×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

کہاں جائیں ہندوستانی مریض؟

May 13, 2014 618

بالآخر مہینہ بھر سے زیادہ عرصہ سے جاری ہندوستان کے پارلیمانی انتخابات اب اختتام کے قریب ہیں۔12 مئی کے آخری مرحلہ کی

پولنگ کیلئے ہفتہ کی شام انتخابی مہم ختم ہوگئی۔اس کیساتھ ہی گزشتہ2مہینے سے جاری انتخابی سرگرمیاں اختتام کو پہنچیں لیکن کہیں سے بھی حرف غلط کی طرح صحت شعبہ پر کوئی بات نہیں کی گئی جبکہ صحت کی بنیادی خدمات کیلئے جموں و کشمیرکا محکمہ صحت متواتر دو سال سے ہندوستان کا اعلی اعزاز حاصل کرتا رہا ہے۔یہ وہ ریاست ہے جس نے بڑے بڑے شہروں اور ریاستی صحت محکموں کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے۔گذشتہ برس کے دوران یہ انعام ملک میںجائزہ منعقد کرنے کے بعد رسالہ انڈیا ٹوڈے کی طرف سے دیا گیا جسے جموں و کشمیر کے وزیر اعلی عمر عبداللہ نے نومبر میں دہلی میں ہونے والی ایک تقریب میں وصول کیا۔اس کے باوجود ابھی تک کسی پارٹی نے سماجی ترقی کے حوالہ سے کوئی ٹھوس بحث یا حقیقت پر مبنی بات کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی ہے۔ کسی بھی پارٹی کا منشور اٹھا لیں ، اقتصادی اور مجموعی ترقی کی باتبھی دعوی کرتے ہوئے نظر آئیں گے۔ ان بھاری بھرکم الفاظ کے استعمال میں کوئی کمی نہیں ملے گی ، چاہے وہ مودی تشہیر گجرات ماڈل ہو یا پھر کانگریس کی حمایت یافتہ نئی معاشی پالیسی جبکہ سیاسی رہنما کئی مہینوں سے اپنی اپنی جماعتوں کیلئے عوام کی حمایت حاصل کرنے کی غرض سے ملک کے مختلف علاقوں کا دورہ کر رہے تھے۔
 
بنیادی ضروریات اور بہتر زندگی:
نوبت یہ آچکی ہے کہ ڈاکٹروں کے بعد اب نرسوں نے بھی ہندوستان سے رخت سفرباندھنا شروع کردیا ہے۔مودی کا کہنا ہے کہ انہوں نے گجرات میں اقتصادی ترقی کیلئے جو کیا ہے وہی ماڈل وہ سارے ملک میں لائیں گے ، کیونکہ گجرات ترقی کے معیار پر کامیاب ہوا ہے۔ لیکن وہ اس پر بحث کیوں نہیں کرتے کہ وہاں سماجی ترقی کے اعداد و شمار دیگر ریاستوں سے کافی گئے گزرے ہیں۔ کیا انہوں نے اقتصادی ترقی کی تعریف اور ان کے معیار کو تبدیل کر دیا ہے یا پھر وہ اس مسئلہ کو اجاگرکرنا ہی نہیں چاہتے۔ اگر صحت کی بات کریں تو مہاراشٹر ، تمل ناڈو کے مقابلہ میں گجرات میں ماں ‘بچوں کی شرح اموات اور5 سال سے کم عمر کے بچوں کی شرح اموات زیادہ ہے۔ غذائی قلت کی سطح بھی اطمینان بخش نہیں ہے۔ صحت کے تقریبا تمام معیار پر گجرات پورے ملک کی اوسط شرح سے نیچے ہے۔ دیگر علاقوں کے مقابلہ میں گجرات کے اقلیتی اور دلت گروپوں کی حالت بھی اچھی نہیں ہے۔ گجرات کی مثال یہ سمجھنے کیلئے کافی ہے کہ سیاست میں شہری صحت کی خدمات جیسے اہم مسائل پر تبادلہ خیالات نہ ہونے کے برابر ہے۔کسی بھی ملک کی مجموعی ترقی کا ماڈل صحت اور تعلیم کے بغیر نامکمل سمجھا جاتا ہے۔ یہ دو ایسی بنیادیں ہیں ، جن پر کسی بھی ملک کے نہ صرف موجودہ ترقی کے عنصر دیکھے جاتے ہیں ، بلکہ آنے والے وقت میں ہونے والے ترقی کے بیج بوئے جاتے ہیں۔ ماہرین اقتصادیات کی طرف سے مجموعی ترقی کے مقابلہ میں اقتصادی ترقی کی بحث کا زیادہ سے زیادہ وضاحت انہی دونوں کسوٹیوں کی بنیاد پرکسی جاتی ہے۔ اور جب ترقی کیساتھ بنیادی ضروریات کی جوابدہی اور بہتر زندگی جینے کے حق جڑ جائیں تو ظاہر سی بات ہے کہ ترقی پذیر ممالک کیلئے ان کی ترقی کے معنی صرف اقتصادی اضافہ کی پہلے سے مقرر ہ شرح حاصل کرنے تک محدود نہیں رہ جانے چاہئیں۔
 
ناکامی پر غور کرنے کی ضرورت:
 ہندوستان میں شہریوں کی صحت سے متعلق مسائل کے نستار پر کم و بیش یہی صورتحال ہے۔ اس ضمن میں مشہور ماہر اقتصادیات امرتیہ سین کا کہنا ہے کہ پارلیمنٹ سے لے کر میڈیا کی مین سٹریم ، یہاں تک کہ وسیع پہنچ والے سوشل میڈیا میں صحت کی خدمات ، ان سے وابستہ منصوبوں کی کامیابی یا ناکامی ، وجہ اور تمام دیگر اہم مسائل پر ہونے والی بحث نہ کے برابر ہے۔ ہندوستان جیسے ملک کے تناظر میںجس ترقی کی بات کی جاری ہے ‘صحت کی خدمات کی صورتحال کے پیش نظر وہ کتنا درست یا دوستانہ ہے ؟ اس کیلئے صحت کامیابیوں کیساتھ ناکامی پر بھی غور کرناضروری ہوگا۔ ایک طرف توملک پولیوسے نجات حاصل کرنے کا نہ صرف دعوی دار ہے بلکہ اس پر فخربھی کیا جاتا ہے ، لیکن اس بات پر دھیان نہیں جاتا کہ ایسی دیگر بیماریوں کے خاتمہ میں ہندوستان بنگلہ دیش سے بھی پیچھے کیوں ہے۔ عالمی بال صحت پر مبنی یونیسیف کی تازہ رپورٹ میں ہندوستان کی ویکسی نیشن کی شرح دنیا کی سب سے کم شرح میں سے ایک ہے۔ صرف خسرہ اور پولیو کوچھوڑ دیں تو کچھ کافی پسماندہ افریقی ملک ، افغانستان ، ہیٹی ، عراق اور پاپوا نیو گنی ہی اس معاملہ میں ہندوستان سے کم ہیں۔ بنگلہ دیش جیسے ترقی پذیر ملک نے تو اس شعبہ میں95 فیصد تک ویکسی نیشن کی شرح حاصل کر لی ہے۔تشویشناک بات یہ ہے کہ منصوبوں کی آڑ میں ان باتوں پر برائے نام بحث کی جاتی ہے اور اس لئے کوئی ٹھوس قدم بھی نہیں اٹھایا جاتا۔ ایک مثالی جمہوریت میں منصوبوں کی کامیابی بہت کچھ اس بات پر منحصر کرتی ہے کہ لوگوں کے درمیان مسائل کو کتنانمایاں کیا جارہا ہے اور ان پر کیسے بحث کی جارہی ہے۔

126 ویں مقام پر؟
اگر صحت عامہ سے وابستہ اداروں کی طرف سے شائع انتخابی منشوریا منعقدہونے والے مذاکرات کو چھوڑ دیں تو سیاسی بیداری کے شعبہ میں اس کاقطعی فقدان ہے۔یہ بھی کہا جا سکتا ہے کہ آزادی کے بعد سے بعض معاملات میںہندوستان نے بہتر کیا ہے ، جیسے کہ بھکمری سے بچوں میں ہونے والے کواشرکور اور مراسمس جیسی بیماریوں کو کنٹرول کیا ہے ، بچوں کی شرح اموات اور بالغ کی شرح اموات میں بھی کمی آئی ہے ، لیکن آج بھی بچوں کی شرح اموات44 فی ایک ہزار پیدائش ، اور ماں کی اموات کی شرح2 سو12 فی لاکھ پیدائش پر ہے ، جو حکومت کی طرف سے چلائی گئی تمام اسکیموںبشمول دق سے متعلق اسکیم، انوائسز بچے ترقی اسکیم وغیرہ کے عمل کی خامیوں کو اجاگر کرتا ہے۔ یونیسیف کی تازہ رپورٹ کے مطابق بھکمری کے شکار بچوں کی تعداد اور خواتین کی غذائی قلت میں ہندوستان سب سے آگے ہے۔اس بارے میں 1996 میں آل انڈیا انسٹیٹیوٹ ادارہ عرف ایمس کے اس وقت کے ڈائریکٹر وی رامالنگ سوامی نے اپنے ایک اہم مطالعہ میں بتایا تھا کہ جنوبی ایشیا کے ممالک اور خاص طور پر ہندوستان میں بچوں اور خواتین کی سماجی اور اقتصادی حالت ان کے غذائی قلت اور خراب صحت میں ایک اہم عنصر ہے۔ قومی خاندان صحت سروے کی رپورٹوں کو بھی اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ بچوں کی صحت ان کی ماو ¿ں کی صحت سے وابستہ اقتصادی اور سماجی عوامل پر انحصار کرتا ہے۔عالمی ادارہ صحت کی انٹر ایجنسی گروپ رپورٹ 2013 اور یونی سیف نے ہندوستان کو ماو ¿ں کی اموات کی شرح کی بنیاد MaternalMortalityRatio پرجاری ٹرینڈ کو دیکھتے ہوئے ایک سو80 ممالک میں ایک سو 26ویں مقام پر رکھا ہے۔ ان کے حساب سے ہمارے یہاں خواتین میں انیمیا ( انیمیا ) کی سطح بھی تشویش ناک ہے۔ 5.7 کروڑ خواتین میں سے 3.2 کروڑ اس مسئلہ سے دوچار ہیں جبکہ بچے کی پیدائش کے دوران مناسب اور فوری علاج میسر نہ ہونے پرماں اور بچے دونوں کی زندگی خطرہ میں پڑ سکتی ہے۔
 
جوابدہی سے بے نیازی:
دوسرا سوال علاج پر ہونے والے سرکاری اخراجات کا ہے جبکہ گزشتہ20 سال کے دوران جی ڈی پی محض ایک فیصد تک محدود رہا۔ یو پی اے حکومت نے 2004 میں دعوی کیا تھا کہ اپنے عام بجٹ میں کم از کم پروگرام کے تحت صحت پر ہونے والے اخراجات کو جی ڈی پی کے دو سے تین فیصد تناسب تک لے جائے گی۔ لیکن ہوا اس کے برعکس ، یہ تناسب مزید کم ، یعنی 0.9 فیصد تک گر گیا جبکہ عالمی سطح پر یہ اوسط 6 فیصد سے زیادہ ہے۔ محض 9ممالک ایسے ہیں ، جن کا صحت خرچ ہندوستان سے ذراکم یا کم و بیش اس کے برابر ہے۔دوسری بات جو اس سے بھی اہم ہے کہ صحت خدمات کی توسیع میں حکومت کا ایک ذمہ دار ادارہ کے طور پر صرف کرنا۔ یہ اس لئے موضوع بحث ہونا چاہئے کہ ہندوستان کے زیادہ تر عوام دیہی ہیں ، یہاں کی صحت کے مسائل ترقی یافتہ ممالک سے مختلف ہیں۔ہندوستان میں غربت ، آمدنی میں عدم مساوات ، صحت کی خدمات پر ان کی آمدنی کے بیشتر حصہ کا خرچ ہونا ہے، صحت کی خدمات کی توسیع میں علاقائی عدم مساوات ، سماجی عنصر ، بیماریوں کی نوعیت وغیرہ ایسے اہم عناصر ہیں ، جو صحت کے نظام کو بہت گہرائی سے متاثر کرتے ہیں۔ اس لئے اس بات پر بہت تفصیل سے سوچنے اور بحث کرنے کی ضرورت ہے کہ کن ادارہ ابلاغ اور کتنی مو ¿ثر طریقہ سے عوام کو صحت کی خدمات فراہم کرتے ہیں۔اگر اس نقطہ نظر میں دیکھیں تو ہندوستان میں حکومت کل اخراجات کا ایک تہائی سے بھی کم ان کی خدمات پر خرچ کرتی ہے جبکہ ترقی یافتہ ملک جیسے شمالی امریکہ ، یوروپی یونین کے ممالک میں حکومتیں علاج پر 70 سے 85 فیصد تک صرفہ کرتی ہیں۔تیسری بات یہاں ان کی خدمات کی توسیع میںدرپیش اناڑی پن اور جوابدہی سے بے فکری عیاں ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر ، بین الاقوامی آبادی سائنس ادارہ ، ممبئی کی طرف سے اس موضوع پر منعقد ایک سروے کے مطابق ، سرکاری صحت مراکز کے صحیح طور پر کام کرنے کی ضرورت وسائل کا شدید فقدان پایا گیا۔
 
ڈاکٹر اور آبادی کا عدم تناسب:
بنیادی سہولیات جیسے بستر ، آلات ، ضروری ادویات ، ٹیلی فون کیساتھ ساتھ صحت ، ڈاکٹروں کا ان میں فقدان ہے۔ یہ کمی بہار ، مدھیہ پردیش ، جھارکھنڈ ، اوڈشا جیسے پسماندہ ریاستوں میں تشویشناک سطح تک ہے۔ راجستھان میں منعقد ایک سروے میں پایاگیا ہے کہ بہت سے مقامات پر بنیادی صحت مرکز کے ڈاکٹر یا دیگر کارکنان کے فقدان میں بند پڑے ہیں۔ ایسی دیگر کئی مثالیں ہیں ، جو اس نظام کی خامیوں ، خدمات کی غیر مساوی تقسیم ، ان سے پیدا ہونے والے علاقائی عدم توازن جیسے عوامل کو ظاہر کرتے ہیں۔ اس کا نتیجہ بھی واضح دیکھنے کو مل رہا ہے؛ ذاتی صحت کے شعبہ کا قائم ہوتاہوا تسلط۔قومی دیہیْ صحت منصوبہ کی 2012 کی رپورٹ کے مطابق صحت خدمات فراہم کرنے میں ذاتی شعبہ کی شرکت 75 فیصد تک ہے اور تقریبا اتنا ہی فیصد ذاتی سطح پر کام یا پریکٹس کرنے والے ایلوپیتھک ڈاکٹروں کی ہے۔ 1946 میں صحت کی خدمات پر فیس بک کیلئے تشکیل دی گئی بھورے کمیٹیBhore committee نے پہلے ہی اس مسئلہ پرروشنی ڈالی گئی تھی کہ سرکاری ڈاکٹر پرائیویٹ پریکٹس میں مصروف ہیں۔علاقائی عدم مساوات کی ایک وجہ دیہی علاقوں میں سرکاری ڈاکٹروں کی عدم دلچسپی بھی ہے ، جس کی تصدیق 2011 میں قائم اعلی سطحی صحت کمیٹی کی رپورٹ سے ہوتی ہے کہ شہری اور دیہی علاقوں میں ڈاکٹر اور آبادی کا باہمی تناسب بہت غیر مساوی ہے۔ ماہر ڈاکٹروں کے 40 فیصد عہدے خالی پڑے ہوئے ہیں۔ ایسے میں مریض اور ان کے اہل خانہ کے پاس دو ہی طریقے رہ جاتے ہیں۔ یا تو قرض لے کر کسی ذاتی ڈاکٹر کے پاس جائیں ، شہر میں رہ کر علاج کروائیں یا پھر مریض کو مرنے کیلئے نیم حکیم یا گھریلو علاج پر چھوڑ دیا جائے۔

پوری ہونگی مثبت توقعات؟
شاید اسی وجہ سے لوگوں کی آمدنی کا زیادہ تر حصہ علاج پر ہونے والے اخراجات میں چلا جاتا ہے ، جس سے ان کی بچت پر تو اثرپڑتا ہی ہے جبکہ خط افلاس سے نیچے زندگی گذارنے والوںکیلئے ان خدمات کا حصول ناممکن ہو جاتا ہے۔ تمام رپورٹوں اور آزادانہ طور پر کئے گئے جائزوں سے بھی یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ ذاتی علاقے کے ہسپتال یا ڈاکٹر من مانی فیس اور غیر ضروری ٹیسٹ یا مہنگی ادویات تجویز کرکے جیبوں پر ڈاکہ ڈالتے ہیں۔ قومی نمونہ سروے کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ علاج پر اوسط اخراجات سرکاری شعبہ کے مقابلہ ذاتی شعبہ ڈھائی گنا زیادہ ہے۔ یہ دیہی اور شہری دونوں علاقوں کی حقیقت ہے۔ان تمام باتوں کے پیش نظر ، اگر ہم صحت جیسی بنیادی ضرورت کو شہریوں کے حقوق کے طور پر دیکھنا چاہتے ہیں ‘جبکہ کانگریس نے اپنے منشور میں کہا بھی ہے‘ تو پہلے اس بات پر وسیع بحث کرنے کی ضرورت ہے کہ اسے کن اداروں کے ذریعہ زیادہ توسیع کی جائے۔ ہندوستان میں اقتصادی ، سیاسی اور سماجی تینوں اداروں سے مثبت توقعات وابستہ ہیں۔یو ں بھی جمہوری سوشلسٹ ملک میں تو یہ تینوں ہی ایک دوسرے کیلئے لازم و ملزوم ہیں۔

ایس اے ساگر

Last modified on Thursday, 15 May 2014 19:46
Login to post comments