×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

قرآن میں عورت کا مقام

March 08, 2014 1018

آج ساری دنیا women empowerment کی بات کر رہی ہے، اور اس عالمی یوم خواتین پر میں قران کے ذریعہ آج سے تقریباً ڈیڑھ

ہزار سال قبل کہی گئی women empowerment کی باتوں کو پیش کرنا چاہتی ہوں۔ اس مضمون کو لکھنے کی دو خاص وجہ ہیں جن کو  اپنی بات شرو ع کرنے سے پہلے بتانا ضروری سمجھتی ہوں؛ (روبینہ جاوید مرتضیٰ)

 (۱) انٹرنٹ کے ذریعہ google پر اسلام سے متعلق websites کو   searchکرتے ایسی کئی websites نظرسے گزری ہیں جو اسلام اور پیغمبر اسلام کے خلاف زہر اگل رہی ہیں دہشتگردی کے علاوہ سب سے اہم موضوع ہے کہ اسلامی قانون عورتوں کے حقوق کی پامالی کرتا ہے اور اس بات کوثابت کرنے کے لئے تاریخ کی کئی کتابوں کے حوالے بھی دئے جا رہے ہیں اور کئی قرانی آیات کو غلط طریقہ اور غلط معنی میں پیش کیا گیا ہے۔سوال یہ ہے کہ ایسے میں مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا فرض کیا ہے؟ کیا محض سڑکوں پر ایک روزہ مظاہرہ کرنا ،کوئی پتلا پھونکنا یا جھنڈا جلانے سے اس کا حل نکل آئیگا؟ کیا محض ایسا کرنے سے  اس دنیا کے وہ لوگ جن کے پاس اسلام کا پیغام نہیں پہونچا ہے وہ اسلام کی جانب متوجہ ہونگے ؟ کیا محض ایسا کرنے سے کسی انقلاب کے پیدا ہونے کی امید کی جا سکتی ہے؟ جی نہیں! کیوں کہ حقیقت میں جسے انقلاب کہتے ہیں وہ کبھی سڑکوں سے شروع نہیں ہوتا۔ بلکہ حقیقی انقلاب کی شروعات ہمیشہ انسانی ذہن سے ہوتی ہے، اور انسانی ذہن میں اسکی شروعات فکر کی اصلاح سے ہوتی ہے اور فکر کی اصلاح علم سے ہوتی ہے۔یعنی بنیاد علم ہے! علم کے بغیر انقلاب ممکن نہیں۔ اسی طرح اسلام پر اٹھنے والے سوالوں اور لگنے والے الزاموں کے لئے سب سے زیادہ ضرورت لوگوں کو قرآن کا علم دینے کی ہے۔


 (۲) دوسری وجہ پہلی وجہ سے کم ہوش اڑانے والی نہیں ہے اور وہ یہ ہے کہ خواتین کی ایک مجلس میں ایک مسلمان خاتون نے فرمایا کہ،’’دو چار آیتوں کے علاوہ پورا قران صرف مردوں ہی کے لئے ہے‘‘۔
 قرا ٓن عورت اور مرد دونوں کے لئے ہدایت ہے ۔’مذکر ‘ کے صیغے کہ معنی یہ نہیں ہے کہ خطاب ٖصرف مرد سے ہے بلکہ اگر مخاطب میں ۸ عورتیں اور ۲ مرد ہوں تب بھی عربی زبان میں ’ مذکر ‘ کا صیغہ ہی استعمال ہوتا ہے ،اور زیادہ اتر زبانوں میں ایسا ہی ہوتاہے اور کسی کتاب کو لکھنے کا انداز بھی یہی ہوتا ہے۔ مثال کہ طور پر اگر کوئی کہے ،’’کہ میرے گھر کے لوگ بہت اچھے ہیں میرا کہنا مانتے ہیں اورمجھ سے محبت کرتے ہیں ‘‘ ، تو کیا اس بات کو صرف اس گھر کے مردوں تک ہی محدود مانا جائیگا؟
کچھ آیات خاص طور پر عورتوںسے متعلق ہیں مگر ایسا ہرگز نہیں کہ ان آیات کے علاوہ دوسری آیات سے عورتوں کا کوئی سروکار نہیں۔
 
قران کریم کے مطابق عورت کی خلقت:
 سورۃ  التین میں اللہ تبارک و تعالیٰ کا ارشادہے کہ، ’’ لقد خلقناالِانسان فی احسن تقویم‘‘
ـَ’’ بیشک ہم نے انسان کو احسنِ تقویم پر پیدا کیاـ‘‘، غور طلب ہے کہ جس ’انسان‘ کی خلقت کو خدا احسنِ تقویم بتا رہا ہے، اس میں مرد بھی شامل ہیں اور عورت بھی ۔ اسکے علاوہ کئی جگہ قرآنِ کریم میں انسانی خلقت کا آغاز ایک ہی نفس سے کئے جانے کی بات آئی ہے، یہ اس بات کی دلیل ہے کی اللہ نے عورت اور مرد کو ایک دوسرے سے افضل یا کمتر خلق نہیں کیا ہے، ان میں جو فرق ہے وہ کسی کی کمی یا برتری کا سبب نہیں احسن تقویم کا شاہکار ہے۔


قران کریم کے مطابق عورت کی سماجی حیثیت:
اس ضمن میں چند قرانی آیات پیش خدمت ہیں:
’’اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اوربری باتوں سے منع کرتے ہیں اور نماز پڑھتے ہیں اورزکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں،یہی لوگ ہیں جن پر اللہ رحم کرے گا۔ بیشک اللہ غالب حکمت والا ہے‘‘۔ (9-70)
’’میں کسی عمل کرنے والے کے عمل کو خواہ مرد ہو یا عورت کبھی ضایع نہیں کرتا ،تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہی تو ہو،سو جن لوگوں نے ہجرت کی اور اپنے گھروں سے نکالے گئے اور میری راہ میں انھیں ایذائیں دی گئیں،اور دین کی خاطر لڑے اور مارے گئے ،تو میں ان کی برائیاںمٹا دوں گا اور ان کو ایسی بہشتوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی۔ یہ ہے اللہ کے یہاں ان کی جزا۔اور اللہ کے پاس بہترین جزا اور ثواب ہے‘‘۔(3-195)
’’جس نے نیک کام کیا مرد ہو یا عورت بشرطیکہ مومن ہو تو ہم اسے پاک اور پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے اور آخرت میں ان کا اجر ان کے بہتریں اعمال کے مطابق عطا کریں گے‘‘۔(16-97)
’’مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں،مومن مرد اور مومن عورتیں،فرماںبردار مرد اور فرماںبردار عورتیں،راست باز مرد اور راست باز عورتیں،خیرات کرنے والے مرد اور خیرات کرنے والی عورتیں،روزہ رکھنے والے مرد اور روزہ رکھنے والی عورتیں،اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے مرد اور حفاظت کرنے والی عورتیں،خدا کو کثرت سے یاد کرنے والے مرد اور یاد کرنے والی عورتیں،کچھ شک نہیں کہ اللہ نے ان کے لئے بخشش اور اجرعظیم تیار کر رکھا ہے‘‘۔(33-35)
’’یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے کفر کیا اور تم کو مسجد الحرام سے روک دیا اور قربانیوں کو بھی، اگر ایسے میں مسلمان مرد اور مسلمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم جانتے نہ تھے (اور یہ خوف نہ ہوتاکہ) تم ان کو لاعلمی میں روند ڈالوگے اور پھر ان کی وجہ سے تم پر الزام آتا(تو جنگ نہ روکی جاتی)مگر روکی گئی کہ اللہ جسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے، اگر وہ اہل ایمان الگ ہو جاتے تو ہم اہل مکہ میں کافروں کو دردناک سزا دیتے‘‘۔(48-25)
جو بھی کوئی برائی کریگا اسے ویسا ہی بدلہ دیا جائیگا اور جو نیک عمل کریگا چاہے مرد ہو یا عورت بشرطیکہ کہ صاحب ایمان بھی ہو انھیں جنت میں داخل کیا جائیگاا ور وہاں بلا حساب رزق دیا جائیگا۔4-124,40-40
ان آیات کے علاوہ بھی قرآن کریم میں ایسی دیگر آیات موجود ہیں جو اس بات کا علان کررہی ہیں کہ عورتوں کو انسانی سماج میںاتنی ہی اہمیت حاصل ہے جتنی کہ مرد کو، اور اس بات کی سب سے بڑی دلیل آیتِ مباہلہ میں عورتوں کو بلانا ہے۔


 قرآن کریم کے مطابق عورت کی گھرمیں حیثیت۔
اسلام ایک بہت ہی منظم (well orgnised)مذہب ہے ،نماز کے لئے صف اور حج کا احرام اسی منتظم طریقہ کا ر کا نمونہ ہے۔گھر کا ماحول
بھی پوری طرح orgnised رہے اسکے لئے قرآن میں گھر کے تمام افراد کے لئے انکی ذمہ د اریوں اور آپس میں ایک دوسرے کے لئے انکے فرائض کو بخوبی بانٹا گیا ہے۔کسی بھی گھر میں رہنے والے لوگ والدین، اولادیںاور میاں-بیوی ہوتے ہیں، عورت والدین کی حیثیت میں ماں، اولاد میں بیٹی ہوتی ہے ۔قران اولادوں کو حکم دیتا ہے کہ وہ اپنے والدین(ماں اور باپ دونوں) کی اطاعت کریں، وہیں دوسری طرف والدین کی ذمہ ّ داری ہوتی ہے کے وہ اپنی اولاد(بیٹا اور بیٹی دونوں) کا اچھا نام رکھے ،اچھی تعلیم دے اور اچھی پرورش کرے۔
’’اور ہم نے انسان کو اپنے ماں اور باپ کے ساتھ بھلائی کرنے کا حکم دیا، اسکی ماں نے اسے تکلیف سے پیٹ میںرکھا اور تکلیف سے جنا۔۔۔۔۔۔۔‘‘(46-15)
پروردگار مجھے اور میرے ماں باپ کو اور جو ایمان لاکر میرے گھر میں آئے اس کو اور تمام ایمان والے مردوں اور عورتوں کو معاف فرما اور ظالم لوگوں کے کئے تباہی بڑھا(71-28)
اور ان دونوں کے آگے جھکے رہو اور انکے لئے دعا کرو کہ پروردگار جیسا انھوں نے بچپن میں میری پرورش کی تو بھی ان پر رحمت فرما۔(17-24)
یعنی والدین میں ماں کی حیثیت سے عورت اتنی ہی محترم ہے جیسے کہ اس کا شوہر اور اولاد میں بیٹی کی حیثیت سے اسکی اتنی ہی بہترین پرورش کئے جانے کا حق اسے حاصل ہے جیسا کہ اس کے بھائی کو۔
 اب بات کرتے ہیں میاں اور بیوی کے رشتہ کی ، ۔ جیسا کہ ان آیات میں ذکر ہوا ہے:
And they (women) have rights similar to those (of men) over them in kindness, and men are a degree above them. Allah is Mighty, Wise.(2-228)
عورتوں کے بھی ویسے ہی حقوق ہیں جیسے مردوں کے ان پرالبتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے، اللہ غالب اور حکمت والا ہے۔(2-228)
Men are the protectors and maintainers of women, because Allah has given the one more (strength) than the other, and because they support them from their means. (4-34)
مرد عورتوں پر محافظ اورمنتظم ہیں،اس لئے کہ اللہ نے ان میں سے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے، اور اس لئے کہ مرد اپنا مال خرچ کرتے ہیں۔(4-34)
شوہر اور زوجہ کے رشتہ میں شوہر کو responsibility & authority میں ایک درجہ فضیلت حاصل ہے،responsibility ذمہّ د اری میں ایک درجہ فضیلت کے معنی ہیں کہ عورت کیذمہّ د اری اسکے شوہر پر ہے اور authority کی ایک درجہ فضیلت یہ ہے کہ عورت کو اپنے شوہر کی اطاعت کرنا چاہئے، مگر اطاعت کے معنی غلامی ہرگز نہیں ہے بلکہ یہ آزاد انسان کا عمل ہوتا ہے اسکا مطلب ہے کہ اسی بات کو تسلیم کرنا جوصحیح اور جائز ہو ۔اسکے علاوہ اس رشتہ میں برابری کا پہلو بھی ہے اور وہ یہ ہے کہ قران نے دونوں ہی کو ایک دوسرے کا لباس کہا ہے۔
وہ تمہارا لباس ہیں اور تم انکا لباس ہو((2-187
 They are clothing for you and you are clothing for them.(2-187)
کیا اسلام Polygamy کو بڑھاوادیتا ہے؟
marry of the women, who seem good to you, two or three or four; and if ye fear that ye cannot do justice (to so many) then one (only). 4-3
جو عورتیں تم کو پسند ہوں نکاح کرو ۲ ، ۳ یا ۴ ، لیکن اگر تم کو اندیشہ ہو کہ عدل نہ کر سکوگے تو ایک ہی (بیوی) کرو۔۔۔4-3
مردوں کے لئے چار نکاح کی اجازت کی بات کو لے کر تمام دوسرے مذاہب اور خاص کر مغرب کی جانب سے اسلام کو عورت کا مخالف اور اس پر ظلم کرنے والا سمجھا جاتا ہے۔اسلام مخالف websites  پراسی بات کو لے کر اسلام کو Polygamy کو بڑھاوا دینے والا بتایا گیا ہے ،جبکہ حقیقت اس سے بالکل الگ ہے کیوں کے جو آیت3,2 یا 4کی اجازت دیتی ہے وہی آیت ـ’’عدل نہ ہونے کے خوفـ‘‘ پر ایک ہی نکاح کی بات بھی کرتی ہے۔جو اس بات کو نہیں سمجھے انھیںضرورت ہے ـ’عدلـ‘ اور اسلام کے نظام عدل کو سمجھیں پھر اس کے بعد ـ’’عدل نہ کرنے کے خوفـ‘‘ کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ ’خوف ‘انسان کے اندر ہوتا ہے اور ذہن انسانی اپنے آپ میں عدالت، جب انسان جان بوجھ کر غلطی کر تا ہے تو یہ عدالت ـ’خوف‘ کی شکل میں ایک ’’ultimatum‘‘ دیتی ہے۔عدل کرنا نہ کرنا تو الگ بات یہاں اگر یہ خیال آ گیا کے عدل نہیں تو پھرایک ہی نکاح کرنا ہے۔اسی کے ساتھ قران اس بات کو بھی واضح کر دیتا ہے کے انسان اس معاملے میں انصاف  چاہ کر بھی نہیں کر سکتا:
Ye will not be able to deal equally between (your) wives, however much ye wish (to do so). But turn not altogether away (from one), leaving her as in suspense. If ye do good and keep from evil, lo! Allah is ever Forgiving, Merciful. 4-129
تم کتنا ہی کیوں نہ چاہو عورتوں کے درمیان انصاف نہیں کر سکتے۔۔۔۔۔۔۔۔۔4-129
اب سوال یہ ہے کہ پھر 3,2 یا 4 کی اجازت ہے ہی کیوں؟ جواب یہی ہے کے اسلام کسی خاص ملک، مذہب، وقت یا سرحدمیںمحدود نہیں ہے اسکا تعلق اس رئو ے زمین پر تا قیامت ہے۔کب کہاں کس دور میں کس ملک کے کیا حالات ہوں ہم اندازہ بھی نہیں کرسکتے۔ کسی اور ملک یا دور کا کیا تذکرہ جبکہ ہمارے ہی دور اور ملک کا ایک قصّہ ہے کہ پہلے بچے کی پیدائش میں سرجری کے دوران ہوئے کسی کامپلیکیشن کی وجہ سے عورت کو ہوش نہیں آیا اور وہ کوما میں چلی گئی ،جب میں نے یہ واقعہ سنا تھا اس وقت وہ عورت 6سال سے کوما میں تھی۔ اب اگر ایسے میں مرد کو اجازت نہ ہوتی اور وہ شادی کرنا چاہتا تو اس کے سامنے یہی راستہ ہوتا کہ وہ اپنی مرتی ہوئی بیوی کے لئے اپنی تمام ذمہ داریوں کو بھول کر انسانی اقدار کو کچلتے ہوئے ایسے میں اسے طلاق دے کر چھٹکارا پائے تب دوسری شادی کرے، کیوں کے اگر بغیر چھٹکارے کے شادی کی اور پہلی ٹھیک ہو گئی تو ایسے میں دوسری شادی ــ  invalidہو جائے گی۔ اس طرح انسان کے جسمانی ، دماغی حالات کیا کیا موڑ لے سکتے ہیں اسکا اندازہ ہم نہیں لگا سکتے، لیکن اس واقعہ سے اتنا اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ اسلامی قانون انسانی زندگی کے کسی پہلو اور کسی موڑ کو فراموش نہیں کرتا، اسکا بہترین نمونہ یہی ہے کہ قران مرد کو حالات کے مطابق3,2 یا 4 نکاح کی اجازت تو دیتا ہے مگر عدل کے ساتھ، اور اس معاملے میں عدل کر سکنے میں اسے با لکل واضح اور صاف طور پرناقابل قرار دیتا ہے۔
جب قران ہی اس بات کو ثابت کر دیتا ہے کہ مرد کتنی بھی کوشش کر لے مگر بیویوں کے درمیان انصاف نہیں کر سکتا، تو اس کے بعد کسی صاحب ایمان کا دل میں  [ normal condition  میں] اس بات کی کوئی گنجائش نہیں رہ جاتی کہ وہ یہ گمان بھی کرے کہ وہ عدل کر سکتا ہے۔ تو ایسے میں حالات وہی بن جاتے ہیں جسکا ذکر سورۃ نسا کی آیت میں ہوا ہے:
"..and if ye fear that ye cannot do justice (to so many) then one (only)...." 4-3
۔۔اگر تم کو اندیشہ ہو کہ عدل نہ کر سکوگے تو ایک ہی (بیوی) کرو۔۔۔4-3
یہاںیہ بھی بتا دینا چاہتی ہوں کہ عدل نہ کر پانے کے خوف سے ایک ہی نکاح کی بات اس وقت کہی گئی جس وقت کے حالات کے بارے میںتفسیر نمونہ میں لکھا ہے کہ کئی اسلام قبول کرنے والوں کی ازواج کی تعداد ۱۰ سے زیادہ تھی۔لیکن اس دور میں بھی ہمیں ملتا ہے کے رسولﷺ کی جناب خدیجہ کی حیات میں کوئی دوسری زوجہ نہیں تھی اور حضرت علیؑ کی بھی جناب فاطمہ صلواۃ اللہ علیہا کی زندگی میں کوئی اور ازواج نہیںتھی۔بعد میں انکی زوجہ کی تعدادمیںاضافے کی وجہ ضرور وہی حالات ہوں گے جنکی دجہ سے سورۃ نسا کی تیسری آیت میں  3,2 یا 4 نکاح کی اجازت دی گئی ہے۔
طلاق
مسلمانوں میں طلاق کے بارے میں ہر فرقے کا اپنا نظریہ اور طریقہ ہے مگر ہم کو یہاں اس بات سے مطلب نہیں ہے ہم صرف یہاں یہ دیکھیںگے کی اللہ تعالیٰ نے قران میں اس بارے میں کیا فرمایا ہے۔اس سلسلے میں سب سے اہم بات یہ ہے کہ قران میں میا ں اور بیوی کے درمیان صلح کرانے کی ہر ممکن کوشش کا ذکر کیا گیا ہے،اسی لئے ایک نہیں بلکہ دو مرتبہ طلاق کے بعد بھی رجوع کی گنجائش رکھی گئی ہے۔طلاق کا حق شوہر کو ہے مگر اسے اس بات کا حق نہیں ہے کے زبردستی عورت کا وارث بنا رہے۔پیش ہیں اس سلسلے میں کچھ قرانی آیات:
اگران دونوں کے درمیان اختلاف کا اندیشہ ہے تو ایک حاکم مرد اور ایک حاکم عورت والوں میں سے بھیجو، پھر وہ اصلاح چاہینگے تو خدا انکے درمیان ہم آہنگی پیدا کردیگا، بیشک اللہ علیم بھی ہے اور خبردار بھی۔ 4-35
طلاق دو مرتبہ دی جائیگی،اس کے بعد یا نیکی کے ساتھ روک لو یا حسن سلوک کے ساتھ آزاد کر دو،اور تمہارے لئے جائز نہیں کہ جو کچھ انھیں دے دیا ہے اس میں سے کچھ واپس لو مگر یہ کہ اندیشہ ہو کہ دونوں حدود الہٰی کو قائم نہ رکھ سکیں گے ، تو جب تمھیں یہ خوف پیدا ہو کہ دونوں حدود الہٰی کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو دونوں کے لئے آزادی ہے،اس فدیہ کے بارے میں جو عورت مرد کو دے،لیکن یہ حدود الہیٰ ہے اس سے تجاوز نہ کرنا، جو حدود الہٰی سے تجاوز کریگا وہ ظالمین میں شمار ہوگا۔2-229
اے ایمان والوں تمہارے لئے جائز نہیں کہ تم زبردستی عورتوں کے وارث بن جائو اور سختی کرو اور روکے رکھو تاکہ جو کچھ تم نے انھیں دیا ہے اس میں سے کچھ حصّہ لے لو ، مگر یہ کہ وہ بدکاری کریں( اس صورت میں سختی جائز ہے)، ان(عورتوں) کے ساتھ بھلائی کرو، اگر تم انھیں ناپسند بھی کرتے ہو ،ہوسکتا ہے کہ تم کسی چیز کو ناپسند کرو اور خدا اسی میں خیر اور برکت قرار دے۔ 4-19
اگر عورت اپنے شوہر سے حق تلفی کا خطرہ محسوس کرے تو ان پر کچھ گناہ نہیں کہ آپس میں صلاح کر لیں۔۔۔۔4-128
اگر دونوں ایک دوسرے سے الگ ہو جائیں تو اللہ ہر ایک کو اپنے فضل و کرم کی وسعت سے بے نیاز کر دیگا،اللہ بڑی وسعت والا بڑی حکمت والا ہے۔4-130
اسلامی پردہ عورت کے وجود کو قید نہیں کرتا۔
اسلامی پردہ کا فلسفہ قطعی عورت کے وجود کو قید کرنا نہیں ہے، اسلام دین فطرت ہے اس میں کسی پر ظلم تشدد یا کسی کے حقوق کی پامالی کا سوال ہی نہیں۔پہلے نظر کرتے ہیں ان آیات پر جو پردہ سے متعلق ہیں:
"And tell the believing women to reduce [some] of their vision and guard their private parts and not expose their adornment except that which [necessarily] appears thereof and to wrap [a portion of] their headcovers over their chests and not expose their adornment except to their husbands, their fathers, their husbands' fathers, their sons, their husbands' sons, their brothers, their brothers' sons, their sisters' sons, their women, that which their right hands possess, or those male attendants having no physical desire, or children who are not yet aware of the private aspects of women. And let them not stamp their feet to make known what they conceal of their adornment. And turn to Allah in repentance, all of you, O believers, that you might succeed. "(24-31)
"O Prophet, tell your wives and your daughters and the women of the believers to bring down over themselves [part] of their outer garments. That is more suitable that they will be known and not be abused. And ever is Allah Forgiving and Merciful."(33-59)
غور طلب ہے کہ سورہ نور کی آیت نمبر31 میں عورتوں سے تین باتیں کہی گئی ہیں یا یہ کہوں کہ تین باتوں کا حکم ہوا ہے، پہلا یہ کہ اپنی نگاہ نیچی رکھیں ، دوسرااپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں اور تیسرا یہ کہ اپنی زینت(ornaments)کو ظاہر نہ کریں۔ان تین باتوں میں سے پہلی دو باتوں کا حکم صرف عورتوں کو ہی نہیں ہوا ہے بلکہ یہ حکم مردوں کے لئے بھی ہے وہ بھی ٹھیک اسی آیت سے پہلے یعنی سورۃ نور کی آیت نمبر 30میں۔اب باقی رہی تیسری بات جو زینت کو ظاہر نہ کرنے سے متعلق ہے اور میری سمجھ سے یہ اس لئے
 ہے کیوں کہ اسلام عورت کی پہچان ایک انسان ہی کی رکھنا چاہتا ہے اور نہیں چاہتا کے عورت کی حیثیت کسی  decoration peice کی مانند ہو۔ اپنی بات کو اور واضح کرنے کے لئے یہ کہناچاہوںگی آج کل اکثر میگزین یا کسی اینٹرویو وغیرہ میں یہ بات سننے میں آتی ہے کہ ’’سجنا سنورنا عورت کا حق ہے‘‘، میں اس بات کی مخالفت نہیں کرتی مگر اس سجنے اور سنورنے کے "public display" پر قرآن کی پابندی کے اس پہلو کو بتانا چاہتی ہوں کہ قرآن نہیں چاہتا کے سماج میں عورت کی پہچان سجنے اور سنورنے کی چیز کی شکل میں ہو۔ اسکے علاوہ سورۃالاحزاب میں کہا گیا ہے کہ عورتیں جب باہر نکلیں توـ’’جلٰبیب‘‘( چادر، اوڑھنی، (veils, outer garmentکو اپنے اوپر ڈال لیں، جتنا میں نے اسلام کو سمجھا ہے اس کے مطابق اس قرانی آیت کا فلسفہ یہی ہے کہ skin show نہیںہونا چاہیے اورphysical curves reveal  نہیں ہونا چاہئے۔ یہ بات کسی بھی طرح نہ عورت کے لئے کوئی قید ہے ،نہ ہی یہ اسکی ترقی میں آج کوئی رکاوٹ ہے اور نہ ہی کبھی ہو سکتی ہے۔ 


کیا بطور گواہ عورت کمتر ہے؟
سورۃ بقرہ کی آیت نمبر 282 میں ایمان والوں کو آپس میں  financial/business transactions کے معاملے کو لکھنے کی تاکید کی گئی ہے، اوراس کے بعد خاص طور پر گواہی کے سلسلے میں دو مردوں کو گواہ بنانے کی بات کہی گئی ہے،پھر کہا گیا کے اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتوںکو گواہ کیا جاے تاکہ اگر ایک غلطی کرے تو دوسری یاددلائے۔اس آیت کا یہ مطلب قطعی نہیں کہ ہر معاملے میں ایک مرد کی گواہی دو عورتوں کی گواہی کے برابر ہے بلکہ یہاں  financial/business transactionsکے معاملات کی پیچیدگی کی وجہ سے ایسا ہے۔ یہ آیت بھی اپنے آپ میں یہ سمجھا دینے کہ لئے کافی ہے کہ قران قیامت تک امام مبین ہے کیوں کے جب اس آیت کا نزول ہوا اس وقت کے finance/ business میں اور دور حاضر میں زمین اور آسمان کا فرق پایا جاتا ہے، مگر معاملہ چھوٹا ہو یا بڑا  اسکا لکھا جانا کتنا ضروری ہے یہ بات آج کا انسان بخوبی سمجھ سکتا ہے۔غور طلب بات یہ ہے کہwritten doucument  ہونے کہ بعد گواہ کی ضرورت اسی صورت میں ہوگی جب کہ contract  کرنے والوں کے درمیان کوئی dispute ہو جائے لیکن اگر کوئی dispiute ہی نہ ہو پھر گواہ کی ضرورت ہی نہیں ہوگی ۔کیوںکہ اس معاملہ میں گواہی کی ضرورت financial/business transactions میںdispiute پر ہوگی اس لئے آیت میں پہلے خاص کر کے مردوں کو گواہ بنانے کی بات کہی گئی ہے اور دو مرد نہ ہونے پر دو عورتوں کی گواہی کی بات کی گئی ہے، کیوںکہ گھرکے تمام اخراجات پورے کرنے کی ذمہ داری مرد ہی کی ہوتی ہے لہٰذا مرد finance/ business کے معاملات میں زیادہ معلومات رکھتے ہیں اور  market کے اتار چڑاو سے ہمیشہ باخبر رہتے ہیں جبکہ عورت اپنی کچھ اہم ذمہ داریوں کی جیسےpregnancy & child birth  کی وجہ سے ان معاملات سے کٹی رہتی ہے اسی لئے دوسری عورت کا کام قرآن کے واضح الفاظ میں یاد دہانی کرانا ہے ۔
 اس ایت کریما کا مفہوم یہ قطعی نہیں کہاسلام میں عورت ایک کمتر گواہ ہے، اور اس بات کو اسلامی قانون سمجھ لیا جائے کہ ہمیشہ دو عورتوں کی گواہی ایک مرد کی گواہی کے برابر ہوگی ،اور اسکی دلیل یہ ہے کہ[4:15, 5:106, 65:2 , 24-6-10] میں بھی گواہ اور گواہی کی بات کی گئی ہے مگر ان آیات میں کہیں بھی مرد اورعورت یا ایک مرد کی جگہ دو عورتوں کو گواہ بنانے کی بات نہیں کہی گئی ہے۔
سورۃ نور کی آیت نمبر 6 سے10 میں عورت اور مرد دونوں کی گواہی برابر ہے۔
اور تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کریں ان پر اپنوں میں سے 4  کی گواہی لو۔۔۔۔4-19
ایمان والو جب تم میں سے کسی کی موت آ جائے تو گواہی کا خیال رکھنا گواہی کے وقت دو عادل گواہ تم میں سے ہوں یا غیر میں سے ہوں اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور وہیں موت کی مصیبت نازل ہو جائے۔ 5-106
اور طلاق کے لئے اپنوں میں سے دو عادل افراد کو گواہ بنائو اور گواہی کوصرف خدا کے لئے قائم کرو۔ 65-2  
ان آیات کے مطابق گواہ کو عادل ہونا چاہئے اور اپنوں میں سے یعنی اہل ایمان یا اہل خاندان میں سے ہونا چاہئے لیکن موت سفر میں واقع ہو تو اس کے لئے غیر( غیر خاندان یا غیر مسلمان )بھی گواہ ہو سکتا ہے۔مگر گواہی میں "gender" کی شرط نہیں ہے۔
کچھ ضروری باتیں اورعرض کرنا چاہتی ہوں کہ گواہی کئی طرح کی ہوتی ہے جیسی چشمدید گواہ  eye witness، اور expert witness وغیرہ۔اگر کسی واقعہ حادثہ یاواردات (accident,crime etc.) کی چشمدید گواہ  صرف ایک عورت ہو تو کیا اس جرم کونظرانداز کر دیا جائیگا کہ اسے کسی مرد یا دو عورتوں نے نہیں دیکھا؟بچہ کی پیدیئش کے وقت سے متعلق کسی مسئلے میں گواہی کس کی مانی جائیگی؟ اسی طرح اگر دور حاضر میں کسی معاملے میںexpert witness کی ضرورت ہے مثال کے طور پر کسی مقتول کی موت کا پتہ لگانے کے لئے اس کے خون کی جانچ یا کوئی اور جانچ،کسی بھی کھانے پینے یا کسی بھی استعمال کی چیز میں ملاوٹ کی جانچ یا اسکے علاوہ اور بہت سی چیزیں ہیں جہاں expert کی رپورٹ کو گواہی مانا جاتا ہے۔ اب انصاف کا تقاضہ یہ ہے کہ report کی reasoning یعنی جانچ کس طرح کی گئی اور جو نتیجہ نکلا وہ کیسے اور کیوں نکلا وغیرہ کو اہمیت دی جائے، لیکن اگرکسیexpert کی  report کو اسکی جانچ کی reasoning سے سروکار نہ رکھتے ہوے محض اس بنا پر اہمیت دی جائیگی کہ جانچ کرنے والا مرد ہے یا عورت تو کیا یہ نظام عدل کہلائیگا؟
لہٰذاسورئہ بقرہ کی آیت نمبر 282 کے علاوہ گواہی میں مرد یا عورت کی شرط تو نہیں مگر ایک اور شرط کی پابندی ضرور ملتی ہے، اور وہ شرط ہے کہ، ’’جوپرہیزگار عورتوں پر تہمت لگائے اور چار گواہ نہ لا سکے تو اس کو 80کوڑے مارو اور اس کی گواہی کو کبھی قبول نہ کرو،اور یہی بدکار ہیں‘‘۔24-4


وراثت میں کمی کیا کسی طرح کی نقصان یا ناانصافی ہے؟
اسلامی قانون میں ماں باپ جو چھوڑ کر مریں اس میں بیٹے کا حصہّ دو بیٹیوں کے برابر ہوتا ہے۔ عام طور پر اعتراض کرنے والے یہی کہتے ہیں کی عورت کا مرتبہ کم ہے اس لئے وراثت بھی کم ہیں۔ اس طرح کی سوچ اسلامی نظام سے سراسرناآشنائی ہے اور کچھ نہیں۔اسلامی نظام در اصل اپنے آپ میں ایک بہترین ''theory of connectivity'' ہے۔
اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنے کا مطالبہ تو مرد اور عورت دونوں سے ہے، مگر کسی کے اخراجات پورے کرنے کا فریضہ عورت پر نہیں ہے جبکہ بیوی اور بچوں کے اخراجات پورے کرنا مرد پر فرض ہے،، اگر دونوں کا حصہّ برابر ہو اور خرچ کی ذمہ داری کا طریقہ یہی رہے تو مرد پر زیادہ دبائو ہو جائیگا، اور اگر حصّہ برابر ہو اور خرچ کے اعتبار سے کسی کی کسی پر ذمہ داری نہ ہو تو گھر کے ماحول میں ربط اور نظم گڑبڑا جائیگا۔گھر کے افراد کے درمیان connectivity کے لئے ایک دوسرے پر ایک دوسرے کی ذمہ داریوں کا ہونا ضروری ہے۔سب سے بڑھ کر تو غور کرنے لائق بات یہ ہے کہ والدین کے ترکہ میں لڑکے کادوہرا حصّہ مقرر کیا گیا ہے لیکن وہ اپنی زندگی میں اپنے مال کو اپنی مرضی سے خرچ کرنے کے لئے آزاد ہیں۔


قابل غور کچھ قرانی قصے
تمام سماجی بدعنوانوں کی وجہ دراصل قران سے ہماری دوری ہی ہے۔عورتوں سے متعلق سماجی ذہنیت بھی اسی دوری کی دین ہے۔ مثال کے طور پر جناب حوّا پر ہر کوئی یہ الزام فوراً لگا دیتا ہے کے انہوں نے جناب آدم کو جنت سے نکلوایا، مگر قران کی تعلیم ہے کہ ـ’’شیطان نے دونوں کو بہکایاــ‘‘ یعنی حوّا کا قصور اتنا ہی ہے جتنا کہ آدم کا۔
جناب مریم کی ماں نے دعا کی اللہ سے کہ پروردگار میں تیری نذر کرتی ہوں جو میرے شکم میں ہے  اور اللہ نے انھیں بیٹی عطا کی حالانکہ وہ خود بیٹی کی پیدائش پر حیران تھیں کہ یہ تو لڑکی ہے کیوں کہ شائد سماج میں عورت کو صلاحیتوں کو کم تر سمجھنے کی رسم کافی پرانی ہے لیکن ربّ العالمین کی جانب سے ہمیشہ اس سوچ کی اصلاح کا اشارہ کیا گیا ہے، اور قران کریم میں اس آیت کا ہونا بھی ایسا ہی ایک اشارہ ہے کہ اللہ نے دعاکو نہ صرف قبول فرمایا بلکہ یہ بھی بتا دیا کہ عورت ہو یا مرد میری بندگی میں دونوں برابر ہیں۔ یہاں تک کہ اللہ اپنے آخری نبی کو بھی بیٹی عطا کر کے ارشاد فرماتا ہے کہ،’’ انّا اعطینک الکوثر‘‘۔کوثر سے بڑھ کر کوئی لفظ نہیں ہے۔
حضرت ابراہیم ؑ کا قصہ جو قرآن بیان فرماتا ہے اس میں جناب ابراہیم کے فرشتوں کو دیکھنے اور بات سننے کے ساتھ ساتھ جناب سارہ کا فرشتوں کو دیکھنا اور بات کرنا ملتا ہے، مثال کے طور پر سورئہ ہود کی آیت نمبر-74 71 ۔
سورئہ قصص میں جناب موسیٰ کی ماں کی طرف وحی کئے جانے کی بات کہی گئی ہے کہ وہ اپنے بچے کو دودھ پلاے پھر جب اس کے بارے میں خوف پیدا ہو تو اسے دریا میں ڈال دینا، ہم اسے تمہارے پاس واپس پہونچا دینگے اور اسے پیغمبر بنا دینگے۔28-7
ان سبھی مقدس خواتین کے ذکر کے علاوہ ایک اور قصہ قرآن کریم میں موجود ہے جس میں ایک عورت کا ذکر بڑی شان اور شوکت کے ساتھ کیا گیا ہے ، اوروہ قصہ ہے ملکہ سبا کا۔ بہت ہی خوبصورتی سے قران بیان فرما رہا ہے کہ ،جب ہدہد نے جناب سلیمان سے کہا؛
میں نے ایک عورت دیکھی ، لوگوں پر بادشاہت کرتی ہے، ہر چیز اسے میسر ہے، اسکا تخت عظیم ہے۔       27-23
اسکے بعد وہ بیان کرتا ہے کے وہاں سورج کی پوجا کی جاتی ہے، سلیمان خط بھیجتے ہیں۔ جناب سلیمان کا خط پڑھ کر ملکہ سبا کا اپنے درباریوں سے مشورہ کرنا جناب سلیمان سے ملنا اور اللہ پر ایمان لانا یہ سب جس طرح بیان کیا گیا ہے اس سے ملکہ سبا کی سمجھ داری اور دور اندیشی کا مظاہرہ ہوتا ہے، قرآن کا بیان ہے کہ ملکہ سبا کے آنے سے قبل جنات کے ذریعہ سلیمان نے اس کے تخت کو اٹھوا لیا اور کہا:
سلیمان نے کہا ملکہ کے ( امتحان عقل) کے لئے اس کے تخت کی صورت بدل دو، دیکھیں کہ وہ سوجھ رکھتی ہے یا ان لوگوں میں سے ہے جو سوجھ نہیں رکھتے۔ 27-41
جب وہ آ پہونچی تو سلیمان نے پوچھا کیا تمہارا تخت بھی ایسا ہی ہے؟ اس نے جواب دیا ہاںبالکل ایساہی بلکہ شائد یہی ہے، اور ہمیں تو پہلے ہی علم ہو گیا تھا اور ہم مسلمان ہو گئے تھے۔27-42
 غور طلب ہے کہ سلیمان کے علم کے تعلق سے اللہ کا ارشاد ہے کہ ہم نے سلیمان کو علم دیا، اور سلیمان اپنے علم و حکمت سے ایک عورت کی عقل کا امتحان لیتے ہیں جس میں وہ بخوبی کامیاب ہوتی ہے، اور جس طرح اسکی حکومت کا ذکر قران نے کیا ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ عورت نہ صرف یہ کہ صاحب عقل ہوتی ہے بلکہ اچھی حکمراں بھی ہو سکتی ہے۔اسکے برعکس فرعون اور جناب ابراہیم کے دور کے بادشاہوں کا تذکرہ ملتا ہے کہ ان کے سامنے موسیٰؑ اور ابراہیمؑ جیسے پیغمبر اللہ کی کھلی نشانیاں لیکر گئے مگر وہ نہ ہی ایمان لا سکے نہ ہی اپنی رعایہ کے لئے اچھے حکمراں ثابت ہوئے۔
اس سلسلے میں شائد اب اورکچھ کہنے کو بچا نہیں ، ہا ںمگر یہ ضرور کہوں گی کہ آج اتنی ترقی کر لینے کہ بعد بھی ہم اس بات کونہیں سمجھتے جو قرآن میں ڈہڑھ ہزار سال پہلے کہی جا چکی ہے، اسی لئے قرآن آواز دے رہا ہے ،ــ’’ اور اس دن رسول آواز دیگا، اے میرے ربّ میری قوم نے اس قران کو بھی نظرانداز کر دیا‘‘۔ 25-30
اب ایک نظر عصر حاضر کے حالات پرجہاں باتیں تو women empowerment کی ہیں مگر حقیقت کچھ اور ہی ہے:
شادی کے بعد ولدیت ہٹا کر شوہر کا نام لگایا جانا مسلمانوں میں بھی عام ہے، جبکہ یہ کوئی اسلامی طریقہ کار نہیں ہے کیوں کہ اسلام ایک انسان کے وجود پر کسی دوسرے انسان کا ٹھپّہ لگانے کا حکم نہیں دیتا۔خیر یہ تو کچھ نہیں ان باتوں کے سامنے جو آج کے زمانے میں بڑی اہم ہیں، جیسے؛
(1)بیوٹی کانٹسٹ(beauty contests)  پہلے شہر پھرصوبہ پھر ملک اور اسکے بعد بیرون ملک میں مختلف بیوٹی کانٹسٹ آرگنائز کئے جاتے ہیں، کیوں؟ یہ عورت کی فلاح میں کس طرح کارگر ہیں؟ کییں ایسا تو نہیں کہ یہ عورت کو انسان سے ہٹا کر ایک نمائش کی چیز بنا دیتے ہیں، وہ بھی ایسی چیز جوہیرؤین بن کر نہ سہی تو کم سے کم ایک آئٹم سونگ سے کسی فلم کو اچھا بزنس کرا دے یا پھر دنیا کی بڑی بڑی کمپنیوں کو سامان بیچنے کے لئے ایک نیا چہرہ اور نیا جسم مل جائے۔کیا کوئی بتا سکتا ہے کہ اسکے علاوہ کس طرح بھلا کر سکتے ہیں یہ بیوٹی کانٹیسٹ انسانی سماج کا؟ ہر سا ل دنیا بھر میں ان کانٹسٹ پر ہونے والا خرچ اگر ساری دنیا کی بیروزگاری ہٹانے یا تعلیم پر خرچ کر دیا جائے تو کچھ ہی سالوں میں نہ کوئی انپڑھ رہے نہ بیروزگار۔
(2) اشتہارات میں عورت کی نمائش، آج انسانی ضرورت کا ہرسامان بازار میں موجود ہے یہی نہیں بلکہ ہزاروں کمپنیاں روز نیا سامان مارکٹ میں لے کر آتی ہیں اور عوام تک اپنے سامان کی معلومات کی رسائی کا بہترین ذریعہ اشتہارات ہیں۔ اس لئے آج اشتہار ڈیزان کرنا یا بنانا اپنے آپ میں ایک بڑا کاروباربن گیا ہے۔ اس کاروبار میں عورت کا استحصا ل صاف نظر آتا ہے۔افسوس ہے کہ یہ استحصال
 عورتوں کی ترقی کی بات کرنے والوں کو نظر نہیں آتا۔ جبکہ معاشرے کے حالات اس بات کی تصدیق کر رہے ہیں کہ عورت کی نمائش پر منحصر اشتہارکسی کمپنی کا پرچار جتنی تیزی سے کر رہے ہیں اس سے کہیں زیادہ تیز معاشرے میں"lust" پھیلا رہے ہیں۔
 (3) کسی سنجیدہ معاشرتی مسئلے پر بنی فلم میں بھی ایٹم نمبر ضروری ہے تاکہ فلم اچھا کاروبارکرسکے۔چند افراد اپنے فائدے کے لئے سماج کو کس طرف لئے جا رہے ہیں؟  
اگر ہم یہاں اسلام کی بات نہ بھی کریں تو بھی کیا یہ باتیں’’morality " کے ground پرصحیح کہی جا سکتی ہیں؟ آخر کس بنا پر ان باتوں کو انسانی سماج کی فلاح تسلیم کیا جا سکتا ہے؟ اگر غور کیجئے تو معلوم ہوگا کی یہ باتیں آج سماج میں بڑھتے ہوئے تشدّ کے لئے کافی حد تک ذمہ دار ہیں۔ کیوں کہ ان سب باتوں جنکا ذکر 1سے3میں کیا گیا ہے ،کا نصب العین صرف جنس مخالف کو
 attractکرنا اور "flesh pleasure" ہی کو سب کچھ قرار دینا ہے۔یہ سب ان سر پھرے چوپائوں کی مانند ہے جن پر اگر قابو نہ پایا گیا تو یہ انسانی اقدار کوکچل دینگے۔قانون اور سرکار کی طرف سے women empowerment کی بات اس وقت تک کوئی معنیٰ نہیں رکھتی جب تک ان سب کے لئے کڑا رخ اختیار نہیں کرتی۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭٭

Last modified on Tuesday, 27 May 2014 12:58
Login to post comments