×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

آخر کب تک شرمسار ہوگی میرٹھ کی سرزمین

May 15, 2014 579

تاریخی شہر میرٹھ . اس شہر کو اس بات پر بہت ناز ہے کہ بھارت کی جنگ   آزادی کی پہلی چنگاری اسی شہر سے بھڑکی تھی۔ جنگ

آزادی کی جنگ میں شہید ہونے والوں کی فہرسست گواہ ہے اس بات کی کہ ہندوستان کو آزادی دلانے میں 10 مئی 1857 سے لے کر 15 اگست 1947 تک ہندو اور مسلمانوں نے برابر کی قربانیا ںدی تھیں . میرٹھ کے لوگوں کو اس پر ناز ہے کہ ہم نے ہی سب سے پہلے ملک کو آزاد کرانے کے لئے جنگ شروع کی تھی . ناز تو اس پر بھی ہے کہ ہم دنیا بھر میں کھیلوں کا سامان بھیجتے ہیں. بہترین کپڑا بنتے ہیں . پوری دنیا ہماری ریوڑی اور گزک کی دیوانی ہے . قینچیاں  بھی میرٹھ شہر کی پسند کی جاتی ہیں . اتراتے تو اس بات پر بھی ہیں کہ حفیظ میرٹھی اسی سر زمین پر پیدا ہوئے تھے ، تو شاعر ہری اوم پوار کا نام بھی میرٹھ شہر سے ہی منسلک ہے . نہ جانے کتنی ہستیاں اس شہر سے وابستہ تھیں جس کے نام سے میرٹھ کو پہچانا جاتا ہے . اگر ان باتوں پر فخر ہے ، تو میرٹھ کو اس بات پر بھی شرمندگی محسوس کرنا چاہئے کہ دنیا بھر میں اسی شہر کے لوگوں نے اس شہر کو ' فسادات کا شہر ' کے لئے بھی بدنام کیا ہے . کسی دوسرے شہر میں جب کوئی یہ بتاتا ہے کہ میرٹھ سے تعلق رکھتا ہوں ، سامنے سے جواب آتا ہے کہ وہاں فرقہ وارانہ فسادات بہت ہوتے ہیں . اس سے  زیادہ شرمسار کرنے والی بات کیا ہوگی کہ جس صبح میرٹھ 10 مئی 1857 کے شہیدوں کو یاد کر رہا تھا ، دوپہر تک فرقہ وارانہ تشدد کی آگ میں جھلس گیا . میرٹھ اپنے ماتھے پر ایک اور فسادات کا داغ لگوا بیٹھا . اس شہر نے چھوٹے موٹے فسادات سے لے کر 1982 اور 1987 کے خونخوار فسادات بھی دیکھے ہیں . ' فسادات کا شہر ' کا داغ میرٹھ کبھی نہیں دھو پایا . کبھی کبھی لگتا ہے کہ اس شہر کے لوگ اتنے پختہ ہو گئے ہیں کہ یہ کلنک دھل جائے گا ، لیکن ایسا ہو نہیں پاتا . 1987 کے خونخوار فسادات کے نشاں ابھی مکمل طور پر مٹے نہیں ہیں . وہ لوگ ان دنوں کو یاد کرتے ہوئے کانپ اٹھتے ہیں ، جنہوں نے ان فسادات کو جھیلا اور جس کی آگ میں کتنوں کے اپنے جل مرے . ہاں ، اتنا شعور تو آیا ہے کہ اب فساد شہر کے دوسرے علاقوں تک نہیں پہنچتا .

کہتے ہیں کہ میرٹھ نئے مزاج کا شہر ہے . واقعی ایسا ہی ہے . یہاں کس بات پر کب فساد بھڑک جائے گا ، کہنا مشکل ہے . اسی شہر کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ یہاں انڈا پھوٹنے پر بھی فساد ہو جاتا ہے . یہ بات یوں ہی نہیں کہی جاتی . 1993 میں صرف انڈے پھوٹنے پر فساد بھڑک اٹھا تھا . دراصل ، سیاست نے میرٹھ میں کچھ اس طرح کی سازشیں رچی ہیں کہ ان سے نمٹنا مشکل لگ رہا ہے . انسانوں کو ہندو مسلمان میں تقسیم کر دیا گیا . آبادیاں بانٹ دی گئی . یہاں تک کہ دلوں کی تقسیم کرنے کی ناپاک کوششیں بھی کی جاتی ہیں . جب جب یہ لگتا ہے کہ اب میرٹھ کے لوگ چھوٹی چھوٹی باتوں کو نظر انداز کرتے ہوئے آگے بڑھ رہے ہیں ، تب تب  سیاست ایسی چال چلتی ہے کہ ہندوؤں اور مسلمانوں کو آمنے سامنے کر دیا جاتا ہے .
 10 مئی کو جس تیرگران علاقہ میں پیائو کو لے کر بھاری تنازعہ ہوا ، اس پر پہلے سے ہی تنازعہ ہے . تنازعہ بھی نیا نہیں ، بہت پرانا ہے . 1952 سے معاملہ کورٹ میں ہے اور کورٹ نے حالات کو برقرار رکھنے کے حکم دے رکھے ہیں . یہ سوال موجو ہے کہ متنازعہ جگہ پر کسی بھی طرح کی تعمیر کی ہی کیوں جا رہی تھی ؟ بہتر تو یہ ہوتا کہ دوسری طرف کی رضامندی سے کوئی فیصلہ لیا جاتا . یہ ٹھیک ہے کہ پانی کی پیائو کی تعمیر کی جا رہی تھی . اس کے باوجود بھی دوسری طرف کی رضامندی حاصل کرنا ضروری تو تھی ہی . اگر تعمیر ہو بھی رہی تھی ، تو دوسرے فریق کو قانون کا سہارا لے کر اس رکوانا چاہئے تھا . آخر ملک میں قانون نام کی بھی کوئی چیز ہے یا نہیں ؟ خود ہی فیصلہ کرنے کی ضد کا نتیجہ بڑے وبال کے طور پر سامنے آیا ہے . غلطی دونوں طرف سے ہوئی . نتیجہ شدید ہنگامہ ہوا اور ایک ایسا نوجوان زندگی  ہار گیا ، جس کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ نو بہنوں کا اکلوتا بھائی ہے . متنازع مقام اپنی جگہ قائم رہے گا . لیکن اگر اس نوجوان کی بھرپائی زندگی بھر نہیں ہوپائے گی .

ایک دو دن میں شہر اپنی رفتار پکڑ لے گا . لیکن امتحان کے دن ختم نہیں ہوئے ہیں . خفیہ ایجنسیاں خدشہ ظاہر کر رہی ہیں کہ لوک سبھا انتخابات کے نتائج کے دن یعنی 16 مئی کو خرافاتی عنصر ایسا کچھ کر سکتے ہیں ، جس سے شہر میں بدامنی پھیل جائے . امن قائم کرنے کی کسوٹی پر نہ صرف میرٹھ ہے ، بلکہ مغربی اترپردیش کے کئی شہر شامل ہیں .مظفرنگر میں بھی شرارتی عناصر دوبارہ سر اٹھا رہے ہیں . غیر یقینی کے کالے گھنے بادل اندھیرے میں ایسا نہیں ہے کہ روشنی کی امید کی کوئی کرن ہے ہی نہیں . جب اخبارات میں تشدد کی خبروں کے درمیان ایسی خبر پرنظر پڑتی ہے ، جو یہ بتاتی ہے کہ کس طرح فسادیوں کے درمیان پھنسے بچوں یا بڑوں کو نکالا گیاتو لگتا ہے کہ ہماری آنکھوں کا پانی ابھی مکمل طور پر خشک نہیں ہوا ہے . آنکھوں کے کہیں کسی کونے میں نمی باقی ہے ، جو امید کی لو جلائے رکھنے میں مدد کرتی ہے . باہمی ہم آہنگی کی خبریں حوصلہ دیتی ہیں کہ میرٹھ میں ایسے انسان بھی رہتے ہیں جو نہیں چاہتے کہ ' میرٹھ فسادات ' کے شہر کے طور پر بدنام رہے .

سلیم اختر صدیقی

Last modified on Thursday, 15 May 2014 19:41
Login to post comments