×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

مانگوگے پانی تو ملے گی جیل

June 07, 2014 458

ہم تمام بچپن سے پڑھتے / سنتے آئے ہیں کہ ' پانی ہی زندگی ہے . پانی جس کو ہم تمام عام زبان میں پانی کہتے ہیں . پانی کو لے

کر بولیویا میں انقلاب ہوا تو بھارت کے سابق وزیر اعظم واجپئی نے کہا کہ تیسری عالمی جنگ پانی کو لے کر ہو گا . جنوبی افریقہ ، کولمبیا میں پانی کے لئے کامیاب جنگ ہوئی ہیں . اٹلی میں جون 2011 میں پانی کی نجکاری کو ریفرنڈم کی طرف سے خارج کر دیا گیا . بھارت کے چھتیس گڑھ میں ' شیوناتھ ندی ' کو ہی فروخت کیا گیا . عوام کی مخالفت کے سبب حکومت کو فیصلہ واپس لینا پڑا . مدھیہ پردیش میں خواتین نے پانی کے لئے 40 دن اجتماعی محنت کرکے پتھر کو توڑ کر پانی نکالا . دہلی جیسے شہروں میں پانی کے لئے لوگ آپس میں لڑ کر تو کبھی ٹینکر کے نیچے کچل کر مر جاتے ہیں . جس علاقہ میں پانی سپلائی ہوتا ہے وہ اتنا صاف ہوتا ہے کہ پیلیا جیسی بیماریاں ہوتی رہتی ہیں !

دہلی حکومت نے پانی کے نجکاری کے عمل 2005 میں شروع کر دیا تھا لیکن مخالفت کی وجہ سے اس نے نجکاری کے عمل کو ایک  ایک کرکے نافذ کرنا شروع کیا . بعد میں پی پی پی ( پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ) ماڈل کے تحت دہلی کے تین علاقہ مالویہ نگر ، بسنت بہار ، ناگلوئی میں پائیلیٹ پروجیکٹ چلایا . 'واٹر ڈیموکریسی اینڈ واٹر ورکرز ایلائنس گروپ ' ناگلوئی پلانٹ میں 4،000 کروڑ روپیہ . گھوٹالہ ہونے کا اندازہ لگایا ہے . سونیا وہار کے بھاگیرت پانی ٹریٹمنٹ پلانٹ میں 200 کروڑ کا گھوٹالہ پکڑا گیا ہے . پانی جو کہ قدرت سے مفت ملتا ہے اور زندگی کے لئے ضروری ہے منافع کا ایک ذریعہ بن گیا ہے . اس میں ملٹی نیشنل کمپنیاں بھاری منافع کما رہی ہیں جس کا ایک حصہ وزیر و نوکر شاہوں کی جیبوں میں بھی جا رہا ہے .


عالمی ادارہ صحت کے مطابق فی شخص کو 120 لیٹر پانی روزانہ ملنا چاہئے ، جبکہ دہلی آبی بورڈ کا دعوی ہے کہ وہ دہلی کے عوام کو 225 لیٹر فی شخص ، روزانہ پانی دینے کے قابل ہے . اسی بنا پر وہ پی پی پی ماڈل کی طرف سے 24 × 7 پانی پہنچانے کا بھی دعوی کرتا ہے . دہلی کے اندر رئیسوں کے علاقوں میں فی شخص 450 لیٹر پانی روزانہ ملتا ہے ، جبکہ اس شہر کے نصف آبادی کو روزانہ 50 لیٹر فی شخص ہی پانی ملتا ہے تو کچھ علاقوں میں اس سے بھی کم ملتا ہے . دہلی کے کچھ علاقوں میں پائپ لائن بھی نہیں بچھی ہے ، کہیں بچھی ہے تو اس میں پانی بھی نہیں آتا ہے اور ان کو ذاتی ٹینکروں پر منحصر رہنا پڑتا ہے یا کئی کلومیٹر دور جا کر ایک - دو گیلن پانی لا پاتے ہیں . جب اس علاقہ کے لوگ پانی کی مانگ کرتے ہیں تو انتظامیہ کی طرف سے ان سنی کر دی جاتی ہے اور دھرنا - مظاہرہ کرنے پر پولیس کی طرف سے وحشیانہ طریقہ سے حملہ کئے جاتے ہیں ، جھوٹے کیسوں میں پھنسایا جاتا ہے . ایسا ہی ایک واقعہ مشرقی دہلی کے جھلمل علاقہ میں ہوا ہے .

جھلمل علاقہ میں 30-35 سال پرانے امبیڈکر کیمپ ، سونیا کیمپ ، راجیو کیمپ ہیں ، ان تینوں کیمپو میں قریب 6000 خاندان رہتے ہیں . ان بستیوں میں دہلی اسمبلی انتخابات سے پہلے پانی سپلائی ہوا کرتا تھا . اس وقت ان بستیوں کے سپلائی پاس کے وویک وہار جیسی کالونیوں کے ساتھ ہی منسلک تھا . دہلی اسمبلی انتخابات کے بعد ان بستیوں میں پانی آنا بند ہو گیا ، کیونکہ ان کے علاقہ کے پانی سپلائی کو وویک وہار جیسی کالونیوں سے الگ کر دیا گیا . ان بستیوں کے لوگ کئی بار دہلی آبی بورڈ آفس ، ایم ایل ، کارپوریشن کونسلر کے پاس گئے لیکن ان کو جھوٹا وعدہ ہی ملتا رہا ان کی کالونی میں پانی نہیں آیا . لوگ دور - دور سے پانی لا کر کام چلاتے رہے . جب دہلی کا درجہ حرارت بڑھنے لگا تو دوسرے علاقوں میں بھی پانی کا بحران ہونے لگا اور 44-45 ڈگری درجہ حرارت میں باہر نکل کر پانی لانا بھی مشکل کام ہو گیا . تینوں بستی کے لوگ متحد ہوئے اور 19 مئی کو چنتا منی چوک ، جی ٹی . روڈ پر ' پانی ہی زندگی ہے ' کے لئے جام لگا دیا . لوگوں کی بڑی تعداد کو دیکھتے ہوئے مختلف  پارٹی کے چھٹ بھیا لیڈر بھی پہنچ گئے . یہ خبر جب کارپوریشن کونسلر ' بہن پریتی ' کے پاس پہنچی تو وہ بھی چنتا منی چوک پہنچی . وہ دوسری پارٹی کے رہنماؤں کو دیکھ کر پولیس والوں سے کچھ بات کر کے چلی گئیں ( پریٹی کا بھائی اس علاقہ سے بی جے پی ممبر اسمبلی ہیں ، جبکہ پریتی آپ پارٹی سے وابستہ ہیں ) . ان کے جاتے ہی پولیس والے بستی والوں پر ٹوٹ پڑے ، انہوں نے بچوں اور عورتوں کو بھی مارا پیٹا . بستی والوں نے پولیس کے اس رویہ کی مزاحمت کی جس سے پولیس کی گاڑی کو نقصان پہنچایا گیا . پولیس والوں نے اس مزاحمت کو ناک کا سوال بنا لیا اور بستی میں دھڑ - پکڑ شروع ہو گئی اور لوگوں کو تھانے میں لا کر بری طرح پیٹا گیا .

سونیا کیمپ میں رہنے والے کیشو کے ہاتھ پیروں  میں پولیس کی پٹائی کا زخم ہے . کیشو اپنی جنرل سٹور کی دکان پر تھے تو پولیس والا آصف علی آیا اور ان کو لے گیا کہ چلو تھانہ میں تصویر کی شناخت کرنا ہے . کیشو کو تھانے لے جاکر بری طرح پیٹا گیا . 22 مئی کو وہ 5000 روپیہ  خرچ کر کے ضمانت پر چھوٹ کر گھر آیا ، پولیس نے اس کے دو موبائل فون کو بھی توڑ دیا . پانی سپلائی بند ہونے کے باد سے وہ دلشاد گارڈن سے پینے کے لئے پانی لاتے ہیں . نہانے ، کپڑے دھونے کے لئے 20-22 لوگوں نے مل کر سمبرسبل لگا رکھے ہیں .

اس بستی کی رہنے والی روشن تارا بتاتی ہیں کہ جب پانی آنا بند ہو گیا تو پینے کا پانی ان کا بیٹا سندر نگری سے لاتا ہے اور گھر کے کام کے لئے انہوں نے سمبرسبل لگایا جس کے لئے پولیس والوں کو 3000 روپیہ . دینے پڑے .پھول سنگھ راجیو کیمپ میں 5-7 سال سے چائے کی دکان چلاتے ہیں پولیس ان کو دکان سے پکڑ کر لے گئی اور ان کی پٹائی کی جس سے ان کا سر پھٹ گیا اور وہ 5000 روپیہ   خرچ کر کے ضمانت پر 22 مئی کو جیل سے باہر آئے .

سونیا کیمپ کا بال کشن جو بارہویں کا طالب علم ہے . واقعہ کے دن وہ ڈاکٹر کے پاس گیا تھا بخار کی دوا لینے کے لئے اس کو بھی پولیس آئی اور پکڑ کر لے گئی . بال کشن کے والد رامو بتاتے ہیں کہ '' راجیش پولیس والا آیا اور اس کا اسکول سرٹیفکیٹ مانگ کر لے گیا کہ اس کی عمر کم ہے چھڑوا دیں گے لیکن اس کو جیل بھیج دیا اور  25 مئی ، 2014  تک اس کا سرٹیفکیٹ بھی نہیں لوٹایا اور وہ اب بھی جیل میں ہے . ''

آزاد تعمیر مزدور ہے اس دن بخار ہونے کی وجہ سے وہ کام پر نہیں گیا تھا . وہ دوا لینے کے لئے ڈاکٹر کے پاس گیا تھا جہاں سے پولیس اسے بال کشن کے ساتھ پکڑ کر لے گئی . منیش اور لالو کو پولیس نے راستہ سے پکڑ لیا جو کہ لونی اور سبولی میں رہتے ہیں جن کا ان بستیوں سے کوئی رابطہ نہیں ہے . یہ دونوں جیل میں ہیں . اسی طرح اب بھی کالی چرن ، انور اور سووندر جیل میں بند ہے . بہت سے لوگوں کے اوپر ' گمنام ' کے نام سے ایف آئی آر درج ہے جس کو پولیس بولتی ہے کہ ہم ویڈیو سے اس کی شناخت کریں گے . اس طرح اب بھی ان بستی کے لوگ دہشت میں جی رہے ہیں کہ پولیس کبھی بھی کسی کو پکڑ کر لے جا سکتی ہے .

یہ سارے واقعات کے بعد میونسپل کارپوریشن کونسلر پریتی نے ایک پرچہ ان بستیوں میں تقسیم کیا . اس پرچے کی تفصیل اس طرح ہے '' آپ کی بہن پریتی بھی ایک بار اسی طرح کے مظاہرہ کی شکار ہو کر حوالات میں رہی اور دس سال تک کیس چلا  …. کچھ شیطان لوگوں نے سرکاری املاک کا نقصان کیا ، جس سے پولیس نے ہمارے بے گناہ ساتھیوں کو شکار بنایا . '' یہ ایک عوامی نمائندے کے پرچے کی زبان ہے جو کہ اپنے حقوق کا مطالبہ کر رہی عوام کی حوصلہ شکنی کرتی ہے .

دہلی آبی بورڈ کا دعوی ہے کہ اس کے پاس فی شخص 225 لیٹر پانی روزانہ دستیاب ہے تو ان بستی والوں کو پانی کیوں نہیں دیا جا رہا ہے ؟ رئیس علاقوں میں 450 لیٹر فی شخص پانی اور آدھی آبادی کو 50 لیٹر فی شخص پانی کیوں ؟ قدرت سے مفت میں ملے پانی کا کاروبار کیوں کیا جا رہا ہے ؟ پانی مافیائوں پر  آبی بورڈ کارروائی کیوں نہیں کر رہا ہے ؟ ماڈل ٹاؤن پولیس اسٹیشن روڈ کی دوسری طرف 100 میٹر (  شکتی انٹرپرائز )  پانی کا بڑے پیمانے پر کاروبار ہوتا ہے ، جہاں سے پولیس کی گاڑیاں بھی کین میں پانی لے کر جاتی ہیں . کیا یہ آبی بورڈ اور پولیس کی سانٹھ  گانٹھ نہیں ہے ؟ کیا اس سانٹھ  گانٹھ کی قیمت ان بستی والوں کو پیاسا رہ کر ادا کرنا پڑے گی ؟

نوٹ: یہ مضمون 25 مئی ، 2014 کے بات چیت پر مبنی ہے .
 سنیل کمار
(سنیل کمار ، مصنف سماجی ، سیاسی کارکن ہیں)

Login to post comments