کشمیر میں کرفیو اور ہڑتال چھٹے روز میں داخل

  • Friday, 15 July 2016 01:48
  • Published in قومی
کشمیر میں کرفیو اور ہڑتال چھٹے روز میں داخل All images are copyrighted to their respective owners.

موبائیل انٹرنیٹ اور ریل خدمات بدستور معطل

سری نگر: (ایجنسی) وادی کشمیر میں حزب المجاہدین (ایچ ایم) کے اعلیٰ ترین کمانڈر برہان وانی کی ہلاکت کے بعد پیدا شدہ کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے پورے جنوبی کشمیر اور گرمائی دارالحکومت کے بیشتر علاقوں میں کرفیو جبکہ وادی کے باقی حصوں میں مکمل ہڑتال جمعرات کو مسلسل چھٹے روز بھی جاری رہی۔ کرفیو زدہ علاقوں میں رہائش پذیر لوگوں کو اشیائے ضروریہ خاص طور پر دوھ اور ادویات کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ دوسری جانب وادی کشمیرمیں موبائیل انٹرنیٹ اور ریل خدمات کی معطل بھی آج چھٹے دن میں داخل ہوگئی۔ تاہم سری نگر جموں قومی شاہراہ پر شبانہ ٹریفک کی آمدورفت جاری ہے۔ اس شاہراہ اور تاریخی مغل روڑ پر ۱۰؍ اور۱۱؍ جولائی کو سیکورٹی وجوہات کی بناء پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل رکھی گئی تھی۔ سرکاری ذرائع نے ایجنسی کو بتایا وہ سبھی گاڑیاں جو بدھ کی دوپہر جموں سے وادی کے لئے روانہ ہوئی تھیں، رات کے وقت یہاں پہنچیں۔ انہوں نے بتایا کہ اِن میں امرناتھ یاتریوں کی گاڑیاں بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ امرناتھ یاتریوں کی گاڑیوں کو براہ راست بال تل بیس کیمپ کی طرف روانہ کیا گیا، اور سیکورٹی وجوہات کی بناء پر کسی بھی گاڑی کو جنوبی کشمیر میں واقع ننون پہل گام بیس کیمپ کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی گئی۔ مذکورہ افسر نے مزید بتایا کہ اگرچہ شاہراہ پر عائد تمام پابندیاں ہٹالی گئی ہیں، تاہم جنوبی کشمیر میں پائی جانے والی کشیدہ صورتحال کے مدنظر لوگ دن کے اوقات میں اس شاہراہ پر سفر کرنا ترک کرتے ہیں۔

ایک ٹریفک پولیس افسر نے بتایا کہ محکمہ سے وابستہ اہلکار اب شبانہ ڈیوٹی دیکر شاہراہ پر گاڑیوں کی آمدورفت کو ریگولیٹ کرتے ہیں۔ برہان وانی کی ہلاکت کے بعد کشمیر میں پیدا شدہ احتجاجی لہر کے دوران مرنے والوں کی تعداد تین درجن سے متجاوز کرگئی ہے، جن میں بیشتر ہلاکتیں جنوبی کشمیر کے اضلاع میں ہوئی ہیں۔ زخمیوں کی تعداد۱۵۰۰؍ سے زائد بتائی جارہی ہے، جن میں سے ۱۰۰؍ سے زائدنوجوان آنکھوں میں پیلٹ لگنے سے زخمی ہوگئے ہیں۔

 وادی میں پیدا شدہ کشیدہ صورتحال پر قابو پانے کے لئے پورے جنوبی کشمیر اور گرمائی دارالحکومت کے بیشتر علاقوں میں آج بھی کرفیو کو برقرار رکھا گیا۔ تاہم اِن میں سے بیشتر علاقوں میں احتجاجی مظاہرین کرفیو کو توڑتے ہوئے سڑکوں پر احتجاجی مظاہرے منظم کررہے ہیں جس دوران اِن کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوتی ہیں۔ دوسری جانب وادی میں آج چھٹے روز بھی مکمل ہڑتال جاری رہی۔ خیال رہے کہ بذرگ علیحدگی پسند رہنما و حریت کانفرنس (گ) کے چیئرمین سید علی گیلانی، حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میرواعظ مولوی عمر فاروق اور جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک نے کل اپنے ایک مشترکہ بیان میں ۱۳؍جولائی کے مجوزہ پروگرام پر قدغن لگانے، دیگر حریت پسند راہنماؤں کو مسلسل اپنے گھروں اور پولیس اسٹیشنوں میں نظربند رکھنے کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے۱۴؍جولائی جمعرات کو آر پار مکمل ہڑتال، ۱۵؍جولائی جمعۃ المبارک مکمل ہڑتال اور بعد نمازِ جمعہ بھرپور احتجاج، ائمہ مساجد اپنے خطابات میں مطالبہ حق خودارادیت دہرائیں گے۔

 جنوبی کشمیر کے سبھی چار اضلاع میں کرفیو کو سختی کے ساتھ نافذ کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری جمعیت تعینات رکھی گئی ہے جہاں احتجاجی مظاہرین کرفیو توڑتے ہوئے برہان وانی اور سیکورٹی فورسز کی کاروائی میں ہلاک ہونے والے نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف اور کشمیر کی آزادی کے حق میں احتجاجی مظاہرے منظم کررہے ہیں۔

 جنوبی کشمیر کے مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ سیکورٹی فورس اہلکار مکانوں اور گاڑیوں کی توڑ پھوڑ کے مرتکب ہورہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ سیکورٹی فورسز کی گاڑیوں پر نصب لاؤڈ اسپیکروں کے ذریعے اعلان کیا جارہا ہے کہ’’کرفیو نافذ ہے اور لوگ اپنے گھروں سے باہر نہ نکلیں‘‘۔

 مقامی لوگوں نے الزام عائد کیا کہ سیکورٹی فورس اہلکار یہاں تک کہ زخمیوں اور مریضوں کو بھی اسپتال لے جانے کی اجازت نہیں دے رہے ہیں۔ اِن اضلاع کے رہائشیوں نے کہا کہ انہیں اشیائے ضروریہ بشمول دودھ، سبزیوں، ادویات اور روٹی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ ادھر گرمائی دارالحکومت سری نگر کے شہر خاص، ڈاؤن ٹاون اور سیول لائنز کے کچھ علاقوں میں کرفیو جاری رہنے سے اہلیان سری نگر جمعرات کو مسلسل چھٹے دن بھی اپنے گھروں تک ہی محدود رہے۔ شہر خاص، ڈاؤن ٹاون اور سیول لائنز کے مائسمہ میں ۹؍ جولائی کی صبح کرفیو نافذ کیا گیا تھا۔

ایجنسی کے ایک نامہ نگار جس نے جمعرات کی صبح سری نگر کے مختلف کرفیو والے علاقوں کا دورہ کیا، نے بتایا کہ ’’کرفیو کو سختی سے نافذ کرنے کے لئے سیکورٹی فورسز کی بھاری نفری تعینات رکھی گئی ہے‘‘۔ تاہم کرفیو کے باوجود اِن علاقوں میں شام کے وقت احتجاجی مظاہرین اور سیکورٹی فورسز کے مابین شدید جھڑپیں بھڑک اٹھنا اب گذشتہ چھ روز سے روزمرہ کا معمول بن چکا ہے۔ اِن علاقوں کے لوگوں نے الزام عائد کیا کہ وہ گذشتہ چھ روز سے اپنے گھروں تک ہی محدود ہیں اور انہیں اشیائے ضروریہ خاص طور پر دودھ اور سبزی کی شدید قلت کا سامنا ہے۔

 انہوں نے بتایا کہ اب وہ بغیر دودھ کی چائے اور گھروں میں موجود دالوں پر ہی اکتفا کررہے ہیں۔ دوسری جانب جاری ہڑتال کے نتیجے میں وادی میں آج معمولات زندگی مسلسل چھٹے روز بھی مفلوج رہے۔ وادی کے جن علاقوں کو کرفیو سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، میں دکانیں اور تجارتی مراکز بدستور بند جبکہ سڑکوں پر گاڑیوں کی آمدورفت معطل ہے۔ اسٹیٹ روڑ ٹرانسپورٹ (ایس آر ٹی سی) کی گاڑیاں بھی سڑکوں سے غائب ہیں۔ سرکاری دفاتر اور بینکوں میں بھی معمول کا کام کاج بدستور ٹھپ ہے۔ وادی میں پیٹرول پمپ بھی بند رکھے گئے ہیں جبکہ بیشتر اے ٹی ایم پیسوں سے خالی ہیں۔

 دریں اثنا وادی میں موبائیل انٹرنیٹ اور ریل خدمات کی معطل بھی آج چھٹے دن میں داخل ہوگئی۔ وادی میں تمام موبائیل سروس پرووائڈرس نے سیکورٹی انتظامیہ کی ہدایات پر۸؍ اور۹؍ جولائی کی درمیانی رات سے موبائیل انٹرنیٹ خدمات تاحکم ثانی بند کردیں۔ تاہم موبائیل فون سروس ، براڈ بینڈ و فکسڈ لائن انٹرنیٹ خدمات کے علاوہ مختصر پیغام سروس (ایس ایم ایس) سروس جاری رکھی گئی ہیں۔ انٹرنیٹ خدمات کی معطلی کے باعث صارفین خاص طور پر طلباء، سیاحوں ، پیشہ ور افراد خاص طور پر صحافیوں اورتاجروں کو زبردست مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ مقامی ، قومی اور بین الاقوامی میڈیا اداروں کے لئے کام کرنے والے صحافی جو اپنی رپورٹیں بھیجنے کے لئے مکمل طور پر موبائیل انٹرنیٹ پر منحصر تھے کا کام متاثر ہورہا ہے اور اِن میں سے بیشتر کو اب سری نگر میں اپنے دفاتروں میں ہی قیام کرنا پڑ ا ہے۔ موبائیل انٹرنیٹ خدمات معطل رہنے کی وجہ سے جہاں صارفین کو شدید مشکلات کے ساتھ ساتھ نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے کیونکہ اِن کے ڈیٹاپیک کی معیاد بغیر استعمال کے ختم ہوجاتی ہے، وہیں یہ سروسز فراہم کرنے والی کمپنیاں کا بھی دعویٰ ہے کہ انٹرنیٹ خدمات معطل رہنے کی وجہ سے انہیں کروڑوں روپے کے نقصان سے دوچار ہونا پڑتا ہے۔

 صارفین کا کہنا ہے کہ پہلے تو انٹرنیٹ سروسز کو معطل رکھنے کا کوئی جواز ہی نہیں ہے اور دوئم اگر حکومت کا کہنا ہے کہ یہ اقدام سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر افواہوں کو پھیلنے سے روکنے کے لئے اٹھایا جاتا ہے تو انہیں ایسے موقعوں پر صرف اِن ہی ویب سائٹس کو بند کروانا چاہیے۔

 انہوں نے کہا کہ انٹرنیٹ سروس معطل کرکے کشمیری عوام کو بابا آدم کے زمانے میں دھکیلنا ریاستی حکومت کا روزمرہ کا دستور بن گیا ہے۔ موبائیل انٹرنیٹ خدمات فراہم کرنے والی ایک کمپنی کے عہدیدار نے بتایا کہ انہیں سیکورٹی انتظامیہ کی جانب سے موبائیل انٹرنیٹ خدمات تاحکم ثانی بند رکھنے کی ہدایات ملی ہیں۔ تاہم انہوں نے بتایا کہ انہیں خدمات بند رکھنے کی وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔ سرکاری ذرائع نے بتایا کہ یہ اقدام کسی بھی طرح کی افواہوں کو روکنے کی غرض سے اٹھایا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ صورتحال میں بہتری آنے کے ساتھ ہی انٹرنیٹ خدمات بحال کردی جائیں گی۔ شمالی کشمیر کے بارہمولہ اور جموں خطہ کے بانہال کے درمیان چلنے والی ریل سروس کو آج چھٹے دن بھی معطل رکھا گیا۔

 ریلوے ایک افسر نے یو این آئی کو بتایا کہ وادی میں ریل سروس سیکورٹی وجوہات کی بناء پر آج چھٹے دن بھی معطل رہے گی۔ انہوں نے بتایا کہ احتجاجی مظاہروں کے دوران ریلوے ٹریک اور دیگر ریلوے املاک کو جنوبی کشمیر میں کچھ ایک مقامات پر نقصان پہنچایا گیا ہے اور وادی میں امن وامان کی بحالی کے بعد بھی ریل سروس کو بحال کرنے میں مزید چند دن لگ سکتے ہیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ ماضی میں بھی ہڑتالوں کے دوران ریلوے املاک کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا گیا، اور اس کو مد نظر رکھتے ہوئے ریل سروس کو معطل رکھنے کا فیصلہ لیا گیا تھا۔

Rate this item
(0 votes)

Related items