تجویز اور اس کی شرائط
اس منصوبے کے تحت واشنگٹن ایرانی بندرگاہوں کی بحری ناکہ بندی ختم کرے گا، ایرانی تیل کی فروخت پر عائد پابندیاں معطل کرے گا، تقریباً بارہ ارب ڈالر کے منجمد ایرانی اثاثے جاری کرے گا اور لبنان اور یمن سمیت پورے خطے میں جنگ بندی پر عمل درآمد کرے گا۔ اس کے بدلے میں ایران آبنائے ہرمز دوبارہ کھول دے گا۔
عراقچی نے مرحلہ وار ترتیب واضح کی کہ ابتدائی اقدامات میں چار سے پانچ روز لگیں گے، چھٹے روز آبنائے ہرمز کھول دی جائے گی اور ساتویں روز ایران کے جوہری پروگرام سمیت باہمی طور پر طے شدہ موضوعات پر حتمی معاہدے کے لیے امریکہ سے مذاکرات شروع ہوں گے۔
یمن اور لبنان سمیت مشرق وسطیٰ میں تمام جنگی کارروائیاں ختم کرنا مبینہ طور پر تہران کے مطالبات میں شامل تھا۔ عراقچی نے کہا کہ اب فیصلہ امریکہ کے ہاتھ میں ہے۔






