×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

چارلی چیپلن(charlie chaplin)

June 06, 2014 1441

میں چارلی چیپلن کی فلم دیکھتے وقت آنکھوں میں پانی آنے تک نہیں ہنستا، میں ہنستے اسلئے رہتا ہوں کے آنکھوں میں پانی آجائے گا،

اس کا مجھے ڈر رہتا ہے۔چارلی چیپلن کے فلموں کے تعلق سے میں یہ بات کہنا چاہتا ہوں کہ ہنسی اور آنسوں کاسنگم(مرکب نہیں)پیدا کرنے والے چیپلن جیسے عظیم فنکار کے تعلق سے اب تک جہاں جہاں بھی لکھا گیا ہے، بہت کم ہے۔ عالمی فلمی سطح پر پانچ زیر بحث شخصیات میں اس کا نام بھی لیا جاسکتا ہے۔ہر زبان میں چیپلن کے تعلق سے بہت کچھ لکھا جا چکا ہے، اس کی سوانح حیات کا ترجمہ بھی کئی زبانوں میں ہواہے۔

فلمی دنیا میں اپنی بہترین خدمات انجام دینے والے اس شخص کے تعلق سے ابھی تک نئی نئی معلومات مل رہی ہے۔کچھ دنوں قبل نیٹ پر چیپلن کے تعلق سے ایک مزے دار بات سامنے پڑھنے کو ملی، ایک پروگرام کے پرڈیوسر نے چارلی چیپلن کے نقل اتارنے کے مقابلے کا انعقاد کیاتھا۔ کئی لو گ اس مقابلے میں شریک ہوئے ،چیپلن بھی کسی کو کانوں کان خبر نہ ہونے دی اور اس مقابلے میں بذات خود شریک ہوا اور تعجب کی بات یہ کہ ناظرین نے اسے دوسرا نمبر دیا،The Daily Galaxy جیسے قابل اعتماد سائٹ پریہ معلومات موجود تھی ، اسلئے اس کی مزید تصدیق کرنے کی ضرورت نہیں۔حقیقی زندگی ،آرٹ اور نقل کے پیچیدہ رشتوں کی یہ واقع بہترین وضاحت کرتا ہے، نا معلوم شخص چیپلن کی نقل اتارنے میں اول نمبر پر تھا، یہ اس کی محنت اور عظمت سمجھی جائے گی،مگر سچ اور حقیقت کو جو یہا ںشکست ہوئی ہے اسے کیا کہا جائے گاکہ حقیقت سے بہتر اس کا عکس ہوتا ہے اور عوماًیہ باتیں سامنے آتے رہتی ہیں۔

چارلی چیپلن کے کردار کو دیکھ کر میرے ذہن میں کئی سوالات رقص کرنے لگتے ہیں، زندگی میں ہنسنے کا مقام کونسا؟ کیا طنز ومزاح Comedy انسانی دکھ درد پر مرہم کا کام کرسکتی ہے؟اس پر آشوب زندگی میںاس کی کیا اہمیت ہے ؟اس طرح کے کئی سوالات جب میں ہنستا ہوں تو میرے ارد گرد گھومتے رہتے ہیں، زندگی کے دیگر مسائل کی طرح اس مسئلہ کا بھی کوئی معقول حل نہیں ہے ،اس بات کا یقین ذہن میں ہے پھر بھی اس طرح کے سوالات سامنے آتے رہتے ہیں۔

آرٹ اور فن کی دنیا میں ابھرنے کے لئے جب تک دل میں لگن نہ ہوکسی فن میں عظمت اور برتری کی جھلک نظر نہیں آتی، اسی طرح لالچ اور ضرورت کی کوکھ سے جنم لینے والافن بھی عظمت اور برتری کی چمک دمک سے محروم نظر آتا ہے(کمرشل فلموں کو اسی لئے دوسرے درجے کا فن یا آرٹ کہا جاتا ہے)مگر اس حقیقت کی چارلی چیپلن نے مٹی پلیدکردی ہے۔چارلی چیپلن نے ایک جگہ لکھا ہے کہ میں روپیہ کمانے کے لئے اس کاروبار میں داخل ہوا اور اس میںسے فن اور آرٹ نے جنم لیا،فروغ پایا، یہ ایک حقیقت ہے، اگر لوگ میری ا س بات سے مایوس ہوگئے ہوں تو میں اس میں کچھ نہیں کرسکتا۔ چیپلن کے فن کا جنم ضرورت کی کوکھ سے ہوا تھا، چارلی چیپلن اس وقت پانچ سال کا تھا، اس کی فیملی غربت سے پریشان تھی، اس کی ماںگلوکارہ تھی، اسٹیج پر چھوٹا موٹا پروگرام کرکے تھوڑے بہت پیسے مل جاتے تھے، جس سے وہ خود کا اور اپنے دو بچوں کا گزر بسر کر لیتی تھی۔ایک دن اسٹیج پر گاتے ہو ئے اس کی آواز پھٹ گئی ، ناظرین نے تالیاں اورسیٹیاںبجا کر اس کا مذاق اڑایا، وہ روتے ہوئے اندر چلی گئی ، مینجر ناراض ہوا، اس کے سامنے مسئلہ یہ تھا کہ ناظرین کو کس طرح سمجھایا جائے، اس کے قریب کھڑے پانچ سال کے چارلی پر نظر پڑی، اس لڑکے کو اپنے طور سے گاتے اور گنگناتے ہوئے مینجر نے اس سے قبل دیکھا تھا، وہ انگلی پکڑ کرچارلی کو اسٹیج پر لے آیا اور گانا گانے کے لئے کہا۔ناظرین کے سامنے جب ایک چھوٹے بچے کو پیش کیا گیا تو ناظرین ہنسنے لگے،مگر چارلی ڈگمگا یا نہیں، قدم جما کر اسٹیج پر کھڑا رہا اور گانا گانے لگا، گانا ختم ہونے پر ہال دوبارہ تالیوں اور سیٹیوں سے گونج اٹھا، مگر اس مرتبہ کی سیٹیاں اور تالیاںداد دینے کے لئے تھی۔لوگوں نے اسٹیج پر سکے پھینک کر دوسرے گانے کی فرمائش کی،اس پر چھوٹا چارلی کہنے لگا، میں پہلے سب پیسے جمع کرلیتا ہوں، پھر دوسرا گانا گاتا ہوں۔یہ سن کر پھر تالیوں اور سیٹیوں سے ہال گونج اٹھا۔دکھ بھرا واقعہ،اس سے پیدا ہونے والا پیچیدہ ماحول اور اس سے نپٹنے کے لئے حادثاتی طور پر پیدا ہونے والا آرٹ یا فن، اس طرح چیپلن کے آرٹ یا فن کے سفر کا آغاز ہوا۔

اس دن چارلی کو ملنے والی تالیاں اسے زندگی بھر اسی طرح ملتی رہے گی شاید اس کا اندازا چارلی کو بھی نہ ہو اور آگے چل کر وہ دنیا کابہترین کامیڈی ایکٹر بن گیا، وہ پردے پر نظر آتے ہی لوگ ہنسنے لگتے تھے،مگر یہ کامیابی چارلی کو آسانی سے حاصل نہیں ہوئی، اس کے لئے اسے کافی جدوجہدکرنی پڑی۔ اپنی ماں کو مدد کرنے کے لئے چارلی کو کم عمری میں ہی کئی کام کرنا پڑے ، جب اس کی عمر ۱۴ سال کی تھی، اسے کئی فلموں میں کام ملا، دوسرے مزے کی بات یہ کہ اسے ٹھیک سے لکھنے پڑھنے نہیں آتا تھا، جس کی وجہ سے اس کے ڈائیلاگ دوسرا کوئی کہہ کر سناتا تھا اور وہ اسے یاد کرلیتا تھا۔

 اس دوران کیسٹون نامی فلم کمپنی نے چارلی کو کچھ رول دئے، ا س شعبے میں آنے کے بعد چارلی نے بڑی باریک بینی سے اس نئے آرٹ کا معائنہ شروع کیا، اس کے دل میں نئے خیالات آتے رہتے تھے، اس کے دوسری فلم کا نام’’کڈ انٹوریسس اینٹ وینیس‘‘ تھا۔، اس کی شوٹنگ کے دوران ڈائرکٹر نے چارلی کو میک روم میں جاکر کچھ مختلف اور عجیب و غریب کپڑے پہن کر آنے کے لئے کہا۔چارلی میک اپ روم میں گیا اور وہاں اس نے جاکر ایک ڈھیلی ڈھالی پتلون پہن لی، وہ نیچے پھسل نہ جائے اسلئے اسے ایک رسی سے باندھ لیا، اوراس ڈھیلی ڈھالی پتلون کے اوپر تنگ کوٹ پہن لیا، سر پرصحیح سائز کی ٹوپی پہن لی، اور مجنوں نظر آنے کے لئے تتلی نما مونچھ ہونٹوں کے اوپر چسپا ں کرلئے، ساتھ میں ایک لکڑی لئے وہ پھر اسٹیج پر جلوہ افروز ہوا۔اس لباس میں چارلی نے اسٹیج پر جو دھوم مچائی کہ اس کے بعد چارلی کے نئے کردار The Trampنے جنم لیا،آگے چل کراس فلم نے تاریخ میںسنگ میل کا کام کیا۔

بھلے ا س دن چارلی کو ایک نیا کردار اپنانے کا موقع ملا ہو، مگر اپنے ا س کردار میں حسن پیدا کرنے اور اسے نکھارنے اور سنوارنے کے لئے اسے کئی سال کا طویل سفر طے کرنا پڑا،ہر فلم میں ایک نئی اور خوشگوار تبدیلی کے ساتھ اپنے کردار میں نئے رنگ بھردئے،اس کے بعد اس پروڈیوسر اور چارلی کو وہ شہرت ملی کہ صرف ۳ سالوں میں،۱۹۱۷؁ء میںچارلی فلم سائن کرنے کے لئے۱۵ ہزار ڈالر لینے لگا۔فلمی دنیاکا وہ اولین سپر اسٹار بن گیا۔کچھ دنو ں میں ہی ’’میری پک فورڈ اور گرفتھ‘‘ کو لیکریونائٹیڈآرٹسٹ نامی کمپنی بنائی۔

۱۹۲۰؁ء کے دور میں فلموں میں کامیڈی اداکاروں نے اپنی ایک منفرد شناخت پیدا کی تھی، بسٹر کیٹن،لاریل ہارڈی وغیرہ نے ناظرین کو ہنسنے ہنسانے کے کاروبار میں اپناایک مقام بنا لیا تھا، مگر چارلی نے ایک نئی راہ اختیارکرلی۔اس کا کردار صرف ہنسانے کے لئے ہی نہیں تھا، بلکہ ایک آدمی کو اس میں اپنائیت نظر آئے ایسا تھا،اس طرح کی کئی خصوصیا ت چارلی نے پیداکیں۔اس کا بچکانہ پن،اس کی بے لوث طبیعت،اس کی صداقت، اس کاحسن سے لگائو اور رغبت، اس طرح اس ٹریمپ میں ایک نئی پختگی پیدا ہوئی،بے شمار مشکلات درپیش آئے مگر دل سے شکست نہ کھانااو ر ہمیشہ پر امید رہنا ،جیسے خصوصیات سے بھی ٹریمپ کو مالا مال کیا، جس کی وجہ سے ناظرین کو اپنا عکس چارلی میں نظر آنے لگا۔جہاں ناظرین کو اپنی ناکامی نظر آئی ، وہاں انھیں سنہرے خواب بھی نظر آئے۔ناظرین نے جانے انجانے میں،چاہتے نہ چاہتے ہوئے اس ٹریمپ سے بہت کچھ سیکھا اور اسے اپنایا، ٹریمپ کی مقبولیت کے پس پشت جو راز پوشیدہ تھے اس تعلق سے J.B. Priestly نے ایک جگہ لکھا ہے کہ
He has turned the filmy clowning into social satire and criticism without loosing his astonishing ability to make us laugh.
ٹریمپ کا میچورڈ روپ چارلی نے جس فلم میں بہترین طریقے سے پیش کیا تھا ، اس فلم کا نام"دی کڈ"تھا۔حالات کا ستایا ہوا ایک ۵ سال کالڑکا اور اسے سنبھالنے والا ایک غریب خانہ بدوش، ان کے رشتوں کی کہانی اس فلم میں دکھائی گئی ہے، چارلی نے بذات خود اس بچے کی زندگی گزاری تھی،اسے اس زندگی کے دکھ درد کا علم تھا ، احساس تھا اور اسلئے اس فلم میں اس لڑکے کا کردار وہ بہ خوبی نبھا سکاہے،اس فلم میںہنسی اور دکھ ایک حسین سنگم چارلی نے پیش کیا ہے،اس فلم میں سماجی مسائل کو سنجیدگی کے ساتھ پیش کیا گیا ہے ، اس فلم کی وجہ سے چارلی کا نام دور دور تک پہنچا۔

اسکے بعد۱۹۲۱؁ء میں چارلی کی دوسری فلم گولڈ رش،نے بھی اس وقت کافی مقبولیت حاصل کی، اس فلم میں سونے چاندی کے پیچھے بھاگنے والے لالچی لوگوں کا ذکر کامیڈی کے ساتھ پیش کیا تھا۔اس فلم میں "دی ڈانس آف رولس"یہ سین اداکاری کا ایک اہم نمونہ آج بھی مانا جاتا ہے۔اس سین میں چارلی نے کھانا کھانے کے دوکانٹے اور اور بریڈکے رول لے کر بہترین رقص کیا ہے،یہ کانٹے یعنی ڈانس کرنے والے کے گویا پیر ہیں ،ایسا گمان ہوتا ہے،ڈانس کرنے والا جس طرح ایک پیر اٹھاتا ہے، بعد میں دوسرا،یہی طریقہ چارلی نے اپنایا ہے،اور گردن کی جنبش وغیرہ کو شامل کرتے ہوئے اس رقص کو قابل دید بنا یا ہے۔

چیپلن یہ اتنا وسیع مضمون ہے کہ اس پر ایک مضمون میں لکھنا نا ممکن ہے، اس کے ہر اہم فلم پر ایک طویل مضمون لکھا جاسکتا ہے،اس کے بعداس نے ۱۹۲۸؁ ء میں ایک فلم بنائی ، دی سرکس، جو کافی بہترین فلم ہے،اس کے بعد ،سٹی لائٹ، (۱۹۳۹؁ء)اس تعلق سے کئی لوگوں کی رائے یہ ہے کہ چارلی کی یہ سب میں بہترین فلم ہے،اس دور میں امریکہ میں بولتی فلموں کا آغاز ہوا۔مگر چیپلن نے اس فلم کو جان بوجھ کر بولتی فلم نہیں بنائی۔چارلی کی فطرت میں ایک بات یہ بھی تھی کہ جب تک کسی چیز کو وہ پراطمینان طریقے سے مکمل نہیں کرتا اسے چین نہیں ملتا تھا،دی سرکس میں اس نے رسی پر کچھ منٹ چلنے کے سین کا قریب ۷۰۰ مرتبہ شاٹ لیا گیا، یہ بات ریکارڈ میں درج ہے۔سٹی لائٹ کے لئے اس نے ۱ لاکھ ۱۴ ہزار فٹ فلم شوٹ کی، اس فلم کو کاٹ کر اس نے ۸ ہزارفٹ کی فلم بنائی۔اس کے بعد اس کی اہم فلموں میں ،ماڈرن ٹائمز اوردی گریٹ،شامل ہے۔
چارلی چیپلن کی شادی شدہ زندگی خوشگوار نہیں تھی، اس نے چار شادیا ں کیں،اس کی چوتھی شادی کافی متنازعہ تھی، کیونکہ اس کی عمر ۵۴ سال کی تھی تواس کی بیوی مشہور ڈرامہ نویس یوجین نویس کی بیٹی اونا تھی، جس کی عمر فقط ۱۸ سال کی تھی،مگر اس کی یہ شادی کافی کامیاب رہی، آئندہ ۳۴ سال تک اونا نے اس کا کافی ساتھ دیا۔

چیپلن کو اپنی زندگی میں کافی مقبولیت حا صل ہوئی ، کافی اعزاز و اکرام سے نوازا گیا، اسے دو مرتبہ آسکرایوارڈکے لئے نامزد کیا گیا، ایک مرتبہ یہ ایوارڈ اسے ملا،جو کبھی سکنڈری اسکول بھی پاس نہیں ہوا،اسے آسکرڈ اورڈرہم یونیورسٹی نے آنرری ڈاکٹر کی ڈگری دی،۱۹۵۴؁ء میں اسے World Peace Prizeسے نوازا گیا۔۱۹۷۵؁ء میں انگلینڈ کی رانی نے اسے SIR کا خطاب دیا۔
۲۵دسمبر ۱۹۷۷؁ ء نیند کی حالت میں ہی وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے نیند کی آغوش میں چلا گیا۔

چیپلن اپنی زندگی میں ہی ایک کہانی بن کر لوگوں میں گردش کرتا رہتا تھا،عام ناظر کے علاوہ ڈائرکٹر پر بھی اس کا کافی اثر پڑا تھا۔آرسن بولس،اسٹینلے کوبریک جیسے عظیم اداکار اس کے دیوانے ہوگئے تھے۔آج بھی اس کی مقبولیت اور اس کا احترام لوگوں کے دلوں میں قائم ہے۔مشہور فلم ڈائرکٹر آندرے تارکوویسکین نے چیپلن کے تعلق سے کہا ہے کہ اس کی فلمیں کبھی پرانی نہیں ہونگی۔

چارلی چیپلن ایک جگہ لکھا ہے کہ کسی خوبصورت چیز کو سمجھنے کے لئے اگر اس کا تجزیہ کرنے کی نوبت آئے یا اس پر تبصرہ کرنے کی ضرورت ہو تواس خوبصورت یا حسین چیز کا مقصد پورا ہوا یا نہیں یہ میرے لئے لمحۂ فکریہ بن جا تا ہے۔

’’سٹی لائٹ ‘‘اس چارلی چیپلن کی غیر معمولی فلم پر کچھ لکھنے سے قبل مجھے اس کا مذکورہ بالا جملہ یا د آیا، میں حیرت میں مبتلا ہوا۔حسین و جمیل چیز پر تبصرہ کرنے کی ضرورت ہوتی ہے، یہ پات سچ ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ اس پر کچھ لکھنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے، اس تعلق سے جو لکھا جاتا ہے اس کا مقصد جس حسین و جمیل چیز نے ہمیں جو مسرت بخشی ہے اس کا اطراف کرنا ہوتا ہے اور اس خوشی کو دوسروں تک پہنچانا بھی اس کے پس پشت ایک مقصد ہوتا ہے۔دوسری بات یہ کہ کسی حسین چیز پر اپنا اظہار خیال یعنی اس حسین و جمیل چیز کی روشنی میں اپنی ذات کومزید سمجھنا بھی ہے۔

سٹی لائٹ یہ فلم ۱۹۳۱؁ء میں ریلیز ہوئی۔۳ سال تک یہ فلم شوٹ ہورہی تھی۔اس زمانے میں فلمی دنیا میں ایک انقلاب آچکا تھا۔وہ تھا صوتی انقلاب یا آواز کا انقلاب تھا،فلموں کو آواز مل گئی تھی۔اس کی کئی منفی اثرات فلمی کاروبار پر پڑنے لگے،ناظرین کو اس بات کی جانب کشش پیدا ہونا فطر ی بات تھی، جس کی وجہ سے ناظرین گونگی فلمیں دیکھنا پسند کرینگے یا نہیں،اس ڈر سے پروڈیوسر نے گونگی فلمیں بنا نا چھوڑ دی۔اس کا اثر بیشما ر ان آرٹسوں پر ہواجو پڑھنا لکھنا نہیں جانتے تھے، کیونکہ بولتی فلموں میں صاف تلفظ ایک ضروری صفت بن گئی، اسکے علاوہ ڈرامے کے ادا کار بڑی تعداد میں فلموں کی طرف راغب ہوگئے،اور فلموں میں الفاظ کے شور و غل کا سلسلہ فوری طور پر شروع ہوا۔بولنا آیا تو فلموں کے اداکاربولتے ہی رہے۔ اب لوگ گونگی فلموں کو گویا بھول ہی گئے ہیں۔

مگر چارلی چیپلن نے اس تبدیلی کو قبول کرنے سے انکار کیا، اس نے جان بوجھ کر سٹی لائٹ کو گونگی فلم ہی رہنے دیا۔صرف کچھ جگہوں پر اس نے آواز کو ضروری سمجھا۔اہم بات یہ کہ اس فلم کے لئے اس نے پہلی مرتبہ بیک گراونڈ سنگیت کا استعمال کیا۔چیپلن کا رول اس طرح تھا کہ اگر وہ آواز کا استعمال کرکے انگریزی بولتا ہے تو وہ صرف ایک زبان تک محدود ہوجاتا ہے، انگریزی نہ سمجھنے والوں کے لئے وہ اجنبی بن جائے گا۔چہرے کے تاثرات یہ عالمی زبان ہے، یہ سوچ کر اس نے سٹی لائٹ کو گونگی فلم ہی رہنے دی اور وہ کہاں تک کامیاب ہوا یہ بات فلم ریلیز ہونے کہ بعد معلوم ہوئی۔کئی پروڈیوسر س نے بولتی فلم کو اپنایا ، اسلئے مجھے بھی اپنانا ہے یہ بات چارلی کو قبول نہیں تھی۔لوگوں کو ہنسا نا اس کا مقصد تھا، مگر اس کا اپنا ایک طریقۂ کار تھا،لوگوں کو ایک سمت میں لے جانا وہ پروڈیوسرس کی ذمہ داری ہوتی ہے اور چارلی اپنی زمہ داری بہ خوبی انجام دے رہا تھا۔اور اس کے لئے وہ کافی محنت اور مشقت کیا کرتا تھا۔ایک ایک سین کے لئے وہ پچاس پچاس بار ٹیک لینے سے نہیں تھکتا تھا۔سٹی لائٹ فلم کے لئے اس نے ۳ لاکھ چودہ ہزار فٹ لمبی فلم شوٹ کی ، جس میں سے اس نے متخب کرکے صرف ۸ ہزار فت کا غیر معمولی شاہکار تیا ر کیا،جو سٹی لائٹ کے نام سے مشہور ہوگئی۔

ایک خانہ بدوش اور ایک گل فروش نابینا نوجوان لڑکی کی کہانی اس فلم میں بتائی گئی ہے۔اس فلم کے لئے ورجینیا چیرلی نامی ایک ۲۰ سالہ لڑکی کو بطور ہیروئن اس فلم میں لیا،اسے اداکاری کا کوئی تجربہ نہ تھا،مگر چارلی کو اس کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی ، وہ چا ہتا تھا کہ یہ لڑکی صرف اس کی ہدایتوں پرصحیح صحیح عمل کریں۔نا بینا کی اداکاری کو اپنے جوہر دکھانے کے لئے چارلی نے ایک قیمتی مشورہ دیا کہ وہ خود کے اند ر جھانک کر دیکھیں۔میری جانب دیکھنے کی ضرورت نہیں،اپنا من پسند شاٹ لینے کے لئے وہ خود بھی محنت کرتا تھا اور اس لڑکی سے بھی محنت کرواتا تھا۔جس کی وجہ سے اس کے تعلقات اس لڑکی سے کبھی دوستانہ نہیںرہے مگر دیگر اداکاروں کے ساتھ اس کے تعلقات کافی اچھے اور ہنسی مذاق سے پر رہتے تھے، صرف یہ ایک واحد اداکارہ تھی،جس کے ساتھ چارلی کی کبھی نہیں بنتی تھی۔پریشان ہوکر اس نے اس اداکارہ کو بدل بھی دیا تھا اور اس کی جگہ ایک دوسری اداکارہ کو لے آیا اور کچھ سین شوٹ بھی کئے مگر بعد میںاسے احساس ہوا کہ ورجینیا ہی اس کردار کے لئے مناسب اداکارہ ہے،اسے دوبارہ بلا کر یہ فلم مکمل کی۔اس فلم کے ریلیز ہونے کے ۵۰ سال بعد اس ادکارہ نے اپنی یادوں کے حوالے سے ذکر کیا ہے کہ Charlie never liked me and I never liked him.۔سٹی لائٹ کا پرئمیر بھی چارلی نے کافی دھوم دھام سے کیا۔لاس اینجلس کا پرئمیرالبرٹ انسٹائن کے ہاتھو ں ہوا اورلندن میں پرئمیر شو میں جارج برنارڈ شا مہمان خصوصی تھے۔

سٹی لائٹ کی کہانی بہت سیدھی سادھی ہے ،ایک غریب خانہ بدوش آوارہ گھوم رہا تھا، اس کی ملاقات ایک نابینا گل فروش لڑکی سے ہوتی ہے ،
یہ اسے غلطی سے امیر سمجھ بیٹھتی ہے۔،آہستہ آہستہ وہ اس کے پیار میں گرفتا ہوتے جاتا ہے ، شاید اس لڑکے کو یہ احساس ہوجاتا ہے کہ بنا بینائی کے اظہار محبت ادھورا ہے اسلئے ا س کی بینائی واپس لانے کے لئے درکار رقم جمع کرکے اس کا آپریشن کرواتا ہے، اس لڑکی کی قوت بینائی واپس آجاتی ہے۔یہ خانہ بدوش لڑکا اس لڑکی کے سامنے سے کتراتا ہے۔…اس سے قبل کہ وہ لڑکی اس کودیکھ لے ، وہ گائوں جانے کا بہانہ کرکے اسے الوداع کہہ کر چلا جاتا ہے، ایک امیر آدمی خود کشی کرنا چاہتا ہے ،یہ خانہ بدوش لڑکا اس کو روکتا ہے ، وہ شخص کہتا ہے کہ میں زندگی سے پریشان ہوگیا ہوں، مجھے مرنے دیجئے ، مگر وہ خانہ بدوش یعنی چارلی اس سے کہتا ہے کہ کل پرندے پھرچہچہائینگے، پھر وہ گیت گائینگے،یہ چارلی نے ہم سب کے لئے ا س فلم کے ذریعے جینے کا ایک منتر دیا ہے۔بعد میں اس گل فروش سے اس کی ملاقات ہوتی ہے،مگر وہ پہلے نا بینا ہونے کی وجہ سے اسے پہچان نہیں سکتی مگر وہ اس کو ایک پھول پیش کرتی ہے ، مگر وہ خانہ بدوش پیچھے سرکتا ہے، یہ گل فروش آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ میں پھول تھمانے کے لئے اس کا ہاتھ پکڑ لیتی ہے ، اور اسی لمحے وہ اس کو پہچان لیتی ہے۔جو آنکھوں سے سمجھ میں نہیں آیا اسے ایک لمس نے کتنا واضح طور پر سمجھا دیا۔وہ خانہ بدوش اس گل فروش سے کہتا ہے ، اب تجھے نظر آرہا ہے، وہ جواب دیتی ہے ، ہاں اب مجھے نظر آرہا ہے۔اس ایک لمحہ میں اس نے بہت کچھ دیکھ لیا ہے۔ اس کی غربت،اسے خوش کرنے کی اس کی جدوجہد، اس کی محبت،پاس آکر بھی وہ اس سے کیوں نہیں بولا،یہ تمام باتیں وہ صرف ایک لمحے میں سمجھ جاتی ہے۔محبت کی معراج کا وہ عظیم الشان لمحہ تھا۔وہ خانہ بدوش ہاتھ میں پھول لیکر اس گل فروش کی جانب دیکھتا ہے ، اس کی آنکھوں سے یہ لگتا ہے کہ وہ سب کچھ سمجھ گئی ہے۔یہ بات بھی وہ اس کی نظر سے سمجھ گیا ہے۔خوشی کی بارش سے بھیگا ہوا اس کا چہرہ ، اور اس کی آنکھیں خوشی کے پانی سے چندیاں جاتی ہیں ، آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا جاتا ہے اور پردہ گر جاتا ہے۔

اس آخری سین کو عالمی فلمی سطح پر سب سے اعلیٰ و عظیم سمجھا گیا ہے۔اس سین کے تعلق سے چیپلن نے بذات خود کہا ہے کہ سٹی لائٹ فلم کے اس آخری سین میں میں اداکاری کر ہی نہیںرہا تھا بلکہ میں اپنے آپ سے ہٹ کر دیکھ رہا تھا۔ایک تنقید نگار نے لکھا ہے کہ یہ فلم دیکھتے ہوئے ہم تہہ دل سے ہنسے ہوئے ہوتے ہیں، اندر سے ہلے ہوئے بھی ہوتے ہیں، اور دیکھنے کے بعد کچھ عقلمند بھی ہوجاتے ہیں،کئی مصنفین اس فلم سے کافی فیضیاب ہوئے ہیں،ایک دانشور کا کہنا ہے کہ خلا ء میں اگر ہمارے روشن پہلوں کے تعلق سے کچھ روانہ کرنا ہو تو وہاں سٹی لائٹ فلم روانہ کرنی چاہئے،جو معقول نمائندگی کرینگی۔اگر اس فلم کا آخری سین کسی کے دل کو چھونے سے قا صر ہے تو یہ سمجھ لو وہ شخص اس تہذیب یافتہ دور میں رہنے کے قا بل نہیں ہے۔

Login to post comments