×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

شریف مودی گفتگو سے امیدیں

June 03, 2014 486

وزیر اعظم  نریندر مودی  اور پاکستانی  وزیر اعظم نواز شریف کے درمیان پہلی باقاعدہ ملاقات میں دہشت گردی اصل موضوع رہا ۔  مسٹر نریندر

مودی نے واضح طور پر  مہمان وزیر اعظم سے کہا کہ دہشت گردی اور مذاکرات دونوں  ساتھ ساتھ نہیں چل سکتے ۔ انہوں نے زور دے کر کہا کہ حکومت پاکستان کو اپنے اس قول پر ایمانداری سے عمل کرنا چاہئے کہ وہ اپنی سر زمین کو ہندوستان کے خلاف دہشت گردی  کے لئے استعمال نہیں ہونے دے گی نیز یہ کہ ممبئی حملے کے جو مجرم پاکستان میں ہیں انہیں سخت سزادی جائے ۔ ظاہر سی بات ہے کہ میاں صاحب نے انہیں پھر پاکستان کے عہد و پیمان سے واقف کرایا ہوگا لیکن اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہندوستان کے خلاف پاکستان سے جو بھی جرائم ہوتے ہیں وہ دہشت گردوں کے ذریعہ سر انجام دئے جاتے ہیں ۔ ہندوستانی ماہرین کا دعوا ہے کہ ان دہشت گردوں کو پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی کی نہ صرف حمایت  بلکہ مکمل  سر پرستی  بھی حاصل ہے۔ حکومت پاکستان  بر سر عام  یہ اعتراف نہیں کر سکتی اور اسے طرح طرح کی  تاولیں پیش کرنی پڑتی ہیں ۔ در اصل  دونوں ملکوں کے درمیان تمام تر خیر سگالانہ جذبات کے باوجود ایک بد اعتمادی  بھی  پائی جاتی ہے اور جب   تک یہ بد اعتمادی نہیں  ختم ہوگی کوئی بھی مذاکرات اپنے انجام تک نہیں پہنچ سکتے ۔
وزیراعظم نواز شریف نے  اس ملاقات کے بعد اخبار نویسوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دنوں ملکوں میں عوامی  حمایت  لے کر منتخب ہونے والے رہنما تاریخ میں ایک نیا باب رقم کر سکتے ہیں۔  اپنے دورے کے بارے میں انھوں نے کہا کہ یہ دونوں ملکوں کے لیے ایک تاریخی موقع ہے۔انھوں نے کہا کہ مسٹر  نریندو مودی اور وہ معاشی ترقی چاہتے ہیں جو خطے میں امن اور استحکام کے بغیر حاصل نہیں کی جا سکتی۔وزیراعظم نواز شریف نے مزید کہا کہ الزامات اور جوابی الزامات عائد کیے جانے سے کوئی مقصد حاصل نہیں ہو گا۔ انھوں نے کہا کہ پاکستان دونوں ملکوں کے درمیان تمام مسائل کو سنجیدگی اور تعاون کے جذبے سے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔ وزیراعظم نواز شریف نے کہا کہ انھوں نے وزیراعظم مودی کو 1999 میں بی جے پی کے سابق وزیراعظم اٹل بھاری واجپائی کو لاہور آنے کی دعوت کی یاد دلاتے ہوئے کہا کہ وہ بھارت اور پاکستان کے درمیان تعلقات کی ڈور کو وہیں سے جوڑنا چاہتے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ دونوں ملکوں کے لوگوں کی خاطر انھیں بداعتمادی اور غلط فہمیوں کو دور کرنا ہوگا۔ ہندوستانی  سیکریٹری خارجہ نے  بتایا کہ دونوں ملکوں کے سیکریٹری خارجہ رابطے میں رہیں گے اور دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کے مواقعے تلاش کرنے کی کوشش کریں گے۔ دونوں وزراء  اعظموں کی ملاقات میں باہمی تجارت کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
  ظاہر سی بات ہے پہلی ملاقات کے بعد کوئی  بڑی  پیش رفت  نہیں ہوا لیکن نواز شریف کے پہلے دور ہندوستان اور نریندر مودی سے ملاقات ہی امید کی جاسکتی ہے وہ پہلا چھوٹا قدم لیکن انتہائی اہم پیش رفت ہے۔دونوں رہنماؤں کی باڈی لینگویج کیسی تھی، مودی نواز شریف کے استقبال کے لیے تو اپنے دفتر سے باہر آئے لیکن ملاقات کے خاتمے پر چھوڑنے کیوں نہیں آئے، کیا ملاقات خوشگوار نہیں تھی جیسے سوالات ماہرین سے پوچھ کر انہیں مشکل میں ڈالتے رہے۔
دونوں ممالک کے لیے بہتر ہے کہ میڈیا ٹو میڈیا گفتگو اہم ملاقاتوں تک محدود نہ رہے بلکہ ایک مسلسل عمل بن جائے۔ وزیراعظم کی نریندر  دی کی  حلف برداری کی تقریب کو وہاں کی وزارت خارجہ نے علاقے میں جمہوریت کا جشن قرار دیا دونوں ممالک کے میڈیا کے لیے پرانے سوالوں کے نئے جواب تلاش کرنے کی ایک اور ناکام کوشش ثابت ہوا۔دونوں رہنما دشمنوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کے اشارے دے رہے ہیں ۔خیال یہی ہے کہ دونوں ممالک کے حکام نے صورتحال کو انتہائی احتیاط کے ساتھ نمٹنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نواز شریف نے میڈیا سے گفتگو میں سوالات نہ لیے اور بھارتی وزارت خارجہ کی بریفنگ میں ملا محمد عمر کی کوئٹہ میں موجودگی سے متعلق سوال کا کوئی جواب نہ دیا۔ نواز شریف کی دہلی روانگی سے قبل ہی جو بات روز روشن کی طرح عیاں تھی وہ یہ کہ دونوں ممالک کے درمیان دو تہائی اکثریتی حکومتیں ہی مسائل کے حل کے لیے ’بولڈ‘ قدم اٹھا سکتی ہیں اور اسی کی دونوں ممالک کے شہری آنے والے دنوں میں توقع کر سکتے ہیں۔
عبید اللہ ناصر
(مضمون نگار روزنامہ’ قومی خبریں‘  لکھنؤ کے ایڈیٹر ہیں)

Last modified on Tuesday, 03 June 2014 09:59
Login to post comments