×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

لباس کے آئینے میں

May 04, 2014 506

ہم اردو خوانوں کی اکثریت جن معاشروں سے جڑی ہوئی ہے وہاں مہذب لباسوں کو ہر دور میں پذیرائی حاصل رہی ہے۔ آج بھی ایسی ہی

صورتحال موجود ہے۔ جہاں صاف ستھرے لباسوں جو شاید زیادہ مہنگے بھی نہ ہوں کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور بہت حد تک ایسے لباس ایک معتدل شخصیت کی بھی نشاندہی کرتے ہیں۔ جو بنیادی طور پر اپنی سوچوں میں مثبت اور معاملات سے نمٹنے میں فراخدلی کا نمونہ ہوسکتی ہے۔

ہم برصغیر پاک و ہند سے جڑے معاشروں سے لوگ ایسے کرداروں سے اپنے آبائی معاشروں میں بھی جان پہچان رکھتے رہے ہیں اور آج یورپ اور برطا نیہ میں بھی کسی حد تک اس حوالہ سے ایک مثبت ماحول موجود ہے۔ روزمرہ کی معمولات مثلاً ملازمت کے سلسلہ میں دفاتر جانا۔ اپنے دینی فرائض کیلئے دینی مراکز میں حاضری دینا یا شہر کی کاروباری زندگی میں اپنا کردار ادا کرنا تقریباً ہر کسی کو ایک معقول صاف ستھرے لباس میں آتے جاتے دیکھا جا سکتا ہے۔ جہاں یہ ایک اچھی صفت ہے وہاں مجبوری بھی ہے اکثر ماحول اور کمپنیوں کے مالک گندے لباس اور نہائے دھوئے بغیر لوگوں سے جلد یا بدیر خلاصی حاصل کرلیتے ہیں۔پچھلے چند سال کے دوران انگریز مردوں میں ایک روش چلی کہ اپنے آپ کو صاف کئے بغیر زندگی کے معاملات نمٹائے جائیں اور اس سو چ کا دفاع یہ کہہ کر کیا گیا کہ ہم دنیاوی تزئین و آرائش سے دور رہ کر اصلی اور حقیقی زندگی (انکی نظر میں) گزارنا چاہتے ہیں مگر بات زیادہ آگے نہ بڑھ سکی۔ ہر طرف سے شکایات کے انبار لگ گئے اور اب ایسی سوچ و عمل والے کردار بہت کم ہی نظر آتے ہیں۔ قابلت تعریف بات یہ ہے کہ ایسی سوچیں اپنی کمیونٹی میں کہیں بھی نہیں ملتیں۔ مگر لباس کے معاملہ میں کچھ تو جہ طلب معاملات ضرور موجود ہیں۔ ہمارے کمیونٹی میں سے اکثریت کئی وجوہات کی بنا پر مشکلات اور پریشانیوں میں گھری ہوئی ہے اور ہر کوئی اپنی عقل و دانش کے مطابق آسانیوں کی طرف بڑھنے کیلئے کوشاں اور مصروف لگتا ہے۔ مشکلات میں گھرے ماحول میں ہر قسم کے معاملات پر بھرپور توجہ رکھنا ایک مشکل مگر ضروری امر ہے۔ انفرادی غفلت اجتماعی پریشانیوں کی وجہ بن سکتی ہے۔ نقل مکانی کا عمل بذات خود ایک بڑی مشکل اور طویل آزمائش کا نام ہے۔ پھرمغربی دنیا کے معاشروں میں ہماری ایڈجسٹمنٹ بھی کبھی نہ ختم ہونیوالی تگ و دو ہے۔ ان تمام مراحل کے د وران ہم مسلمانوں بالخصوص بر صغیرپر ہر کوئی ہر وقت ایک تنقیدی نگاہ جمائے بیٹھا ہے۔
 برطانیہ میں موجود16 سو کے قریب مساجد اس بات کی گواہ ہیں کہ یہاں کے مقامی لوگوں بالخصوص انگریزوں کو اسلام سے کوئی دشمنی نہیں ہے۔ بلکہ اتنی بڑی تعداد یہ واضح کرتی ہے کہ یہ لوگ اس کی ترقی اور پھیلائو کے متمنی بھی ہیں۔ یقیناً ہمارے پاس اس کے خلاف کوئی دلیل موجود نہیں۔ یہ ہماری اپنی کارروائیاں ہیں جو خود ہمارے لئے اور نتیجتاً دوسروں کیلئے بھی پریشانیوں کی وجوہات بنتی ہیں۔ اور پھر ان کے نہ رکنے کی وجہ ہم سے دوسروں کی جائز ناراضگیوں سے تعلق رکھنے والی اکثریت نے کم تعلیم یافتہ ہونے کے باوجود معاملات نبھائے لوگ درخت کو نشان بنا کر فیکٹری آیا جایا کرتے تھے۔ مگر صاف ستھرے لباس میں کام پر جانا ہمارا اجتماعی خاصہ اس وقت بھی تھا۔ جس میں موجودہ ماحول میں کئی دراڑیں پڑی دیکھنے کو ملتی ہیں۔
 پچھلے بیس، پچیس سال میں خواتین کی ایک بڑی تعداد بھی برطانیہ اور یورپ آچکی ہے۔یقیناً ہر گھر کو اچھے انداز میں چلانے کیلئے ہرکسی کو حصہ ڈالنا پڑتا ہے۔ اور یہ بھی درست ہے کہ زیادہ بوجھ ایشیائی مسلمان خواتین کو ہی اٹھانا پڑتا ہے۔ برطانوی ٹیلیویژن پر ایسے خاندانی ماحول جن سے ہم مانوس ہیں دیکھنے کو نہیں ملتے۔ کیونکہ بدقسمتی سے انگریز معاشرہ جو برطانوی ٹیلیویژنوں پر 100فیصد چھایا ہوا ہے میں خاندان کا کوئی تصور موجود ہی نہیں۔ ہم نے جہاں (ہماری نظر میں) ان غیر معیاری پروگراموں کے اثرات سے اپنی نسلوں کو بچانا ہے۔ وہاں اپنی پریزنٹیشن سے منفی تاثرات بھی نہیں ابھرنے دینے۔ خواتین کے آنے سے ہر گھر میں حالات بہتر ہوجانے چاہئیںتھے۔ بچوں کے سکول لباس کے بارے میں کئی جگہوں سے غیر تسلی بخش رپورٹس پڑھنے کوملتی ہیں اور آج کل بڑی عمر کے مرد اور خواتین دونوں میں لباس کے بارے میں ایک غیر ذمہ دارانہ سوچ بھی دیکھنے کو ملتی ہے۔ یہ ذاتی مشاہدے کی بات ہے کہ انتہائی سردیوں میں بھی جہاں اکثریت خواتین نے اپنے آپ کو اچھی طرح ڈھانپ رکھا ہوتا ہے اور کوٹ پہن رکھے ہونگے۔ وہاں ایک بڑی تعداد نے بغیر جرابوں کے بوٹ پہن رکھے ہونگے۔ اور شدید سردی کی شکایت کرتی سنی گئی ہے۔ پوچھنے پر گھر میں محترمہ نے بتایا۔ بس یہ کچھ خواتین کی عادت سمجھی جائے۔ چلیں یہ آپ کی عادت رہی مگر بڑی تعداد میں اپنے بہن بھائیوںکا غیر استری شدہ اور ان بغیر دھلے لباسوں میں بازاروں میں خریدو فروخت کیلئے نکل جانا بھی دوسروں کیلئے آپ کے متعلق اور اس طرح مسلمان کمیونٹی کے متعلق اچھا تاثر نہیں پیدا کرتا۔
شاید ہم میں سے بہت سے سہل پسندی کا شکار ہوگئے ہیں۔ میاں بیوی دونوں کو ایک سوچ اور عمل سے آگے بڑھنا ہوگا۔ اور اگر ہم ایسا ماحول ہر گھر ہر خاندان اور کمیونٹی میں پیدا کر گئے تو آنے والی نسلیں کامیاب راہوں پرگامزن رہیں گی۔ ہم سب نے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر برداشت اور محبت کے جذبوں کو ساتھ لئے مشترکہ مقاصد جس میں اسلامی تشخص کو برقرار رکھنا سرفہرست سمجھا جانا اور خطرات کے پیش نظر ہر طرح پرمغز دفاع کی طرف بڑھنا ہے۔ ضرورت ہے کہ ہم دوسروں کے ساتھ مل کر کام بھی کریں اور مثبت رویوں اور کردار کے ذریعہ اس معاشرہ میں اپنا مقام محفوظ کرنے کے سفر کا آغاز کریں۔ چھوٹے چھوٹے مثبت اقدامات بہتر ماحول پیدا کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ آئیں جو کچھ ہم سے ہوسکے وہ ضرور کریں۔خود اپنے اور بچوں کے لباسوں پر توجہ دینابڑی تصویر کا ایک چھوٹا سا حصہ ہے۔
راجہ اکبر داد خان۔۔۔ لوٹن

Last modified on Friday, 24 January 2020 11:37
Login to post comments