×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

عالمی یوم افلاس اور مسئلے کا حل

May 31, 2014 425

صرف اب نہیں ایسی خبریں آئے روز میڈیا کی زینت بنتی رہتی ہیں، امر واقعہ یہ ہے کہ حسرت و یاس میں ڈوبی ماں کسی لمحے کی منتظر ہے،

یہ کونسی کی ساعت ہے؟ ہر گز کوئی مسرت بھری نہیں ہے اور نہ ہی کوئی امید بر آنے والی ہے، ماں اس گھڑی کے انتظار میں ہے کہ بھوک اور افلاس سے دوبھر اس کا لخت جگر آخر اس دنیا سے تو راحت پا جائے گا، سکون اور اطمینان کی جھلک شاید اب نہیں تو جہان دیگر میں ہی میسر آ جائے گی۔

جی ہاں! بیٹے کی موت کی منتظر یہ ماں اپنے ننھے لخت جگر کی جان لیوا بھوک کے سامنے سرنڈر کر چکی ہے۔ اس کے حواس اس تلخ حقیقت کو تسلیم کر چکے ہیں۔ اس کا عزم، حوصلہ، اور امید اب دم توڑ چکا ہے، کیونکہ کہیں سے بھی کوئی غذائی کمک کوئی نوالہء￿  خوراک آنے کی امید نہیں ہے، ماں کا پیٹ بھی بھوک کی آگ سے جھلس رہا ہے، مگر یہ ساری تکالیف اور پریشانیاں اس کے ہاں ثانوی ہیں، اولین ترجیح اپنا لخت جگر ہے جس کے روح و جسم کا ناطہ اب شاید چند ساعتوں کا مہمان ہے۔ اس کے گائوں کے نہ جانے کتنے ہی ننھے پھول بھوک اور غذائی قلت کی قیامت خیز آگ میں پہلے جھلس چکے ہیں اور اس کا تین سالہ بچہ بھی اپنے پیش رو ننھے ساتھیوں میں شامل ہونے جا رہا ہے۔ بے بسی اور لاچاری کے عالم میں ایک ماں کی ممتا کس کرب میں مبتلا ہوتی ہو گی؟ ہم شاید اس کا ادراک نہ کر سکیں، یہ احساس صرف وہ ہی کر سکتی ہے جس کی شفقت بھری آغوش میں اس کا جگر کا ٹکرا محض خوراک کی عدم دستیابی کے باعث چل بسا۔

میرے سامنے اقوام متحدہ کے ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام کے رپورٹ ہے، جس کے اعداد و شمار بھوک، افلاس اور غربت کے سلسلے میں چونکا دینے والے ہیں، اقوام متحدہ کے مطابق دنیا میں جتنے لوگ غذائیت کی کمی کا شکار ہیں، ان میں سے دو تہائی لوگ دنیا کے سات ملکوں میں رہتے ہیں، ان میں بنگلہ دیش، چین، بھارت، انڈونیشیا، پاکستان، کانگو اور ایتھوپیا شامل ہیں۔

دنیا کی موجودہ آبادی ایک اندازے کے مطابق سات اعشاریہ تین بلین یعنی سوا سات ارب سے کچھ زائد ہے۔ مغربی ادارے اور تنظیمیں اس کو اگرچہ آبادی اور ذرائع کے تناسب میں غیر ہم آہنگی قرار دیتے ہیں، تاہم اس میں بنیادی عمل دخل ملکوں کے نظام معیشت اور کج رو اقتصادیات کا ہے، دنیا میں 85 کروڑ افراد خوراک کا شکار ہیں۔ اس سے نمٹنے کیلئے بے تحاشا رقوم خرچ کی جاتی ہیں، لیکن نتائج اس کے برعکس نظر آتے ہیں، کیونکہ غریب ملکوں کا انحصار عالمی مالیاتی ڈھانچوں پر ہے، آپ اگر دنیا میں ارب پتی اور بلیئنرز Bilion ers کی لسٹ چیک کریں تو آئے روز یہ لسٹ لمبی اور طویل ہوتی چلی جا رہی ہے۔ روپیہ چند افراد کے ہاتھوں لونڈی بن کر رہ گیا ہے، امیر اور غریب کے درمیان حائل خلیج وسیع تر ہوتی چلی جا رہی ہے۔ 28 مئی کو worldhungerday ’’عالمی یوم بھوک’’ کا دن منایا جاتا ہے جس میں بھوک اور افلاس کے مارے لوگوں کی داد رسی اور انہیں کھانا کھلانے کی بات ہوتی ہے، دنیا بھر میں غربت سے ڈسے لوگوں کی رپورٹیں زیر بحث ہوتی ہیں۔ تازہ رپورٹ میں بنایا گیا ہے، بھوک کی وجہ سے روزانہ 8 میں سے ایک شخص ہلاک ہو جاتا ہے، خوراک کی کمی اور بھوک جیسے مسائل میں افریقہ اور جنوبی ایشیا سرفہرست ہیں، روزانہ 8 افراد بھوک کی وجہ سے کمزور ہو جاتے ہیں، ان حالات کے تناظر میں کہا جاتا ہے کہ دنیا کا مستقبل بھوکا ہے۔ کتنی تعجب کی بات ہے کہ ذرائع اور پیداوار چند دہائیاں پہلے کئی گنا کم تھیں۔ اب وسائل اور پیداوار کئی گناہ زیادہ ہو چکے ہیں، مگر یہ نظام غریب کا چولہا مزید ٹھنڈا کئے جا رہا ہے، یقینا اس نظام میں یہی کچھ متوقع ہے کیونکہ یہ نظام صرف اشرافیہ اور امراء   کے پیٹ بھرنے کیلئے بنایا گیا ہے، غریب سے ایک نوالہ تک بھی چھین لینا اس کا مقصد ہے۔ ایک نظام معیشت یہ بھی ہے کہ جس میں انسان تو کجا ایک جانور کی بھوک اور غذائی قلت کا بھی خیال رکھا جاتا ہے۔


سیدنا عمر فاروق کا قول ’’لو ماتت شاہ جائع? علی شط النیل لظننت ان اللہ تعالیٰ سائلی عنھا یوم القیام? ’’۔ (حلی? الاولیاء) دریائے نیل کے کنارے ایک بکری بھی بھوک کے باعث مر گئی تو میں (عمر) اس کے بارے قیامت کے دن جوابدہ ہوں۔ جی ہاں ایسا ہی ہوا… چشم فلک نے تب دیکھا کہ لوگ اس قدر آسودہ حال تھے کوئی صدقہ قبول کرنے والا نہیں تھا سب دینے والے تھے۔ یہ نظام تقسیم کرنے اور بانٹنے کا تھا، زکوٰ? اور بیت المال کا تھا۔ جہاں امراء   سے مال لیا جاتا تھا اور غرباء   کو ان کا حق سمجھ کر دیا جاتا تھا، کوئی احسان جلانے کے طور پر نہیں۔ موجودہ دور میں غریب آدمی اپنا خون پسینہ بہا کر چند روپے کماتا ہے تو اسے ٹیکس سے کوئی چھوٹ نہیں جبکہ اربوں پتی کروڑوں کے ٹیکس ہڑپ کر جاتے ہیں۔

اس نظام میں غربت کی لکیر لمبی ہی ہوتی چلی جاتی ہے۔ جب معاشرے میں یہ نظریہ اور عقیدہ پایا جائے کہ جو آدمی سیر ہو کر تو سو گیا مگر اس کا پڑوسی بھوکا رہا تو اس کا ایمان ہی کامل نہیں ہے۔ جہاں دوسرے کو اپنے اوپر ترجیح دینے کا درس ملتا ہے، جہاں یہ تعلیمات ہیں کہ اوپر والا ہاتھ، (دینے والے) نیچے والے ہاتھ (لینے والے) سے سے بہتر ہے۔ وہاں ایسے واقعات پیش نہیں آئیں گے۔ درحقیقت ہم نے اپنا نظام اسلام سے جدا کیا تو سیاست، معاشرت اور معیشت ہر میدان میں ذلت وپستی کا سامنا کرنا پڑا، کیونکہ اسلام جیسے دین فطرت سے اعراض کرنا ہی مسائل کو جنم دینے کا باعث ہے۔
 
اسلامی طرز زندگی میں ہی ہمارے جمیع مسائل کا حل ہے۔ معاملہ ہم پر منحصر ہے کہ اسے اپنانے میں ہم کس قدر سنجیدہ ہیں، بھوک اور افلاس کے محض دین منانے اور صرف ایک دن بھوک سے مارے بچوں اور بڑوں سے رسمی طور پر ہمدردی جتانے سے کچھ نہیں ہو گا۔

تحریر: الیاس حامد

Login to post comments