فرانس میں خودکش حملہ ۸۴؍ ہلاک

فرانس میں خودکش حملہ ۸۴؍ ہلاک All images are copyrighted to their respective owners.

فرانس میں ٹرک ہجوم سے ٹکرانے اور فائرنگ کے نتیجے میں ۸۴؍ہلاک، درجنوں زخمی

نیس :(ایجنسی) فرانس کے شہر نیس میں بیسٹل ڈے کے تقریبات کے دوران ایک شخص نے ہیوی ٹرک کو ہجوم سے ٹکرا دیا جس کے نتیجے میں کم از کم ۸۴؍افراد ہلاک اور درجنوں زخمی ہوئے ہیں۔

فرانس کے میڈیا اور عینی شایدین کے مطابق ملک کے جنوبی شہر نیس میں ایک ٹرک ہجوم کو ٹکرایا گیا۔ اطلاعات کے مطابق یہ واقعہ بیسٹل ڈے کی تقریبات میں آتش بازی کے مظاہرے کے دوران پیش آیا۔ ٹوئٹر پر پوسٹ کی جانے والی ایک تصویر میں تقریبا ایک درجن افراد کو سٹرک پر لیٹے ہوئے دیکھا گیا۔ مقامی علاقے میں لوگوں سے کہا گیا ہے کہ وہ گھروں کے اندر رہیں کیونکہ حملہ ہوا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ٹرک سوار نے ہجوم کو ٹکر مارنے کے بعد فائرنگ بھی کی۔ جبکہ پولیس نے جوابی فائرنگ میں ایک شخص کو ہلاک کر دیا۔ نیس کے میئر کرسچیان استوری نے بتایا ٹرک ڈرائیور نے بظاہر درجنوں افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔نیس کے میئر نے نے لوگوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایت کی ہے۔

فرانسیسی میڈیا کے مطابق ٹرک ڈرائیور نے بیسٹل ڈے کی تقریبات کے اختتام پر ہونے والی آتش بازی کے موقع پر حملہ کیا، حملہ آور تیونس نژاد فرانسیسی شہری تھا اور اس کی عمر تقریباً ۳۱؍برس تھی، حملہ آور دوہری شہریت کا حامل تھا۔ پولیس کی جوابی کارروائی میں حملہ آور بھی ہلاک ہو گیا جب کہ ٹرک سے بڑی تعداد میں گرینیڈ اور بارودی مواد بھی برآمد کر لیا گیا۔

فرانسیسی صدر فرانسو اولاندو نے ہنگامی پریس کانفرنس کرتے ہوئے واقعہ کو دہشت گردی قرار دیتے ہوئے انسانی جانوں کے ضیاع پر دکھ اور افسوس کا اظہار کیا اور ملک میں نافذ ایمرجنسی کی معیاد میں مزید ۳؍ ماہ کی توسیع کری، فرانسیسی صدر نے حملے میں ۷۷؍ ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ۲۰؍ زخمیوں کی حالت تشویشناک ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گردی کے خلاف ہر ممکن اقدام اٹھایا جائے گا۔ دوسری جانب نیس میں حملوں کے بعد فرانس کے دیگر شہروں میں بھی سکیورٹی ہائی الرٹ کر دی گئی ہے جب کہ تفتیشی اداروں نے شواہد اکٹھے کر کے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔

نیس میں ماٹن نامی اخبار سے تعلق رکھنے والے صحافی کا کہنا ہے کہ جائے وقوع پر ’بہت زیادہ خون اور متعدد افراد زخمی ہیں۔‘ خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ آتش بازی کے مظاہرے کے اختتام کے دوران پیش آیا۔ ہم نے کئی افراد کو زخمی حالت میں دیکھا۔

ایک عینی شاید نے فرانس کے بی ایف ایف ٹی کو بتایا ’ہر کوئی کہہ رہا تھا کہ بھاگو بھاگو، یہاں حملہ ہو گیا ہے، بھاگو بھاگو۔‘ عینی شاہد کے مطابق انھوں نے کچھ سنے، تاہم ہم نے سوچا کہ یہ آتش بازی کی آواز ہے۔

Rate this item
(0 votes)

Related items