×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

اس کا مزاج روایتی طو رپر سیکو لر رہا ہے

May 04, 2014 764

کر اچی پاکستان کی صنعتی اور اقتصادی راجدھانی ہے ۔ یہ بنیادی طو ر پر ایک کا سمو پو لیٹن شہر ہے او رایشیاء کی سب سے بڑی  بندر گاہوں میں سے

ایک ہے ۔ ہندوستان  کی تقسیم کے بعد ہندوستان سے آنے والے مہا جرین کی یہ سب سے بڑا مسکن ہے ۔ اس کا مزاج روایتی طو رپر سیکو لر رہا ہے لیکن  مذہبی انتہا  پسندی نے اس شہر کو بھی آلو دہ کر دیا اور اب وہ القاعدہ کے بڑے مراکز میں یس ایک ہے ۔ یہاں نسلی منافرت کی مثالیں تو دیکھنے کو ملتی تھی ۔ گاہے گاہے شیعہ ، سنی فسادات بھی ہو ئے تھے ۔ لیکن دہشت گر دی نے اب بری طر ح اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے ۔

 ڈورون حملے کے خو ف سے القاعدہ نے قبائلی علا قوں سے اپنے اڈے کراچی کی طر فمنتقل کر نے شروع  کر دئے ۔ لیکن اس شہر میں القاعدہ کی سر گر میاں لمبے عرصہ سے جا ری ہیں  2003میں القاعدہ کا ایک منصو بہ سازو ولید گر فتار ہو ا اور یہ سامنے آئی کہ القاعدہ نے کر اچی میں واقع امریکی قونصل خانہ کو گ ولہ بارود سے بھر ے ہو ئے ایک طیارہ سے اڑانے کی سازش رچی تھی ۔ اس کا انکشاف خو د ولید نے کیا جس نے امریکہ میں ہو نے حملے کی منصوبہ بندی میں اہم رول ادا کیا تھا ۔ در اصل  2001کے اواخر میں ہی القاعدہ کے جنگجوؤں نے کراچی کو اپنا مسکن بنانے کی شروعات کر دی تھی ۔ ان کا طر یقہ کا ر بہت آسان اور سادہ سا تطا ۔ مقامی جہا دی تنظیموں کو یہ ہدایت دی گئی تھی کہ کسی بھی حملے کی منصوبے بندی کر نے سے کم از کم دو ماہ قبل وہ کر اچی شہر کے اندر کر ایہ پر اپارٹمنٹ حا صل کر لیا کر یں او رپھر اگلی ہدایت جا انتظار کر یں ۔2002 تک القاعدہ نے پو رے طو رپر کر اچی میں اپنا مضبو ط مر کز قائم کر لیا ۔ القاعدہ نے کر اچی  کا  انتخاب اس لئے کیا کہہ یہ شہر نسلی اور مسلکی تشدد کے لئے مشہو رتھا ۔ اس شہر میں القا عدہ کی آمد کے بعد یہ ہو ا کہ بڑھتی ہو ئی مجرمانہ سر گرمیوں کے باعث جو مسئلہ جڑ گیا یعنی خود کش بمباری کی لپیٹ میں یہ شہر بھی آگیا ۔ القاعدہ کی دہشت گردانہ کار روائیوں کا انکشاف کر اچی میںپہلی بار  2002میں اس وقت ہو ا جب مئی 2002میں فرانسی بحریہ کے کچھ افسران ہلا ک ہو گئے تھے یہ پہلا خو د کش حملہ تھا ۔ پہلی بار یہ بھی ہو ا تھا کہ القاعدہ کے اس منصوبہ میں ایک مقامی جہا دی گر وپ حر کت المجاہدین العالمی سے مدد لی گئی جبکہ بمباری خو د  القاعدہ کا تھا ۔ گو انتا  نا مو جیل میں پو چھ تا چھ کے دوران خالد شیخ محمد نے پو ری وضاحت کے ساتھ بتایا کہ کس طر ح القاعشہ نے سندھی نو جو انوں کو اپنی صفوں میں بحال کر نا شروع کیا ۔ ایک اعلی و سیکو ریٹی اہلکار نے بتایا کہ خالد شیخ محمد نے یہ بھی انکشافگ کیا کہ القاعدہ کو شروچ شروع میں اپنے اس مقصد میں کا میابی بھی ملی یہ صوبہ سندھ میں القاعدہ کو ایسے بہت سے ممبران مل گئے جنہو ں نے افغانستان میں القاعدہ کا ساتھ دیا تھا اور لڑائی میں شریک ہو ئے تھے ۔ ان  نو جو انو ں کا تعلق سندھ کے ضلع سکر سے تھا ۔ خالد شیخ محمد نے یہ بھی بتایا کہ کر اچی سے ہم اپنے ان بھائیوں کو سندھ کے محفوظ مقامات کی طر ف بھیج دئے تھے تاکہ وہ وہاں چھپے رہیں اور مو قع ملتے پی بلو چستان اور ایران کے راستے  عراق کو کوچ کر جا ئیں ۔ بہر حال اس کے ایک مہینہ بعد صدر جنرل پر ویز مشر فاور امریکی قو نصل خانہ کو نشانہ بنایا گیا۔ اس سال گر میوں کے موسم میں  القاعدہ کے جن 422دہشت گر دوں کو پا کستان نے امریکہ کے حو الے کیا انممکیں سے 86صرف کر اچی شہر سے پکڑے گئے تھے ۔ القاعدہ کے خلا ف جو کا رروائی شروع کی گئی اس میں سب سے اہم کا میابی یہ تھطی کہ رمزی انشائبہ کو گر فتار کیا گیا ۔ رمزی کسی زما نے میں القاعدہ کے ہیمبرگ سیل سے وابستہ تھا۔ یا د رہے کہ خالد شیخ محمد کو 2002میں القاعدہ کا آپریشن  چیف بنایا گیا تھا ۔ اس نے لشکر جنگجوی کے ساتھ مل کر ایک ایسا گروپ تشکیل دیا جو کراچی کے صاف ستھرے اور مہنگے علا قوں میں واقع فلیٹ سے اپنی کا راوائیاں جا ری رکھتا تھا ۔ یہ فلیٹ ڈی ایچ اے ( DHA ٰٓ ) اوربہادر آبادی کے علا قے میں واقع تھے ۔ خالد شیخ محمد کے خفیہ ٹھکا نے کا سراغ اس وقت ملا جب جو ن   2002میں الجزیرہ کے ایک اینکر کو مدعو ں کیاگیا کہ وہ کراچی آکر خالد شیخ محمد اور رمزی کا انٹرویو 2003جونری میں القاعدہ کے ایک آسٹریلیا ئی دہشت گر د جیک تھا مس کو کر اچی میں گر فتار کیا گیا۔ اسی سے ملی ہوئی اطلا عاتی کی بنیاد پر خالد شیخ محمد کی خفیہ کمیں گاہوں کا پتہ چلا  اور بالآخر ما رچ میں اسے گر فتار کر لیا گیا ۔  لیکن اس وقت تک کا فی دیر ہو چکی تھی ۔ اگر وہ اس سے پہلے گر فتار کر لیا جا تا تو اسٹریٹ جنرل کے صحافیوں ڈینیل پرل کا اس بے دردی سے گلا نہ کا ٹا  گیا ہوتا ۔ یاد رہے کہڈپنل پرل کا سر دھڑ سے جدا کر دیا گیا ۔ ایک بات اور قابل ذکر ہے کہ اگر خالد شیخ محمد کی گر فتاری پہلے عمل میں آگئی ہو تی تو القاعدہ کو یہ مو قع نہ ملتا کہ لشکر جنگجو ؤی وار دوسرے مقامی جہادی گروپو ں سے اتنا مضبو ط  رابطہ قائم کر سکیں ۔ مقامی جہادیوں  گروپ میں جند اللہ گر وپ بھی شامل  تھا ۔ جند اللہ نام کی تنظیم کا کراچی باب ایک سر گرم طا لب علم  عطا ء الرحمٰن نے قائم  کیا تھا ۔ شروع میں تو یہ گر وپ 20اعلی ٰ تعلیم یافتہ نو جو انوں پر مشتمل تھا ۔ لیکن رفتہ رفتہ یہ تنظیم مستحکم ہو تی گئی ۔ اس نیں جو نو جوانوں شال ہو ئے ان کی عمریں 20سے تیس سال کی تھیں ۔ اس نے کر ا چی میں متعدد حملے کر ائے ۔ کر اچی کے کو ر کمانڈر احسن سلیم حیات پر اسی گروپ نے حملہ کیا تھا ۔ اور اسی نے امریکی قو نصل خانہ کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ اسکے علاوہ بھی کئی دہشت گرد انہ عملوں میں اس نے متعدد حملے کئے تھے ۔ 2004میں کر اچی پو لیس نے دونو ں پیشے سے ڈاکٹر تھے اور ان پر شبہ کیا جا رہا تھا کہ انہوں نے زخمی ہو نے والے اور مطلو بہ القاعدہ کا رکنوں کا اعلا ج کیا تھا ۔ ان دونوں بھائیوں کو 2005میں سات سال کی قید کی سزا سنائی گئی تھیں ۔ لیکن جلد ہی رہا کر دئے گئے ۔ جیل سے  رہا ہونے کے بعد ڈاکٹر ارشد وحید نے اپنی سر گرمیوں جنو بی وزیرستان منتقل کر دیں ۔ وہا ں ایک کلینک چلا تا تھا اور وانا میں رہ رہا تھا ۔بعد مںی وہ ایک امریکی ڈرون حملے میں ما را گیا ۔ القاعدہ کے میڈیا ونگ نے اپنا ایک ویڈیو ٹیپ بعنوان ’’ پناہ گاہ کے محافظ ’’ ڈاکٹر ارشد وحید کی یاد میں جا ری کیا گیا تھا ۔ اس میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ ڈاکٹر رشیدی کی القاعدہ سے گہری وابستگی تھی ۔   2006تک القاعدہ سینکڑوں  طلباء کو  اپنے نٹ ورک میں شامل کیا ۔ یہ کام ایک ویب سائٹ کے توسط سے انجام دیا جاتا تھا ۔  کراچی یو نیور سٹی میژ اس نے اپنا ایک بہت بڑا حلقہ قائم کر لیا نو جو ان طلباء کو بحال کر نے کے بعد ٹریننگ کے لئے انہیں وزیر ستان بھیج دیا جا تا تھا ۔ القاعدہ کے نو جوانوں میں ایک  26سالہ دہشت گرد یو سف بن محمد بھی تھا ۔ اسے خفیہ ایجنسیوں نے گرفتار کر لیا تھا ۔اور اس وقت وہ ایک ایسی جیل میں ہ جس کا علم کسی کو نہیں ہے ۔یو سف کے بیان کے مطا بق اسے ٹریننگ دینے کے بعد این ای ڈی (NED) یو نیور سٹی کے ایک وسرے طا لبانی کے ساتھ ایک سلیپر سیل میں کام کر نے کے لئے کہا گیا تھا ۔ یاد رہے کہ یہ یو نیور سٹی اسلامی  جمیعت طا لباء سے تعلق رکھتی ہے ۔ یو سف بن محمد کے مطا بق اس کے اور اس کے    ساتھیوں کو یہ کام سو نپا گیا تھا کہ وہ مقامی میڈیا پر نظر رکھیں اور جو کچھ نشر ہو تا ہے اس کے تراجم کریں ۔ یو سف کی فراہم کر دہ اطلا عات کے مطا بق اس وقت القاعدہ حملوں کی منصوبہ بندی کر نے والا اور سر مایہ مہیا کر نے والا سب سے بڑا دہشت گرد گروپ ہے ۔ جبکہ تحریک  طا لبان پا کستان کا قاری ظفر گر وپ کر اچی اور مضافات سے القاعدہ کو ہر طرح کی مدد پہنچانا ہے اور خود کش بمباری بھی مہیا کر تا ہے ۔ اسے محسود گروپ کی بھر پو ر معانت حاصل ہے ۔ القاعدہ کو اپنے آپریشن جا ری رکھنے کیلئے باہر سے مسلکی دہشت گرد تنظیموں سے بھر پو ر تعاون ملتا ہے ۔ ایسیتنظیموں میں لشکر جھنگوی اور جند اللہ پیش پیش ہیں ۔ کر اچی شہر میں القاعدہ کی قیادت گمنام لیکن حھر ناک یمنی دہشت گرد عبد المعید اسلام عرف سعید عبدالسلام کے ہاتھ میں  تھی بعد میں وہ گلستاں جو ہر منتقل ہو گیا ۔ سعید عبد السلام  براہ راست القاعدہ کے پا کستانی سر براہ ابو الشہری کے ماتحت کام کر تا تھا ۔ جو ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہو گیا جب پاکستان رینجرس نے اسے اپنے گھیرے میں لے لیا تو اس نے ایک دستی بم سے اپنے آپ کو اڑا لیا ۔ اس واقعے کے بعد کراچی میں رینجرس کو بڑح تو تر سے بموں کا نشانہ بنایا جا نے لگا ۔ اور القاعدہ نے ناظم آباد اور دوسرے علاقوں میں   واقع رینجرس کے دفاتر پر بم بر سا کر انہیں خاکستر کردیا۔ سندھ اور ایک اور ڈرون جنگجوں ہے اور نگی ٹاؤن سے تعلق رکھتا ہے قابل ذکر بات یہ ہے کہ طلعت القاعدہ کے سربرہ ڈاکٹر ایمن الظواہری کا پسندیدہ جنگجوں ہے۔
 الظواہری اسے بڑی قدر کی نگاہ سے دیکھتا ہے ۔ اسے القاعدہ میں حالد محمد شیخ نے ہی بھرتی کیا تھا ۔ اور یہ بات بھی قابل ذکر ہے کے نے نظیر بھٹو کو قتل کر نے کا منصوبہ بندی القاعدہ نے اسی کو سونپی تھی ۔ مختصر یہ ہیکہ القاعدہ نے کر اچی میں اپنے پنجے اتنی مـضبو ط سے گاڑ دئے ہیں کہ پا کستان کا یہ سب سے بڑا اور سب سے گھنی آبادی والا شہر اس کے شکنجے سے مشکل ہی سے نکل  پا ئے گا ۔ شمالی وزیر ستان تو چیز ایک ایسا خط ہے جس پر حکومت پاکستا ن کا سرے سے کو ئی کنٹرول ہی نہیں ہے اور جو دنیا بھر کے دہشت گرد وں کی محفوظ پناہ گاہ بنا ہو ا ہے لیکن کراچی جیسے شہری جب اتنا مضبوط نٹورک کا م کر رہا ہ تو یہ خطرہ بہت میادہ بڑھ گیا ہے کہ ایک نہ ایک دن دہشت گردوں کی رسائی نیو کلیائی ہتھیاروں تک ہو سکتی ہے ۔ یہ بات بھی نظر انداز نہیں کی جانی چاہئے کہ القاعدہ کو پاکستان کی تقریباً تمام دہشت گرد تنظیموں کی نہ صرف حمایت حاصل ہے بلکے وہ القاعدہ کے منصوبوں کو رویہ عمل لا نے میں ہر اول دستے کا کام کر رہی ہیں۔ کیا تحریک طا لبان سے بات چیت کر نے میں مصروف نواز شریف حکومت کو اس کا علم ہے ۔  
مبین ڈار

Last modified on Tuesday, 27 May 2014 12:52
Login to post comments