سرکاری بیانات اور تخمینے
ناصر نے کہا کہ جب حالات معمول پر آئیں گے تو ہمیں روزانہ تقریباً تین ملین بیرل کی اضافی طلب متوقع ہے جس میں سے تقریباً دو ملین کھپت میں اضافے سے اور مزید ایک ملین صرف ان ذخائر کی بھرپائی سے آئے گا جو ممالک نے بحران کے دوران استعمال کیے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ اضافی طلب بحری راستوں کے دوبارہ کھلنے کے بعد بھی منڈیوں پر دباؤ برقرار رکھ سکتی ہے۔
امریکہ اور ایران کے مذاکرات تعطل کا شکار رہنے کے باعث ایک اور کشیدگی کے خدشات بڑھ رہے ہیں۔ بدھ کو رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا کہ واشنگٹن خاموشی سے اردن، قطر اور کویت میں اڈوں سے فوجیں نکال رہا ہے، سعودی عرب سے بعض سفارت کاروں اور ان کے اہل خانہ کو منتقل کر رہا ہے اور دیگر مقامات پر بھی اسی نوعیت کے اقدامات کی تیاری کر رہا ہے۔ اسی طرح کی احتیاطی تدابیر اٹھائیس فروری کو ایران پر امریکی اسرائیلی حملوں سے قبل بھی اختیار کی گئی تھیں۔