×

Warning

JUser: :_load: Unable to load user with ID: 830

شام پر حملے کے حوالے سے امریکی پوزیشن اورمشکلات

October 06, 2013 1039

امریکہ ـ مشرق وسطی کے حالات اور محاذ مزاحمت کی پوزیشن کو پیش نظر رکھ کر ـاس نتیجے پر پہنچا ہے کہ شام پر حملہ علاقائی جنگ میں تبدیل ہوگا

اور یہ جنگ علاقے کے بہت سے ممالک کا گریبان پکڑلے گی۔ 

امریکہ اور مغرب نے گذشتہ ڈھائی برسوں کے دوران شام میں مسلح گروہوں کو خفیہ طور پر منظم کرکے جس نیابتی جنگ (Proxy War) کا آغاز کیا تھا اب اس کی نتیجہ خیزی سے مایوس ہوچکے ہیں اور ان موضوعات کا شام کے میدان جنگ اور مشرق وسطی میں رونما ہونے والی بڑی تبدیلیوں سے براہ راست تعلق ہے۔
شام کی قومی سلامتی میں اس ملک کو قومی، علاقائی اور عالمی سطح پر ایسی کامیابیاں حاصل ہوئیں جو امریکہ کے تزویری اہداف کے لئے خوشایند نہ تھی۔ اس اثناء میں امریکہ کی طرف سے شام پر فوجی چڑھائی کی دھمکیاں مسلسل دہرائی گئی ہیں؛ لیکن سوال یہ کہ امریکہ نے اپنی دھمکیوں کو عملی جامہ کیوں نہیں اپنایا اور شام پر امریکی حملے میں تاخیر کی وجہ اور دلیل کیا ہے؟

علاقے کے مسائل کے ماہرین اور تجزيہ نگاروں نے متعدد قیاس آرائیاں کی ہیں جن میں سے بعض کی طرف یہاں اشارہ کرتے ہیں:

1۔ اندرونی اتفاق رائے کی صورت حال
اوباما اور ان کے ساتھیوں نے امریکی سیاستدانوں اور رائے عامہ کو ایک نئی جنگ کے آغاز کے لئے اپنے ساتھ ملانے کی وسیع کوششیں کیں لیکن نہ تو وہ سیاستدانوں کو ساتھ ملا سکے نہ ہی رائے عامہ کو۔ اس حقیقت کے پیش نظر ـ کہ اوباما امن و آشتی کے فروغ اور جنگ پرست بش کی پالیسی بدلنے کا نعرہ لگا کر برسر اقتدار آئے تھے اور اسی بہانے انہیں امن کا نوبل انعام بھی دیا گیا تھا اور اس حقیقت کے پیش نظر کہ امریکہ میں اندرونی اتفاق رائے وجود میں نہيں آسکا ہے لہذا ـ لگتا ہے کہ جب تک یہ صورت حال جاری رہے گی امریکہ شام پر حملہ نہيں کرے گا۔

2۔ بین الاقوامی عدم اتفاق رائے کا مسئلہ
اوباما اور ان کی ٹیم کو نئی جنگ کے لئے بین الاقوامی تعاون اور ہمراہی کی ضرورت ہے کیونکہ امریکہ سے قبل بین الاقوامی رائے عامہ کی حمایت حاصل کئے بغیر عراق پر حملہ کیا جس کی وجہ سے امریکہ کو بہت بڑی قیمت ادا کرنی پڑی۔ اسی اثناء میں افغانستان اور عراق میں امریکہ کا ساتھ دینے والے کئی مغربی ممالک اس نئی جنگ سے دور کررہے ہیں۔ امریکہ جان گیا کہ اس کو اس جنگ کے قانونی، سیاست، معاشی اور نفسیاتی ذمہ داری اکیلے قبول کرنے پڑے گی چنانچہ اس نے جنگ مؤخر کردی تاکہ مستقبل میں بغض مغربی ممالک کی حمایت حاصل کرلے۔
بین الاقوامی سطح پر عدم اتقاف رائے (بالخصوص بعض یورپی ممالک کی طرف سے شام امریکی حملے کی مخالفت اور شام کے حامیوں کی طرف سے سلامتی کونسل میں شام کے خلاف کسی بھی قرارداد کی منظوری کی شدید مخالفت)، عالمی سطح پر شام کے خلاف بین الاقوامی محاذ کی عدم تشکیل (بالخصوص اقوامی متحدہ کی طرف سے سلامتی کونسل کی منظوری کے بغیر شام پر حملے کی مخالفت)،  ایران، روس اور چین کے جغرافیائی ـ سیاسی (Geopolitical) صف بندی اور یکسوئی اور شام کے معاملے میں ان کے مفادات کے امریکہ اور اس کے حلیفوں کے مفادات سے تضاد، جیسے بین الاقوامی چیلنجوں کے پیش نظر شام پر امریکی حملہ سنجیدہ مسائل اور رکاوٹوں سے دوچار ہوا اور امریکہ اس جنگ کو مؤخر کرنے پر مجبور ہوا ہے۔

3۔ علاقائی چیلنج اور رکاوٹیں
امریکہ اور اسرائیل کو 33 حزب اللہ کے خلاف 33 روزہ جنگ، حماس کے خلاف 22 روزہ جنگ اور حالیہ آٹھ روزہ جنگ، عراق میں امریکہ کے تزویری اہداف کی ناکامی، شام کے خلاف امریکی حملے کا ساتھ دینے یا نہ دینے کے سلسلے میں عرب ممالک کے درمیان اختلافات، خطے کے عوام کی طرف سے شام پر امریکی حملے کی مخالفت، جنگ کی وسعت اور اس کی شدت اور وسعت کے قابو سے خارج ہونے کے سلسلے میں موجودہ اندیشے، شام پر حملے کی کامیابی میں شک و تردید نیز امریکی حملے کی صورت میں شام کے دوستوں ـ بالخصوص ایران ـ کا غیر متوقعہ اور ناقابل پیش گوئی رد عمل اور اس رد عمل کی نوعیت اور شام پر حملے کی وجہ سے صہیونی ریاست کا امن برباد ہونے کی فکرمندی، وہ عوامل ہیں جنہیں دیکھ کر امریکہ نے موجودہ حالات کا نئے سرے سے جائزہ لیا اور اپنے اندازے درست کرنے تک حملے کو مؤخر کیا۔

4۔ شام کا مقابلہ کرنے کے لئے تیاری کی سطح
امریکی حملے کا مقابلہ کرنے کے لئے شامی افواج کی یکجہتی اور حملے کی پوزیشن، قومی فورسز کی تشکیل اور زبردست طاقت، افواج اور عوامی فورسز کی مسلسل کامیابیوں کے بعد بشار الاسد کی عوامی حمایت میں زبردست اضافے، مخالفین کی دہشت گردانہ حقیقت کے عالمی سطح پر سامنے آنے اور طویل جنگ میں دہشت گردوں کی قوت کے خاتمے، کو مد نظر رکھ کر ضروری تھا کہ امریکہ ماحول سازی اور شام کے اندر مؤثر حمایت سے مطمئن ہونے تک اپنا فوجی اقدام مؤخر کر دیتا۔

5۔ تخمینوں میں ابہام
امریکہ کو تزویری تخمینوں اور اندازوں میں ابہام کا سامنا تھا اور شام پر حملے کی صورت میں کامیابی کی سطح کے بارے میں کچھ نہیں کہا جاسکتا تھا اور چونکہ یہ ابہام موجود ہے اسی لئے پہلے ابہام کو حل کرنا چاہئے تاکہ فوجی حملے کے لئے ماحول فراہم کیا جاسکے۔

بعض ابہامات کچھ یوں ہیں:

فوجی اقدام کے بعد علاقے کی صورت حال
امریکی تزویری رویے کے لحاظ سے، القاعدہ اور جبہۃالنصرہ کی تشدد پسند قوتوں کو فاتح میدان ہوکر حاکمیت تک نہیں پہنچنا چاہئے۔ ان تنظیموں سے اس وقت صرف اور صرف اسد حکومت کے خاتمے کے لئے استفادہ کرنا چاہئے اور اسد کے بعد حاکمیت میں ان کا کوئی کردار نہیں ہونا چاہئے۔ جو لوگ اس وقت شام میں امریکہ کے لئے دوسروں کی نسبت زیادہ قابل قبول ہیں وہ اتحاد کونسل اور فری سیرین آرمی میں منظم ہوئے ہیں۔ لیکن چونکہ انتہا پسند قوتیں شام کے وسیع علاقوں میں برسر پیکار ہیں اور ان کی عملیاتی (یا آپریشنل) وسعت بھی کچھ زیادہ ہی ہے اور یہ حالت فوجی اقدام کے بعد کے حالات کے لئے امریکہ کے لئے مطلوب اور قابل قبول نہیں ہے۔

ایران کے بارے میں ابہام
سیاسی فضا میں ایران نے شام کے بارے میں موقف اپنایا ہے لیکن یہ معلوم نہيں ہے کہ سیاسی، فوجی اور سلامتی کے شعبوں میں ایرانی حکام کی طرف سے کس قسم کا رد عمل سامنے آسکتا ہے؟ یہ وہ چيز ہے جو امریکہ کے لئے نامعلوم اور مبہم ہے۔ تجربے سے ثابت ہے کہ ایران کی وسیع اور گوناگون صلاحیتیں اور عالم اسلام میں ایران کی تزویری گہرائی ایک حقیقت ہے، یہ بھی حقیقت ہے کہ 2009کے فتنے کے برعکس، ایران نے کامیاب انتخابات منعقد کرائے ہیں، اور پھر 33 روزہ جنگ اور 22 روزہ جنگ کے بارے میں گذشتہ دو برسوں کے دوران رہبر انقلاب اسلامی نے جو موقف اپنایا ہے، اس کے پیش نظر، امریکہ کو ایران کے رد عمل کے بارے میں ابہام کا سامنا ہے اور امریکہ کی طرف سے سنجیدہ فیصلہ سازی کے لئے اس ابہام کا خاتمہ ضروری ہے۔ کیونکہ ایران کے رد عمل کا درست اندازہ نہ لگانے کی صورت میں علاقے میں امریکی اندازے مزيد ابہام کا شکار ہوسکتے ہیں۔
علاقے کی سطح پر ایران کی صلاحیتیں اور قابلیتیں، اس مسئلے میں ایران کی مداخلت کی نوعیت اور متعلقہ رد عمل نے امریکہ کو پیچیدہ صورت حال سے دوچار کیا ہے۔ لبنان میں اندرونی بحران پیدا کریں اور حزب اللہ کو کمزور کرنے کے لئے وسیع کوششیں کی گئیں جو حزب اللہ کی کیاست و فراست کی وجہ سے ناکامی ہوئیں اور ان سازشوں کی ناکامی نے بھی امریکہ کو مزید ابہامات سے دوچار کردیا ہے۔

تتیجہ
لگتا ہے کہ امریکہ ـ مشرق وسطی کے حالات اور محاذ مزاحمت کی پوزیشن کو پیش نظر رکھ کر ـ اس نتیجے پر پہنچا ہے کہ شام پر حملہ علاقائی جنگ میں تبدیل ہوگا اور یہ جنگ علاقے کے بہت سے ممالک کا گریبان پکڑلے گی۔ اس سلسلے میں جو نقصان امریکہ کے حلیفوں ـ بالخصوص اسرائیل ـ کو پہنچیں گے ان نقصانات سے کہیں زيادہ وسیع اور شدید ہونگے جو امریکہ محاذ مزاحمت کو پہنچانا چاہتا ہے۔ جب تک امریکہ تزویری تخمینوں میں اس ابہام سے نہیں گذرے گا، اس وقت تک شام پر حملہ کرنے کے اپنے منصوبے کو مؤخر کرتا رہے گا مگر یہ کہ وہ اپنی بین الاقوامی ساکھ بحال کرنے کے لئے نمائشی حملہ کرکے غیر حساس اور غیر تزویری علاقوں کو نشانہ بنانا چاہے؛ [جس سے البتہ امریکہ کے مقاصد حاصل نہ ہوسکیں گے اور صورت حال ویسی کی ویسی ہوگی اور حملے کے بعد بھی امریکہ کو ان ہی مشکلات اور ابہامات کا سامنا ہوگا]۔

Last modified on Tuesday, 27 May 2014 13:06
Login to post comments