس کا مقام ہے کہ جو لوگ انسانی زندگیوں سے کھیل رہے ہیں اور ملاوٹی اشیاء کے ذریعہ انہیں دن بدن موت کے نزدیک   لے جارہے ہیں۔ ایسے ’’ قاتلوں‘‘ کے لئے معمولی جرمانہ یامختصر قید کی سزا کا قانون ہے ۔ یہ بھی آپ کے لئے باعثِ حیرت ہوگا کہ نقلی سامان بنانے اور فروخت کرنے پر دفعہ ۷۸ اور ۷۹ کے تحت صرف دو  سال کی سزا ہے ۔ یہ کتنے افسوس کی بات ہے کہ ایک منافع خور اپنے نقلی سامان سے کئی انسانی زندگیوں کو خطرے میں ڈالتا ہے اور وہ صرف دو سال کی سزا کا مستحق  قرار پاتاہے۔ موجودہ دور میں جب کہ ہر انسان راتوں رات مالدار بننے کا  خواب دیکھ رہا ہے یہ سزا بہت معمولی ہے کیونکہ   اس ترقی  کے دور میں  جیل جانا کوئی شرم کی بات نہیں رہی۔ بڑے سے بڑا مجرم بھی جیل سے واپس آنے کے بعد شان سے سوسائٹی میں اٹھتا بیٹھتا ہے اور اس کے چہرے پر شرم کے کوئی آثار نہیں ہوتے وہ زمانہ  ان نہیں رہا کہ جب کسی شریف آدمی کے گھر پر پولس کا پہونچنا ہی اس کے لئے شرم کا باعث سمجھا جاتا تھا۔ موجودہ  بے شرم سماج میں ملاوٹ اور نقلی سامان کی بھرمار روکنے کے لئے یہ ضروری ہے کہ انتہائی سخت سزائوں کا اہتمام کیاجائے کیونکہ ملاوٹ کرنے اور نقلی سامان بنانے والے کسی ’’قاتل‘‘ سے کم نہیں ہوتے۔ قاتل تو  ایک شخص کی جان لیتا ہے لیکن سماج کا یہ  فاسدعنصر سیکڑوں اور ہزاروں زندگیوں سے کھیلتا ہے۔
عارف عزیز (بھوپال)
E-mail:This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.

Login to post comments