×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

لوگوں کو بہکانے والا خوبصورت الفاظ - جمہوریت

June 03, 2014 521

تاجر بہت ہوشیار ہوتے ہیں . یوں ہی نہیں تاجروں نے دنیا کے بہت سے حصوں سے عامریت کو کھدیڑ ڈالا . ان کی پیدائش ہوئی تھی اضافی

پیداوار شروع ہونے کے زمانے میں . جب انسانی گروپوں کے پاس کچھ اضافی پیداوار جمع ہونے لگی تھی اور معدنیات کو زمین سے نکالنا شروع کر دیا تھا . تب ضرورت ہوئی تھی کہ ایک گروپ کے اضافی مصنوعات کو دوسرے گروپ کے اضافی مصنوعات سے  تبدیل کیا جائے . درمیان میں جنگل ، پہاڑ ، ندیاں اور سمندر پڑا کرتے تھے . خود کو خطرے میں ڈال کر کچھ لوگ اشیاء  کو ایک مقام سے دوسرے مقام لانے لے جانے لگے . یہ ہی تاجر بن گئے . بعد کا قصہ تو آپ کو یاد ہی ہوگا کہ درمیان  میں قبائلی انہیں لوٹ لیا کرتے تھے . اس طرح قبائلی ڈکیت لٹیرے ہو گئے . بیچارے قبائلی کرتے بھی کیا . وہ تو سیدھے سادھے لوگ تھے . وہ سمجھتے تھے ، جس کے پاس کچھ اضافی ہے اس پر ان کا حق ہے جن کے پاس کچھ نہیں ہے .

ٹھیک ہے، یہ سب تاریخ کی اچھی اچھی کتابوں میں مل جائے گا . نصابی کتابوں میں بھی کہیں کہیں مل سکتا ہے . جسے پڑھنا ہو جلدی سے اسے پڑھ لے . بعد میں ہو سکتا ہے اسے سب جگہ سے ہٹانے کی کوشش کی جائے . تو ، تاجروں کو تحفظ کی ضرورت پڑی تو مضبوط جنگجو ان کی حفاظت کرنے لگے . انہی جنگجوؤں نے پہلے ریاست قائم کیں . علاقہ بٹے اور ہر تاجر کے جنگجو اپنے اپنے علاقہ کے بادشاہ ہو گئے . انسان نے مشینیں بنائی تو صنعت پنپنے لگیں. تاجر اپنا مال لے کر صنعت میں آ گئے . اب انہیں بادشاہ سے مشکل ہونے لگی . انہوں نے کسانوں کو آزاد کرانے کا لالچ دے جمہوریت کا نعرہ لگایا اور عامریت کو ہٹا کر عوام کی حکومت لے آئے ، بولے یہی جمہوریت ہے . اب کاروبار صنعت تو پھیلنا ہی تھا . دھیرے دھیرے جمہوریت بھی ان دولت کی زد میں آ گئی . اب جس کی پیٹھ پر ان تاجر ، صنعت کار ، سرمایہ داروں کا ہاتھ ہے ، جمہوریت میں وہی طاقتور ہے .
بھارت میں جمہوریت ، آزادی اور بدعنوانی کے خاتمہ کے نعرے لگا کر گزشتہ دنوں عام آدمی پارٹی کا عروج ہوا . دارالحکومت کی عوام ان کے پیچھے چل پڑی . پوری دنیا سے انہیں چندہ ملنے لگا . ان کو دارالحکومت کے ایک حصہ کی حمایت ملی اور کچھ ایسی کرامات ہوئی کہ آدھے سے کم ہوتے ہوئے بھی انہیں حکومت بنانے کا موقع ملا . حکومت بنی ، پر اس کی ٹانگ کھینچ دی گئی . وہ گرتی ، اس کے پہلے ہی اس نے میدان سے ہٹنے کا فیصلہ کیا اور گلی  محلہ میں آ گئی .

پارٹی نے ملک بھر میں پھیلنے کا ارادہ اور انتظام کیا . چھوٹے درمیانے تاجروں نے اسے بہت چندہ دیا تھا . انہیں امید تھی کہ وہ اپنی حیثیت بنا لے گی اور ایمانداری سے ان کی مدد کرے گی . اس کی حمایت بڑھی تو بڑے  بڑے کاروباری سرمایہ دار فکر مند ہوئے . انہوں نے اس کی مدد کی جو انہیں سب سے محفوظ بنا دے . باقی سب کو لڑتے رہنے کو چھوڑ دیا . پھر معجزہ ہوا . ایک تہائی سے بھی کم حمایت پا کر بھی دوسری پارٹی نے پارلیمنٹ میں اکثریت حاصل کر لی . اب عام آدمی پارٹی کو کون پوچھے ؟
تاجروں نے چندہ دینا بند کر دیا . خبر ہے کہ عام آدمی پارٹی کا سربراہ ستیہ گرہ کر جیل میں بیٹھ گیا . پھر بھی پارٹی کو چندہ نہیں ملا  . جو جیت گئے وہ خوش ہیں کہ بغیر پیسے کے اب یہ پارٹی خود اپنی موت مر جائے گی . پر عوام کی حقیقی پارٹیاں دولت مندوں کی دولت سے نہیں ، محنت سے بنتی ہیں . محنت صرف محنت کش کر سکتے ہیں . عام آدمی پارٹی کو سمجھ لینا چاہئے کہ سچی پارٹیاں دولت سے نہیں ، لوگوں سے بنتی ہیں ، محنتی کسانوں  سے ، مزدوروں سے ، تکنیکی ماہرین اور مستریوں سے جن کے پاس کھونے کو کچھ نہیں ہوتا اور حاصل کرنے کو ساری دنیا ہوتی ہے . وہ ساتھ ہوں اور متحد ہوں تو انہیں آگے بڑھنے سے کوئی روک نہیں سکتا . دنیا بھر کی دولت ان محنت کرنے والوں کو نہیں مٹا سکتی . آخر دنیا بھر کی دولت تو وہ ہی پیدا کرتے ہیں . جو دولت مند ہیں وہ تو اس پر ناجائز قبضہ کئے بیٹھے ہیں . اس ناجائز قبضہ کی دولت پر جب تک کچھ لوگوں کا قبضہ ہے ، جب تک وہ دنیا بھر کے لوگوں کا نہیں ہو جاتا ، تب تک جمہوریت کا کوئی مطلب نہیں . یہ صرف لوگوں کو بہکائے رکھنے کے لئے ایک خوبصورت لفظ بنا رہے گا .
دنیش رائے دویویدی

Login to post comments