ترکی میں بغاوت،۹۰؍ ہلاک

ترکی میں بغاوت،۹۰؍ ہلاک All images are copyrighted to their respective owners.

 جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد۹۰؍ ہوگئی ہے جبکہ ۱۱۵۴؍ افراد زخمی ہوئے ہیں

انقرہ: (ایجنسی)ترکی میں فوج کے باغی گروپ کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش ناکام بنا دی گئی۔ ترکی میں حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے دوران اب تک کم از کم۹۰؍ افراد ہلاک اور۱۱۰۰؍ سے زیادہ زخمی ہو چکے ہیں۔ بغاوت کا حصہ بننے والے ۱۵۰۰؍ فوجیوں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔

حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کا آغاز جمعے کی شام ساڑھے سات بجے ہوا جب استنبول کے مرکزی پلوں پر ٹینک کھڑے کر دیے گئے۔ کچھ دیر بعد انقرہ کی سڑکوں پر فوجی نظر آنے لگے اور جنگی طیاروں نے بھی شہر پر پروازیں شروع کر دیں۔ فوج سے تعلق رکھنے والے ایک گروپ نے سرکاری ٹی وی پر یہ اعلان کیا کہ ملک میں مارشل لا اور کرفیو لگا دیا گیا ہے، اقتدار ان کے پاس ہے اور ایک ’امن کونسل‘ اب ملک کا نظام چلائے گی۔ استنبول کے مشہور تقسیم چوک کے قریب اور انقرہ میں پارلیمان کی عمارت میں دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ صدر اردوغان نے آئی فون کی فیس ٹائم سروس کی مدد سے ترک ٹی وی پر بیان دیا جس میں انھوں نے عوام سے بغاوت کے خلاف اٹھ کھڑے ہونے کی اپیل کی۔

اس اعلان کے بعد عوام کی بڑی تعداد سڑکوں پر نکل آئی اور باغی فوجیوں کے خلاف آواز بلند کی۔

ترک صدر رجب طیب اردوغان بیرونِ ملک سے واپس استنبول پہنچ چکے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ حکومت نے ایک بار پھر ملک کا انتظام سنبھال لیا ہے۔

صدر اردوغان نے اس فوجی اقدام کو ’ملک سے بغاوت‘ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ فوج میں صفائی ہونی چاہیے۔سی این این ترک چینل پر دکھائے گئے مناظر میں دیکھا جاسکتا ہے کہ حکومت کے خلاف بغاوت کی کوشش کرنے والے تقریباً۵۰؍ فوجیوں نے استنبول میں واقع بوسفورس کے پل پر ہتھیار ڈال دیئے۔ ترکی کی سرکاری خبر رساں ایجنسی اناتولو کے مطابق بغاوت میں ملوث۱۵۶۳؍فوجیوں کو گرفتار کیا جاچکا ہے جبکہ ملک بھر میں ہونے والی جھڑپوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد۹۰؍ ہوگئی ہے جبکہ ۱۱۵۴؍ افراد زخمی ہوئے ہیں۔ اس سے قبل باغیوں نے بیان جاری کیا جس میں کہا گیا کہ ملک اب ایک’’امن کونسل‘‘ کے تحت چلایا جا رہا ہے۔ انقرہ اور استنبول میں فائرنگ اور بم دھماکے ہوئے جبکہ ٹینکس بھی سڑکوں پر دیکھے گئے اقتدار پر قبضے کی کوشش ناکام ہونے کے بعد ترکی کے آرمی چیف ہلوسی آکار کو بھی ایک کارروائی کے دوران بازیاب کرالیا گیا۔ امریکی خبررساں ایجنسی نے ترکی کی سرکاری نیوز ایجنسی کے حوالے سے خبر دی ہے کہ چیف آف اسٹاف جنرل ہلوسی آکار کو انقرہ کے نواحی علاقے میں موجود ایک فضائی اڈے سے ایک آپریشن میں بازیاب کیا گیا۔ رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جنرل ہلوسی آکار کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق باغی فوجیوں کے متعدد حامیوں نے بھی استبول کے مرکزی تقسیم اسکوائر پر ہتھیار ڈالے اس کے علاوہ۲۰۰؍ فوجیوں نے ملٹری ہیڈکوارٹرز پر خود کو سرینڈر کیا۔ ایک سینئر ترک عہدیدار نے بتایا کہ بغاوت کی کوشش کے دوران فائرنگ اور بم دھماکوں کے واقعات میں ۹۰؍افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوگئے، جن میں سے زیادہ تر عام شہری ہیں۔ صدارتی محل سے منسلک ایک عہدیدار کے مطابق ترک فوج نے انقرہ میں صدارتی محل کے باہر موجود ٹینکوں پر ایف ۱۶؍ طیاروں سے بمباری بھی کی۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اس سے قبل ترکی کے سیٹلائٹ آپریٹر پر حملے میں ملوث ایک ملٹری ہیلی کاپٹر کو بھی انقرہ کے ضلع گولباسی میں مار گرایا گیا۔ سرکاری خبر رساں ادارے اناتولو کے مطابق ترک باغی فوجی گروپ نے گن شپ ہیلی کاپٹرز سے فائرنگ اور جیٹ طیاروں سے بمباری کی جس کے نتیجے میں ۹۰؍افراد ہلاک اور متعدد زخمی ہوگئے۔ ترک صدر رجب طیب اردگان باغی فوجی گروہ کی جانب سے حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کے بعد وطن پہنچے تھے۔ استنبول ایئرپورٹ پر پریس کانفرس کرتے ہوئے رجب طیب اردگان نے بغاوت کو’’غداری‘‘ قرار دیا تھا اور کہا تھا کہ صورتحال حکومت کے کنٹرول میں ہے اور منتخب حکومت کا تختہ الٹنے اور عوام پر گولیاں چلانے والوں کو بھاری قیمت چکانا ہوگی۔ انہوں نے کہا تھا کہ پولیس اور جمہوریت پسند عوام نے باغی فوجیوں کی جانب سے اقتدار پر قبضہ کرنے کی کوشش ناکام بنادی اور ملکی سلامتی اور وحدت کو نقصان پہنچانے والوں کو نہیں چھوڑا جائے گا۔ ترک صدر نے ترکی میں بغاوت کا الزام عالم فتح اللہ گولن پر عائد کیا۔ اس سے قبل ترک صدر رجب طیب اردگان نے سی این این ترکی سے فیس ٹائم کے ذریعے ویڈیو کال کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’وہ بغاوت کی کوشش پر قابو پا لیں گے‘‘۔ انہوں نے شہریوں پر زور دیا تھا کہ وہ حکومت کی حمایت میں سڑکوں پر نکل آئیں۔ اردگان کا کہنا تھا،’’عوام کی طاقت سے بڑھ کر کوئی طاقت نہیں، اب وہ چوراہوں اور ایئرپورٹس پر جو کریں گے، انہیں کرنے دیں‘‘۔ ان کا کہنا تھا کہ بغاوت کی کوشش محمد فتح اللہ گولن نامی دینی مبلغ کے پیروکاروں کا کام ہے، جو کبھی اردگان کے اتحادی تھے، مگر اب امریکہ میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہے ہیں۔ اس سے قبل ترک فوج کے ایک باغی گروپ نے حکومت کا تختہ الٹنے کا اعلان کرتے ہوئے ترکی کے سرکاری نشریاتی ادارے ٹی آر ٹی پر جاری ہونے والے بیان میں کہا تھا کہ ترکی میں مارشل لاء اور کرفیو نافذ کردیا گیا ہے، جبکہ ملک اب ایک’’امن کونسل‘‘ کے تحت چلایا جا رہا ہے جو امنِ عامہ کو متاثر نہیں ہونے دے گی۔ بیان میں مزید کہا گیا تھا کہ موجودہ حکومت کی جانب سے ترکی کے جمہوری اور سکیولر قوانین کو نقصان پہنچایا گیا ہے، جبکہ جلد از جلد نیا آئین تیار کیا جائے گا۔ ٹی وی پر نشر ہونے والی تصاویر میں مرکزی شہر استنبول اور دارالحکومت انقرہ کے مرکزی چوراہوں پر عوام کی بڑی تعداد دکھائی دی، جو ترک پرچم لہراتے ہوئے منتخب حکومت کے لیے اپنی حمایت کا اظہار کر رہے تھے۔ دونوں شہروں میں فائرنگ بھی ہوئی۔ انقرہ پر جنگی جہازوں اور ہیلی کاپٹروں نے نچلی پروازیں کیں، جبکہ دھماکے بھی سنے گئے تھے۔ خبر رساں ادارے رائٹرز کے رپورٹرز نے ایک ہیلی کاپٹر کو فائر کرتے ہوئے بھی دیکھا جبکہ ترکی کے سرکاری خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق فوجی ہیلی کاپٹروں نے انٹیلی جنس ایجنسی کے ہیڈ کوارٹر پر بھی حملہ کیا تھا۔ نشریاتی ادارے این ٹی وی کے مطابق ایک ترک ایف سولہ طیارے نے دارالحکومت انقرہ کے اوپر ایک فوجی ہیلی کاپٹر کو مار گرایا جسے فوج کا باغی دھڑا استعمال کر رہا تھا۔ ترک اسپیشل فورسز کے کمانڈر جنرل ذکی اکساکلی نے نشریاتی ادارے این ٹی وی پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کی مسلح افواج حکومت کے خلاف بغاوت کی حمایت نہیں کرتیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ بغاوت کی کوشش کامیاب نہیں ہوگی جبکہ ان کی اسپیشل فورسز عوام کی خدمت کے لیے موجود ہیں۔ اس سے پہلے ترکی کے وزیراعظم بن علی یلدرم نے کہا تھا کہ ترک افواج کے ایک دھڑے نے بظاہر بغاوت کی کوشش کی۔ این ٹی وی پر تبصرہ کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا:’’یہ درست ہے کہ بغاوت کی کوشش کی گئی‘‘۔

Rate this item
(0 votes)

Related items