×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

کیوں ہوئے دھماکے؟

May 04, 2014 627

 کیا اسے محض اتفاق کہیں گے کہ مودی کیخلاف رپٹیں درج ہوتے ہی اگلے ہی روزجنوبی ہندکی ریاست تمل ناڈو کے دارالحکومت

چنئی میں ریلوے اسٹیشن پر جمعرات کی صبح2 بم دھماکے ہوگئے جن میں ایک خاتون کی موت واقع ہو گئی جبکہ14 دیگر افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات ہیں۔کون نہیں جانتا کہ نریندر مودی کارپوریٹ اور سیاست میں اتحاد کی پیداوار ہیں جبکہ سرمایہ کا سفاکانہ کردار مفاد پرستی پر مشتمل ہوتا ہے ،اس کے علاوہ اس اتحاد کا نہ کوئی مذہب ہے نہ فرقہ۔ ہر گزرتے ہوئے دن کیساتھ یہ حقیقت واضح ہوتی جا رہی ہے۔

 مودی کی اب تک کی سیاست کا یہی خلاصہ ہے۔ بی جے پی کی کل مشتہری ، اس پر خرچ کئے جانے والے اربوں روپے ،پشت پناہی میں مصروف ہندوستان کے تمام بڑے بڑے اجارہ دار گھرانے اسی حقیقت کے گواہ ہیں۔ مودی ازم یعنی مسولینی کا فاشزم یعنی کارپوریٹ ازم۔ہٹلر کا اصل ہتھیار تھا کہ اقتدار میں آنے کیلئے سماج کے ہر طبقہ سے اس کے تمام مسئلوں کے حل کا وعدہ کرو ، کیونکہ فتحیاب ہونے کے بعد کبھی کوئی جواب طلب کرنے کی ہمت نہیں کرتا۔ وہ پارلیمنٹ میں گیا تھا بحث کرنے کیلئے نہیں ،بلکہ بحث کو ہی ختم کرنے کیلئے ؛ پارلیمانی نظام کا احترام کرنے کیلئے نہیں ، پارلیمنٹ کو ہی تباہ کر دینے کیلئے۔ اس نے جنگ شروع کرنے سے قبل اپنے ساتھیوں سے کہا تھاکہ جنگ کے شروع کیلئے میں ایک مدلل پروپیگنڈا تیار کروں گا۔ یہ کبھی مت سوچو کہ وہ سچ ہے یا نہیں ، فتح کے بعد میں کوئی نہیں پوچھے گا کہ اس نے سچ کہا تھا یا نہیں۔ جنگ چھیڑنے اور چلانے میںصداقت کا کوئی مطلب نہیں‘محض کامیابی کا حصول ہی مقصد ہوتا ہے۔

جارح عزائم کا ریکارڈ:
شہ زوروں کے ہاتھوں انتخابات لوٹنے کی سچائی کوہندوستان کے باشندے گزشتہ40 سال سے ملک کے مختلف حصوں میں دیکھتے آئے ہیں۔ اس مرتبہ سرمایہ داروںنے پورے ملک کا انتخاب لوٹنے کی منصوبہ بندی تیار کی ہے۔ مودی کی انتخابی جلسوں میں کیمروں کی مدد سے ہجوم کو کئی گنا بڑھا کر تو دکھایا ہی جاتا ہے ، بھیڑ کا شدید شور بھی پہلے سے ڈب کیا ہوا ہوتا ہے۔ دولتمندوںکی طرف سے لوگوں کے ووٹوں پر ڈاکہ ہی فسطائی کارپوریٹ ازم ہے جبکہ مودی اسی کے نمائندہ ہیں۔ یہ ہندوستان کی جمہوریت کو کارپوریٹ گھرانوں کا کھلا ہوا چیلنج ہے۔کسی کو اشکال ہوتو وہ’اکنامسٹ‘The  Economist کا تازہ شمارہ دیکھ سکتا ہے جس کے سرورق پر مودی کی تصویرشائع ہوئی ہے اور یہ سوال کیا گیا ہے کہ کیا نریندر مودی کو کوئی روک سکتا ہے ؟Can  anyone  stop  Narendra  Modi? اس سے متعلق صفحات میں ہندوستان کے انتخابات پر دو صفحات پر مشتمل مضمون میں اسی سوال کے جواب کومدلل انداز میںپیش کیا گیا ہے۔ اس مضمون میں کانگریس حکومت کی ناکامیوں اور اس حکومت میں پھیلی ہوئی سیاسی بدعنوانی کا تجزیہ کیا گیا ہے۔ مودی کی سیاسی تاریخ ، آر ایس ایس سے ان کے تعلقات، ان کے اندر پیوست مسلم مخالفت اور گجرات کے فسادات کے وقت ان کے کردار کا بھی ذکر ہے۔ صاف کہا گیا ہے کہ ان فسادات میں مودی کیخلاف ثبوت اس لئے نہیں مل سکے کیونکہ ان ثبوتوں کو باقاعدہ تباہ کر دیا گیا ہے۔ان تمام حالات کا اندازہ کرتے ہوئے اکنامسٹ کی صاف اور واضح رائے یہ ہے کہ مودی ہندوستانی سماج میںتفریق پیدا کرنے والا مہلک عنصر ثابت ہوں گے۔ اسی لئے میگزین کا کہنا ہے کہ گاندھی کی قیادت میں کانگریس کی حکومت بننے کے آثار نظرنہ آنے کے باوجود ہم ہندوستان کے لوگوں سے نسبتا کم برے اختیارات کی سفارش کریں گے۔ ‘

 ’مودی پارٹی‘ کا قیام؟
اکنامسٹ کا یہ بھی کہنا ہے کہ مودی میں جدیدیت ،دیانتداری یا انصاف جیسا کچھ بھی نہیں ہے‘ ہندوستان کو اس سے بہتر ملنا چاہئے۔ اس مضمون میںاکنامسٹ نے این ڈی اے کے عناصرسے یہ اپیل بھی کی ہے کہ انہیں مودی کی بجائے کسی دوسرے شخص کو اپنا وزیر اعظم منتخب کرنا چاہئے۔اکنامسٹ کا کہنا ہے کہ مودی وزیر اعظم بن سکتے ہیں لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ اس کے قابل ہیں۔ایسے لوگوں کی کمی نہیں نہیں ہے جو کانگریس اور بی جے پی کو ایک ہی لکڑی سے نہیں ہانکتے ہیں۔ ملک کی کئی بیماریوں کی جڑ میںکانگریس کا نیا لبرل ازم ہونے کے باوجود وہ آج بھی عوام کے دباو کو قبول کرنے کی صلاحیت رکھتاہے۔ اس کے برعکس ، مودی کی قیادت کی حامل بی جے پی دراصل نئی اعتدال پسند پالیسیوں کو پوری شدت اور بے رحمی کیساتھ نافذ کرنے والی پارٹی ہے۔ اس نے گجرات میں اس کا ثبوت پیش کیا ہے۔ اب تو بی جے پی ماضی کی کوئی بھولی بسری اورگمراہ پارٹی ہو چکی ہے۔ جو سامنے ہے ، وہ تو مودی پارٹی ہے ، جس کا مقصد’ مودی حکومت‘ کو قائم کرنا ہے۔ مودی کے علاوہ اس میں دوسرا کوئی لیڈر نہیں ہے۔زہرمیں بجھی ہوئی تقریروں کیساتھ اب مودی اپنے اصلی رنگ میں آ گئے ہیں۔ گجرات کا جھوٹ کیا بے نقاب ہوا ، مودی ازم کی ترقی کا پروپیگنڈااوردکھاوا بھی بند ہو گیا ! پہلے مودی کی ترقی کی تکراراورگردان سے بعض لوگوں کو خوشگوار حیرت کا سامنا ہوا تھا۔ کچھ لوگوں کو محسوس ہوا کہ مستقبل کی سیاست اب محض ترقی پر ہوگی۔ لیکن یہ غلط فہمی اتنی قلیل المدتی ثابت ہوگی، یہ تو کسی نے سوچابھی نہیں تھا !

 آئین کی بنیادوں پر حملہ:
بی جے پی مخالف جماعتوں کو پاکستان کا ایجنٹ قرار دینے کے بعد اب مودی نے ہندوستان کے آئین کی بنیادوں پر حملہ کرنا شروع کر دیا ہے۔ جموںمیں اپنی تقریر کے دوران انہوں نے سیکولر ازم کیخلاف پھر اسی صلیبی جنگ کابگل بجایاجو آر ایس ایس اپنی پیدائش کے وقت سے ہی دوہراتی رہی ہے۔ اگریہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہا تودن دور نہیں جب مودی اپنی پیٹھ تھپتھپاتے ہوئے شیخی خوری کے بعد 2002 مسلم کش قتل عام کو فخر یہ طور پیش کرنے لگیں گے۔ سنگھی زبان میں وہ اسے گجرات کے مختلف علاقوں میں مسلم بستیوں کے طور پر موجود تمام چھوٹے چھوٹے پاکستانوں کو ویران کرکے اپنی’حب الوطنی‘کا ثبوت پیش کریں گے۔ ان کی زبان پر جلد ہی پھر رام جنم بھومی ، کاشی ،متھرا کی باتیں بھی ہونے لگیں گی۔ کون نہیں جانتا کہ آر ایس ایس کے بنیادی اصولوں میں شامل ہے کہ ہندوو ¿ں کی سینا بنائی جائے ، اقلیتوں کوملک مخالف ماننے اور ان کیساتھ’حسب مراتب‘ طرز عمل کرنے کی بات بھی کرنے لگیں تو اس پر تعجب نہیں ہونا چاہئے۔نریندر مودی کے اقتدار میں آنے سے جن خطرات کی بوآرہی ہے ، وہ پوشیدہ نہیں رہے ہیں۔ وہ اپنے حقیقی چہرہ کو جتنا چھپانے کی کوشش کرتے ہیں ، اتنا ہی بے نقاب ہواجاتا ہے۔ آر ایس ایس کے نظریات میںیہ شامل ہے کہ جو شخص سنگھ پریوار کا حامی نہیں ہے ، وہ ہندو نہیں ہے ،بلکہ پاکستان کا ایجنٹ ہے۔ نریندر مودی اسی شدت پسندی کو دہرا رہے ہیں۔ اس کے پس پشت ان کااپنا یقین بول رہا ہے یا کسی قسم کی گھبراہٹ ہے ، یہ نظریہ کا دوسرا موضوع ہے۔ وجہ س خواہ کوئی بھی کیوں نہ ہو ، آج انہوں نے الیکٹرانک ذرائع کا منہ چاندی کے سکوں سے ایسابھرا ہے اورایسی مالکانہ دھونس جمائی ہے کہ اڈوانی جیسوں کی بھی چھٹی کرکے رکھ دی ہے۔ پریس اوراظہار آزادی رائے کیخلاف یہ حملہ ایمرجنسی کے دنوں کی یاد تازہ کر دیتا ہے۔ ہندوستان کی آزادی اظہار کی آزادی پرمودی ایک بڑا خطرہ ہیں۔
 
فرقہ وارانہ عناصرمتحد:
آر ایس ایس کا کوئی آئین نہیں تھا۔ اسے سردار پٹیل نے زبردستی اس وقت گولولکر پر دباو ¿ ڈال کر تیار کروایا تھا جبکہ گاندھی جی کے قتل کے بعد گولولکر جیل میں تھے۔ آئین کی عدم موجودگی پر آر ایس ایس کا کہنا تھا کہ ہندو مشترکہ خاندان کا بھی کیا کوئی آئین ہوتا ہے ! یہ تو ایک غیر تحریر شدہ ، صدیوں کی روایات سے خود طریقہ کارہے جس میں خاندان کے سربراہ والوں کی خواہش سر فہرست ہوتی ہے ، اسے کوئی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔ مضحکہ خیز طریقے سے وہ سنگھ کے نسخہ کو’ ایشوریہ کام ‘یا مشیت ایزدی مانتے ہوئے گیتا کے شلوکوں کو بھی حوالہ کے طور پر پیش کیا کرتے تھے کہ’یدایداہی دھرمسے…‘بی جے پی نے بھی اپنا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔ اس کی خواہش اور روایت ہی منشور ہے ، کیونکہ اسے کبھی چیلنج نہیں کیا جا سکتا۔مزید یہ کہ مودی تو ساکشات بھگوان بھی ہے‘ ہر ہر مودی ! مہادیو کا نیا اوتار ! پھر کیسا منشور ، کیسا آئین !جامع مسجد دہلی کے امام بخاری سے سونیا گاندھی کی یہ اپیل کہ سیکولر ووٹوں میں تقسیم نہیں ہونا چاہئے ، آئندہ انتخابات کے سارے تجزیوں کو بدل دینے والا ایک’ ماسٹر اسٹروک‘ ثابت ہو سکتا ہے۔ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ بخاری کے قبضہ میں کوئی مسلم ووٹ ہے یا نہیں۔ فرق پڑتا ہے سونیا گاندھی کی اس اپیل سے۔ یہ ووٹروں کے بڑے حصہ کے دل کے تاروں کو چھیڑ سکتا ہے۔ بی جے پی نے نریندر مودی کو سامنے لا کر تمام فرقہ وارانہ عناصر کومجتمع کرنے کا کام شروع کیا تھا ، اس کا معقول جواب تمام سیکولر قوتوں کا اتحاد ہی ہو سکتا ہے۔ سونیا گاندھی نے یہی اعلان کیا ہے۔سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جن عناصر کو رام دیو جیسے مذہبی رہنماو ¿ں کا استعمال کرنے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ اور تکلف نہیں ہوتا ، وہ امام بخاری سے سونیا گاندھی کی ملاقات اور ان سے اپیل کرنے پر اتناکیوں بھڑک گئے ؟

جمہوری اصولوں کی مخالفت:
مذہبی رہنماو ¿ں کوہمیشہ صف اول میں رکھ کر سیاست کرنے والے آر ایس ایس اور بی جے پی کے لیڈر جب امام بخاری سے سونیا گاندھی کے ملنے اور ان سے درخواست کرنے پر مشتعل ہوتے ہیں تو ان کارویہ قابل دیدہوتا ہے۔ 2002 کے دوران گجرات میں مارے گئے ہزاروں بے قصور آج ہندوستان کے لوگوں سے انصاف مانگ رہے ہیں۔ ہمیشہ بڑھ چڑھ کر ڈینگیں مارنے والے نریندر مودی 2002 کا ذکر آتے ہی ایک دم خاموش ہو جاتے ہیں۔ مودی کا یہ معنی خیزسکوت آخر کیا پیغام دیتاہے ؟ یہ اس بات کا اشارہ ہے کہ خدا نہ نخواستہ اس انتخاب میں اگر ان کو کچھ زیادہ سیٹیں مل گئیں تو وہ یہ کھل کر دعوی کریں گے کہ ہندوستان کے عوام نے 2002 کے قتل عام پر مہرثبت کر دی ہے۔یہ کبھی نہیں بھولنا چاہئے کہ آئندہ انتخابات میں ہندوستان میںفاشزم کیخلاف ایک فیصلہ کن جنگ ہوگی۔ اے بی پی نیوز والے بی جے پی کے قائدین سے پوچھ رہے تھے کہ مودی کی نام نہاد لہرکیوں رک گئی ہے ؟ انتخابات کے نتائج بتائیں گے کہ لہر تومحض میڈیا کا جلوہ تھا ، ڈرامہ کے آخیر میں پردہ گرتے ہی ،آنکھ کھلتے ہی اسے ختم ہوناہی تھا۔ بی جے پی کی بدبختی یہ ہے کہ وہ خود اس دھوکہ کا شکار ہو گئی۔اس کی حمایت میں ابھی سے طوفان کی بجائے داخلی انتشار کا دور شروع ہو گیا ہے۔ یہ بات صرف رہنماو ¿ں کے آنے جانے کی نہیں ہے ، بلکہ عام حامیوں کے ازدہام بھی منتشرہے۔مودی اور بی جے پی میں بڑھتی ہوئی کشیدگی پربڑا موٹا پردہ پڑا ہوا ہے۔ساو ¿نڈ پروف کمرہ میں ہنگامہ پرپا ہے تاکہ کہیں کسی بھی کونے سے ان کے احتجاج کا کوئی سر سنائی نہ دے سکے ، اس کیلئے سام ‘ دام ‘دنڈ‘بھیدپر مشتمل تمام اقدامات کا استعمال دراصل جمہوریت کے بنیادی اصولوں کیخلاف ہے جبکہ یہی پالیسی آئندہ انتخابات میں ان کی شکست کی علامت بھی ہے۔

ایس اے ساگر

 

Last modified on Tuesday, 27 May 2014 13:02
Login to post comments