×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

’’قبول ہے ‘‘

May 26, 2014 654

سننے میں آیا ہے کہ پاکستانی سیریل بڑے اچھے ہوتے ہیں بڑے سلیقے سے بنائے جاتے ہیں اور بڑے سلیقے سے بنھائے جاتے ہیں ان کے کردار

بھی بڑے اچھے اچھے ہوتے ہیں ،کہانیاں بھی اچھی اچھی ہوتی ہیں اب ہمارے یہاں تو گھر گھر مودی ہیں لیکن پاکستان کے سیریلوں میں گھر گھر کے جھگڑے ہوتے ہیں اور یہ دکھایا جاتا ہے کہ کس طرح عورتیں عورتوں کی دشمن ہوتی ہیں اور کس طرح وہ دوسری عورتوں کے خلاف سازشیں تیا رکر تی ہیں اور جھوٹی قسمیں تک کھا جاتی ہیں ،بتایا جاتا ہے کہ پاکستان کی فلمیں ہندوستانی فلموںکے ٹکر کی نہیں ہوتیں لیکن نہ جانے کیوں وہاں کے سیریل یہاں کی خواتین کو بہت پسند ہیں اور وہ مزے لے لے کر پاکستانی سیریل دیکھا کرتی ہیں ویسے تو ہندوستانی سیریلوں کا بھی اپنا کوئی جواب نہیںچنانچہ جب سے بال ویر سیریل چلا اس کی دھوم مچ گئی اور بچے بچے کی زبان پر اس میں شامل پریوں کے نام رواں دواں ہو گئے اور تو اور جب ہمارے ملک کے سیریل بنانے والوں نے دیکھا کہ ملک میں پاکستانی سیریل دیکھے جاتے ہیں تو یوں ہوا کہ ایک سیریل بنایاگیا ’’قبول ہے‘‘
    قبول ہے ‘‘کو کافی مقبولیت ملی کیوں کہ اس میں قبول کرنے جیسی بات کو نمایاں کیا گیا ہے یعنی جب کوئی جوڑا عقد کے دھاگے میں بنتا ہے تو دونوں کو کہنا پڑتا ہے کہ قبول ہے اور اسی کو اس سیریل کا کلائمکس بنایا گیا ہے ۔
   جب سے پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کو ہندوستان میں مودی کے وزیر اعظم کے عہدہ کی حلف برداری کی تقریب میں شرکت کی دعوت دی گئی ہے تبھی سے ایک بڑا سسپنس بناہوا تھا کہ نواز شریف کو دعوت تو دے دی گئی ہے لیکن کیا وہ ہندوستان آئیں گے ۔؟کیا انھیں اس کے لئے مخالفتوں کا سامنا کرنا پڑے گا ۔؟ کیا ان کی فوج اس کے لئے راضی ہوجائے گی ۔؟
   ان سارے سوالات کے درمیان ہی یہ سوالات بھی اٹھ رہے تھے کہ جب بی جے پی اپوزیشن میں تھی اس وقت تو نواز شریف کو ہندوستان بلانے کی دعوت پر وہ چراغ پا ہوجایا کرتی تھی اور جب پاکستانی فوج کی جانب سے کوئی ایسی کاروائی کی جاتی تھی جسے چھیڑ چھاڑ کہا جائے تو بھی اپوزیشن کی جانب سے واویلا مچایا جاتا تھا یہاں تک کہ اس بریانی کی باتیں بھی تذکروں میں آتی تھیں جو نواز شریف کے لئے تیار کرائی گئی تھی اب جبکہ بی جے پی کی حکومت بننے جا رہی ہے اور پاکستان کی جانب سے کی جانے والی غیر دوستانہ حرکتوں کے سلسلہ میںکوئی کمی نہیں آئی ہے ایسے میں پاکستان کے وزیر اعظم نواز شریف کو کیوں ہندوستان بلایا جا رہا ہے ۔؟ کیا وہ اب واقعی شریف ہو گئے ہیں ۔؟
   یہ سوالات تو ہوں گے اور ان سوالات کے جواب بھی دئے جائیں گے اور عوام کو مطمئن کرنے کی کوشش کی جائے گی لیکن اگر تازہ ترین حالات اور خبروں پر نگاہ رکھی جائے تو کئی جانب سے نواز شریف کے ہندوستان آنے پر سوالات کی بوچھار کی جانے لگی ہے جیسے وہ کشمیریوں کو کیا منھ دکھائیں گے ۔؟ وغیرہ وغیرہ ۔
   بات اتنی سی ہے کہ ایک ملک کے نئے حکمراں کی حلف برداری کی تقریب ہے اور وہ حکمراں یہ چاہتا ہے کہ آس پاس کے ملکوں کے حکمراں بھی اس حلف برداری کی تقریب میں شریک ہوں ساتھ ہی وہ حکمراں جو ہندوستان کے تئیں بہتر رویہ رکھتے ہیں وہ بھی اس جمہوری تیوہار کے موقع پر ہندوستانیوں کے ساتھ رہیں اور ان کی خوشی کو شیئر کریں ایسے میں یہ ایک سیدھا سادا دعوت نامہ ہے نہ یہ کہ اس موقع پر کسی معاملہ میں کوئی مفاہمت کی بات ہونی  ہے یا کوئی قرار داد پاس ہونی ہے جو قرار داد پاس ہوگئی تو بڑی قیامت اٹھ کھڑی ہوگی ایسے میں وہ لوگ جو نواز شریف کو ہندوستان بلائے جانے کے مخالف ہیں ان کی تشویش بھی بے جا ہے اور وہ جو نوازشریف کو ہندوستان نہ آنے کے لئے غیرت دلا رہے ہیں وہ بھی معاملہ کو دوسرا رنگ دینا چاہتے ہیں یہ دعوت تو ایک تقریب میں شرکت کی دعوت ہے لیکن ہمارے چینلوں پر جس حساب سے کئی دنوں سے نواز شریف کو ہائی لائٹ کیا گیا اس سے ایسا لگنے لگا کہ میڈیا کسی کے ملک آنے نہ آنے کی بات کرنے کے بجائے کسی کو الیکشن لڑا رہا ہے یعنی چینلوں پر اس انداز میں نواز کے ہندوستان آنے نہ آنے پر بحث کی گئی جس میں ساری بحثیں دب گئیں اور اب جب کہ نواز شریف کی جانب سے دعوت قبول کر لی گئی ہے اور ان کے ساتھ سرتاج عزیز بھی آرہے ہیں تو ایسا تاثر دیا جا رہا ہے گویا کوئی تاج محل کے پاس کھڑا ہو کر بہ آواز بلند کہہ رہا ہو کہ ’’قبول ہے ‘‘
محمد اسحاق

Last modified on Tuesday, 27 May 2014 10:18
Login to post comments