×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

دھارا 370ہٹائے بغیر کشمیر میں امن و ترقی ہونا نا ممکن

May 30, 2014 329

پچپن سال پہلے 1953 میں دو الگ - الگ دشمن ریاستوں کی طرح جموں اور کشمیر آپس میں لڑ رہے تھے . شیخ محمد عبداللہ کی

پالیسیوں کے خلاف جموں میں پرجا پریشد نام کی تنظیم نے تحریک چھیڑ رکھا تھا . تب جموں کا نعرہ تھا - ایک قانون ساز ، ایک پردھان اور ایک نشان . کشمیر میں دفعہ 370 کی آڑ میں جو اپنا آئین بنا تھا وہ کئی طریقوں میں ہندوستانی آئین کی پہنچ سے باہر تھا .
اسی تحریک کے دوران شیاما پرساد مکھرجی بغیر پرمٹ کے جموں کشمیر میں داخل ہوئے تھے . ان دنوں بغیر اجازت خط کے کوئی بھی بھارتی کشمیر میں داخل نہیں ہو سکتا تھا . ڈاکٹر مکھرجی کی پر اسرار طریقے سے جیل میں موت ہو گئی . جموں اور کشمیر کے درمیان اتنا کشیدگی پیدا ہو گیا تھا کہ لوگ ایک دوسرے کے علاقوں سے بھاگنے لگے تھے . شیخ عبداللہ بھارت مخالف بیان دے رہے تھے . اور نہرو کی قیادت میں بھارت بہت مشکل حالات میں پڑ گئی تھی . مجبوری میں نہرو کو اپنے دوست شیخ عبداللہ کو برطرف کرکے گرفتار کرنا پڑا . آج کوئی نصف صدی بعد جموں - کشمیر میں ایک بار پھر وہی حالات دکھائی دے رہے ہیں . امرناتھ پر حکومت کے فیصلے کے خلاف مظاہرہ اس قدر پورے علاقے میں پھیل گیا ہے کہ کوئی تنظیم یا سیاسی پارٹی اس سے اچھوتا نہیں رہ گیا ہے .
ہم وہیں کیسے کھسک آئے جہاں گزشتہ صدی کے وسط میں ہم نے سفر شروع کیا تھی ؟ کشمیر ہماری سیاسی نظام کا ایسا آئینہ ہے جس میں ہم اپنے ماضی اور حال کو تو دیکھ ہی سکتے ہیں چاہیں تو مستقبل کی بھی جھلک مل سکتی ہے . پچپن سال پہلے بھی جواہر لال نہرو نے اس امید میں شیخ عبداللہ کو کمان سونپی تھی کہ کشمیر میں نہ صرف جمہوریت کی بیار بہے گیبلکہ وہ بھارت یونین کا لازمی حصہ بن جائے گا . نہرو خاص مدد نہ کرتے تو شیخ عبداللہ مہاراجہ کے ساتھ سمجھوتہ کرکے اسی نظام میں سما جاتے . انہوں نے بادشاہ ہری سنگھ کو آزادی ملنے سے پہلے ہی خط لکھا تھا جس میں آزادی کی قسمیں کھائی تھیں . نہرو نے انہیں کشمیر کا وزیر اعظم بنایا اور انہوں نے وزیر اعظم بنے رہنے کی ہی ٹھان لی . جس ولی خط پر ان کے کہنے پر بادشاہ نے دستخط کئے تھے وہ اس کی اپنی ہی تشریح کرنے لگے . ان کی تشریح مانی جاتی تو کشمیر ہی کیا کوئی بھی بھارتی ریاست بھارت سے الگ جانے یا آزاد رہنے کا دعوی کر سکتی تھی .
مہاراجہ کو برطرف کرکے شیخ نے کشمیر کو الگ ملک کے طور پر رکھنے کی اپیل کی . لیکن اس کے لئے دلیل اور قانونی موقع ہندوستان کی حکومت نے ہی دستیاب کروائے . ولی کی درخواست  قبول کرتے ہوئے حکومت ہند کی طرف سے گورنر جنرل ماٹبیٹن نے جو جواب دیا اسی میں یہ بھی شامل کیا گیا ہے کہ جب قبائلی حملہ آور ہٹ جائیں گے اور ریاست میں قانونی نظام ٹھیک ہو جائے گی تو کشمیر کے لوگ خود ہی طے کریں گے کہ انہیں کیا کرنا چاہئے . یعنی یہ ولی عارضی ہی تھا . یہی تو پاکستان شروع سے ہی کہہ رہا ہے اور علیحدگی پسند - دہشت گرد بھی یہی کہہ رہے ہیں . جب شیخ عبداللہ یہی کہنے لگے تو دہلی کے حکمرانوں کے ذہن میں آیا کہ انہوں نے کتنی بڑی بھول کر دی ہے . شیخ عبداللہ کو ہٹا کر ادھکچرے فیصلوں اور غیر منظم تحریکوں کا جو سلسلہ شروع ہوا وہ مسلسل پیچیدہ ہوتا چلا گیا . جس وقت کشمیر میں دفعہ 370 نافذ کرنے کا مطالبہ ہو رہی تھی اس وقت تین بھارتی لیڈروں نے وزیر اعظم نہرو کو انتباہ تھا کہ یہ نظام آگے چل کر بھاری مسئلہ پیدا کر سکتی ہے . یہ تین لیڈر تھے راجندر پرساد ، بابا صاحب بھیم راو امبیڈکر اور سردار پٹیل . امبیڈکر نے آئین کا خاکہ بنایا تھا ، راجندر پرساد آئین ساز اسمبلی کے صدر تھے اور سردار پٹیل بھارت یونین کے اتحاد کے کنوینر تھے . لیکن نہرو نے ان لیڈروں کو کہا کہ یہ دفعہ تو عارضی ہے اور آہستہ - آہستہ ختم ہو جائے گی . لیکن شیخ عبداللہ نے ایسی بندوبست کر دیا ایسا کبھی ہو ہی نہیں سکتا تھا . اس دفعہ کو تبھی ختم کیا جا سکتا ہے جبکہ کشمیر اسمبلی اسے ہٹانے کی سفارش کرے .
آج ہم پاکستان کو چاہے جتنا قصور دیں، لیکن کشمیر میں پاکستان کے دخل کے لئے حالات بھی ہم نے ہی پیدا کی . پاکستان نے قبائلی گروہوں کی مدد سے کشمیر پر حملہ کیا . ہندوستان کی فوج نے حملہ آوروں کو مدد کرنا  شروع کیا . فوج ابھی کشمیر کی سرحدوں تک پہنچی ہی نہیں تھی کہ حکومت نے جنگ بندی کر دیا . ہندوستانی فوج درمیان میدان میں ہی اٹک گئی . اوپر پہاڑیوں پر پاکستانی فوجیں ڈٹی ہوئی تھیں . لائن کھچ گئی . اس طرف بھارتی کشمیر اور اس طرف پاکستانی کشمیر . اب یہ سوچنا کہ پاکستان آزاد کشمیر کو تشتری میں سجاکر ملاقات کر دیتا ، نمٹ وقوفی نہیں تو اور کیا ہوگی ؟ جو حالات بنے اس میں دو باتیں ہونی تھی . پاکستان کوشش کرتا رہتا کہ باقی کشمیر بھی اسے ملے اور اس کے لئے جو ممکن طریقے ہیں وہ ان کا استعمال کرتا رہے . اقوام متحدہ میں جا کر ہم نے ہی پاکستان کو یہ موقع بھی دے دیا کہ وہ کشمیر کابین الاقوامی ڈھنڈھورا  کر سکے . پتہ نہیں کس وکیل نے حکومت ہند کو مشورہ دیا تھا کہ وہ ایک کمزور معاملے کو اقوام متحدہ میں لے جائے . بھارت حکومت پہلے ہی اپنے پاؤں پر کلہاڑی مار چکی تھی اور شروع میں ریفرنڈم کو قبول کرکے ولی کو نامکمل یا عارضی بنا چکی تھی . اس لئے امریکہ کے اثرات کے عالمی ادارے کشمیر معاملے پر بھارت کا ساتھ کیوں دیتی جب امریکہ یہ مان رہا تھا کہ بھارت بھارت سوویت یونین کا ہینگر ہے .
کشمیر کو حاصل کرنے کا دوسرا راستہ جنگ تھا . جنگ تب لڑی جاتی ہے جب تمام راستے بند ہو جاتے ہیں . جنگ کا ایک مخصوص ہدف ہوتا ہے جن کو حاصل کرنے کی پوری کوشش کی جاتی ہے لیکن ہمارے جنگ لڑنے کا طریقہ بھی نرالا ہے . ہم جنگ جیت کر مذاکرات کی میز پر ہارنے کے عادی ہو گئے ہیں . بنگلہ دیش میں ہم نے بڑی اچھی جنگ لڑی لیکن امن کی خواہش میں مذاکرات کی میز پر آ پہنچے . ہم بھول گئے کہ ہم نے جنگ میں کسی شخص نہیں بلکہ ایک ملک کو زخمی کیا ہے . اسی طرح جموں - کشمیر میں کچھ دررے ہمارے ہاتھ لگے تھے . ان دررو ںکی وجہ سے ہماری چوکیوں کو کافی نقصان اٹھانی پڑتی تھی . فوج چاہتی تھی انہیں اپنے پاس ہی رکھا جائے . اس میں کچھ علاقے تو کارگل میں ہی تھے . لیکن ہمارے لیڈروں نے یہ سوچتے ہوئے وہ دررے دے دیئے کہ تھوڑی سی زمین کے لئے ماحول کیوں بگاڑا جائے ؟ اتنا ہی نہیں سیاچین گلیشیئر پر نشاندہی کے وقت بھی ساری دور اندیشی بالائے طاق رکھ کر ایک پوائنٹ سے آگے نشاندہی ہی نہیں کی گئی .
ایک اور نتیجہ جو غلط کشمیر پالیسی کی وجہ سے نکلا ، وہ ہے پورے ملک میں دہشت گردی کی توسیع . پاکستان جب جنگ نہیں جیت پایا تو چھدم جنگ ہی اس کے سامنے واحد راستہ تھا . بار - بار یہ کہانی دہرانے کی ضرورت نہیں کہ کب - کب ہم نے دہشت گردوں سے معاہدے کئے ہیں اور کب - کب ان کے سامنے اعتراف کیا ہے . گھیرے - آہستہ دہشت گردی ایک ایسا سکے بن گیا جو جب جس کے ہاتھ لگا اس نے اسے اپنے حساب سے چھڑا . شاید پاکستان نے یہ بہت پہلے ہی بھانپ لیا تھا کہ بھارت جیسے ملک سے جنگ جیتنا چاہے ناممکن ہو لیکن اس کے اندر سیدھ لگانا آسان ہے . آئی ایس آئی کا قیام ہی اس اہم مقصد کے ساتھ ہوا تھا . آئی ایس آئی آج دنیا کے کامیاب خفیہ نظام میں شمار کیا جاتا ہے اور بھارت میں دہشت پھیلانے کے الگ - الگ محکمہ یہاں کام کرتے ہیں . پنجاب میں دہشت گردی پھیلانے میں آئی ایس آئی کے ہاتھ کے اب پکے ثبوت ہیں . لیکن بدقسمتی سے ہم اسکاٹر کرنے کے کوئی خاص ہتھیار تیار نہیں کر پائے . بنگلہ دیش بننے میں را نے جو کامیابی پائی تھی ویسی کامیابی پھر اس کے ہاتھ نہیں لگی . ظاہر سی بات ہے بھارتی نوکرشاہی خواہشمندی کو اپاہج کرنے میں کامیاب رہی . سیاسی قوت ارادی اور دور اندیشی کی غیر موجودگی میں کشمیر رس - رس کر ناسور بن گیا . ایسے میں کیا کسی ایک شخص کو دوش دینا ٹھیک ہوگا یا پھر یہ ہماری راجویوستھا کے کھوٹ کی نشانی ہے ؟
تحریر……… گریش جویال

Last modified on Friday, 30 May 2014 11:13
Login to post comments